← Purani Haveli ka Khazana · تمام اقساط

قسط 3

نواب کا راز

دراڑ کے پار روشنی تھی۔

حمزہ نے آنکھیں جھپکائیں — اندھیرے کے بعد اچانک روشنی نے اسے چندھیا دیا۔ پھر آہستہ آہستہ منظر واضح ہوا، اور تینوں کی سانسیں رک گئیں۔

یہ ایک کمرہ تھا — مگر کوئی عام کمرہ نہیں۔ دیواروں پر فرش سے چھت تک الماریاں تھیں، اور ان میں... کتابیں۔ سینکڑوں کتابیں۔ پرانی، چمڑے کی جلد والی کتابیں، جن پر سونے کے حروف کندہ تھے۔ کچھ کتابیں فارسی میں تھیں، کچھ عربی میں، کچھ اردو میں۔ ایک الماری پر تختی لگی تھی: “نایاب مخطوطات — ہاتھ نہ لگائیں۔”

عریبہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “یہ... یہ تو خزانہ ہے! اصلی خزانہ! یہ مخطوطات... ان میں سے ہر ایک لاکھوں کا ہوگا — مگر ان کی اصل قیمت... ان کی اصل قیمت علم ہے!”

“نواب صاحب کتابوں کے شیدائی تھے،” دادا ابو نے کہا۔ “کہتے تھے — ‘سونا خرچ ہو جاتا ہے، علم بڑھتا ہے۔’ یہ لائبریری ان کی سب سے قیمتی ملکیت تھی۔ اور یہ بھی وقف کا حصہ ہے — ایک عوامی لائبریری بنے گی۔”

عثمان نے ایک کتاب کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا، پھر رک گیا۔ “میں... میں اسے چھو بھی نہیں سکتا۔ یہ تو... یہ تو تاریخ ہے۔” پرانی، چمڑے کی جلد والی کتابیں، جن پر سونے کے حروف کندہ تھے۔ کمرے کے بیچوں بیچ ایک بڑی میز تھی، اس پر نقشے، خطوط، اور ایک روشن لالٹین۔ اور میز کے پیچھے... ایک کرسی۔ اور کرسی پر... ایک بوڑھا شخص۔

وہ انہیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

“دادا ابو؟!” حمزہ کی چیخ نکل گئی۔

ہاں — وہ دادا ابو تھے! مگر یہ وہ کمزور، چارپائی پر لیٹے دادا ابو نہیں تھے۔ یہ ایک مختلف شخص لگتے تھے — ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، ان کی کمر سیدھی تھی، اور ان کے ہاتھ میں ایک لالٹین تھی۔

“تم... تم یہاں کیسے؟” حمزہ نے ہکلا کر پوچھا۔ “تم تو گھر پر تھے! سو رہے تھے!”

دادا ابو ہنس پڑے — ایک گہری، گرم ہنسی۔ “سو رہا تھا؟ بیٹا، میں تو تمہارے پیچھے پیچھے یہاں آیا ہوں۔ جب تم صبح گھر سے نکلے تو میں نے تمہیں دیکھ لیا تھا۔ اور میں جانتا تھا کہ تم کہاں جا رہے ہو۔”

“مگر... آپ کی ٹانگیں... آپ تو چل بھی نہیں سکتے!”

“چل سکتا ہوں، بیٹا۔ بس... آہستہ چلتا ہوں۔” دادا ابو کرسی سے اٹھے — واقعی آہستہ، مگر مضبوط قدموں سے۔ “اور یہ حویلی... اس کا ہر کونہ مجھے یاد ہے۔ میں یہاں پلا بڑھا ہوں، حمزہ۔”

“پلا بڑھے؟ مگر آپ نے کہا تھا آپ یہاں چوکیدار تھے!”

