قسط 1
دادا ابو کا صندوق
بارش کی وہ شام حمزہ کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔
بادل سہ پہر سے ہی آسمان پر چھائے ہوئے تھے، اور اب شام کے سائے گہرے ہوتے ہی موسلادھار بارش شروع ہو گئی تھی۔ گلی میں بہتا پانی نالیوں سے ابل رہا تھا، اور بجلی ہر چند منٹ بعد چمک کر پورے محلے کو ایک لمحے کے لیے دن کی طرح روشن کر دیتی۔ حمزہ اپنے دادا ابو کے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا بارش دیکھ رہا تھا۔ دادا ابو — بیاسی سال کے کمزور مگر روشن چہرے والے بزرگ — چارپائی پر لیٹے کھانستے ہوئے اپنی تسبیح پھیر رہے تھے۔
“دادا ابو، آپ نے دوا لی؟” حمزہ نے پوچھا۔
“لے لی بیٹا، لے لی،” دادا ابو نے مسکرا کر کہا۔ ان کی آواز میں وہی پرانی گرمی تھی جو حمزہ کو بچپن سے سکون دیتی آئی تھی۔ “تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ بارش میں بھیگنے کا ارادہ ہے کیا؟”
حمزہ ہنس پڑا۔ “نہیں دادا ابو، بس دیکھ رہا ہوں۔ امی کہہ رہی تھیں کہ آپ کے کمرے کی الماری صاف کرنی ہے، پرانا سامان نکالنا ہے۔”
دادا ابو کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر ابھرا — جیسے کوئی پرانی یاد اچانک جاگ اٹھی ہو۔ “الماری؟” انہوں نے آہستہ سے کہا۔ “ہاں... وہاں ایک پرانا صندوق بھی ہے۔ لکڑی کا۔ اسے مت چھونا، حمزہ۔”
“کیوں؟” حمزہ کی تجسس جاگ اٹھا۔ سولہ سال کی عمر میں “مت چھونا” سننا کسی خزانے کا نقشہ ملنے جیسا تھا۔
“بس... پرانی یادیں ہیں اس میں۔ کچھ چیزیں بھولی ہوئی ہی اچھی لگتی ہیں۔” دادا ابو نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے بات ختم ہو گئی ہو۔
مگر حمزہ کا دل اب بے چین ہو چکا تھا۔ اس کی نظریں کمرے کے کونے میں رکھی پرانی الماری کی طرف اٹھیں۔ الماری کے نیچے، دھول میں اٹا ہوا، واقعی ایک لکڑی کا صندوق نظر آ رہا تھا۔ اس پر پیتل کی پٹیاں لگی تھیں جو زنگ سے کالی پڑ چکی تھیں۔
آدھے گھنٹے بعد جب دادا ابو سو گئے اور ان کے خراٹوں کی آواز کمرے میں گونجنے لگی، حمزہ دبے پاؤں الماری کی طرف بڑھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے صندوق کو کھینچا — وہ حیرت انگیز طور پر ہلکا تھا۔ ڈھکن پر ایک چھوٹا سا تالا لگا تھا، مگر زنگ کی وجہ سے وہ بس چھونے سے ہی ٹوٹ کر گر پڑا۔
حمزہ نے ڈھکن اٹھایا۔
اندر پرانے کاغذوں کی بو اٹھی — وہ مخصوص خوشبو جو صرف بہت پرانی کتابوں اور خطوں سے آتی ہے۔ سب سے اوپر ایک زرد پڑتا ہوا لفافہ تھا، اس کے نیچے کچھ تصویریں، اور سب سے نیچے... ایک چھوٹی سی لکڑی کی ڈبیا۔ حمزہ نے ڈبیا کھولی تو اس کی سانس رک گئی۔ اندر ایک پیتل کی چابی تھی، عجیب و غریب نقش و نگار والی، اور اس کے ساتھ کاغذ کا ایک پھٹا ہوا ٹکڑا — جیسے کسی بڑے نقشے کا ایک حصہ۔
کاغذ پر مدھم سیاہی سے کچھ لکھا تھا۔ حمزہ نے اسے کھڑکی کی روشنی میں کیا۔ وہ ایک شعر تھا:
نہ میں بولتا ہوں، نہ میں چلتا ہوں پھر بھی ہر راہی کو منزل دکھاتا ہوں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھی پورا ہوں جو مجھے جوڑے، وہی راز پاتا ہے
حمزہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ یہ کوئی عام کاغذ نہیں تھا۔ یہ... یہ کسی معمے کا حصہ لگتا تھا۔ اس نے لفافہ اٹھایا — اس پر دادا ابو کے ہاتھ سے لکھا تھا: “نواب صاحب کی امانت۔”
“حمزہ!”
