Episode 5
وظیفے کا خط

پانچویں دن کی صبح ماہ نور کی آنکھ زویا کی چیخ سے کھلی۔
"چھت پر آؤ! جلدی!"
تینوں دوڑے چھت پر۔ اسکول ان کے گھر سے دو گلیاں دور تھا، مگر چھت سے اس کا صحن صاف دکھائی دیتا تھا — اور اس کے بیچوں بیچ جھنڈا۔
لال پتنگ اسکول کے جھنڈے پر اٹکی تھی — بالکل ویسے جیسے ریڈیو نے کہا تھا۔
اور اس کے نیچے ہیڈ ماسٹر صاحب خود سیڑھی پر چڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے لال پتنگ کو دیکھا، ہلکا سا مسکرائے، اور اس کے عین نیچے ایک سفید جھنڈا باندھ دیا۔ ہوا میں لال پتنگ کے نیچے سفید جھنڈا لہرانے لگا۔
حاشر نے ماہ نور کا بازو دبا دیا۔ "لفظ بہ لفظ،" اس نے سرگوشی کی۔
ماہ نور نے کاپی کھولی اور لکھا: *پہلی خبر — سچ۔ لال پتنگ اسکول کے جھنڈے پر اٹکی؛ ہیڈ ماسٹر صاحب نے اس کے نیچے سفید جھنڈا لہرایا۔*
مگر تینوں کے چہروں پر خوشی نہیں تھی۔ کیونکہ کاپی کے اگلے صفحے پر دوسری خبر لکھی تھی — وہی خبر جس سے پہلے گھنٹی بجی تھی۔
*دوسری خبر: آج دوپہر ڈاکیا اقبال چوکیدار کے گھر خط لائے گا — اس کے بیٹے کے وظیفے کا فیصلہ۔ پوری گلی کہے گی خط غلط ہاتھوں میں گیا ہے۔ اسے روکنا مت۔*
ناشتے پر امی نے حاشر کی پلیٹ کی طرف دیکھا۔ "کچھ کھا لو، بیٹا۔"
حاشر نے سر ہلایا، مگر نوالہ نہ اٹھایا۔ ماہ نور جانتی تھی — اس کے بھائی کے ذہن میں صرف تین لفظ تھے: دوپہر۔ ڈاکیا۔ گھنٹی۔
دادی خاموش تھیں۔ اور ماہ نور کے کانوں میں رات کی سرگوشی گونج رہی تھی: *"اس کی ماں کو مت بتانا۔"*
---
دوپہر کو ڈاکیا آیا — سائیکل پر، پسینے میں بھیگا، ڈاک کا تھیلا کندھے پر۔
وہ اقبال چاچا کے دروازے پر رکا۔ ڈاکیا نے پسینہ پونچھا، ایک لفافہ نکالا، اور اونچی آواز میں پڑھا: "ضلعی تعلیمی دفتر سے — وظیفے کا خط۔ دستخط کر دیں۔"
ایک لمحے کی خاموشی — پھر گلی پھٹ پڑی۔
"غلطی ہے! یہ تو غلطی ہے!" ٹھیکے دار کی بیوی سب سے آگے تھیں۔ "اس لڑکے کے نمبر کبھی اتنے اچھے آئے ہی نہیں! دو گلیاں پرے ہمارے بیٹے کا بھی ملتا جلتا نام ہے — خط ضرور اس کے لیے ہو گا!"
ہجوم میں سرگوشیاں پھیل گئیں۔ "غریب کا بچہ اور وظیفہ؟" "ضرور ڈاک خانے کی غلطی ہے۔"
زویا نے بھیڑ میں اونچی آواز میں کہا: "خط کھولے بغیر فیصلہ سنا دیا؟ واہ! ہماری گلی کی عدالت تو سپریم کورٹ سے بھی تیز ہے!"
چند لوگ بے چینی سے ہنسے۔ مگر سرگوشیاں نہ تھمیں۔
اقبال چاچا کی بیوی دروازے میں کھڑی لفافہ سینے سے لگائے رو رہی تھیں۔ "ہم نے کھولا بھی نہیں،" وہ کہہ رہی تھیں۔ "ہم واپس کر دیں گے۔ ہم غریب لوگ ہیں — ہمیں کسی کا حق نہیں چاہیے۔"
حاشر بھیڑ کی طرف بڑھا — ماہ نور نے اس کی کلائی پکڑ لی، اتنی زور سے کہ اس کی انگلیوں کے نشان پڑ گئے۔
"گھنٹی والی خبر،" اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ "چاہے تباہی لگے — روکنا مت۔"
حاشر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "مگر آپا —"
"روکنا مت۔"
اور تب — گلی کے کنارے ہلچل ہوئی۔
دادی آ رہی تھیں — آہستہ آہستہ چلتی ہوئی، کتنے دنوں بعد پہلی بار گھر سے باہر۔ سب نے راستہ چھوڑ دیا۔
وہ اقبال چاچا کی بیوی کے پاس گئیں، ان کے ہاتھ تھامے۔ "بیٹی،" انہوں نے نرمی سے کہا، "کھول کر تو دیکھ لو۔ واپس کرنے سے پہلے ایک نظر پڑھ لو۔ کسی سے پڑھوا لو۔"
"میں… میں ٹھیک سے پڑھ نہیں سکتی، اماں،" وہ بولیں، نظریں جھکائے۔
زویا آگے بڑھی، لفافہ احتیاط سے کھولا، اور اونچی آواز میں پڑھنے لگی۔
