← Purani Haveli ka Khazana · تمام اقساط

قسط 2

تہہ خانے کا دروازہ

قدموں کی آہٹ قریب آتی گئی... اور پھر اچانک رک گئی۔

تینوں اندھیرے میں ساکت کھڑے تھے۔ حمزہ کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا وہ آواز باہر تک سنائی دے رہی ہوگی۔ عثمان نے اس کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا — اس کا ہاتھ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔ عریبہ نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

پھر ایک اور آواز آئی — اس بار نیچے سے نہیں، بلکہ ان کے بالکل قریب سے۔ کھڑکی کے پاس۔

“میاؤں!”

تینوں نے بے اختیار سانس چھوڑی۔ ایک بلی تھی — کالی بلی، کھڑکی کی ٹوٹی ہوئی جالی سے اندر آئی تھی۔ وہ انہیں دیکھ کر بھی نہ ڈری، بس اپنی دم ہلاتی ہوئی میز کے نیچے گھس گئی۔

“بلی تھی!” عثمان نے سرگوشی میں کہا، اس کی آواز میں راحت اور شرمندگی دونوں تھے۔ “ہم بلی سے ڈر گئے!”

“مگر قدموں کی آہٹ...” حمزہ نے کہا۔ “وہ بلی نہیں تھی۔ وہ سیڑھیوں سے آ رہی تھی۔”

عریبہ نے ٹارچ جلائی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ تینوں دبے پاؤں اوپر گئے۔ اوپر کا ہال خالی تھا — دھول، جالے، ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں۔ مگر... عریبہ رک گئی۔ اس نے ٹارچ کی روشنی فرش پر ڈالی۔

دھول میں قدموں کے نشان تھے۔ تازہ نشان۔

“دیکھو،” اس نے کہا۔ “یہ نشان... یہ ہمارے نہیں ہیں۔ ہمارے جوتوں کے نشان اس طرف ہیں۔ یہ کسی اور کے ہیں — اور یہ تازہ ہیں۔ دھول ابھی بیٹھی نہیں ان پر۔”

حمزہ نے غور سے دیکھا۔ نشان بڑے تھے — کسی مرد کے جوتوں کے۔ اور وہ سیڑھیوں کی طرف جا رہے تھے... پھر واپس۔ جیسے کوئی آیا ہو، کچھ دیکھا ہو، اور چلا گیا ہو۔

“مطلب کوئی یہاں آیا تھا،” حمزہ نے کہا۔ “آج۔ یا کل۔”

عثمان نے ایک کونے میں کچھ چمکتا ہوا دیکھا۔ اس نے اٹھایا — ایک ٹارچ تھی۔ جدید، مہنگی ٹارچ۔ اس پر ایک نام لکھا تھا: “ایف۔”

“کسی کی ٹارچ گر گئی،” عثمان نے کہا۔ “‘ایف’... کس کا نام ‘ایف’ سے شروع ہوتا ہے؟”

تینوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ان کے اسکول میں ‘ایف’ سے ایک ہی مشہور نام تھا — فہد۔ فہد ملک۔ امیر باپ کا بیٹا، جو ہر چیز پر اپنا حق سمجھتا تھا۔

“فہد؟” عریبہ نے کہا۔ “وہ یہاں کیا کر رہا ہوگا؟”

“یاد ہے چھت پر...” حمزہ نے آہستہ سے کہا۔ “مجھے لگا تھا کوئی ہماری بات سن رہا ہے۔”

خاموشی چھا گئی۔ پھر عریبہ نے مضبوط لہجے میں کہا: “جو بھی ہو، ہم ڈریں گے نہیں۔ ہمارے پاس نقشے کا ٹکڑا ہے، ہمارے پاس ڈائری کی معلومات ہیں۔ اور ہمیں دوپہر کے بارہ بجے کا انتظار کرنا ہے — سائے والی پہیلی کے لیے۔ ابھی... ابھی نو بجے ہیں۔ تین گھنٹے ہیں۔ ہم اس وقت میں حویلی کو اور دیکھتے ہیں۔ مگر ہوشیار رہنا — اگر فہد یہاں ہے تو وہ اکیلا نہیں ہوگا۔”

وہ نیچے واپس آئے۔ حمزہ نے نقشے کا خاکہ دوبارہ دیکھا — تہہ خانے کا نشان صحن کے نیچے تھا۔ “چلو صحن چلتے ہیں۔ فوارے کے پاس۔ شاید وہاں کوئی اور اشارہ ملے۔”