اچانک دادا ابو کی آواز گونجی۔ حمزہ نے گھبرا کر مڑ کر دیکھا — دادا ابو چارپائی پر اٹھ بیٹھے تھے، اور ان کی آنکھوں میں ایک ایسا خوف تھا جو حمزہ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
“وہ... وہ کاغذ کہاں سے لیا تم نے؟” دادا ابو کی آواز کانپ رہی تھی۔
“صندوق سے... دادا ابو، یہ کیا ہے؟ یہ نواب صاحب کون ہیں؟ یہ نقشہ —”
“رکھ دو اسے! ابھی! اسی وقت!” دادا ابو اتنی زور سے چلائے کہ حمزہ سہم گیا۔ پھر ان کی آواز نرم پڑ گئی، اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “بیٹا... کچھ دروازے کبھی نہیں کھولنے چاہئیں۔ یہ امانت ہے... اور امانت کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے۔”
“مگر دادا ابو —”
“وعدہ کرو مجھ سے،” دادا ابو نے حمزہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ان کا ہاتھ ٹھنڈا اور کانپتا ہوا تھا۔ “وعدہ کرو کہ تم اس حویلی کے قریب بھی نہیں جاؤ گے۔”
“کون سی حویلی؟”
دادا ابو نے کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں بارش میں ڈوبا ہوا محلہ نظر آ رہا تھا۔ دور، پرانی آبادی کے پار، ایک عظیم الشان مگر ویران عمارت کا سلیوٹ دکھائی دے رہا تھا — اونچی میناریں، ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں۔ پرانی حویلی۔ وہ حویلی جس کے بارے میں محلے میں سو طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔
“نواب ذوالفقار علی خان کی حویلی،” دادا ابو نے سرگوشی کی۔ “اسی سال پہلے... میں وہاں چوکیدار تھا۔ اور...” وہ رک گئے۔ “بس اتنا سمجھ لو — وہاں جو کچھ ہے، وہ تمہارے لیے نہیں ہے۔”
اس رات حمزہ سو نہ سکا۔ اس کے تکیے کے نیچے وہ پھٹا ہوا کاغذ چھپا تھا — اس نے وعدہ تو کر لیا تھا، مگر اس کا دل کہہ رہا تھا کہ دادا ابو کچھ چھپا رہے ہیں۔ کچھ بہت بڑا۔ اور وہ شعر اس کے ذہن میں گونج رہا تھا: “جو مجھے جوڑے، وہی راز پاتا ہے۔”
اس رات حمزہ نے کروٹیں بدلتے ہوئے سوچا کہ دادا ابو نے اس سے وعدہ کیوں لیا تھا۔ بچپن میں دادا ابو اسے کہانیاں سناتے تھے — پرانے شہر کی، نوابوں کی، بہادروں کی۔ مگر حویلی کا ذکر آتے ہی وہ ہمیشہ خاموش ہو جاتے تھے۔ ایک بار حمزہ نے پوچھا تھا: “دادا ابو، پرانی حویلی میں بھوت ہیں؟” تو دادا ابو نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا: “بھوت نہیں بیٹا، یادیں ہیں۔ اور یادیں کبھی کبھی بھوتوں سے زیادہ ڈراؤنی ہوتی ہیں۔”
اب حمزہ سمجھنے لگا تھا کہ ان الفاظ کے پیچھے کوئی گہرا دکھ چھپا تھا۔ دادا ابو کی آنکھوں میں وہ خوف... وہ صرف ڈر نہیں تھا۔ وہ شرمندگی بھی تھی، جیسے انہوں نے کوئی وعدہ توڑا ہو۔ یا کوئی وعدہ نبھانے میں ناکام رہے ہوں۔
“نواب صاحب کی امانت،” حمزہ نے اندھیرے میں سرگوشی کی۔ لفافے پر یہی لکھا تھا۔ امانت... کس کی امانت؟ اور دادا ابو اس کے امین کیسے بنے؟
