← ریڈیو خاموشی · All episodes

Episode 1

کل کی خبر

کل کی خبر

گرمی کا وہ ہفتہ تھا جب شہر کی بجلی نے بالآخر ہار مان لی۔

گرڈ اسٹیشن میں خرابی ہوئی، اور اعلان ہوا: تین دن بجلی نہیں آئے گی۔ تین دن! پنکھے بند، فریج بند، موبائل بند ہونے کے قریب۔ ماہ نور کے گھر میں بھی وہی حال تھا جو پورے محلے کا تھا — سب چھت پر چارپائیاں ڈالے ہاتھ کے پنکھے جھل رہے تھے، اور نیچے گلی میں ہر گھر سے وہی ایک جملہ سنائی دے رہا تھا: "بس اللہ خیر کرے۔"

"تین دن بغیر فون کے؟" بارہ سال کے حاشر نے ایسے کہا جیسے اسے سزا سنائی گئی ہو۔ وہ گھر کا گیجٹ ماہر تھا — ہر چیز کھول کر دیکھنا اس کی عادت تھی۔ "میں تو بوریت سے ہی مر جاؤں گا۔"

"مرنا نہیں، حاشر،" زویا نے کہا — کراچی سے آئی ہوئی سولہ سالہ کزن، جو چھٹیوں میں آئی تھی اور اب اسی بلیک آؤٹ میں پھنس گئی تھی — "بس تین دن اپنے دادا کے زمانے میں رہ کر دکھانا ہے۔"

دوپہر کو بوریت سے تنگ آ کر حاشر نے اسٹور کی الماری سے وہ پرانا ٹرانجسٹر ریڈیو نکالا تھا جو برسوں سے ویسے ہی پڑا تھا۔ دادا کریم کا ریڈیو۔ دادا ریٹائرڈ ہونے تک ریڈیو اسٹیشن میں خبریں پڑھتے رہے تھے اور ساری عمر ریڈیو بناتے رہے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد یہ ریڈیو کسی نے نہیں چھیڑا تھا۔

حاشر نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا، نوب گھمایا — کچھ نہیں۔ اس نے پچھلا ڈھکن کھولا اور ہنس پڑا: "یہ دیکھو! بیٹری والا خانہ بالکل خالی ہے۔ اور تار بھی کٹی ہوئی ہے۔ یہ تو کبھی چل ہی نہیں سکتا۔" اس نے ریڈیو واپس الماری کے اوپر رکھ دیا۔

اس رات چھت پر سب سو رہے تھے کہ ماہ نور کی آنکھ کھلی۔ خاموشی اتنی گہری تھی کہ کانوں میں سیٹی سی بجتی تھی۔ پورا شہر — ہر گھر، ہر گلی — سیاہ اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ ایک بلب تک روشن نہیں تھا۔

اور پھر — نیچے، صحن والی الماری کی طرف سے ایک آواز آئی۔ خرخراہٹ۔ جیسے کوئی پرانا راستہ کھل رہا ہو۔

ماہ نور اٹھ بیٹھی۔ حاشر بھی جاگ گیا۔ تینوں بچے آہستہ آہستہ نیچے اترے۔ الماری پر رکھا دادا کا ریڈیو… روشن تھا۔ اس کی سوئی خود بہ خود حرکت کر رہی تھی، اور اس میں سے ایک پرسکون، ٹھہری ہوئی آواز آ رہی تھی — ایک نوجوان مرد کی آواز، خبروں والے لہجے میں:

**"یہ کل کی خبریں ہیں۔ پہلی خبر: کل دوپہر، بائی پاس پر پانی کا ایک ٹینکر الٹ جائے گا۔ دوسری خبر: امام صاحب کا گمشدہ طوطا کل مسجد کے مینار پر ملے گا۔ اور تیسری خبر…"**

آواز ایک لمحے کو رکی۔

**"…گلی نمبر چار میں، کل، ایک پرانی چیز جاگے گی۔"**

خرخراہٹ۔ خاموشی۔ ریڈیو کی روشنی بجھ گئی۔

تینوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ زویا کے منہ سے پھسلا: "یہ آواز… میں نے یہ آواز کہیں سنی ہے۔ شادی والی پرانی ویڈیو میں۔ یہ تو… یہ تو دادا ابو کی جوانی کی آواز ہے۔"

ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی کاپی نکالی — اسے خود بھی معلوم نہیں تھا وہ کیوں لکھ رہی ہے — اور تینوں خبریں لفظ بہ لفظ لکھ ڈالیں۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا: "ہماری گلی کون سی ہے، حاشر؟"

"گلی نمبر چار،" حاشر بولا، اور پھر اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "آپی… گلی نمبر چار تو ہماری گلی ہے۔"

تب ہی ماہ نور کی نظر ریڈیو کے کھلے ہوئے پچھلے حصے پر پڑی — جو حاشر دوپہر کو کھول کر ویسے ہی چھوڑ گیا تھا۔

بیٹری والا خانہ اب بھی بالکل خالی تھا۔