صحن میں دھوپ پھیل رہی تھی۔ خشک فوارہ بیچوں بیچ کھڑا تھا — سنگ مرمر کا، اس پر موروں کے نقش۔ اس کے گرد چار ستون تھے۔ حمزہ نے ایک ستون کو چھوا — ٹھنڈا، کھردرا۔

“دوپہر کو اس ستون کا سایہ...” عریبہ نے سوچتے ہوئے کہا۔ “سورج سر پر ہوگا تو سایہ چھوٹا ہوگا، ستون کے قدموں میں۔ پھر جیسے جیسے سورج ڈھلے گا، سایہ لمبا ہوگا۔ پہیلی میں کہا گیا ہے ‘اس سائے کی نوک جہاں تھمے’ — تھمے؟ مطلب سایہ رک جائے؟”

“شاید اس کا مطلب ہے جہاں سایہ سب سے چھوٹا ہو — دوپہر کے عین بارہ بجے،” حمزہ نے کہا۔ “اس وقت سائے کی نوک جس جگہ ہوگی، وہیں...”

“وہیں زمین اپنا سینہ کھولے گی،” عریبہ نے مکمل کیا۔ “یعنی تہہ خانے کا دروازہ۔ ہمیں بارہ بجے یہیں ہونا چاہیے۔”

عثمان نے فوارے کے اندر جھانکا۔ خشک تالاب میں پتے اور مٹی جمع تھی۔ اس نے ایک پتہ ہٹایا تو نیچے کچھ چمکا — ایک سکہ! پرانا، تانبے کا سکہ۔ اس پر عربی میں کچھ لکھا تھا۔

“دیکھو!” اس نے سکہ اٹھایا۔ “یہ تو... یہ تو نواب صاحب کے زمانے کا لگتا ہے!”

“رکھ لو،” حمزہ نے کہا۔ “یہ ہماری پہلی... یادگار ہے۔”

مگر عریبہ کی نظریں کہیں اور تھیں۔ وہ صحن کے فرش کو دیکھ رہی تھی — بڑے بڑے پتھروں کا فرش، مگر کچھ پتھر دوسروں سے مختلف تھے۔ ان پر حروف کندہ تھے۔

“حمزہ... عثمان... یہ دیکھو۔”

وہ ایک لمبی راہداری کی طرف اشارہ کر رہی تھی جو صحن سے تہہ خانے کی سمت جاتی تھی۔ اس کے فرش پر قطار در قطار پتھر لگے تھے، اور ہر پتھر پر ایک لفظ کندہ تھا: علم، دولت، امانت، لالچ، وقار، طاقت، وفا، دھوکہ...

“یہ... یہ کوئی کھیل لگتا ہے،” عثمان نے کہا۔

“نہیں،” عریبہ کی آواز سنجیدہ تھی۔ “یہ جال ہے۔ ڈائری میں لکھا تھا — دوسرا دروازہ اس کے لیے ہے جو خوف پر قابو پائے۔ اور نواب صاحب کا قول... ‘علم امانت ہے، امانت وقار ہے۔’ شاید صحیح راستہ وہی ہے جو اس قول کے الفاظ پر چلے۔”

تینوں راہداری کے دہانے پر کھڑے تھے۔ سامنے تقریباً بیس قدم لمبی راہداری تھی، اس کا فرش ان کندہ پتھروں سے بھرا ہوا تھا۔ دیواروں پر مشعلیں لگی تھیں — بجھی ہوئی، مگر ان کے نیچے کالک کے نشان تھے، جیسے کبھی یہاں روشنی ہوتی تھی۔

“سنو،” عریبہ نے کہا۔ “میرا خیال ہے کہ صرف ان پتھروں پر قدم رکھنا محفوظ ہے جن پر نواب صاحب کے قول کے الفاظ ہیں — علم، امانت، وقار۔ باقی پتھر... جال ہو سکتے ہیں۔”

“اور اگر تم غلط ہوئی تو؟” عثمان نے پوچھا۔

عریبہ نے ایک چھوٹا سا پتھر اٹھایا اور اسے “دولت” والے پتھر پر پھینکا۔

ایک لمحے کو کچھ نہیں ہوا۔ پھر... دیوار میں سے ایک تیر نکل کر سامنے والی دیوار میں دھنس گیا! تیر کی نوک زہر میں بجھی ہوئی لگتی تھی — یا شاید صرف زنگ آلود تھی۔

“یا اللہ!” عثمان پیچھے ہٹ گیا۔ “یہ تو واقعی جان لیوا ہے!”