اس نے فیصلہ کر لیا تھا — وہ سچ جان کر رہے گا۔ مگر اکیلا نہیں۔ عریبہ اور عثمان کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ عریبہ کی ذہانت اور عثمان کی وفاداری — یہی اس کی طاقت تھے۔
اگلی صبح اسکول میں حمزہ نے اپنے دو سب سے اچھے دوستوں کو سب کچھ بتا دیا۔ عریبہ — پندرہ سال کی تیز ذہن لڑکی جو پہیلیاں حل کرنے میں پورے اسکول میں مشہور تھی — اور عثمان — سولہ سال کا محتاط مگر وفادار دوست جو ہر مہم میں ان کے ساتھ ہوتا تھا۔
“دکھاؤ! دکھاؤ وہ کاغذ!” عریبہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
لن چ بریک میں تینوں اسکول کی چھت پر چھپ کر بیٹھ گئے۔ حمزہ نے احتیاط سے وہ پھٹا ہوا کاغذ نکالا۔ عریبہ نے اسے غور سے دیکھا، پھر شعر کو دو تین بار پڑھا۔
“نہ میں بولتا ہوں، نہ میں چلتا ہوں... پھر بھی ہر راہی کو منزل دکھاتا ہوں...” عریبہ نے سوچتے ہوئے کہا۔ “یہ تو نقشے کی تعریف ہے! نقشہ نہ بولتا ہے نہ چلتا ہے، مگر منزل دکھاتا ہے۔ اور ‘ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھی پورا ہوں’ — یہ کاغذ خود ایک پھٹا ہوا ٹکڑا ہے! مطلب... یہ شعر خود اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ نقشے کا ایک ٹکڑا ہے، اور پورا نقشہ کہیں اور ہے!”
“واہ!” عثمان نے کہا۔ “تو مطلب یہ کہ پورا نقشہ ملے تو خزانے کا پتا چلے گا؟”
“اور ‘جو مجھے جوڑے، وہی راز پاتا ہے’ — مطلب ہمیں نقشے کے باقی ٹکڑے ڈھونڈنے ہوں گے،” عریبہ نے پرجوش لہجے میں کہا۔ “حمزہ، تمہارے دادا ابو نے کہا وہ حویلی کے چوکیدار تھے؟ تو یقیناً باقی ٹکڑے بھی حویلی میں ہی ہوں گے!”
“مگر دادا ابو نے مجھ سے وعدہ لیا ہے کہ میں وہاں نہیں جاؤں گا،” حمزہ نے کہا، مگر اس کی آواز میں وہ یقین نہیں تھا۔
عریبہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “حمزہ، تمہارے دادا ابو ڈرے ہوئے ہیں۔ مگر سوچو — اگر یہ واقعی کوئی خطرناک چیز ہوتی تو وہ اسے صندوق میں رکھ کر کیوں رکھتے؟ انہوں نے اسے سنبھال کر رکھا ہے، مطلب یہ اہم ہے۔ اور ہو سکتا ہے... ہو سکتا ہے وہ صرف تمہاری حفاظت کرنا چاہتے ہوں۔ مگر ہم محتاط رہیں گے۔ ہم صرف دیکھنے جائیں گے، کچھ نہیں چھوئیں گے۔”
عثمان نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ “اور اگر وہاں واقعی کوئی خزانہ ہوا تو؟”
تینوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ان کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو ہر بڑی مہم سے پہلے ہوتی ہے — خوف اور تجسس کا امتزاج۔
“ٹھیک ہے،” حمزہ نے آخرکار کہا۔ “کل اتوار ہے۔ صبح سویرے۔ ہم حویلی جائیں گے۔ مگر ایک شرط پر — ہم تینوں ساتھ رہیں گے، کوئی اکیلا کہیں نہیں جائے گا۔ اور اگر کچھ عجیب لگا تو فوراً واپس۔”
“پکا!” عریبہ اور عثمان نے ایک ساتھ کہا۔
مگر ان تینوں میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کی یہ بات کوئی اور بھی سن رہا تھا۔ چھت کے دروازے کے پیچھے، ایک سایہ دبکا ہوا تھا — اور اس کے ہونٹوں پر ایک چالاک مسکراہٹ تھی۔
