← ریڈیو خاموشی · All episodes

Episode 11

واپسی کی رات

واپسی کی رات

صبح سویرے زویا نے اپنا بیگ بند کیا اور دروازے کے پاس رکھ دیا۔ اس کی بس شہر کے لیے دس بجے روانہ ہونی تھی۔ ماہ نور خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ الوداع کہنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا، مگر وہ مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اچانک ہاشر دوڑتا ہوا گلی سے اندر آیا، اس کے ہاتھ میں ایک پرانا اخبار تھا اور چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ «اڈے پر کوئی بس نہیں چل رہی!» اس نے اعلان کیا۔ «بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر رش لگا ہوا ہے، اور بسوں کا نظام ایک دن کے لیے رک گیا ہے۔ اگلی بس کل صبح جائے گی۔» زویا نے پہلے حیرت سے اسے دیکھا، پھر ہنس پڑی۔ «تو مطلب ایک اور رات؟» امی نے سر ہلایا۔ «ایک اور رات،» انہوں نے کہا۔ «اور شاید یہی ٹھیک ہے۔»

ماہ نور فوراً اپنی نوٹ بک لے آئی۔ اس نے گزشتہ رات کی خبریں پھر سے پڑھیں، لفظ بہ لفظ۔ پہلی خبر: گلی میں ایک بچے کا نام رکھا جائے گا۔ دوسری خبر: بارش ہوگی۔ اور تیسری خبر، جس سے پہلے ایک نرم سی گھنٹی بجی تھی: آج رات اس گھر میں کوئی واپس آئے گا۔ ماہ نور نے اس خبر کے نیچے لکھا تھا: «گھنٹی بجی۔ ہم اسے نہیں روکیں گے۔» اس نے نوٹ بک بند کی اور دل میں کہا: اب صرف آج رات کا انتظار ہے۔

دادی صحن میں چارپائی پر بیٹھی تھیں۔ انہوں نے بچوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے کہا: «آج دروازہ کھلا رکھنا۔ ہم کسی کو نہیں روکیں گے، ہم صرف دروازہ کھلا رکھیں گے۔» ہاشر نے فوراً دروازہ پورا کھول دیا، جیسے کوئی مہمان ابھی آنے والا ہو۔ زویا نے ہنس کر کہا: «اتنا بڑا دروازہ؟ اب تو ہوا بھی اندر آ کر بیٹھ جائے گی۔» دادی مسکرا دیں۔ «ہوا کا آنا بھی اچھا ہے،» انہوں نے کہا۔

دن بھر گھر کی تیاری ہوتی رہی۔ ماہ نور نے صحن میں جھاڑو دی، ہاشر نے لالٹینوں کے شیشے صاف کیے اور زویا نے کمرے ترتیب دیے۔ امی نے باورچی خانے میں ابو کی پسندیدہ کھیر بنائی اور کہا: «نہ جانے کیوں، آج دل کہہ رہا ہے کہ کھیر بنانی چاہیے۔» ماہ نور اور زویا نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا دیں۔ شاید امی کا دل بھی وہی جانتا تھا جو ریڈیو نے بتایا تھا۔ ہاشر نے چپکے سے کہا: «امی کو بھی خبر مل گئی ہے، بس ان کا ریڈیو باورچی خانے میں ہے۔» سب ہنس پڑے۔

دوپہر کو گلی میں ہمسایوں کے گھر سے خوشی کی آوازیں آنے لگیں۔ چھوٹے سے بچے کے نام رکھنے کی رسم تھی۔ سب نے مل کر بچے کا نام «حمزہ» رکھا۔ ماہ نور نے نوٹ بک میں پہلی خبر کے آگے ایک چھوٹا سا نشان لگایا۔ پہلی خبر پوری ہو گئی تھی، بالکل ویسے جیسے ریڈیو نے کہا تھا۔ زویا نے کہا: «دیکھو، ریڈیو جھوٹ نہیں بولتا۔» ہاشر نے سینہ چوڑا کر کے کہا: «اور میں نے تو پہلے ہی کہا تھا۔»

شام کو آسمان پر بادل چھا گئے اور ہلکی سی بارش ہونے لگی۔ گرم ہفتے کے بعد ٹھنڈی بوندیں صحن میں گریں تو بچے خوشی سے باہر نکل آئے۔ بارش زیادہ دیر نہیں رہی، مگر اتنی تھی کہ مٹی کی خوشبو پورے گھر میں پھیل گئی۔ ماہ نور نے نوٹ بک میں دوسری خبر کے آگے بھی نشان لگایا۔ دو خبریں پوری ہو چکی تھیں۔ اب صرف تیسری خبر باقی تھی — گھنٹی والی خبر۔

رات کا کھانا کھا کر سب صحن میں بیٹھ گئے۔ ابو ابھی تک گھر نہیں آئے تھے۔ وہ گرڈ اسٹیشن پر آخری شفٹ پر گئے تھے تاکہ صبح تک بجلی واپس آ سکے۔ فون کی بیٹریاں ختم تھیں، اس لیے کوئی خبر نہیں مل سکتی تھی۔ امی کبھی دروازے کی طرف دیکھتیں، کبھی آسمان کی طرف۔ دادی نے ان کا ہاتھ تھام کر کہا: «فکر نہ کرو۔ جو واپس آنا ہے، وہ آ جائے گا۔ دروازہ کھلا ہے۔» ماہ نور کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ کیا واپس آنے والا ابو ہی ہوگا؟

گیارہ بجے کے بعد گلی میں گہری خاموشی چھا گئی۔ پھر اچانک قدموں کی آواز آئی — آہستہ، تھکے ہوئے قدم، جو گلی نمبر چار کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دروازہ کھلا تھا۔ ایک سایہ اندر آیا، اور پھر لالٹین کی روشنی میں سب نے دیکھا: ابو! ان کے کپڑوں پر مٹی لگی تھی، چہرہ تھکن سے چور تھا، مگر وہ مسکرا رہے تھے۔ «ابو!» تینوں بچے ایک ساتھ چلا اٹھے۔ امی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور دادی نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیے۔ ابو نے سب کو گلے لگایا اور کہا: «کام تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔ صبح تک شہر میں روشنی واپس آ جائے گی۔ اور میں... میں گھر واپس آ گیا ہوں۔» ماہ نور نے نوٹ بک میں تیسری خبر کے آگے لکھا: «واپس آ گئے۔ ابو۔» اس لمحے گھر پورا لگ رہا تھا۔

سب چائے پی رہے تھے جب گھڑی نے گیارہ بج کر اٹھاون منٹ بجائے۔ اچانک پورے شہر میں ایک جھلک سی دوڑ گئی — جیسے کسی نے دور سے بجلی کا بٹن چھو لیا ہو۔ گلی کے کونے پر ایک بلب ٹمٹمایا، پھر جل اٹھا۔ پھر دوسری طرف سے روشنی کی ایک اور جھلک آئی۔ ماہ نور، ہاشر اور زویا ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ریڈیو الماری پر رکھا تھا، خاموش، اپنے خالی ڈبے کے ساتھ۔ آدھی رات میں ابھی دو منٹ باقی تھے۔ تینوں نے آگے بڑھ کر ریڈیو کو تھام لیا۔ ماہ نور نے سرگوشی میں کہا: «دو منٹ...» اور اسی لمحے گلی کا پہلا بلب پوری روشنی سے جل اٹھا۔