دادا ابو کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔ ان کی آنکھوں میں وہی پرانا دکھ ابھر آیا۔ “بیٹھو، تینوں۔ بہت لمبی کہانی ہے۔ اور وقت کم ہے — بلڈر ملک کے آدمی صبح یہاں آئیں گے۔”

تینوں میز کے گرد بیٹھ گئے۔ عثمان اب بھی حیرت سے دادا ابو کو دیکھ رہا تھا۔ عریبہ نے نوٹ بک نکال لی — نئی نوٹ بک، پرانی تو فہد کے پاس تھی۔

“سب سے پہلے...” دادا ابو نے کہا۔ “مجھے معاف کر دو، حمزہ۔ میں نے تم سے جھوٹ بولا۔ میں یہاں چوکیدار نہیں تھا۔”

“تو... کون تھے آپ؟”

دادا ابو نے میز پر رکھے ایک ڈبے کو کھولا۔ اس میں سے انہوں نے ایک پرانی تصویر نکالی — وہی تصویر جو اوپر والے ہال میں لگی تھی: نواب ذوالفقار علی خان، اور ان کے پیچھے کھڑا نوجوان نوکر۔

“یہ نوجوان...” دادا ابو نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔ “یہ میں نہیں ہوں۔ یہ میرے ابو ہیں — رحیم۔ وہ نواب صاحب کے خاص ملازم تھے۔ ان کی عمر اس وقت بائیس سال تھی۔”

“تو آپ...”

“میں اس وقت پیدا بھی نہیں ہوا تھا،” دادا ابو نے کہا۔ “میں دو سال بعد پیدا ہوا۔ اور...” انہوں نے ایک اور تصویر نکالی۔ اس میں ایک خوبصورت نوجوان عورت تھی — شاہانہ لباس میں، مگر اس کی آنکھوں میں ایک نرم اداسی۔ اس کی گود میں ایک بچہ تھا۔

“یہ میری امی ہیں — زینب۔ اور یہ بچہ... میں ہوں۔”

خاموشی۔ تینوں سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

“تمہاری امی... نواب صاحب کی...” عریبہ نے آہستہ سے کہا۔

“بیٹی تھیں،” دادا ابو نے مکمل کیا۔ “نواب ذوالفقار علی خان کی اکلوتی بیٹی۔ جس کے بارے میں دنیا نہیں جانتی — کیونکہ نواب صاحب نے اسے دنیا سے چھپا رکھا تھا۔”

“کیوں؟” حمزہ نے پوچھا۔

“کیونکہ اس نے ایک نوکر سے محبت کی تھی۔” دادا ابو کی آواز میں فخر تھا۔ “میرے ابو سے۔ نواب صاحب کے خاندان والے اس رشتے کے خلاف تھے — ان کے لیے یہ بدنامی تھی۔ مگر نواب صاحب... نواب صاحب مختلف تھے۔ انہوں نے دیکھا تھا کہ ان کے رشتہ دار صرف دولت کے بھوکے ہیں۔ انہوں نے میری امی اور ابو کو چھپ کر نکاح کرنے کی اجازت دی۔ مگر یہ بات زیادہ دن چھپی نہ رہ سکی۔ نواب صاحب کے بھتیجے — ناصر علی — کو بھنک پڑ گئی۔ وہی ناصر علی جس کا پوتا آج بلڈر ملک کہلاتا ہے!

“کیا؟” تینوں نے ایک ساتھ کہا۔

“ہاں،” دادا ابو نے کہا۔ “لالچ نسل در نسل چلتا ہے، بیٹا۔ ناصر علی نے شور مچایا کہ نواب صاحب پاگل ہو گئے ہیں، کہ انہوں نے خاندان کی ناک کٹوا دی۔ اس نے عدالت میں دعویٰ کر دیا کہ نواب صاحب کی وصیت جعلی ہے۔ مقدمہ سالوں چلا۔ اسی دوران نواب صاحب کا انتقال ہو گیا۔”

“اور آپ کی امی؟” عریبہ نے پوچھا۔

“میری امی نے حویلی چھوڑ دی۔ وہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے لگیں — اسی محلے میں۔ انہوں نے مجھے عام بچوں کی طرح پالا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ہم کون ہیں۔ ناصر علی نے حویلی پر قبضے کی کوشش کی، مگر عدالت نے حویلی سیل کر دی — کیونکہ وصیت کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ اور وصیت...” دادا ابو مسکرائے۔ “وصیت تو وقف کے کاغذات میں تھی، جو کسی کو نہیں ملے۔”

“تو بلڈر ملک... وہ ناصر علی کا پوتا ہے؟” حمزہ نے کہا۔ “مطلب یہ دشمنی اسی سال پرانی ہے!”