اتوار کی صبح پانچ بجے کا الارم بجا تو حمزہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا — آسمان صاف تھا، بارش کے بعد کی وہ تازگی ہوا میں تھی جو صرف برسات کی صبحوں میں محسوس ہوتی ہے۔ اس نے جلدی سے کپڑے بدلے، کندھے پر ایک چھوٹا سا بیگ لٹکایا جس میں ٹارچ، پانی کی بوتل، رسی کا ایک ٹکڑا اور وہ پھٹا ہوا نقشہ احتیاط سے پلاسٹک کی تھیلی میں رکھا تھا۔
امی ابو سو رہے تھے۔ حمزہ نے چپکے سے پرچی لکھی: “دوستوں کے ساتھ پارک گیا ہوں، ناشتے تک واپس۔” یہ پورا سچ نہیں تھا، مگر پورا جھوٹ بھی نہیں تھا — اس نے اپنے دل کو یہی تسلی دی۔
چھ بجے تینوں پرانی آبادی کے موڑ پر ملے۔ عریبہ نے ایک نوٹ بک اور پینسل پکڑی ہوئی تھی، عثمان کے پاس اس کے ابو کا پرانا ٹارچ تھا اور حمزہ کے بیگ میں نقشے کا ٹکڑا۔
“تیار ہو؟” حمزہ نے پوچھا۔
“پیدا ہی اسی دن کے لیے ہوئی تھی،” عریبہ نے مسکرا کر کہا، مگر اس کی آواز میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔
وہ تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے حویلی کی طرف بڑھے۔ جوں جوں وہ قریب آتے گئے، گھروں کی بھیڑ کم ہوتی گئی اور ایک عجیب سی خاموشی چھانے لگی۔ آخر کار وہ ایک بڑے سے خالی میدان کے کنارے پہنچے — اور سامنے تھی وہ: پرانی حویلی۔
حمزہ کی سانس رک گئی۔
حویلی کسی سوئے ہوئے دیو کی طرح میدان کے بیچوں بیچ کھڑی تھی۔ اس کی دیواریں کبھی سفید رہی ہوں گی، مگر اب وقت نے انہیں زرد اور جگہ جگہ سے کالی کر دیا تھا۔ اونچی میناریں آسمان کو چھو رہی تھیں، جن پر کبوتروں نے گھونسلے بنا رکھے تھے۔ بڑا سا مرکزی دروازہ — لکڑی کا، پیتل کی کیلوں سے جڑا — زنگ آلود زنجیروں سے بند تھا۔ دیواروں پر بیل بوٹے رینگ رہے تھے، اور کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے اندر کا اندھیرا جھانک رہا تھا۔
“اللہ...” عثمان نے سرگوشی کی۔ “یہ تو فلموں والی حویلی لگتی ہے۔”
“تمہیں اس کی تاریخ پتا ہے؟” عریبہ نے کہا، اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ “میں نے کل رات انٹرنیٹ پر پڑھا۔ نواب ذوالفقار علی خان — اس شہر کے سب سے امیر نوابوں میں سے ایک۔ اسی سال پہلے ان کا انتقال ہوا۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ کہتے ہیں انہوں نے اپنی ساری دولت کہیں چھپا دی تھی، اور ان کے رشتہ دار آج تک اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔ حویلی پر مقدمہ چل رہا ہے — کوئی بلڈر اسے گرا کر یہاں پلازہ بنانا چاہتا ہے، مگر عدالت نے روک رکھا ہے۔”
“اسی سال،” حمزہ نے آہستہ سے کہا۔ “دادا ابو نے کہا تھا وہ یہاں چوکیدار تھے... اسی سال پہلے۔”
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پہیلی کے ٹکڑے جڑنے لگے تھے۔
“چلو،” حمزہ نے کہا۔ “پچھلی طرف سے۔ دادا ابو نے ایک بار بتایا تھا کہ حویلی کے پچھواڑے میں ایک چھوٹا دروازہ ہے — نوکروں کے لیے۔”
