Episode 6
روشنی والی رات

رات بھر ماہ نور کو نیند نہ آئی۔ آنکھیں بند کرتی تو وہی باریک آواز کانوں میں گونجتی: "…تار… ٹوٹے گی…"
وہ آواز آدھی رات سے پہلے آئی تھی۔ ریڈیو کبھی آدھی رات سے پہلے نہیں بولتا تھا۔ کبھی نہیں۔ تو پھر وہ کیا تھا؟ کوئی انتباہ؟ کوئی غلطی؟ یا کوئی ایسی بات جسے ریڈیو بھی روک نہ سکا؟
صبح اس نے کاپی کھولی۔ آدھی رات والا صفحہ اب بھی خالی تھا۔ اس نے لرزتے ہاتھ سے لکھا: ریڈیو نے وقت سے پہلے صرف ایک ٹکڑا کہا۔ تار ٹوٹے گی۔ ابو آج رات پھر گرڈ اسٹیشن پر ہوں گے۔
حاشر چھت سے اترا تو اس کی آنکھیں بھی سرخ تھیں۔ "آپا،" اس نے آہستہ کہا، "اگر ریڈیو نے وقت سے پہلے بولنا شروع کر دیا ہے تو… کیا اس کا مطلب ہے کہ وہ ٹوٹ رہا ہے؟"
ماہ نور نے اس کا ہاتھ تھاما۔ "نہیں،" اس نے کہا، حالانکہ اس کے اپنے دل میں بھی یہی سوال تھا۔ "اس کا مطلب ہے کہ کوئی بات بہت ضروری ہے۔"
زویا نے دونوں کو دیکھا اور مسکرا کر بولی، "اچھا، آج کا منصوبہ یہ ہے: ہم ابو کو تار سے دور رکھیں گے، بغیر یہ بتائے کہ ہمیں کیسے پتا چلا۔ اور ریڈیو کو… ریڈیو کو آرام کرنے دیں گے۔"
مگر دوپہر سے پہلے ہی گلی میں ایک ایسی آواز گونجی جو کئی دنوں سے کسی نے نہیں سنی تھی: انجن کی آواز۔
ایک سفید وین گلی نمبر چار کے کونے پر آ کر رکی۔ اس کی چھت پر ایک بڑا کیمرا لگا تھا، اور اس کے پیچھے ایک جنریٹر تھا جو زور زور سے گھنگھنا رہا تھا۔ وین کے دروازے پر لکھا تھا: "شہر کی آواز — مس شیریں کے ساتھ۔"
مس شیریں اتریں — تیز چال، تیز آنکھیں، ہاتھ میں مائیک۔ ان کے پیچھے ایک نوجوان کیمرہ مین تھا جو ہر طرف کیمرا گھما رہا تھا۔
"السلام علیکم، گلی نمبر چار!" مس شیریں نے اونچی آواز میں کہا۔ "ہم نے سنا ہے کہ اس گلی میں ایک ایسا ریڈیو ہے جو… آدھی رات کو خود بولتا ہے!"
گلی میں سناٹا چھا گیا۔ پھر سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ ٹھیکے دار کی بیوی نے جلدی سے کہا، "ہم نے تو کچھ نہیں کہا! ہم نے تو صرف… ایک بات کی تھی…"
ماہ نور کا دل ڈوب گیا۔ افواہ گلی سے باہر نکل چکی تھی۔
"بھوت ریڈیو!" کیمرہ مین نے ہنس کر کہا۔ "یہ خبر تو پورے شہر میں چلے گی!"
حاشر نے ماہ نور کی آستین کھینچی۔ "آپا، اگر یہ لوگ رات کو یہاں رہے تو…"
ماہ نور سمجھ گئی۔ ریڈیو صرف مکمل اندھیرے میں بولتا ہے۔ اگر گلی میں ایک بھی بلب جل گیا تو وہ خاموش رہے گا۔ اور یہ وین تو پوری گلی کو دن بنا دینے والی تھی۔
زویا آگے بڑھی، مسکراہٹ کے ساتھ۔ "مس شیریں! آپ بالکل صحیح جگہ آئی ہیں۔ ہماری گلی میں واقعی ایک مشہور چیز ہے —" اس نے نیم کے درخت کی طرف اشارہ کیا۔ "وہ درخت! اس کے نیچے ہر شام بچے پڑھتے ہیں۔ وظیفے والے لڑکے کی کہانی آپ نے سنی؟"
مس شیریں نے بھنویں اٹھائیں۔ "وہ تو اچھی کہانی ہے، بیٹی۔ مگر مجھے ریڈیو چاہیے۔ جس گھر میں وہ ریڈیو ہے، وہ گھر کون سا ہے؟"
کوئی نہ بولا۔ دادی دروازے میں آ کر کھڑی ہو گئیں۔ ان کی خاموشی ایسی تھی جیسے کوئی دیوار ہو۔
"امی جی،" مس شیریں نے نرمی سے کہا، "میں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔ میں صرف سچ دکھانا چاہتی ہوں۔"
دادی نے آہستہ کہا، "بیٹی، کچھ سچ دکھانے کے لیے نہیں ہوتے۔ کچھ سچ صرف سنبھالنے کے لیے ہوتے ہیں۔"
مس شیریں مسکرائیں، مگر ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو ہار نہیں مانتی۔ "ٹھیک ہے۔ ہم آج رات یہیں رہیں گے۔ آدھی رات کو کیمرا چلے گا۔ اگر ریڈیو بولا تو پوری دنیا دیکھے گی۔ اگر نہ بولا تو… ہم کہیں گے کہ یہ سب افواہ تھی۔"
تینوں بچوں کے دل ایک ساتھ ڈوب گئے۔ اگر کیمرے کی روشنی میں ریڈیو نہ بولا تو کیا مس شیریں اسے جھوٹ کہہ کر چلی جائیں گی؟ یا وہ روشنی ہی ریڈیو کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دے گی؟
شام کو وین کی روشنیاں جل گئیں۔ پہلے ایک، پھر دوسری، پھر تیسری — گلی نمبر چار، جو کئی دنوں سے اندھیرے میں ڈوبی تھی، اچانک جگمگا اٹھی۔ بچے روشنی کی طرف دوڑے۔ بڑے حیرت سے دیکھنے لگے۔ کسی نے کہا، "واہ، جیسے بجلی واپس آ گئی ہو!"