خط ضلعی تعلیمی دفتر سے تھا — ضرورت مند طلبہ کے لیے تعلیمی وظیفہ، ہیڈ ماسٹر صاحب کی تحریری سفارش پر منظور شدہ۔ اور سفارش کی وجہ؟ پورا ایک سال — ہر شام نیم کے درخت کے نیچے — وہ لڑکا گلی کے چھوٹے بچوں کو مفت پڑھاتا رہا ہے۔
گلی پر سناٹا چھا گیا۔
ٹھیکے دار کی بیوی چپکے سے پیچھے ہٹ گئیں۔ کسی بوڑھے نے کہا: "ماشاءاللہ۔"
اقبال چاچا کی بیوی دہلیز پر بیٹھ گئیں۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے — مگر اب کے آنسو پہلے جیسے نہ تھے۔ یہ آنسو شرم کے نہیں، حیرت کے تھے۔
---
شام کو نیم کے درخت کے نیچے وہ لڑکا حاشر کے پاس آیا۔
"کسی کو پتا نہیں تھا،" اس نے آہستہ سے کہا۔ "ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک شام گزرتے ہوئے دیکھ لیا تھا — بس۔"
"تم نے بتایا کیوں نہیں؟" حاشر نے پوچھا۔
لڑکے نے گردن جھکا لی۔ "میری امی ٹھیک سے پڑھ نہیں سکتیں۔ ایک بار انہوں نے ایک کاغذ پر انگوٹھا لگا دیا تھا — پڑھے بغیر۔ اس دن میں نے سوچا تھا… گلی کا کوئی بچہ کبھی اتنا بے بس نہ ہو۔"
حاشر کچھ نہ بول سکا۔ اس نے صرف اپنے دوست کا ہاتھ تھام لیا، اور دونوں دیر تک نیم کے درخت کے نیچے بیٹھے رہے۔
---
رات کے کھانے کے بعد دادی ماہ نور کو صحن کے کونے میں لے گئیں۔
"گھنٹی والی خبر کو اپنا کام کرنے دو،" انہوں نے کہا۔ پھر رکیں، اور بہت آہستہ بولیں: "میں نے بہت سال پہلے اس کی ماں کو پڑھنا سکھایا تھا — چھپ چھپ کر، شام کے اندھیرے میں، جب وہ نئی نویلی دلہن تھی۔"
ماہ نور نے ان کی طرف دیکھا۔
"اسی لیے میں جانتی تھی — یہ خط سچا ہے۔ اور میں یہ بھی جانتی تھی…" دادی کی آواز کانپ گئی، "…کہ اگر تم رات کو اس کی ماں کو بتا دیتیں، تو وہ صبح ہوتے ہی خط واپس کر آتی۔ شرم کے مارے۔ بغیر پڑھے۔ اور پھر گھنٹی والی خبر… رک جاتی۔"
ماہ نور کی سانس رک گئی۔
دادی کی "مت بتانا" کوئی راز نہیں تھا۔ وہ حفاظت تھی۔
اس نے کاپی کھولی اور کانپتے ہاتھوں سے لکھا: *دادی نے اس کی ماں کو پڑھنا سکھایا تھا۔ گھنٹی والی خبر کی حفاظت دادی نے کی — ہم نے نہیں۔*
---
مغرب کی اذان کے ساتھ ہی گرڈ اسٹیشن کی طرف سے آواز آئی — پہلے ایک کھانسی، پھر گھنگھناہٹ۔ پرانا جنریٹر جاگ اٹھا تھا۔
پوری گلی نے سانس روک لی۔ لوگ لالٹینیں اونچی کر کے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
ایک گھنٹہ۔ پورا ایک گھنٹہ جنریٹر گھنگھناتا رہا۔
پھر — ٹھیک ایک گھنٹے بعد — خاموشی۔
بتی نہ جلی۔ ایک بھی نہیں۔
ماہ نور نے لکھا: *تیسری خبر — سچ۔ جنریٹر ایک گھنٹہ چلا۔ شہر کی بتی نہ جلی۔*
اسی گھنٹے میں ابو گھر آئے — کپڑوں پر مٹی، چہرے پر تھکن۔ کھڑے کھڑے دو نوالے کھائے۔
"مین لائن کے پرانے تار ڈھیلے ہو گئے ہیں،" انہوں نے کہا، آواز میں نیند گھلی ہوئی۔ "ہوا تیز چلی تو…"
وہ جملہ پورا نہ کر سکے۔ چارپائی پر بیٹھتے ہی سو گئے۔ امی نے ان پر چادر ڈال دی۔
ماہ نور نے کچھ نہ لکھا۔ مگر اس کے ذہن میں ایک لفظ اٹک گیا تھا: *تار۔*
---
رات کو تینوں چھت پر تھے۔ ریڈیو ان کے بیچ میں — خاموش، بے جان۔ ابھی آدھی رات ہونے میں گھنٹوں باقی تھے۔
اچانک — ریڈیو کا ڈائل خود بخود ہلکا سا روشن ہوا۔
نرم سنہری روشنی۔ جیسے کوئی آنکھ کھلی ہو۔
پھر کھرکھراہٹ — اور دادا ابو کی آواز کا ایک ٹکڑا، دھاگے جتنا باریک:
"…تار… ٹوٹے گی…"
خاموشی۔ ڈائل بجھ گیا۔
حاشر کی آواز کانپ رہی تھی۔ "ابھی تو… ابھی تو آدھی رات نہیں ہوئی۔"
ماہ نور نے کاپی کی طرف دیکھا — آدھی رات والا صفحہ ابھی خالی تھا، ان چھوا۔
اس کی آواز بھی کانپ رہی تھی: "ریڈیو کبھی آدھی رات سے پہلے نہیں بولتا۔ کبھی نہیں۔"