“میں صحیح تھی،” عریبہ نے کہا، اس کی سانس تیز چل رہی تھی۔ “‘دولت’ اور ‘لالچ’ والے پتھر جال ہیں۔ صرف ‘علم’، ‘امانت’، ‘وقار’ — اور شاید ‘وفا’ — محفوظ ہیں۔ نواب صاحب کا پیغام صاف ہے: جو علم اور امانت کے راستے پر چلے گا، وہی آگے بڑھے گا۔ جو دولت اور لالچ کے پیچھے جائے گا...”

“وہ تیر کھائے گا،” حمزہ نے مکمل کیا۔ “ٹھیک ہے۔ میں پہلے جاتا ہوں۔ تم دونوں میرے قدموں پر قدم رکھنا۔”

“نہیں!” عریبہ نے کہا۔ “میں نے پہیلی حل کی ہے، میں جاؤں گی پہلے۔ تم میرے پیچھے آؤ۔”

اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں تھا — عریبہ کی ضد مشہور تھی۔ اس نے پہلا قدم “علم” والے پتھر پر رکھا۔ کچھ نہیں ہوا۔ پھر “امانت” پر۔ پھر “وقار” پر۔ ہر قدم کے ساتھ تینوں کی سانسیں رک جاتیں۔

آٹھویں قدم پر عریبہ رک گئی۔ سامنے دو پتھر تھے — “وفا” اور “طاقت”۔ قول میں “وفا” نہیں تھا۔ مگر... “طاقت” تو یقیناً جال تھا۔

“‘وفا’،” اس نے فیصلہ کیا۔ “نواب صاحب نے ڈائری میں لکھا تھا — ‘جو عقل، ہمت اور سچائی سے کام لے گا۔’ وفا سچائی کا حصہ ہے۔”

اس نے “وفا” پر قدم رکھا۔ خاموشی۔ محفوظ۔

اسی طرح وہ آگے بڑھتے گئے — علم، امانت، وقار، وفا، علم، امانت... ہر قدم ایک امتحان تھا۔ عثمان کے ماتھے پر پسینہ تھا، حمزہ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ آخری تین قدم باقی تھے جب... عثمان کا پاؤں پھسل گیا۔

اس کا جوتا “لالچ” والے پتھر کے کنارے کو چھو گیا۔

“عثمان!” حمزہ چلایا۔

دیوار میں سے ایک بھاری پتھر نیچے گرنے کی آواز آئی — ایک گول پتھر، انسانی سر جتنا بڑا، راہداری کی چھت سے لڑھکتا ہوا ان کی طرف آنے لگا!

“بھاگو!” عریبہ چلائی۔

تینوں نے چھلانگ لگائی — علم، امانت، وقار — اور راہداری کے دوسرے سرے پر جا گرے۔ گول پتھر ان کے پیچھے دیوار سے ٹکرا کر چور چور ہو گیا۔ پتھروں کے ٹکڑے چاروں طرف بکھر گئے۔

کچھ دیر تک کوئی نہیں بولا۔ صرف ان کی ہانپنے کی آوازیں تھیں۔

“تم... تم ٹھیک ہو؟” حمزہ نے عثمان سے پوچھا۔

عثمان نے سر ہلایا، مگر اس کا چہرہ سفید پڑا تھا۔ “میں... میں نے غلطی کی۔ معاف کرنا۔”

“غلطی سب سے ہوتی ہے،” عریبہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “اہم یہ ہے کہ ہم ساتھ ہیں۔ اور دیکھو — ہم پار کر گئے!”

راہداری کے اس پار ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس کے بیچوں بیچ ایک پتھر کی میز تھی، اور میز پر... ایک اور پھٹا ہوا کاغذ! نقشے کا دوسرا ٹکڑا!

“دوسرا ٹکڑا!” حمزہ نے خوشی سے کہا۔ وہ آگے بڑھا — مگر عریبہ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔

“رکو! یہ اتنا آسان نہیں ہو سکتا۔ دیکھو — میز کے گرد فرش...”

میز کے گرد فرش پر ایک گول دائرہ بنا ہوا تھا۔ اور دائرے کے اندر چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے — جیسے نیچے سے کچھ نکل سکتا ہو۔

“ایک اور جال،” عریبہ نے کہا۔ “ہمیں سوچنا ہوگا۔”

حمزہ نے جیب سے دونوں ٹکڑے نکالے — پہلا ٹکڑا جو دادا ابو کے صندوق سے ملا تھا، اور یہ دوسرا۔ اس نے انہیں فرش پر جوڑ کر رکھا۔ وہ بالکل آپس میں ملتے تھے — جیسے ایک ہی تصویر کے دو حصے۔

“دیکھو!” عریبہ نے کہا۔ “یہ... یہ حویلی کی چھت کا نقشہ ہے! یہ گنبد... یہ میناریں... اور یہاں —” اس نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک ستارے کا نشان بنا تھا۔ “یہاں کچھ ہے۔ چھت پر۔ یہی تیسرا دروازہ ہوگا!”