مگر ماہ نور، حاشر اور زویا کے لیے وہ روشنی جشن نہیں تھی۔ وہ ایک خطرہ تھی۔
رات کے کھانے پر امی نے کہا، "اچھا ہے، کم از کم آج رات روشنی تو ہے۔" ماہ نور کچھ نہ بولی۔ وہ کیسے بتاتی کہ یہی روشنی ان کی سب سے بڑی مشکل ہے؟
ابو گھر سے نکلنے لگے — رات کی شفٹ کے لیے۔ ماہ نور نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "ابو، آج رات… تاروں سے دور رہیے گا۔ پلیز۔"
ابو نے حیرت سے اسے دیکھا، پھر مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "تم فکر نہ کرو، بیٹی۔ میں محتاط رہوں گا۔"
وہ چلے گئے۔ اور ماہ نور کے دل میں وہ ٹکڑا پھر گونجا: تار ٹوٹے گی۔
آدھی رات قریب آئی تو تینوں چھت پر بیٹھ گئے۔ ریڈیو ان کے بیچ میں تھا۔ نیچے گلی میں وین کی روشنیاں جل رہی تھیں، کیمرہ چھت کی طرف اٹھا ہوا تھا، اور مس شیریں مائیک تھامے انتظار کر رہی تھیں۔
"گیارہ بج کر اٹھاون منٹ،" حاشر نے سرگوشی کی۔
"گیارہ بج کر انسٹھ منٹ۔"
بارہ بجے۔
خاموشی۔
ریڈیو کا ڈائل نہ جلا۔ کوئی کھرکھراہٹ نہیں۔ کوئی آواز نہیں۔
ایک منٹ۔ دو منٹ۔ پانچ منٹ۔
نیچے سے مس شیریں کی آواز آئی، "کچھ نہیں؟ کیمرا چل رہا ہے؟"
کیمرہ مین نے سر ہلایا۔ "کچھ نہیں، میڈم۔ بالکل خاموش۔"
ماہ نور نے کاپی کھولی اور لکھا: آدھی رات۔ گلی میں روشنی تھی۔ ریڈیو خاموش رہا۔
اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ یہ خاموشی اس لیے تھی کہ اصول ٹوٹ گیا تھا — ایک بلب جل گیا تھا، اس لیے ریڈیو نے بولنے سے انکار کر دیا تھا۔ یا اس لیے کہ ریڈیو واقعی… ٹوٹ گیا تھا؟
حاشر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "آپا، کیا ہم نے اسے مار دیا؟"
ماہ نور نے ریڈیو کو سینے سے لگا لیا، جیسے وہ کوئی زخمی پرندہ ہو۔ "نہیں،" اس نے کہا، مگر اس کی آواز بھی کانپ رہی تھی۔
اسی وقت دادی چھت پر آئیں۔ وہ آہستہ چل کر تینوں کے پاس بیٹھ گئیں اور ماہ نور کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
"بیٹی،" انہوں نے کہا، "جو چیز محبت سے بنی ہو، وہ ایک رات کی روشنی سے نہیں مرتی۔ وہ صرف… انتظار کرتی ہے۔ اندھیرے کا۔"
ماہ نور نے ان کی طرف دیکھا۔ دادی کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے، مگر ان کی آواز میں یقین تھا۔
نیچے وین کا انجن پھر چلا۔ مس شیریں کیمرے کی طرف مڑیں اور بولیں، "آج رات کچھ نہیں ہوا۔ مگر ہم ہار نہیں مانتے۔ کل رات ہم اس سے بھی بڑی روشنی لائیں گے!"
وین گلی سے نکل گئی۔ روشنیاں بجھ گئیں۔ گلی پھر اندھیرے میں ڈوب گئی۔
مگر آدھی رات گزر چکی تھی۔
تینوں چھت پر بیٹھے رہے، اندھیرے میں، خاموش ریڈیو کے گرد۔ ابو گرڈ اسٹیشن پر تھے۔ تار کے بارے میں انتباہ اب بھی پورا نہیں ہوا تھا۔ اور کل رات مس شیریں اس سے بھی بڑی روشنی لے کر واپس آ رہی تھیں۔
حاشر نے سرگوشی کی، "اگر کل رات بھی روشنی ہوئی تو… ریڈیو پھر نہیں بولے گا۔ اور پھر…؟"
ماہ نور نے جواب نہ دیا۔ اس نے صرف کاپی میں ایک اور سطر لکھی — اور اس سطر کو لکھتے ہوئے اس کا ہاتھ سب سے زیادہ کانپا:
ریڈیو خاموش ہے۔ کیا ہم نے اسے ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے؟