“اسی سال پرانی،” دادا ابو نے اثبات میں سر ہلایا۔ “اور آج وہی کھیل دوبارہ کھیلا جا رہا ہے۔ مگر اس بار... اس بار سچ ہمارے پاس ہے۔”

اور جب میں پیدا ہوا تو انہوں نے مجھے اپنی گود میں اٹھایا اور کہا: ‘یہ میرا وارث ہے — مگر دنیا کو یہ نہیں پتا چلنا چاہیے، ورنہ یہ بچہ بھی ان گدھوں کا شکار بن جائے گا۔’”

حمزہ کا سر چکرا رہا تھا۔ “مطلب... مطلب آپ نواب صاحب کے... نواسے ہیں؟”

“ہاں، بیٹا۔” دادا ابو کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ “اور تم... تم ان کے پڑپوتے ہو۔”

کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ صرف لالٹین کی لو کی سرسراہٹ تھی۔

“مگر... مگر آپ نے یہ سب کیوں چھپایا؟” عریبہ نے پوچھا۔

“کیونکہ نواب صاحب نے مجھ سے وعدہ لیا تھا،” دادا ابو نے کہا۔ “ان کی موت سے ایک ہفتہ پہلے۔ انہوں نے مجھے — ایک دو سال کے بچے کی ماں کو — بلایا اور کہا: ‘زینب، میری دولت میرے رشتہ داروں کے ہاتھ نہ لگے۔ میں نے سب کچھ وقف کر دیا ہے — اس شہر کے غریبوں کے لیے۔ اسکول بنے گا، اسپتال بنے گا۔ کاغذات میں نے چھپا دیے ہیں۔ اور تم... تم اس راز کی امین ہو۔ جب وقت آئے تو صحیح ہاتھوں میں سونپ دینا۔’”

“میری امی نے وہ وعدہ نبھایا۔ انہوں نے ساری زندگی یہ راز سینے میں رکھا۔ اور مرنے سے پہلے انہوں نے مجھے سونپا۔ میں نے بھی ساری زندگی اسے سنبھالا۔ مگر اب...” دادا ابو نے حمزہ کی طرف دیکھا۔ “اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ اور بلڈر ملک جیسے لوگ اس حویلی کو نگلنا چاہتے ہیں۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ راز میرے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا۔ مگر تم نے صندوق کھول لیا، بیٹا۔ اور تم نے وہی کیا جو نواب صاحب چاہتے تھے — تم عقل سے، ہمت سے، اور سچائی سے آگے بڑھے۔ تم نے لالچ نہیں کیا۔”

“ہم نے؟” عثمان نے کہا۔

“ہاں۔” دادا ابو نے تینوں کو دیکھا۔ “تم تینوں نے ہر پہیلی کو عزت سے حل کیا۔ تم نے کچھ چوری نہیں کیا۔ تم نے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ یہی وہ امتحان تھا جو نواب صاحب نے رکھا تھا۔ اور تم پاس ہو گئے۔”

دادا ابو اٹھے اور ایک الماری کی طرف بڑھے۔ انہوں نے ایک خفیہ خانہ کھولا — اور اس میں سے ایک بڑا سا لفافہ نکالا۔ اس پر مہر لگی تھی — عدالت کی مہر۔

“یہ ہیں وقف کے کاغذات،” انہوں نے کہا۔ “نواب صاحب نے اپنی ساری جائیداد — یہ حویلی، زمینیں، اور...” انہوں نے ایک اور ڈبہ نکالا۔ اسے کھولا تو تینوں کی آنکھیں چندھیا گئیں۔

سونے کی مہریں۔ سینکڑوں سونے کی مہریں — ہر ایک پر نواب صاحب کی مہر۔

“یہ... یہ کتنے کی ہوں گی؟” عثمان کی آواز لرز رہی تھی۔

“کروڑوں کی،” دادا ابو نے کہا۔ “مگر یہ ہماری نہیں ہیں۔ یہ وقف ہیں — اللہ کے نام پر۔ ان سے اسکول بنے گا، اسپتال بنے گا، غریب بچے پڑھیں گے۔ یہی نواب صاحب کا خواب تھا۔ یہی اصل خزانہ ہے۔”

حمزہ نے مہروں کو دیکھا، پھر دادا ابو کو۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس تھا — فخر، حیرت، اور... ذمہ داری۔

“دادا ابو... اب ہم کیا کریں گے؟ بلڈر ملک کے آدمی صبح آ رہے ہیں۔”