وہ دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پچھلی طرف پہنچے۔ واقعی، بیل بوٹوں کے پیچھے ایک چھوٹا سا لکڑی کا دروازہ تھا — اتنا چھوٹا کہ صرف جھک کر گزرا جا سکتا تھا۔ اس پر تالا نہیں تھا، بس ایک کنڈی لگی تھی جو زنگ سے گل چکی تھی۔ حمزہ نے دھکا دیا تو دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھل گیا۔
اندر گھپ اندھیرا تھا۔ عثمان نے ٹارچ جلائی۔ روشنی میں ایک لمبا برآمدہ نظر آیا — فرش پر دھول کی موٹی تہہ، دیواروں پر پرانے فانوس جن میں مکڑیوں نے جالے بن رکھے تھے۔ ہوا میں نمی اور پرانی لکڑی کی بو تھی۔
“یاد رکھو،” حمزہ نے سرگوشی کی۔ “ساتھ رہنا ہے۔”
وہ دبے پاؤں آگے بڑھے۔ برآمدہ ایک بڑے صحن میں کھلتا تھا۔ صحن کے بیچوں بیچ ایک خشک فوارہ تھا، اس کے گرد سنگ مرمر کے ستون۔ دیواروں پر نقش و نگار — کہیں مور، کہیں پھول، کہیں عربی خطاطی۔ ایک دیوار پر ایک بڑی سی تختی لگی تھی جس پر لکھا تھا:
“علم امانت ہے، امانت وقار ہے”
“یہ نواب صاحب کا قول ہوگا،” عریبہ نے نوٹ بک میں لکھتے ہوئے کہا۔
اچانک حمزہ رک گیا۔ صحن کے دوسری طرف ایک اور دروازہ تھا — اندرونی حصے کی طرف جاتا ہوا۔ مگر یہ دروازہ عجیب تھا۔ اس پر کوئی تالا یا کنڈی نہیں تھی۔ اس کی لکڑی پر ایک گول دائرہ بنا ہوا تھا، اور دائرے کے بیچوں بیچ ایک چوکور خانہ — بالکل اس سائز کا جتنا ان کے پاس نقشے کا ٹکڑا تھا۔
“دیکھو!” حمزہ نے کہا۔ “یہ... یہ تو نقشے کے ٹکڑے کی جگہ لگتی ہے!”
تینوں دروازے کے گرد جمع ہو گئے۔ عثمان نے ٹارچ کی روشنی دائرے پر ڈالی۔ دائرے کے گرد باریک حروف میں کچھ لکھا تھا۔ عریبہ نے پڑھا:
“جو مجھے جوڑے، وہی آگے بڑھے”
“یہ وہی بات ہے جو شعر میں تھی!” عریبہ نے پرجوش لہجے میں کہا۔ “حمزہ، نقشے کا ٹکڑا نکالو!”
حمزہ نے کانپتے ہاتھوں سے پلاسٹک کی تھیلی سے وہ پھٹا ہوا کاغذ نکالا۔ اس نے اسے چوکور خانے میں رکھا — اور وہ بالکل فٹ بیٹھ گیا، جیسے اسی کے لیے بنایا گیا ہو۔
ایک لمحے کو کچھ نہیں ہوا۔ پھر... ایک ہلکی سی “کٹ” کی آواز آئی۔ دائرہ آہستہ آہستہ گھومنے لگا۔ دروازے کے اندر کہیں کوئی میکانزم چل پڑا — پرانی گھڑی کی طرح ٹک ٹک کی آواز۔ اور پھر دروازہ خود بخود کھلنے لگا، اندر کی طرف۔
“یا اللہ...” عثمان کی آواز لرز رہی تھی۔ “یہ تو... یہ تو جادو ہے۔”
“جادو نہیں، میکانزم ہے،” عریبہ نے کہا، مگر اس کی اپنی آواز بھی کانپ رہی تھی۔ “نواب صاحب نے یہ دروازہ ایسے بنوایا تھا کہ صرف وہی کھول سکے جس کے پاس نقشے کا ٹکڑا ہو۔ حمزہ... تمہارے دادا ابو کے پاس یہ ٹکڑا کیوں تھا؟”
حمزہ کے ذہن میں دادا ابو کی خوفزدہ آنکھیں گھوم گئیں۔ “پتا نہیں... مگر اب ہم اندر جا رہے ہیں۔ ٹارچ آگے کرو، عثمان۔”
دروازے کے پار ایک کمرہ تھا — یا شاید ایک ہال۔ ٹارچ کی روشنی میں انہوں نے دیکھا کہ دیواروں پر بڑی بڑی تصویریں لگی تھیں — نوابوں کی، پگڑیوں والے بزرگوں کی۔ ایک کونے میں ایک میز تھی، اس پر ایک چراغ اور کچھ کتابیں — سب دھول میں اٹے ہوئے۔ فرش پر ایک پرانا قالین بچھا تھا جس کا رنگ اب پہچانا نہیں جاتا تھا۔
