← ریڈیو خاموشی · All episodes

Episode 12

آخری خبر

آخری خبر

گھڑی نے گیارہ بج کر اٹھاون منٹ بجائے تو گلی نمبر چار کا پہلا بلب پوری روشنی سے جل اٹھا۔ روشنی صحن میں دوڑ آئی، دیواروں پر رقص کرنے لگی، اور ایک لمحے کے لیے پورا گھر جاگ اٹھا — پنکھا ہلنے لگا، فریج نے ہلکی سی آواز کی، اور امی نے خوشی سے تالی بجائی۔ ماہ نور، ہاشر اور زویا نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ریڈیو کو مضبوطی سے تھام لیا۔ وہ الماری پر رکھا تھا، خاموش، اپنے خالی بیٹری کے ڈبے کے ساتھ۔

پھر بلب جھلملایا۔ ایک بار، دو بار — اور اچانک بجھ گیا۔ گلی پھر اندھیرے میں ڈوب گئی، جیسے روشنی صرف یہ دیکھنے آئی تھی کہ گھر والے جاگ رہے ہیں یا نہیں۔ ہاشر نے سرگوشی میں کہا: «بجلی آئی تھی... اور چلی گئی؟» ابو نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر کہا: «نئی لائن پر بوجھ زیادہ ہے۔ شاید ٹرپ ہو گئی ہو۔ تھوڑی دیر میں پھر آئے گی۔» ماہ نور نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ گیارہ بج کر انسٹھ منٹ۔ آدھی رات میں صرف ایک منٹ باقی تھا۔

دادی نے آہستہ سے کہا: «آدھی رات...» سب خاموش ہو گئے۔ صحن میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی، اور دور کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز۔ پھر گھڑی نے بارہ بجائے — اور ریڈیو میں ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی۔

تینوں بچوں نے ایک ساتھ سانس روک لی۔ ریڈیو بول رہا تھا۔ وہی پُرسکون آواز، وہی نوجوان دادا کی آواز، جیسے وہ کمرے میں بیٹھا ہو۔ «کل صبح دس بجے زویا کی بس روانہ ہو گی،» آواز نے کہا۔ «سڑک صاف ہو گی۔»

ماہ نور نے نوٹ بک کھولی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ آواز نے آگے کہا: «کل مس شیریں کی کہانی کسی بھوت کے بارے میں نہیں ہو گی۔ وہ گلی کے لوگوں کے بارے میں ہو گی۔»

پھر ایک نرم سی گھنٹی بجی — وہی گھنٹی جس کا مطلب تھا: یہ خبر بوجھ والی ہے، اسے روکنا مت۔ ماہ نور نے قلم مضبوطی سے پکڑ لیا۔ آواز نے کہا: «کل صبح اس گھر میں ایک نئی کہانی شروع ہو گی — اسے روکنا مت۔»

پھر آواز دھیمی ہونے لگی۔ «خبریں ختم...» گلی کے کونے پر ایک بلب پھر جھلملایا، پھر دوسرا، پھر تیسرا — روشنی گلی میں واپس آ رہی تھی۔ آواز سرسراہٹ میں ڈوبنے لگی، اور ڈوبتے ڈوبتے اس نے آخری جملہ کہا: «اپنا خیال رکھنا، ماہ نور۔»

ماہ نور جم گئی۔ آواز نے اس کا نام لیا تھا۔ تین دن میں ریڈیو نے کبھی کسی کا نام نہیں لیا تھا — نہ ماہ نور کا، نہ کسی اور کا۔ خبریں ہمیشہ گلی کے بارے میں ہوتی تھیں، شہر کے بارے میں، کبھی کسی ایک انسان کے بارے میں نہیں۔ مگر آج... آج آواز نے اس کا نام لیا تھا، جیسے دادا ابو خود اس سے الوداع کہہ رہے ہوں۔

اچانک پورا گھر روشنی سے بھر گیا۔ پنکھے گھومنے لگے، بلب جل اٹھے، اور گلی نمبر چار کی ہر کھڑکی میں روشنی جھلملانے لگی۔ تینوں بچوں نے ریڈیو کی طرف دیکھا۔ سرسراہٹ بھی ختم ہو چکی تھی۔ ریڈیو خاموش تھا — بالکل خاموش، جیسے وہ کبھی بولا ہی نہ ہو۔ ہاشر نے اسے ہلکے سے ہلایا، پھر کان لگا کر سنا۔ کچھ نہیں۔ «وہ... چلا گیا؟» اس نے آہستہ سے پوچھا۔