“اسی لیے ہمیں جلدی کرنی ہے،” دادا ابو نے کہا۔ “یہ کاغذات عدالت میں جمع کرانے ہوں گے — آج ہی۔ وقف کی رجسٹری... میرے ایک دوست وکیل ہیں۔ مگر پہلے...” انہوں نے حمزہ کی طرف دیکھا۔ “پہلے تمہیں تیسرا دروازہ کھولنا ہے۔”

“تیسرا دروازہ؟ چھت والا؟”

“ہاں۔ نواب صاحب نے کہا تھا — تیسرا دروازہ صرف وہی کھول سکتا ہے جس کا دل صاف ہو۔ اور اس کے پار...” دادا ابو رک گئے۔ “اس کے پار نواب صاحب کا آخری خط ہے۔ تمہارے لیے۔”

“میرے لیے؟”

“تمہارے خاندان کے لیے۔ چلو — چھت پر۔ ایک خفیہ راستہ ہے اس کمرے سے۔”

دادا ابو نے میز کو ایک طرف کھسکایا۔ نیچے ایک اور سرنگ تھی — اوپر جاتی ہوئی۔ “یہ نواب صاحب کے زمانے کی ہے۔ نوکروں کے لیے۔ چلو۔”

سرنگ تنگ تھی مگر اوپر کی طرف جاتی تھی۔ دادا ابو سب سے آگے تھے — ان کی رفتار حیرت انگیز تھی، جیسے انہوں نے یہ راستہ سینکڑوں بار طے کیا ہو۔ حمزہ، عریبہ اور عثمان ان کے پیچھے تھے۔

“دادا ابو،” حمزہ نے چڑھتے ہوئے پوچھا۔ “آپ یہاں اکثر آتے تھے؟”

“ہر مہینے،” دادا ابو نے کہا۔ “کاغذات کی حفاظت کے لیے۔ اور... اپنی امی کی یاد میں۔ یہ حویلی میرا بچپن ہے، بیٹا۔”

سرنگ میں چڑھتے ہوئے دادا ابو کی آواز میں ایک نرم لہر آ گئی۔ “یاد ہے... جب میں پانچ سال کا تھا، امی مجھے یہاں لاتی تھیں — چھپ کر۔ ہم چھت پر پتنگ اڑاتے تھے۔ نواب صاحب... میرے نانا... وہ مجھے کندھے پر بٹھا کر پورا شہر دکھاتے تھے۔ کہتے تھے: ‘دیکھو بیٹا، یہ سب تمہارا ہے — مگر تمہارا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے رکھ لو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی حفاظت کرو۔’”

“کتنے اچھے انسان تھے وہ،” عریبہ نے کہا۔

“تھے،” دادا ابو نے کہا۔ “مگر ان کے اپنے خاندان نے انہیں سکون سے مرنے بھی نہ دیا۔ آخری دنوں میں وہ بہت اکیلے تھے۔ بس میری امی ان کے پاس جاتی تھیں — رات کے اندھیرے میں، چھپ کر۔”

حمزہ کے گلے میں گٹھلی سی اٹکی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کے خاندان کی اتنی بڑی کہانی ہے۔ وہ تو سمجھتا تھا کہ وہ ایک عام سے محلے کا عام سا لڑکا ہے۔ مگر اب... اب وہ نواب ذوالفقار علی خان کا پڑپوتا تھا۔

“دادا ابو،” اس نے آہستہ سے کہا۔ “آپ نے یہ سب مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”

“کیونکہ میں ڈرتا تھا، بیٹا،” دادا ابو نے رک کر کہا۔ “میں ڈرتا تھا کہ یہ بوجھ تمہیں کچل دے گا۔ میں ڈرتا تھا کہ ناصر علی کی نسل تمہیں نقصان پہنچائے گی۔ اور... میں ڈرتا تھا کہ تم لالچ میں آ جاؤ گے۔ مگر آج میں نے دیکھا — تم نے ہر امتحان پاس کیا۔ تم تیار ہو۔”

سرنگ ایک چھوٹے سے دروازے پر ختم ہوئی۔ دادا ابو نے اسے دھکا دیا — اور وہ چھت پر نکل آئے۔

شام ڈھل رہی تھی۔ آسمان نارنجی اور گلابی رنگوں میں رنگا تھا۔ چھت سے پورا شہر نظر آ رہا تھا — گھروں کے جھنڈ، مسجد کے مینار، دور کہیں ٹرین کی سیٹی۔ ہوا میں آزادی تھی۔

