Episode 3
خالی ڈبہ اور کندہ نام

تیسرے دن کی صبح امی نے خبر دی: "ابا کی چھٹی منسوخ ہو گئی۔ گرڈ اسٹیشن پر کوئی بڑی خرابی ہے، وہ آج نہیں آ سکیں گے۔"
ماہ نور نے حاشر کو دیکھا۔ حاشر نے ابا کے اوزاروں والا ڈبہ پہلے ہی نکال رکھا تھا۔
"آج،" اس نے پیچ کس اٹھاتے ہوئے کہا، "یہ ریڈیو کھلے گا۔ اور میں دیکھوں گا کہ اس کے اندر ہے کیا۔"
"حاشر!" ماہ نور نے کہا۔ "دادا کی چیز ہے۔"
"اسی لیے تو کھول رہا ہوں،" حاشر نے کہا۔ "اگر اس میں کوئی تار ہے، کوئی بیٹری ہے، تو ہمیں پتہ چلے گا آواز کہاں سے آتی ہے۔ اور اگر کچھ نہیں ہے…" وہ رکا۔ "تو پھر ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ… کچھ اور ہے۔"
"تمہیں ڈر نہیں لگتا؟" زویا نے ہنستے ہوئے کہا۔
"مجھے؟" حاشر نے سینہ پھیلایا۔ "میں سائنسدان ہوں۔ سائنسدانوں کو ڈر نہیں لگتا۔" پھر اس نے آہستہ سے کہا: "تھوڑا سا لگتا ہے۔"
دادی صحن میں چارپائی پر بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔
حاشر نے ریڈیو کو الٹا کیا۔ پچھلا ڈھکن — جہاں کبھی بیٹریاں لگتی تھیں — وہ تو پہلے سے کھلا تھا، ڈھیلا لٹک رہا تھا۔ مگر اس کے نیچے چار چھوٹے پیچ تھے۔ حاشر نے ایک ایک کر کے کھولے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
ڈھکن ہٹا۔
تینوں نے اندر جھانکا۔
خالی۔
مکمل خالی۔ نہ کوئی تار، نہ کوئی سرکٹ، نہ اسپیکر کی کوئی جالی — بس دھول، ایک کھوکھلا دھاتی ڈبہ، اور…
"یہ دیکھو،" زویا نے سرگوشی کی۔ اس نے انگلی سے اندر کی دھات پر کھروچی ہوئی چیز دکھائی۔
کسی نے کیل یا سوئی سے دھات پر کھروچ کر لکھا تھا — اردو میں، ٹیڑھے میڑھے حروف میں:
کریم
تینوں خاموش ہو گئے۔
"دادا ابو کا نام،" ماہ نور نے آہستہ سے کہا۔ "انہوں نے خود کھروچا تھا۔"
دادی اٹھ کر آئیں۔ انہوں نے ریڈیو کی طرف دیکھا — اس خالی ڈبے کی طرف — اور ان کا ہاتھ بے اختیار اس نام پر ٹھہر گیا۔ ایک لمحے کو ان کی آنکھوں میں آنسو چمکے۔ پھر وہ کچھ کہے بغیر واپس چارپائی پر جا بیٹھیں۔
ماہ نور نے کاپی کھولی اور لکھا:
*ریڈیو کے اندر کچھ بھی نہیں ہے۔ آواز ڈبے سے نہیں آتی — ڈبہ صرف دروازہ ہے۔*
"تو پھر آواز کہاں سے آتی ہے؟" حاشر نے پوچھا۔ اس کی سائنسدان والی اکڑ کہیں کھو گئی تھی۔
"شاید،" زویا نے کہا، "کچھ آوازیں ڈبوں میں نہیں رہتیں۔ کچھ آوازیں… لوگوں میں رہتی ہیں۔"
حاشر کو کل رات کی وہ خرخراہٹ یاد آئی جو آدھی رات سے پہلے نیچے سے آئی تھی۔ اس نے پورا صحن چھان مارا — الماری کے پیچھے، چارپائی کے نیچے — مگر کچھ نہ ملا۔ "شاید نیچے کوئی تار ہلتا ہے،" اس نے کہا، مگر اس کی آواز میں یقین نہیں تھا۔ ماہ نور نے کاپی میں لکھا: *وقت سے پہلے والی خرخراہٹ — وجہ نامعلوم۔*
