Episode 4
دادا کا آخری خط

چوتھے دن کی صبح مسجد کے صحن میں ہجوم تھا۔
خبر — جو رات ریڈیو نے دی تھی — سچ ہو چکی تھی: نیم کے درخت کی سب سے اونچی ڈال پر ایک لال پتنگ پھنس گئی تھی، اور اسے اتارنے کے لیے پورا محلہ اکٹھا تھا۔
“میں چڑھوں گا!” دانش نے کہا — چوکیدار اقبال کا بیٹا، حاشر کا سب سے اچھا دوست۔ وہ تنے سے لپٹ گیا اور بندر کی طرح اوپر چڑھنے لگا۔ نیچے سب نے سانس روک رکھی تھی۔
“آہستہ!” ماہ نور نے چیخ کر کہا۔
دانش نے ڈال ہلائی۔ پتنگ چھوٹی — ایک لمحے کو ہوا میں لہرائی — اور پھر نیچے گرتی ہوئی ایک بچے کے ہاتھ میں آ گئی۔ پورے صحن میں تالیاں بج اٹھیں۔ دانش درخت سے اترا، اس کی قمیض کہنی سے پھٹی ہوئی تھی، ماتھے پر پسینہ، مگر چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ۔
“یہ پتنگ اب میری ہے!” اس نے اعلان کیا۔
“نہیں!” چھوٹے بچے چلائے۔ “یہ محلے کی ہے!”
حاشر نے ماہ نور کی طرف دیکھا اور سرگوشی کی: “دیکھا؟ ریڈیو نے کہا تھا — پورا محلہ اکٹھا ہو گا۔ لفظ بہ لفظ۔”
ماہ نور نے کاپی میں لکھا: *تیسری خبر — سچ۔ لال پتنگ، نیم کا درخت، پورا محلہ۔*
مگر ان کے ذہن میں دوسری خبر گونج رہی تھی: *آج شام، اس گھر کے دروازے پر ایک اجنبی دستک دے گا — اور پوچھے گا: “کریم صاحب ہیں؟”*
دوپہر کو آسمان پر اچانک بادل چھا گئے۔
ملک بشیر کے گھر شادی کا کھانا کھلے صحن میں لگ چکا تھا — مگر اس کے اوپر اب ایک بڑا شامیانہ تنا تھا، وہی جو ماہ نور کے کہنے پر منگوایا گیا تھا۔
پھر بارش آئی — ایسی تیز جیسے آسمان نے بالٹی الٹ دی ہو۔
مہمان شامیانے کے نیچے سمٹ آئے۔ کھانا خشک رہا۔ کوئی نہیں بھیگا۔ اور جب بارش تھمی تو فہد کی امی نے ماہ نور کو گلے لگا لیا۔
“بیٹا، تم نے تو آج ہماری عزت بچا لی!” انہوں نے کہا۔ “اس گرمی میں بارش — کون سوچ سکتا تھا!”
زویا نے حاشر کو کہنی ماری: “حکمت عملی، ہاں؟”
حاشر نے فخریہ سر ہلایا، مگر اس کی نظریں آسمان پر تھیں۔ “خبر موڑی جا سکتی ہے،” اس نے آہستہ سے کہا۔ “مگر خبر جھوٹ نہیں بولتی۔”
ماہ نور نے کاپی میں لکھا: *پہلی خبر — سچ، مگر موڑی ہوئی۔ بارش آئی، مگر نقصان نہیں ہوا۔*
شام کو — ٹھیک اس وقت جب مغرب کی اذان فضا میں گونجی — ان کے دروازے پر دستک ہوئی۔
تینوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ امی دروازہ کھولنے بڑھیں، مگر ماہ نور ان سے پہلے پہنچ گئی۔
دروازے پر ایک بوڑھا شخص کھڑا تھا — سفید داڑھی، کانپتے ہاتھ، ہاتھ میں ایک پرانا چمڑے کا بیگ۔ اس کی آنکھیں صحن میں گھومیں، پھر ٹھہر گئیں — الماری کے اوپر رکھے ریڈیو پر۔
“کریم صاحب… ہیں؟” اس نے پوچھا۔
خاموشی چھا گئی۔
“دادا ابو تو…” حاشر نے شروع کیا، مگر ماہ نور نے اس کا ہاتھ دبا دیا۔
“اندر آئیے،” ماہ نور نے کہا۔ “آپ کون ہیں؟”
“میرا نام ستار ہے،” بوڑھے نے بیٹھتے ہوئے کہا۔ “محمد ستار۔ میں… میں کریم کے ساتھ ریڈیو اسٹیشن میں کام کرتا تھا۔ چالیس سال۔ وہ خبریں پڑھتا تھا، میں مشینیں ٹھیک کرتا تھا۔”
دادی اپنے کمرے کے دروازے پر آ کھڑی ہوئیں۔ ان کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔
ستار صاحب نے بیگ کھولا اور ایک لفافہ نکالا — پیلا پڑا ہوا، مہر لگا ہوا، کبھی نہ کھولا گیا۔
“یہ خط…” اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ “یہ کریم کا آخری خط ہے۔ اس نے جانے سے ایک رات پہلے مجھے دیا تھا۔ کہا تھا — ستار، یہ میرا آخری پیغام ہے، اسے نشر کر دینا۔”
“پھر نشر کیوں نہیں ہوا؟” زویا نے پوچھا۔
ستار صاحب نے نظریں جھکا لیں۔ “نیا منیجر آیا تھا۔ اس نے کہا — ذاتی پیغام خبریں نہیں ہوتیں۔ میں نے… میں نے ہمت نہیں کی۔ میں نے خط رکھ لیا۔ اتنے سالوں سے ہر رات یہی سوچتا رہا کہ میں نے اپنے سب سے اچھے دوست کا آخری پیغام دبا دیا۔”