مگر تینوں کی نظریں چھت کے بیچوں بیچ رکھی ایک چھوٹی سی عمارت پر تھیں — گنبد والی۔ اس کے دروازے پر پیتل کا ایک بڑا سا تالا تھا۔

“تیسرا دروازہ،” عریبہ نے سرگوشی کی۔

حمزہ نے جیب سے پیتل کی چابی نکالی — وہی جو تہہ خانے کے صندوق سے ملی تھی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے چابی تالے میں ڈالی۔

کٹ۔

تالا کھل گیا۔

اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس میں صرف ایک میز تھی، اور میز پر... ایک لکڑی کا ڈبہ۔ حمزہ نے ڈبہ کھولا۔ اندر ایک خط تھا — اور ایک لاکٹ۔ سونے کا لاکٹ۔

حمزہ نے خط اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا:

“میرے پیارے وارث،\n\nاگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو تم نے تینوں دروازے پار کر لیے ہیں۔ تم نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارا دل صاف ہے، تمہاری نیت نیک ہے۔ اب سچ سنو۔\n\nمیں نے اپنی زندگی میں بہت دولت کمائی، مگر سکون نہ پایا۔ میرے رشتہ دار میری موت کا انتظار کر رہے تھے — دولت کے لیے۔ مگر میں نے فیصلہ کیا کہ میری دولت ان کے ہاتھ نہیں لگے گی۔ میں نے سب کچھ وقف کر دیا — غریبوں کے لیے، یتیموں کے لیے، اس شہر کے لیے جس نے مجھے سب کچھ دیا۔\n\nیہ لاکٹ میری بیٹی زینب کا ہے۔ اس میں اس کی اور اس کے بیٹے کی تصویر ہے۔ یہ بچہ میرا نواسہ ہے — میرا سچا وارث۔ دنیا اسے نہیں جانتی، مگر میں جانتا ہوں۔ اور اب تم جانتے ہو۔\n\nیاد رکھو — اصل خزانہ سونا نہیں، کردار ہے۔ جو امانت کی حفاظت کرے، وہی امیر ہے۔\n\nتمہارا دادا،\nذوالفقار علی خان”

حمزہ نے لاکٹ کھولا۔ اندر دو تصویریں تھیں — ایک نوجوان عورت کی (زینب)، اور ایک بچے کی۔ بچے کی آنکھیں... حمزہ کی اپنی آنکھوں جیسی تھیں۔

اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “دادا ابو...”

دادا ابو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ “تم نواب صاحب کے پڑپوتے ہو، حمزہ۔ یہ حویلی، یہ خزانہ... یہ سب تمہاری امانت ہے۔ مگر یاد رکھو — یہ تمہاری ملکیت نہیں، تمہاری ذمہ داری ہے۔”

اسی لمحے نیچے سے شور آیا — گاڑیوں کی آوازیں، لوگوں کی چیخیں۔

تینوں چھت کی منڈیر پر دوڑے۔ نیچے دیکھا تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

حویلی کے باہر تین بڑی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ اور ان کے ساتھ... ایک بلڈوزر! پیلا، بھاری بلڈوزر — اس کا بلیڈ سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ اس کے گرد دس بارہ آدمی تھے — مزدور، اور ان کے ساتھ ایک موٹا شخص سفید کپڑوں میں۔

“بلڈر ملک!” عریبہ نے کہا۔ “وہ وقت سے پہلے آ گیا!”

“اور اس کے ساتھ...” عثمان نے اشارہ کیا۔ “فہد بھی ہے!”

واقعی — فہد اپنے ابو کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ پریشان تھا۔ وہ بار بار حویلی کی طرف دیکھ رہا تھا — جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔

“وہ ہمیں ڈھونڈ رہا ہے،” حمزہ نے کہا۔ “اسے پتا ہے ہم اندر ہیں۔”

بلڈر ملک نے ایک میگا فون اٹھایا۔ اس کی آواز پورے میدان میں گونجی: “حویلی کے اندر جو بھی ہے — باہر نکل آؤ! یہ عمارت غیر محفوظ ہے! ہم اسے گرانے آئے ہیں! تمہارے پاس دس منٹ ہیں!”

“دس منٹ؟” عثمان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ “مگر... مگر عدالت نے روک رکھا ہے!”