دوپہر کو تینوں گلی میں نکلے۔ ملک بشیر کے گھر شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں — ان کے بیٹے فہد کی شادی کل تھی، اور کھانا کھلے صحن میں لگنا تھا۔
"ہم انہیں کیسے بتائیں کہ کل بارش ہوگی؟" زویا نے کہا۔ "اس موسم میں بارش کی بات پر وہ ہنسیں گے۔"
"ٹینکر والے کو بھی تو بتایا تھا،" حاشر نے کہا۔ "خبر موڑی جا سکتی ہے — یاد ہے؟ ہم براہ راست نہیں کہیں گے۔ ہم… اشارہ کریں گے۔"
ماہ نور فہد کی امی کے پاس گئی اور بڑے ادب سے کہا: "آنٹی، موسم کا کوئی بھروسہ نہیں… اگر شامیانے کا انتظام پہلے سے ہو جائے تو بہتر رہے گا۔"
فہد کی امی ہنسیں: "بیٹا، اس گرمی میں بارش؟ تم بھی ناں!" مگر انہوں نے سر ہلایا۔ "چلو، تمہارے کہنے پر ایک شامیانہ منگوا لیتی ہوں۔ ویسے بھی دھوپ سے بچاؤ ہو جائے گا۔"
واپسی پر حاشر نے فخریہ کہا: "دیکھا؟ یہ ہوتی ہے حکمت عملی!"
"ابھی خبر آئی نہیں،" ماہ نور نے کہا۔ "خبر تو آج رات آئے گی۔"
رات کو تینوں چھت پر تھے۔ بجلی نہیں تھی، شہر سویا ہوا تھا۔ تاروں بھرے آسمان کے نیچے ریڈیو ان کے بیچ میں رکھا تھا — خالی، خاموش، مگر اب وہ اسے پہلے جیسا مردہ نہیں سمجھتے تھے۔
ٹھیک بارہ بجے — ریڈیو خود بولا۔ وہی پُرسکون آواز۔ دادا ابو کی جوانی والی آواز۔
"کل کی خبریں۔
پہلی خبر: کل دوپہر، ملک بشیر کے بیٹے فہد کی شادی کا کھانا کھلے آسمان کے نیچے لگے گا — اور اچانک تیز بارش آئے گی۔
دوسری خبر: کل شام، اس گھر کے دروازے پر ایک اجنبی دستک دے گا — اور پوچھے گا: 'کریم صاحب ہیں؟'
تیسری خبر: کل صبح، مسجد کے صحن میں نیم کے درخت پر ایک لال پتنگ پھنس جائے گی — اور اسے اتارنے کے لیے پورا محلہ اکٹھا ہو گا۔"
خاموشی۔
تینوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔
"اس گھر کے دروازے پر،" زویا نے سرگوشی کی۔ "اس نے کہا — اس گھر کے دروازے پر۔ اسے ہمارا گھر پتہ ہے۔"
"اور 'کریم صاحب'،" حاشر کی آواز کانپ رہی تھی۔ "دادا ابو تو برسوں پہلے… کون انہیں ڈھونڈنے آئے گا؟"
ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے تینوں خبریں کاپی میں لکھیں۔ لفظ بہ لفظ۔
پھر — دروازے کی طرف سے آہٹ ہوئی۔
دادی کھڑی تھیں۔ ان کے چہرے پر وہی پہچان تھی جو کل رات تھی — مگر اس بار اس میں آنسو بھی تھے۔
"دادی؟" ماہ نور نے کہا۔ "آپ… آپ نے سنا؟"
دادی نے ریڈیو کی طرف دیکھا، پھر ماہ نور کی طرف۔ اور بہت آہستہ سے کہا:
"وہ آ رہا ہے۔"
"کون، دادی؟ کون آ رہا ہے؟"
دادی نے جواب نہیں دیا۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں — اور دروازہ بند کر لیا۔
چھت پر تینوں بچے اندھیرے میں بیٹھے رہ گئے — اور نیچے صحن میں، الماری کے اوپر، خالی ڈبہ چپ چاپ پڑا تھا، جس کے اندر صرف ایک نام کھروچا تھا۔
کریم۔