“یہ تو... یہ تو ایسے لگتا ہے جیسے کوئی ابھی کل یہاں سے گیا ہو،” عریبہ نے کہا۔ “بس دھول نے سب ڈھک دیا ہے۔”
دروازے کے پار وہ ایک لمبے ہال میں داخل ہوئے۔ عثمان نے ٹارچ کی روشنی چاروں طرف گھمائی اور تینوں کی سانسیں رک گئیں۔
یہ کوئی عام کمرہ نہیں تھا — یہ ایک عجائب گھر تھا۔ دیواروں پر قطار در قطار تصویریں لگی تھیں: گھوڑوں پر سوار نواب، شکار کے مناظر، پرانی دہلی کی گلیاں۔ ایک دیوار پر تلواریں اور ڈھالیں سجی تھیں، جن پر دھول کی موٹی تہہ جمی تھی مگر ان کی دھار اب بھی چمک رہی تھی۔ کمرے کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا فانوس لٹک رہا تھا — سینکڑوں کرسٹل کے ٹکڑوں والا — جو ٹارچ کی روشنی میں ہیرے کی طرح چمک اٹھا۔
“یہ... یہ سب اصلی ہے؟” عثمان نے سرگوشی کی۔ “یہ تلواریں... یہ تصویریں... ان کی قیمت کروڑوں میں ہوگی!”
“چھونا مت!” عریبہ نے فوراً کہا۔ “ڈائری میں لکھا تھا — جو لالچ لے کر آئے گا۔ ہم یہاں چوری کرنے نہیں آئے۔ ہم صرف راز جاننے آئے ہیں۔”
حمزہ نے اثبات میں سر ہلایا، مگر اس کی نظریں ایک کونے میں رکھی چھوٹی سی میز پر جم گئیں۔ اس پر ایک موسیقی کا ڈبہ رکھا تھا — پیتل کا، نقش و نگار والا۔ اس نے احتیاط سے اس کا ڈھکن کھولا۔ ایک لمحے کو کچھ نہیں ہوا، پھر... ایک مدھم سی دھن بجنے لگی۔ پرانی، اداس دھن — جیسے کوئی سوئے ہوئے وقت کو جگا رہا ہو۔
تینوں ساکت کھڑے سنتے رہے۔ دھن میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ عریبہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“کیا خوبصورت ہے،” اس نے آہستہ سے کہا۔ “سوچو — اسی سال پہلے کوئی اسے سنتا ہوگا۔ شاید نواب صاحب خود۔ شاید... ان کے بچے؟”
“ان کی کوئی اولاد نہیں تھی،” حمزہ نے کہا۔ “عریبہ نے بتایا تھا۔”
“ہاں، مگر...” عریبہ نے موسیقی کے ڈبے کو غور سے دیکھا۔ اس کے نیچے ایک چھوٹی سی تختی تھی جس پر لکھا تھا: “میری بیٹی کے لیے۔” وہ چونک گئی۔ “دیکھو! ‘میری بیٹی کے لیے’ — تو نواب صاحب کی کوئی بیٹی تھی؟ یا... ہونے والی تھی؟”
یہ ایک نیا معمہ تھا۔ حمزہ کے ذہن میں سوالات گھومنے لگے۔ اس نے ڈبہ بند کر دیا — دھن آہستہ آہستہ مدھم ہو کر ختم ہو گئی، جیسے کوئی سو گیا ہو۔
عثمان ایک الماری کے پاس کھڑا پرانے اخبارات دیکھ رہا تھا۔ “دیکھو یہ!” اس نے ایک اخبار اٹھایا۔ سرخی تھی: “نواب ذوالفقار علی خان کا انتقال — شہر سوگوار۔” تاریخ... اسی سال پہلے کی۔ اس نے اگلا اخبار اٹھایا: “نواب کی جائیداد پر تنازع — رشتہ داروں کا دعویٰ۔” اور ایک اور: “حویلی سیل — عدالت کا حکم۔”
“یہ سب... یہ سب اسی زمانے کا ہے،” عثمان نے کہا۔ “جیسے وقت یہیں رک گیا ہو۔”
