Episode 2
الٹا ٹینکر، خالی ٹینکر

دوسرے دن کی صبح ماہ نور نے اپنی کاپی کھولی اور تینوں خبریں پھر سے پڑھیں — لفظ بہ لفظ، جیسے اس نے رات کو لکھی تھیں۔
۱۔ کل دوپہر، بائی پاس پر پانی کا ایک ٹینکر الٹ جائے گا۔ ۲۔ امام صاحب کا گمشدہ طوطا کل مسجد کے مینار پر ملے گا۔ ۳۔ گلی نمبر چار میں، کل، ایک پرانی چیز جاگے گی۔
"ہم پہلی خبر روک سکتے ہیں!" حاشر نے کہا۔ اس کی آنکھوں میں گیجٹ ماہر والی چمک تھی۔ "اگر ہم ٹینکر والے کو پہلے سے خبردار کر دیں، تو وہ احتیاط کرے گا اور ٹینکر نہیں الٹے گا۔ پھر پتہ چلے گا کہ خبریں بدل سکتی ہیں یا نہیں!"
"اور اگر خبر سچ نکلی تو؟" زویا نے کہا۔ "پھر ہم جان جائیں گے کہ ریڈیو واقعی کل بتاتا ہے۔"
"اور تیسری خبر؟" ماہ نور نے آہستہ سے کہا۔ "'ایک پرانی چیز جاگے گی' — ہماری گلی میں۔"
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پرانی چیز۔ ان کے گھر میں سب سے پرانی چیز… دادا کا ریڈیو تھا۔ جو برسوں سے مردہ تھا۔ اور کل رات جاگ گیا تھا۔
"ریڈیو خود؟" حاشر نے سرگوشی کی۔ "تیسری خبر ریڈیو کے بارے میں تھی؟"
"یا…" زویا نے کہا، اور اس کی آواز دھیمی ہو گئی، "کوئی اور پرانی چیز۔"
دوپہر کو تینوں بائی پاس کی طرف گئے۔ گرمی میں سڑک سنسان تھی۔ دور سے ایک پانی کا ٹینکر آتا دکھائی دیا۔ حاشر سڑک کے بیچ میں کھڑا ہو گیا اور ہاتھ ہلانے لگا۔
ٹینکر رکا۔ ڈرائیور نے کھڑکی سے سر نکالا: "کیا ہوا بچے؟"
"انکل!" حاشر ہانپا۔ "آپ… آپ آج بائی پاس پر آہستہ چلائیے گا۔ آپ کا ٹینکر… الٹ سکتا ہے!"
ڈرائیور ہنسا۔ "اچھا؟ تمہیں کیسے پتہ؟" مگر اس نے سر ہلایا۔ "ٹھیک ہے بچے، احتیاط کروں گا۔ ویسے بھی ٹینکر خالی ہے — ڈپو واپس جا رہا ہوں۔"
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ خالی ٹینکر؟
وہ سڑک کے کنارے کھڑے رہے۔ ٹینکر آہستہ آہستہ آگے بڑھا… اور پھر — ایک موڑ پر، جہاں سڑک ڈھلوان تھی — اس کا پہیہ ایک گڑھے میں پھنسا، ٹینکر لڑکھڑایا، اور دھڑام سے ایک طرف الٹ گیا۔
ڈرائیور خیریت سے باہر نکلا۔ وہ حیران تھا، بچے حیران تھے۔
"الٹ تو گیا،" زویا نے آہستہ سے کہا۔ "مگر خالی تھا۔ کوئی نقصان نہیں۔ پانی بھی نہیں بہا۔"
"ہم نے خبر بدل دی،" حاشر نے کہا۔ اس کی آواز میں حیرت تھی۔ "نہیں… ہم نے اسے… موڑ دیا۔ ٹینکر الٹا، مگر خالی۔ جیسے خبر نے اپنا وعدہ پورا کیا، مگر ہم نے اس کا زہر نکال لیا۔"
ماہ نور نے کاپی میں لکھا: *خبر بدلی جا سکتی ہے — مگر پوری طرح نہیں۔*
شام کو مسجد سے اعلان ہوا: امام صاحب کا طوطا مینار پر مل گیا تھا۔ دوسری خبر بھی سچ نکلی۔
رات کو تینوں چھت پر لیٹے ستاروں کو دیکھ رہے تھے۔ حاشر نے کہا: "تو اب ہم جانتے ہیں۔ ریڈیو کل کی خبر دیتا ہے۔ اور ہم اسے بدل سکتے ہیں — تھوڑا سا۔"
"مگر تیسری خبر،" ماہ نور نے کہا۔ "'ایک پرانی چیز جاگے گی۔' کیا وہ ریڈیو تھا؟ یا کچھ اور… جو ابھی جاگنا باقی ہے؟"
زویا نے دادا کی پرانی شادی والی ویڈیو کی بات یاد کی۔ "تمہیں یاد ہے؟ ریڈیو میں جو آواز تھی — وہ دادا ابو کی جوانی کی آواز تھی۔ اگر… اگر جاگنے والی پرانی چیز ریڈیو نہیں، بلکہ…" وہ رک گئی۔
"بلکہ کیا؟" حاشر نے پوچھا۔
زویا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ "کبھی کبھی چیزیں نہیں جاگتیں، حاشر۔ کبھی کبھی… لوگ جاگتے ہیں۔"
خاموشی چھا گئی۔ نیچے صحن میں، الماری کے اوپر، ریڈیو چپ چاپ پڑا تھا — مردہ، خاموش، بے جان۔
مگر تینوں جانتے تھے: آدھی رات کو وہ پھر بولے گا۔
ماہ نور نے اپنی کاپی سینے سے لگائی اور سرگوشی کی: "اگر اس بار تیسری خبر پھر ہمارے بارے میں ہوئی تو؟"
اور ٹھیک اسی لمحے — ابھی آدھی رات میں وقت تھا — نیچے سے ایک ہلکی سی خرخراہٹ آئی۔
رات کے کھانے پر امی نے بچوں کے چہروں کو دیکھا اور مسکرائیں۔ "تم تینوں آج کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو۔ کیا کھیل کھیل رہے ہو؟"
"کوئی کھیل نہیں امی،" ماہ نور نے جلدی سے کہا — اتنی جلدی کہ زویا نے اسے کہنی ماری۔
"ہمم،" امی نے کہا۔ "اچھا کھیلو۔ مگر یاد رکھو، کل تمہارے ابا گرڈ اسٹیشن سے ایک دن کی چھٹی پر آ رہے ہیں۔ ان کے سامنے یہ 'کل کی خبریں' والا کھیل مت کھیلنا، وہ تھکے ہوں گے۔"
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ابا آ رہے تھے۔ اور ریڈیو کی خبروں میں ابھی تک ابا کا کوئی ذکر نہیں آیا تھا۔
دادی — جو دسترخوان کے کنارے خاموش بیٹھی تھیں — نے اچانک کہا: "ماہ نور۔ تم نے کل رات کچھ لکھا تھا نا؟ کاپی میں؟"
ماہ نور کا دل دھڑکا۔ "دادی… آپ کو کیسے پتہ؟"
دادی نے اس کی طرف دیکھا، اور ان کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو ماہ نور نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا — ڈر نہیں، پہچان۔ "جب شہر سو جائے گا،" انہوں نے آہستہ سے کہا، "ریڈیو بولے گا۔ تمہارے دادا یہی کہتے تھے۔"
پھر وہ اٹھیں اور اپنے کمرے میں چلی گئیں — جیسے انہوں نے بہت کچھ کہہ دیا ہو، یا بہت کم۔
وقت سے پہلے۔