“اور یہ لکیر...” عثمان نے کہا۔ “یہ لکیر دونوں ٹکڑوں سے گزر رہی ہے۔ جیسے کوئی راستہ ہو۔”

واقعی، دونوں ٹکڑوں پر ایک مدھم لکیر بنی تھی جو ایک نقطے سے شروع ہو کر ستارے تک جاتی تھی۔ عریبہ نے اسے غور سے دیکھا۔ “یہ راستہ ہے — پہلے دروازے سے تیسرے دروازے تک۔ مگر درمیان کا حصہ غائب ہے — تیسرا ٹکڑا۔ مطلب نقشے کا ایک اور ٹکڑا کہیں ہے۔”

“تیسرا ٹکڑا...” حمزہ نے سوچتے ہوئے کہا۔ “دادا ابو کے پاس پہلا تھا۔ یہ دوسرا یہاں تھا۔ تو تیسرا... شاید چھت پر ہو — تیسرے دروازے کے پاس۔”

مگر سوچنے کا وقت نہیں ملا۔

پیچھے سے ایک آواز آئی — راہداری کے دوسرے سرے سے۔

“واہ! کیا بات ہے! چوہے جال میں پھنس گئے!”

تینوں نے مڑ کر دیکھا۔ راہداری کے دہانے پر دو لڑکے کھڑے تھے۔ ایک... فہد۔ اور اس کے ساتھ اس کا بڑا کزن بلال — بیس بائیس سال کا، مضبوط جسم والا۔

“فہد!” حمزہ نے کہا۔ “تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”

فہد مسکرایا — وہی مغرور مسکراہٹ جو اسکول میں سب کو چڑھتی تھی۔ “وہی جو تم کر رہے ہو، حمزہ۔ خزانہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ... یہ حویلی میرے خاندان کی ہے۔ میرے دادا نواب صاحب کے رشتہ دار تھے۔ تو تکنیکی طور پر، یہ خزانہ میرا حق ہے۔”

“جھوٹ!” عریبہ نے کہا۔ “عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ابھی کسی کا حق ثابت نہیں ہوا۔”

“عدالت اپنا کام کرے، میں اپنا،” فہد نے کہا۔ اس کی نظریں میز پر رکھے نقشے کے ٹکڑے پر تھیں۔ “ویسے... شکریہ۔ تم تینوں نے جال پار کر کے میرا کام آسان کر دیا۔ اب وہ ٹکڑا مجھے دے دو۔”

“کبھی نہیں!” حمزہ نے کہا۔

بلال آگے بڑھا۔ وہ حمزہ سے دگنا تھا۔ “دیکھو بچے،” اس نے کہا۔ “پیار سے دے دو۔ ورنہ...”

حمزہ نے میز کی طرف دیکھا — ٹکڑا صرف چند قدم دور تھا۔ اس نے عریبہ کو آنکھ ماری۔ عریبہ سمجھ گئی۔

“اب!” حمزہ چلایا۔

وہ میز کی طرف دوڑا۔ بلال بھی دوڑا۔ حمزہ نے چھلانگ لگائی — دائرے کے پار — اور ٹکڑا اٹھا لیا! مگر اسی لمحے دائرے کے سوراخوں سے دھواں نکلنے لگا — نیند آور دھواں!

“سانس روکو!” عریبہ چلائی۔

حمزہ نے ٹکڑا جیب میں ڈالا اور دائرے سے باہر چھلانگ لگائی۔ بلال دھوئیں میں کھانسنے لگا اور پیچھے ہٹ گیا۔

“یہ... یہ تمہارا آخری موقع تھا، حمزہ!” فہد نے کھانستے ہوئے کہا۔ “میرے ابو بلڈر ملک کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہ حویلی اگلے مہینے گرائی جائے گی۔ خزانہ ہمارا ہوگا — چاہے تم مدد کرو یا نہ کرو!”