دادی نے مسکرا کر کہا: «نہیں، بیٹا۔ وہ اپنا کام پورا کر کے گیا ہے۔» انہوں نے ریڈیو کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے پیچھے والے ڈبے کو کھولا — خالی تھا، صرف دادا کا نام اندر کندہ تھا: کریم۔ «تمہارے دادا نے یہ ریڈیو اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا،» دادی نے کہا۔ «وہ ریڈیو پر خبریں پڑھتے تھے، اور جب وہ بوڑھے ہو گئے تو انہوں نے یہ ریڈیو بنایا تاکہ ان کی آواز اس گھر میں رہ جائے۔ اپنی آخری رات انہوں نے مجھ سے کہا تھا: جب شہر سو جائے گا، ریڈیو بولے گا۔»

«اور ایک بات...» دادی نے آہستہ سے کہا، اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ «پہلی رات جب بجلی گئی، میں نے خود یہ ریڈیو ڈبے سے نکال کر الماری پر رکھا تھا۔ مجھے ان کا وعدہ یاد تھا۔ میں جانتی تھی کہ وہ بولے گا — اور میں جانتی تھی کہ آخری خبر میں وہ تمہارا نام لے گا، ماہ نور۔ کیونکہ خبریں شہر کے لیے تھیں، مگر الوداع... الوداع صرف گھر والوں کے لیے تھا۔»

ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دادی کو گلے لگا لیا۔ ابو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور امی نے سب کے لیے چائے بنائی — بجلی والی چائے، تین دن بعد پہلی بار۔ سب ہنس رہے تھے، رو رہے تھے، اور روشنی میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، جیسے تین دن کے اندھیرے کے بعد پہلی بار ایک دوسرے کو ٹھیک سے دیکھا ہو۔

صبح دس بجے زویا کی بس بالکل وقت پر آئی۔ سڑک صاف تھی، جیسے ریڈیو نے کہا تھا۔ زویا نے اپنا بیگ اٹھایا اور دروازے پر کھڑی ہو کر سب کو گلے لگایا۔ «میں چھٹیوں میں پھر آؤں گی،» اس نے کہا۔ «اور اگلی بار بجلی ہو یا نہ ہو، میں ضرور آؤں گی۔» ماہ نور نے نوٹ بک میں پہلی خبر کے آگے نشان لگایا۔ بس روانہ ہو گئی، اور زویا کھڑکی سے ہاتھ ہلاتی رہی، جب تک وہ گلی کے موڑ سے غائب نہ ہو گئی۔

اسی صبح مس شیریں اپنی کیمرہ وین کے ساتھ گلی میں آئیں۔ ان کا کیمرہ تیار تھا، مگر جب انہوں نے صحن میں بیٹھی دادی کو دیکھا، امی کی کھیر دیکھی، اور الماری پر رکھے خاموش ریڈیو کو دیکھا، تو وہ رک گئیں۔ انہوں نے کیمرہ بند کر دیا۔ «اصل کہانی بھوت کی نہیں ہے،» انہوں نے مسکرا کر کہا۔ «اصل کہانی اس گلی کی ہے — جس نے اندھیرے میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔» وہ کھیر کھا کر چلی گئیں، اور ریڈیو کا راز گھر والوں کے پاس ہی رہ گیا۔ ماہ نور نے دوسری خبر کے آگے بھی نشان لگا دیا۔

پھر دادی نے ماہ نور کو اندر بلایا اور ایک پرانی کتاب اس کے ہاتھ میں دے دی۔ کتاب کے پہلے صفحے پر دادا کے ہاتھ سے لکھا تھا: کریم — میری خبریں۔ اندر ان کی پرانی خبروں کی تحریریں تھیں، لفظ بہ لفظ، بالکل ماہ نور کی نوٹ بک جیسی۔ «یہ تمہاری ہے،» دادی نے کہا۔ «دادا کی کتاب، اور تمہاری نوٹ بک — دونوں ایک ہی کہانی ہیں۔» ماہ نور نے اپنی نوٹ بک کھولی اور آخری خبر لفظ بہ لفظ لکھ دی۔ پھر اس نے نوٹ بک بند کی۔ نوٹ بک مکمل ہو گئی تھی — اور نئی کہانی شروع ہو چکی تھی۔ تیسری خبر کے آگے اس نے لکھا: «نئی کہانی شروع۔ ہم اسے نہیں روکیں گے۔»

کئی مہینے بعد، ایک طوفانی رات کو آدھی رات کے وقت بجلی پھر چلی گئی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ ماہ نور نے اپنی مکمل نوٹ بک اور دادا کی کتاب میز پر رکھی، اور الماری کی طرف دیکھا۔ ریڈیو خاموش تھا — اور پھر، ایک ہلکی سی سرسراہٹ آئی۔ صرف سرسراہٹ۔ یا شاید... کچھ اور؟ ماہ نور مسکرا دی۔ اندھیرے میں بھی، کچھ آوازیں کبھی پوری طرح خاموش نہیں ہوتیں۔