عریبہ دیوار پر لگی تختی کے پاس کھڑی تھی — وہی جس پر لکھا تھا “علم امانت ہے، امانت وقار ہے۔” اس نے نوٹ بک میں لکھا، پھر بولی: “سوچو — نواب صاحب نے اپنی دولت چھپائی، مگر دیوار پر یہ لکھوایا۔ علم امانت ہے۔ مطلب ان کے لیے سب سے قیمتی چیز علم تھا۔ تو خزانہ... شاید کتابیں ہوں؟ نایاب مخطوطات؟”
“یا سونا بھی ہو اور کتابیں بھی،” حمزہ نے کہا۔ “ڈائری پڑھتے ہیں — شاید اس میں جواب ہو۔”
حمزہ میز کی طرف بڑھا۔ کتابوں میں سے ایک کھلی ہوئی تھی — جیسے کوئی اسے پڑھتے پڑھتے اٹھ کر چلا گیا ہو۔ اس نے کتاب اٹھائی۔ وہ ایک ڈائری تھی — چمڑے کی جلد والی۔ پہلے صفحے پر لکھا تھا: “ذوالفقار علی خان — ذاتی۔”
“نواب صاحب کی ڈائری!” حمزہ نے کہا۔
اس نے ورق پلٹا۔ سیاہی مدھم پڑ چکی تھی، مگر پڑھی جا سکتی تھی۔ پہلی سطریں:
“آج میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میری دولت میرے مرنے کے بعد ان ہاتھوں میں نہیں جائے گی جو اسے عیاشی میں اڑا دیں گے۔ میں نے ایک سلسلہ بنایا ہے — پہیلیوں کا۔ جو عقل، ہمت اور سچائی سے کام لے گا، وہی میری امانت کا حقدار ہوگا۔ پہلی پہیلی کا جواب تمہارے پاس ہے، اگر تم یہ پڑھ رہے ہو...”
“آگے پڑھو!” عریبہ نے بے تابی سے کہا۔
حمزہ نے اگلا ورق پلٹا۔ سیاہی یہاں زیادہ مدھم تھی، جیسے لکھنے والے کا ہاتھ کانپ رہا ہو:
“میری زندگی کے آخری دن قریب ہیں۔ میرے رشتہ دار گدھوں کی طرح میری موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ مگر میں انہیں اپنی دولت نہیں دوں گا — وہ دولت جو میں نے اس شہر کے غریبوں کے لیے رکھی ہے۔ میں نے تین دروازے بنائے ہیں، تین پہیلیاں رکھی ہیں۔ پہلا دروازہ وہی کھول سکتا ہے جس کے پاس نقشے کا پہلا ٹکڑا ہو۔ دوسرا دروازہ اس کے لیے ہے جو خوف پر قابو پائے۔ اور تیسرا... تیسرا صرف وہی کھول سکتا ہے جس کا دل صاف ہو۔
یاد رکھو — خزانہ سونا چاندی نہیں۔ خزانہ وہ ہے جو نسلوں تک کام آئے۔ اور ہاں، ایک بات اور: میری حویلی میں صرف پہیلیاں نہیں، پہرے دار بھی ہیں۔ جو لالچ لے کر آئے گا، وہ خالی ہاتھ جائے گا — یا شاید واپس ہی نہ جا سکے۔”
تینوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
“پہرے دار؟” عثمان نے حلق خشک کرتے ہوئے کہا۔ “مطلب... بھوت؟”
“بھوت نہیں ہوتے،” عریبہ نے کہا، مگر اس بار اس کی آواز میں وہ یقین نہیں تھا جو عام طور پر ہوتا تھا۔ “شاید کوئی میکانزم ہو۔ جال۔ نواب صاحب نے لکھا ہے ‘جو لالچ لے کر آئے گا’ — مطلب ہمیں لالچ نہیں کرنا چاہیے۔”
حمزہ نے ڈائری بند کی اور اسے احتیاط سے میز پر واپس رکھ دیا۔ اس کی نظریں کمرے میں گھومنے لگیں۔ ٹارچ کی روشنی میں اس نے دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک بڑا سا نقش بنا ہوا تھا — حویلی کا خاکہ! اس میں تین جگہوں پر سرخ نشان لگے تھے: ایک داخلی دروازے پر، ایک تہہ خانے کی طرف، اور ایک چھت پر۔
“دیکھو!” حمزہ نے کہا۔ “یہ حویلی کا خاکہ ہے! اور یہ سرخ نشان — شاید یہی وہ تین دروازے ہیں جن کا ذکر ڈائری میں ہے!”