“عدالت کا حکم اس کے پاس ہوگا — جعلی،” دادا ابو نے کہا، ان کی آواز میں غصہ تھا۔ “یہ لوگ ایسے ہی کرتے ہیں۔ پہلے گرا دو، پھر مقدمہ لڑتے رہو۔”

“اب کیا کریں؟” عریبہ نے پوچھا۔ “کاغذات ہمارے پاس ہیں، مگر عدالت... وکیل... اس میں دن لگیں گے!”

دادا ابو نے سوچتے ہوئے کہا: “ہمیں وقت چاہیے۔ بس آج کی رات۔ اگر ہم صبح تک حویلی کو بچا لیں تو میں وکیل سے بات کر کے عدالت سے حکم امتناعی لے لوں گا۔ مگر...”

“مگر کیا؟”

“مگر ان دس منٹ میں ہمیں باہر نکلنا ہوگا۔ ورنہ وہ بلڈوزر چلا دیں گے — ہمارے اندر ہوتے ہوئے بھی۔”

خاموشی۔ تینوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

پھر حمزہ نے لاکٹ اپنی جیب میں رکھا، خط کو احتیاط سے تہہ کیا، اور کہا: “تو ہم باہر نکلتے ہیں۔ مگر خالی ہاتھ نہیں۔”

“کیا مطلب؟” عثمان نے پوچھا۔

حمزہ کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی — وہی چمک جو اس کے پڑدادا کی تصویروں میں تھی۔ “ہم ان کا سامنا کریں گے۔ کاغذات ہمارے پاس ہیں۔ سچ ہمارے پاس ہے۔ اور...” اس نے چھت کی منڈیر سے نیچے دیکھا، جہاں فہد کھڑا تھا۔ “اور شاید... ایک دوست بھی۔”

وہ سیڑھیوں سے نیچے اترے — دادا ابو، حمزہ، عریبہ، عثمان۔ ہر قدم کے ساتھ ان کے دل زور سے دھڑک رہے تھے۔ مرکزی دروازے پر پہنچ کر حمزہ نے زنجیریں کھولیں — وہی زنجیریں جو اسی سال سے بند تھیں۔

دروازہ کھلا۔

باہر بلڈر ملک اپنے آدمیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے پیچھے بلڈوزر کا انجن گرج رہا تھا۔ محلے کے کچھ لوگ بھی جمع ہو گئے تھے — تماشائی۔

“باہر نکل آؤ!” بلڈر ملک نے میگا فون میں کہا۔ پھر اس کی نظر دادا ابو پر پڑی۔ “اور یہ بوڑھا کون ہے؟”

دادا ابو آگے بڑھے۔ ان کی کمر سیدھی تھی، ان کی آواز مضبوط۔ “میں اس حویلی کا امین ہوں۔ اور تم... تم یہاں غیر قانونی آئے ہو۔”

بلڈر ملک ہنس پڑا — ایک بھاری، نفرت انگیز ہنسی۔ “امین؟ بوڑھے میاں، یہ حویلی اب میری ہے۔ عدالت کا حکم میرے پاس ہے۔” اس نے ایک کاغذ لہرایا۔

“جھوٹ!” حمزہ نے کہا۔ وہ آگے بڑھا — سولہ سال کا لڑکا، مگر اس کی آنکھوں میں شیر کی ہمت تھی۔ “آپ کے پاس کوئی اصلی حکم نہیں ہے۔ اور یہ حویلی آپ کی نہیں ہے — یہ وقف ہے!”

اس نے وقف کے کاغذات اونچے کیے۔ “یہ ہیں نواب ذوالفقار علی خان کے وقف کے کاغذات — عدالت کی مہر کے ساتھ! یہ حویلی اور ساری جائیداد غریبوں کے لیے وقف ہے! آپ اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے!”

مجمع میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ بلڈر ملک کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ “جعلی ہیں! یہ سب جعلی ہے! بلڈوزر چلاؤ!”

“رکو!”