“بلڈر ملک؟” عریبہ نے کہا۔ “وہی جو حویلی گرا کر پلازہ بنانا چاہتا ہے؟”

فہد کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر آیا — جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر رک رہا ہو۔ “تم نہیں سمجھو گے،” اس نے آہستہ سے کہا۔ “میرے ابو... ان کا سارا کاروبار بلڈر ملک کے ساتھ ہے۔ اگر یہ پلازہ نہ بنا تو ہم برباد ہو جائیں گے۔ ابو نے کہا ہے — خزانہ ڈھونڈو، ورنہ...” وہ رک گیا۔

“ورنہ کیا؟” حمزہ نے پوچھا۔

“ورنہ مجھے بورڈنگ اسکول بھیج دیں گے۔” فہد کی آواز میں پہلی بار کمزوری تھی۔ “میں... میں برا نہیں ہوں، حمزہ۔ میں صرف... پھنسا ہوا ہوں۔”

ایک لمحے کو حمزہ کو فہد پر ترس آیا۔ مگر پھر اسے یاد آیا — یہ وہی فہد ہے جو اسکول میں کمزور لڑکوں کو تنگ کرتا تھا۔ ہمدردی اور ہوشیاری میں فرق تھا۔

“تو اپنے ابو سے کہو کہ کسی اور کا حق مار کر کاروبار نہیں بچایا جاتا،” عریبہ نے کہا۔ “نواب صاحب نے یہ خزانہ غریبوں کے لیے رکھا تھا — ڈائری میں لکھا ہے۔ تم اسے چھین کر...”

“بس!” بلال نے بات کاٹی۔ “بہت ہو گیا لیکچر۔”

“سمجھدار ہو،” فہد نے کہا۔ “اب... وہ نوٹ بک دو۔” اس کی نظر عریبہ کی نوٹ بک پر تھی — جس میں خاکے کی نقل اور پہیلیاں لکھی تھیں۔

“بھاگ!” حمزہ چلایا۔

تینوں راہداری کی طرف دوڑے — مگر راہداری میں جال تھے! وہ محتاط قدموں سے “علم، امانت، وقار” پر چلتے ہوئے واپس بھاگے۔ فہد اور بلال نے ان کا پیچھا کیا — مگر انہیں راستہ نہیں پتا تھا۔ بلال نے “دولت” پر قدم رکھا اور ایک تیر اس کے کندھے کو چھو کر گزر گیا!

“آہ!” بلال چلایا۔

“رکو! رکو!” فہد نے بلال کو روکا۔ “یہ جال ہے! ہمیں ان کے قدموں پر چلنا ہوگا!”

مگر تینوں پہلے ہی راہداری پار کر چکے تھے۔ وہ صحن میں نکلے اور فوارے کے پیچھے چھپ گئے۔ ان کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔

“وہ... وہ نوٹ بک...” عریبہ نے ہانپتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ خالی تھے۔ بھاگتے ہوئے نوٹ بک گر گئی تھی — راہداری کے اس پار، فہد کے قریب!

“کوئی بات نہیں،” حمزہ نے کہا، جیب سے نقشے کا دوسرا ٹکڑا نکالتے ہوئے۔ “ہمارے پاس یہ ہے۔ اور پہیلی ہمیں یاد ہے۔ بارہ بجنے میں...” اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج تقریباً سر پر تھا۔ “بس کچھ منٹ باقی ہیں!”

تینوں فوارے کے پاس بیٹھ گئے۔ عثمان نے اپنی گھڑی دیکھی — گیارہ بج کر پچپن منٹ۔ سورج بالکل سر پر تھا۔ ستون کا سایہ سکڑ کر اس کے قدموں میں سمٹ آیا تھا — بالکل جیسا پہیلی میں کہا گیا تھا۔

“دیکھو!” عریبہ نے کہا۔ “سایہ اب سب سے چھوٹا ہے۔ اس کی نوک... وہاں!”

سائے کی نوک صحن کے فرش کے ایک خاص پتھر پر پڑ رہی تھی — ایک ایسا پتھر جو باقیوں سے تھوڑا مختلف تھا۔ اس کے کنارے پر باریک لکیر تھی، جیسے وہ الگ سے کاٹا گیا ہو۔

حمزہ نے اس پتھر پر ہاتھ رکھا اور دھکا دیا۔ پتھر ہلا — اور پھر ایک طرف سرک گیا! نیچے سیڑھیاں تھیں — اندھیرے میں اترتی ہوئی پتھریلی سیڑھیاں۔ ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اوپر آیا، نمی اور مٹی کی بو لیے ہوئے۔

“تہہ خانہ،” حمزہ نے سرگوشی کی۔ “ہم نے کر دکھایا!”

“رکو،” عثمان نے کہا۔ “فہد اور بلال... وہ ابھی راہداری میں ہیں۔ وہ بھی یہ دیکھ لیں گے!”