عریبہ نے جلدی سے نوٹ بک نکالی اور خاکے کی نقل اتارنے لگی۔ “پہلا دروازہ ہم کھول چکے۔ دوسرا تہہ خانے میں... اور تیسرا چھت پر۔”
“تہہ خانہ؟” عثمان کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ “تمہارا مطلب ہے ہمیں نیچے جانا ہوگا؟ اندھیرے میں؟”
“ابھی نہیں،” حمزہ نے کہا۔ “پہلے یہ کمرہ دیکھ لیں۔”
وہ کمرے میں پھیل گئے۔ عثمان تصویروں کو دیکھنے لگا — ایک تصویر میں نواب ذوالفقار علی خان خود تھے: بھاری مونچھیں، سر پر پگڑی، آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک۔ ان کے پیچھے کھڑا ایک نوجوان نوکر... حمزہ نے غور سے دیکھا۔ وہ چہرہ کہیں دیکھا ہوا لگتا تھا — جیسے... جیسے دادا ابو کی جوانی کی تصویر!
حمزہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ ہاں... وہی ناک، وہی آنکھیں۔ یہ نوکر... یہ دادا ابو تھے! جوانی میں!
“عریبہ... عثمان...” حمزہ کی آواز لرز رہی تھی۔ “یہ دیکھو۔ یہ نوکر... یہ میرے دادا ابو ہیں۔”
“کیا؟!” دونوں دوڑ کر آئے۔
“مطلب تمہارے دادا ابو صرف چوکیدار نہیں تھے،” عریبہ نے آہستہ سے کہا۔ “وہ نواب صاحب کے خاص ملازم تھے۔ اسی لیے ان کے پاس نقشے کا ٹکڑا تھا۔ اسی لیے وہ ڈرے ہوئے ہیں۔ حمزہ... تمہارا خاندان اس راز سے جڑا ہوا ہے۔”
حمزہ کے ذہن میں دادا ابو کی بات گونجنے لگی: “کچھ دروازے کبھی نہیں کھولنے چاہئیں۔”
“حمزہ!” عریبہ کی آواز آئی۔ وہ ایک الماری کے پاس کھڑی تھی۔ اس کے دروازے پر ایک چھوٹی سی تختی لگی تھی جس پر لکھا تھا:
“جب سورج آسمان کے بیچ ہو، میرا سایہ میرے قدموں میں ہو اس سائے کی نوک جہاں تھمے، وہاں زمین اپنا سینہ کھولے”
“یہ دوسری پہیلی ہے!” عریبہ نے کہا۔ “سورج جب سر پر ہو — دوپہر کے بارہ بجے — سایہ قدموں میں ہوتا ہے۔ صحن میں جو خشک فوارہ ہے، اس کے ستون کا سایہ دوپہر کو جہاں گرے گا — وہیں تہہ خانے کا دروازہ ہوگا!”
“تو ہمیں دوپہر تک انتظار کرنا ہوگا؟” عثمان نے پوچھا۔
“یا...” عریبہ نے سوچتے ہوئے کہا۔ “یا ہم ابھی تہہ خانے کا راستہ ڈھونڈیں۔ نقشے کے خاکے میں تہہ خانے کا نشان...”
مگر اسی لمحے — اوپر کی منزل سے ایک آواز آئی۔
ٹھک... ٹھک... ٹھک...
کسی کے قدموں کی آہٹ۔ واضح، بھاری، اور ان کی طرف بڑھتی ہوئی۔
تینوں ساکت ہو گئے۔ عثمان نے ٹارچ بجھا دی۔ اندھیرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی — اور وہ قدم... جو سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔
کوئی اور بھی حویلی میں تھا۔ — اوپر کی منزل سے ایک آواز آئی۔
ٹھک... ٹھک... ٹھک...
کسی کے قدموں کی آہٹ۔ واضح، بھاری، اور ان کی طرف بڑھتی ہوئی۔
تینوں ساکت ہو گئے۔ عثمان نے ٹارچ بجھا دی۔ اندھیرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی — اور وہ قدم... جو سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔
کوئی اور بھی حویلی میں تھا۔