ایک آواز آئی — فہد کی۔ وہ اپنے ابو کے پاس سے نکل کر آگے آیا۔ اس کے ہاتھ میں اس کا موبائل تھا۔ اس کا چہرہ پیلا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں فیصلہ تھا۔

“ابو... مجھے معاف کر دیں۔” اس نے کہا۔ “مگر یہ غلط ہے۔ اور میں اس میں حصہ نہیں بنوں گا۔”

“فہد! تم کیا کر رہے ہو؟” اس کے ابو چلائے۔

فہد نے موبائل اونچا کیا اور ایک بٹن دبایا۔ اسپیکر سے ایک آواز آئی — بلڈر ملک کی آواز:

“جعلی آرڈر بنوا لو۔ حویلی گرانی ہے، چاہے اندر کوئی ہو یا نہ ہو۔ پیسے کی فکر مت کرو۔”

سناٹا۔ پھر مجمع میں شور اٹھا۔ کسی نے پولیس کو فون کر دیا تھا — دور سے سائرن کی آواز آنے لگی۔

بلڈر ملک کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ “یہ... یہ سازش ہے! میں... میں واپس آؤں گا! یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی!” وہ اپنی گاڑی کی طرف بھاگا۔ اس کے آدمی بھی بکھر گئے۔ بلڈوزر کا انجن بند ہو گیا۔

فہد کے ابو وہیں کھڑے رہے — شکست خوردہ۔ فہد ان کے پاس گیا۔ “ابو... ہمیں صحیح راستہ اپنانا ہوگا۔”

حمزہ فہد کے پاس گیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “شکریہ، فہد۔”

فہد نے مسکرا کر کہا: “دوست؟”

“دوست،” حمزہ نے کہا۔

عریبہ نے اپنی نوٹ بک واپس لی — فہد نے اسے جیب سے نکال کر دیا۔ “معاف کرنا،” اس نے کہا۔ “تمہاری پہیلیاں... واقعی کمال کی تھیں۔”

عثمان نے سونے کی مہروں والا ڈبہ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ پولیس آ گئی — انسپکٹر نے کاغذات دیکھے، مہر کی تصدیق کی، اور بلڈر ملک کے خلاف رپورٹ لکھی۔ “گھبرانے کی ضرورت نہیں،” انسپکٹر نے دادا ابو سے کہا۔ “وقف کے کاغذات اصلی لگتے ہیں۔ جب تک عدالت فیصلہ نہ کرے، حویلی کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ میں خود یہاں پہرہ لگواؤں گا۔”

محلے کے لوگ اب کھل کر باتیں کر رہے تھے۔ ایک بوڑھی خاتون آگے بڑھیں — وہی جو گلی کے نکڑ پر رہتی تھیں۔ “میں نے سنا تھا...” انہوں نے کہا۔ “میری ساس کہتی تھیں کہ نواب صاحب غریبوں کے ہمدرد تھے۔ آج... آج یقین آ گیا۔”

ایک نوجوان نے نعرہ لگایا: “نواب صاحب زندہ باد!” اور مجمع نے ساتھ دیا۔ حمزہ نے دیکھا — ان کی آنکھوں میں عزت تھی۔ اس کے پڑدادا کی عزت۔ اس کے خاندان کی عزت۔

فہد حمزہ کے پاس آیا۔ “تمہارے دادا ابو... وہ ٹھیک ہو جائیں گے نا؟”

“ہاں،” حمزہ نے کہا۔ “ڈاکٹر نے کہا ہے خطرے سے باہر ہیں۔”

“اچھا۔” فہد نے زمین کی طرف دیکھا۔ “حمزہ... میں نے تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ معاف کر دو۔”

“تم نے آخر میں صحیح فیصلہ کیا،” حمزہ نے کہا۔ “یہی اہم ہے۔”

پولیس آ گئی — انسپکٹر نے کاغذات دیکھے، بلڈر ملک کے خلاف رپورٹ لکھی۔ محلے کے لوگ حیرت سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔

سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ یا... ایسا لگتا تھا۔

مگر پھر — دادا ابو لڑکھڑائے۔

“دادا ابو!” حمزہ نے انہیں سنبھالا۔ دادا ابو کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا۔ ان کی سانسیں تیز چل رہی تھیں۔ “ایمبولینس! کوئی ایمبولینس بلاؤ!”

افراتفری میں کسی نے ایمبولینس کو فون کیا۔ دادا ابو کو زمین پر لٹایا گیا۔ حمزہ ان کے پاس بیٹھا ان کا ہاتھ پکڑے تھا۔

“دادا ابو... آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ بس تھوڑی دیر۔”

دادا ابو نے آنکھیں کھولیں۔ ان کی آواز بہت مدھم تھی۔ “حمزہ... بیٹا... میری بات سنو...”