“تو جلدی کرو،” عریبہ نے کہا۔ “اندر چلو، اور پتھر واپس اپنی جگہ کر دو۔”

تینوں سیڑھیوں سے نیچے اترے۔ عثمان نے ٹارچ جلائی۔ نیچے ایک لمبی سرنگ تھی — دیواریں گیلی، چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔ ہر قدم پر ان کے جوتوں کی آواز گونج رہی تھی۔ سرنگ کے آخر میں ایک بھاری لکڑی کا دروازہ تھا۔

حمزہ نے دھکا دیا۔ دروازہ کھل گیا۔

اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا — مگر یہ کمرہ باقی حویلی سے مختلف تھا۔ یہاں دھول کم تھی، جیسے کوئی یہاں آتا جاتا ہو۔ دیوار پر ایک پرانی لالٹین لٹکی تھی — بجھی ہوئی، مگر اس کے شیشے صاف تھے۔ کونے میں ایک چٹائی بچھی تھی، اور اس پر... ایک چائے کا کپ! خشک چائے کی پتی اس میں جمی ہوئی تھی۔

“یہاں کوئی رہتا ہے،” عریبہ نے سرگوشی کی۔ “یا... رہتا تھا۔ یہ چائے کا کپ — یہ زیادہ پرانا نہیں لگتا۔”

عثمان نے لالٹین کو چھوا۔ “گرم نہیں ہے۔ مگر...” اس نے فرش دیکھا۔ “یہ دیکھو — جوتوں کے نشان۔ وہی بڑے نشان جو اوپر تھے۔ وہ شخص یہاں بھی آیا تھا۔”

حمزہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔ کوئی اس حویلی میں باقاعدگی سے آتا تھا۔ کوئی جو اندھیرے سے نہیں ڈرتا تھا۔ کوئی جو... شاید اب بھی یہیں کہیں ہو۔

“ہوشیار رہو،” اس نے کہا۔ “اور آواز مت نکالو۔”

کمرے کے بیچوں بیچ... ایک صندوق۔ لوہے کا صندوق، زنجیروں سے بندھا ہوا۔ اور کمرے کے بیچوں بیچ... ایک صندوق۔ لوہے کا صندوق، زنجیروں سے بندھا ہوا۔

“خزانہ!” عثمان کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“رکو!” عریبہ نے پھر کہا۔ “یاد رکھو — جلدبازی میں جال ہوتا ہے۔ پہلے دیکھو۔”

انہوں نے کمرے کا جائزہ لیا۔ فرش خشک تھا۔ دیواروں پر کچھ نہیں تھا۔ صندوق پر کوئی جال نظر نہیں آ رہا تھا۔ حمزہ نے احتیاط سے زنجیریں ہٹائیں — وہ زنگ آلود تھیں، مگر کھل گئیں۔ اس نے ڈھکن اٹھایا۔

صندوق خالی تھا۔

بالکل خالی — سوائے ایک لفافے کے۔

تینوں کی امیدیں ایک لمحے میں چکنا چور ہو گئیں۔ حمزہ نے لفافہ اٹھایا اور کھولا۔ اندر ایک خط تھا — نواب ذوالفقار علی خان کے ہاتھ سے لکھا ہوا:

“اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو تم نے دو دروازے پار کر لیے ہیں۔ تم بہادر ہو، ذہین ہو۔ مگر اب سچ سنو — خزانہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ سونا چاندی تو مٹی ہے۔ اصل خزانہ وہ ہے جو میں نے سب سے گہری جگہ چھپایا ہے — وہاں جہاں صرف صاف دل پہنچ سکتا ہے۔\n\nاور ایک بات اور۔ تم اکیلے نہیں ہو جو اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔ میری موت کے بعد جنہوں نے میری حویلی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، ان کی نسل آج بھی یہیں ہے۔ وہ لالچ میں آئے ہیں۔ تم... تم کس لیے آئے ہو؟ اپنے دل سے پوچھو۔ اگر جواب ‘دولت’ ہے تو واپس چلے جاؤ۔ اگر جواب کچھ اور ہے تو تیسرا دروازہ ڈھونڈو — وہاں جہاں سب سے اونچی جگہ ہے، وہاں جہاں آسمان قریب ہے۔”

خاموشی۔

“چھت،” عریبہ نے آہستہ سے کہا۔ “تیسرا دروازہ چھت پر ہے۔ خاکے میں بھی وہی نشان تھا۔”

“مگر ‘اصل خزانہ’ کیا ہے؟” عثمان نے پوچھا۔ “سونا نہیں تو کیا؟”

حمزہ نے خط کو دوبارہ پڑھا۔ “‘وہ ہے جو میں نے سب سے گہری جگہ چھپایا ہے’ — مگر ہم تہہ خانے میں ہیں، یہ تو سب سے گہری جگہ ہے۔ اور یہاں کچھ نہیں۔ تو...”