اس نے لفافہ دادی کی طرف بڑھایا۔ “پھر میں نے سنا — گلیوں میں چرچا ہے کہ گلی نمبر چار میں آدھی رات کو کوئی ریڈیو بولتا ہے۔ میں سمجھ گیا۔ وہ… وہ بلا رہا ہے۔ یہ خط اسی کا ہے۔”
دادی نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ لیا۔ مہر توڑی۔ خط نکالا — دادا ابو کے ٹیڑھے میڑھے حروف۔
ماہ نور دادی کے کندھے کے پیچھے سے پڑھنے لگی، آہستہ آہستہ اونچی آواز میں:
*“میرے پیارے سننے والو،*
*خبر نویس وہ ہوتا ہے جو بتا دے کہ کیا ہوا۔ مگر میں نے چالیس سال میں یہ سیکھا کہ سب سے سچی خبر وہ ہوتی ہے جو ابھی ہوئی نہیں — وہ امید جو تم کسی کے لیے دل میں رکھتے ہو۔*
*یہ ریڈیو میں نے اپنے ہاتھوں سے جوڑا ہے — پرانے پرزوں سے، ستار کی مدد سے۔ لوگ ہنستے تھے کہ اتنا پرانا ڈبہ کون سنے گا۔ مگر میں جانتا تھا: جو ریڈیو محبت سے بنے، وہ آوازیں یاد رکھتا ہے۔*
*ستار، اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو میں جا چکا ہوں گا۔ اس ریڈیو کو میرے گھر میں رہنے دینا۔ اور میری بیوی سے کہنا…”*
خط وہیں ختم ہو گیا تھا — آدھا جملہ، ادھوری سیاہی۔
دادی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے خط سینے سے لگا لیا۔
“اس رات،” ستار صاحب نے آہستہ سے کہا، “اس نے مجھے ایک اور بات بھی کہی تھی۔ ایک طوفانی رات تھی، سارا عملہ گھر بھاگ گیا تھا، مگر کریم مائیک کے سامنے بیٹھا رہا اور خبریں پڑھتا رہا۔ اس نے کہا تھا: ‘خبر رکنی نہیں چاہیے۔’ وہ مانتا تھا کہ خبر… خبر لوگوں کی حفاظت کرتی ہے۔”
کمرے میں خاموشی تھی۔ پھر دادی نے — اتنے سالوں کی خاموشی کے بعد — پہلی بار اونچی آواز میں کہا:
“جب شہر سو جائے گا، ریڈیو بولے گا۔”
تینوں نے ان کی طرف دیکھا۔ دادی کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔
“یہی کہا تھا اس نے آخری رات،” دادی نے کہا۔ “میں سمجھی تھی بخار کی بڑبڑاہٹ ہے۔ مگر وہ… وہ یہی کہہ رہا تھا۔”
ماہ نور نے کاپی میں لکھا، ہاتھ کانپ رہے تھے: *دادی بولیں۔ “جب شہر سو جائے گا، ریڈیو بولے گا۔” — یہ دادا کے آخری الفاظ تھے۔*
ستار صاحب جانے لگے تو دادی نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ “خط پہنچ گیا،” انہوں نے کہا۔ “دیر سے سہی — مگر پہنچ گیا۔”
رات کو تینوں چھت پر تھے۔ ریڈیو ان کے بیچ میں — خالی ڈبہ، جس کے اندر صرف ایک نام تھا۔ مگر اب وہ نام انہیں خالی نہیں لگتا تھا۔
ٹھیک بارہ بجے — آواز آئی۔
“کل کی خبریں۔
پہلی خبر: کل صبح، وہی لال پتنگ — جو آج آزاد ہوئی — اسکول کے جھنڈے پر اٹکے گی، اور ہیڈ ماسٹر صاحب اس کے نیچے سفید جھنڈا لہرائیں گے۔
[ایک نرم گھنٹی بجی]
دوسری خبر: کل دوپہر، ڈاکیا اقبال چوکیدار کے گھر ایک خط لائے گا — اس کے بیٹے دانش کے وظیفے کا فیصلہ۔ پوری گلی کہے گی کہ خط غلط ہاتھوں میں گیا ہے۔ اسے روکنا مت۔
تیسری خبر: کل رات، گرڈ اسٹیشن پر ایک پرانا جنریٹر ایک گھنٹے کے لیے گھنگھنائے گا — مگر شہر کی بتی نہیں جلے گی۔”
خاموشی۔
حاشر کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔ “دانش…” اس نے سرگوشی کی۔ “ہمارا دانش۔ چوکیدار کا بیٹا۔ وظیفے کا خط… اور گلی کہے گی غلط ہاتھوں میں گیا…”
“گھنٹی،” زویا نے کہا۔ “اس خبر سے پہلے گھنٹی بجی تھی۔ مطلب — یہ وہ خبر ہے جسے روکنا نہیں ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو۔”
ماہ نور نے تینوں خبریں لکھیں۔ پھر اس نے گھنٹی والی خبر کے نیچے خط کھینچا اور لکھا:
*اصول: گھنٹی والی خبر کو روکنا مت — چاہے وہ تباہی لگے۔*
پھر — سیڑھیوں سے آہٹ ہوئی۔
دادی چھت کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ انہوں نے سب سنا تھا۔ ان کا چہرہ — جو شام کو پہلی بار مسکرایا تھا — اب پھر سفید تھا۔
انہوں نے ماہ نور کی طرف دیکھا، اور بہت آہستہ سے کہا:
“دانش کی ماں کو مت بتانا۔”