“جی دادا ابو۔”

“نقشے کا... تیسرا ٹکڑا...” دادا ابو نے کہا۔ “وہ اب بھی... کہیں ہے۔ میں نے اسے... چھپایا تھا۔ مگر... مگر میں بھول گیا ہوں کہاں۔”

“کوئی بات نہیں دادا ابو، ہم ڈھونڈ لیں گے۔”

“نہیں... سنو...” دادا ابو نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا۔ “وقف کے کاغذات میں... لکھا ہے... چار دروازے۔ چار! ہم نے صرف تین کھولے ہیں۔ چوتھا دروازہ... وہ اب بھی بند ہے۔ اور اس کے پار...”

“اس کے پار کیا ہے، دادا ابو؟”

دادا ابو کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آئی — خوف اور امید کا امتزاج۔ “اس کے پار... اصل خزانہ ہے، بیٹا۔ جو ابھی تک... نہیں ملا۔”

ایمبولینس کا سائرن قریب آ گیا۔ لوگ دادا ابو کو اٹھانے لگے۔

“دادا ابو! چوتھا دروازہ کہاں ہے؟” حمزہ نے چل کر پوچھا۔

دادا ابو نے آخری الفاظ کہے — اتنے مدھم کہ صرف حمزہ سن سکا:

“جہاں... جہاں سب کچھ شروع ہوا تھا...”

پھر وہ بے ہوش ہو گئے۔

اس رات حمزہ اسپتال کے باہر بینچ پر بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا تھا دادا ابو خطرے سے باہر ہیں — بس تھکن اور صدمہ تھا۔ مگر حمزہ کا ذہن کہیں اور تھا۔

“چار دروازے،” اس نے سرگوشی کی۔ “تیسرا ٹکڑا غائب۔ چوتھا دروازہ بند۔ اصل خزانہ ابھی نہیں ملا۔”

عریبہ اس کے پاس آ کر بیٹھی۔ “تم کیا سوچ رہے ہو؟”

“یہ کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی،” حمزہ نے کہا۔ اس نے جیب سے لاکٹ نکالا اور اسے دیکھا۔ “نواب صاحب نے تین دروازے بنائے تھے — یا چار؟ دادا ابو نے کہا چار۔ تو چوتھا کہاں ہے؟ اور نقشے کا تیسرا ٹکڑا... دادا ابو نے اسے کہاں چھپایا؟”

“اور ‘جہاں سب کچھ شروع ہوا تھا’ کا کیا مطلب ہے؟” عثمان نے کہا، جو دوسری طرف بیٹھا تھا۔

تینوں خاموش ہو گئے۔ پھر عریبہ نے آہستہ سے کہا: “سب کچھ... صندوق سے شروع ہوا تھا۔ دادا ابو کے صندوق سے۔”

حمزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ “تمہارا مطلب... تیسرا ٹکڑا صندوق میں ہے؟ مگر ہم نے صندوق دیکھا تھا — اس میں صرف دو چیزیں تھیں...”

“یا شاید...” عریبہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ “شاید صندوق میں کوئی خفیہ خانہ ہو۔ جیسے تہہ خانے کے صندوق میں دوہری تہہ تھی!”

حمزہ اٹھ کھڑا ہوا۔ “کل صبح۔ ہم صندوق کو دوبارہ دیکھیں گے۔”

“اور چوتھا دروازہ؟” عثمان نے پوچھا۔

حمزہ نے آسمان کی طرف دیکھا — ستارے نکل آئے تھے۔ اس نے لاکٹ کو مٹھی میں بھینچا۔

“ہم اسے بھی ڈھونڈیں گے۔ چاہے کچھ بھی ہو۔ یہ اب صرف خزانے کی بات نہیں رہی — یہ میرے خاندان کی بات ہے۔ یہ... یہ میری ذمہ داری ہے۔”

دور کہیں، حویلی کی میناروں پر چاندنی پڑ رہی تھی۔ اور ان میناروں کے سائے میں... کوئی کھڑا تھا۔ ایک سایہ — جو تینوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ چمک رہا تھا — جیسے... کاغذ کا ایک ٹکڑا۔

نقشے کا تیسرا ٹکڑا۔

مگر وہ کون تھا؟ اور اسے ٹکڑا کہاں سے ملا؟

یہ سوالات... اگلی قسط میں۔