“تو ‘گہری جگہ’ کا مطلب گہرائی نہیں،” عریبہ نے کہا، اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ “بلکہ... دل کی گہرائی! ‘وہاں جہاں صرف صاف دل پہنچ سکتا ہے’ — یہ کوئی جسمانی جگہ نہیں، یہ... یہ کوئی راز ہے! کوئی سچ!”

اسی لمحے اوپر سے ایک آواز آئی — پتھر سرکنے کی آواز۔

تینوں نے چونک کر اوپر دیکھا۔ سیڑھیوں کے دہانے پر... فہد کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں عریبہ کی نوٹ بک تھی۔

“شکریہ، دوستو،” فہد نے مسکرا کر کہا۔ “تمہاری نوٹ بک سے مجھے سب پتا چل گیا — سائے والی پہیلی، تہہ خانہ... سب۔ اور اب...” اس نے پتھر کو واپس اپنی جگہ دھکیل دیا۔

دھڑام!

اندھیرا۔ مکمل اندھیرا۔

“فہد! دروازہ کھولو!” حمزہ چلایا۔

اوپر سے فہد کی ہنسی آئی — مدھم، پتھر کے پار سے۔ “جب ہم خزانہ نکال لیں گے تو کھول دیں گے! ویسے... بلڈر ملک کے آدمی کل صبح یہاں آ رہے ہیں — حویلی گرانے کے لیے۔ تو تمہارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے!”

قدموں کی آہٹ دور ہوتی گئی۔ خاموشی۔

تینوں تہہ خانے میں قید تھے۔ ٹارچ کی روشنی مدھم پڑ رہی تھی — بیٹری ختم ہونے والی تھی۔ ہوا بھاری ہو رہی تھی۔

“اب... اب کیا کریں گے؟” عثمان کی آواز لرز رہی تھی۔ اس کی سانسیں تیز چل رہی تھیں — گھبراہٹ کا دورہ پڑنے والا تھا۔

“عثمان! میری طرف دیکھو!” حمزہ نے اس کے کندھے پکڑ لیے۔ “سانس لو۔ آہستہ۔ میرے ساتھ — اندر... باہر... اندر... باہر...”

عثمان نے اس کی پیروی کی۔ آہستہ آہستہ اس کی سانسیں معمول پر آئیں۔ “معاف کرنا،” اس نے شرمندگی سے کہا۔ “میں... مجھے بند جگہوں سے ڈر لگتا ہے۔”

“کوئی بات نہیں،” عریبہ نے کہا۔ اس کی آواز حیرت انگیز طور پر پرسکون تھی۔ “ڈرنا بری بات نہیں۔ ڈر کے باوجود ہمت کرنا — یہی بہادری ہے۔ اور اب ہمیں ہمت کی ضرورت ہے۔ سوچو — نواب صاحب نے یہ جگہ بنائی تھی۔ کیا وہ واقعی کسی کو یہاں مرنے کے لیے چھوڑتے؟ ڈائری میں لکھا تھا: ‘دوسرا دروازہ اس کے لیے ہے جو خوف پر قابو پائے۔’ مطلب یہ امتحان ہے — خوف کا امتحان۔ یہاں سے نکلنے کا راستہ ضرور ہے۔”

حمزہ کے ذہن میں دادا ابو کی بات گونجی: “امانت کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے۔” اس نے آنکھیں بند کیں اور سوچا۔ دادا ابو نے یہ سب کیوں چھپایا؟ وہ کیوں ڈرے ہوئے تھے؟

“عریبہ صحیح کہہ رہی ہے،” حمزہ نے کہا۔ “نواب صاحب پہیلیاں بناتے تھے، قاتل نہیں تھے۔ یہ کمرہ بھی ایک پہیلی ہے۔ آؤ — ہر دیوار، ہر پتھر کو دیکھتے ہیں۔”

ٹارچ کی مدھم ہوتی روشنی میں تینوں نے کمرے کا جائزہ لینا شروع کیا۔ عثمان نے دیواروں کو ٹھونکا — کہیں کھوکھلی آواز آئے تو۔ عریبہ نے فرش کے ہر پتھر کو دیکھا۔ حمزہ نے صندوق کو دوبارہ دیکھا — خالی صندوق۔ مگر کیوں؟ نواب صاحب خالی صندوق کیوں رکھتے؟

پھر اسے خیال آیا۔ اس نے صندوق کو غور سے دیکھا — اس کی لکڑی... اس کے جوڑ... یہ صندوق باہر سے چھوٹا لگتا تھا، مگر اندر سے... اس نے ہاتھ اندر ڈال کر تہہ کو ٹھونکا۔ کھوکھلی آواز!

“اس میں دوہری تہہ ہے!” حمزہ نے کہا۔ اس نے ناخن سے تہہ کو کریدا — ایک پتلا سا تختہ ہلا اور نیچے سے... ایک چھوٹی سی چابی نکلی! پیتل کی چابی — بالکل ویسی جیسی دادا ابو کے صندوق میں تھی!

“دوسری چابی!” عریبہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ “پہلی چابی سے ہم نے پہلا دروازہ کھولا تھا — نقشے کے ٹکڑے والا۔ یہ دوسری چابی... یہ کس دروازے کی ہے؟”

حمزہ نے چابی کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس پر باریک حروف میں لکھا تھا: “چھت۔”

“چھت کے دروازے کی چابی!” حمزہ نے کہا۔ “تیسرا دروازہ! نواب صاحب نے اسے یہاں چھپایا تھا — تاکہ جو یہاں تک پہنچے، وہی آگے بڑھ سکے!”

مگر خوشی ایک لمحے کی تھی۔ وہ اب بھی قید تھے۔ چابی تب کام آئے گی جب وہ یہاں سے نکلیں گے۔

“اب... اب کیا کریں گے؟” عثمان کی آواز لرز رہی تھی۔

حمزہ نے دیوار کو ٹٹولا — ٹھوس پتھر۔ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ عریبہ نے ٹارچ کی مدھم روشنی میں کمرے کو دوبارہ دیکھا۔ اس کی نظریں صندوق پر رکیں۔

“رکو...” اس نے کہا۔ “صندوق... اس کے نیچے دیکھو۔”

حمزہ نے صندوق کو ایک طرف کھسکایا۔ اس کے نیچے فرش پر... ایک اور تختی تھی۔ چھوٹی سی۔ اس پر لکھا تھا:

“جو قید ہو کر بھی امید نہ چھوڑے، اس کے لیے ہر دیوار میں ایک دروازہ ہے۔”

عریبہ نے تختی کو دھکا دیا۔ وہ اندر دھنس گئی — اور دیوار میں ایک دراڑ نمودار ہوئی۔

مگر اسی لمحے ٹارچ بجھ گئی۔

مکمل اندھیرا۔ اور دراڑ کے پار سے... ایک عجیب سی آواز آ رہی تھی۔ جیسے کوئی... سانس لے رہا ہو۔

کوئی — یا کچھ — دیوار کے اس پار تھا۔

“یہ... یہ کیا تھا؟” عثمان کی آواز بمشکل سنائی دی۔

“شاید ہوا ہے،” عریبہ نے کہا، مگر وہ خود بھی یقین نہیں کر رہی تھی۔ “پرانی عمارتوں میں ہوا ایسی آوازیں نکالتی ہے۔”

“یا شاید...” حمزہ نے کہا۔ “شاید نواب صاحب کے ‘پہرے دار’۔ ڈائری میں لکھا تھا — ‘میری حویلی میں صرف پہیلیاں نہیں، پہرے دار بھی ہیں۔’”

تینوں نے ایک دوسرے کو اندھیرے میں محسوس کیا — دیکھ نہیں سکتے تھے، مگر ان کی سانسیں ایک دوسرے کو سنا رہی تھیں۔

“ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا،” عریبہ نے آخرکار کہا۔ “دراڑ کے پار... شاید باہر نکلنے کا راستہ ہے۔ یا شاید... کچھ اور۔”

“میرے پاس چابی ہے،” حمزہ نے کہا، مٹھی میں پیتل کی چابی بھینچتے ہوئے۔ “چھت کے دروازے کی۔ اگر ہم یہاں سے نکلے تو ہم تیسرا دروازہ کھول سکتے ہیں۔ مگر پہلے... پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ دراڑ کے پار کیا ہے۔”

اس نے ہاتھ بڑھایا اور دراڑ کو چھوا۔ ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی — اور ہوا کے ساتھ... ایک بو۔ پرانی کاغذوں کی بو۔ جیسی دادا ابو کے صندوق سے آئی تھی۔

“یہاں... یہاں کاغذ ہیں،” حمزہ نے سرگوشی کی۔ “کتابیں، شاید۔”

“تو... ہم اندر جائیں؟” عثمان نے پوچھا۔

حمزہ نے گہری سانس لی۔ اس کے ایک ہاتھ میں چابی تھی، دوسرے میں عریبہ کا ہاتھ۔ “ایک... دو... تین۔”

اس نے دراڑ کو دھکا دیا۔