Episode 10
دادی کی کہانی

صبح ماہ نور کی آنکھ کھلی تو دل میں ایک بوجھ تھا۔ آج آخری پورا دن تھا۔ کل صبح زویا چلی جائے گی، اور کل صبح ہی بجلی بھی واپس آ جائے گی۔ ماہ نور نے کاپی کھولی اور رات والی سطریں پھر پڑھیں۔ وقت بہت کم رہ گیا تھا۔
زویا صبح سے اپنا بستر لپیٹ رہی تھی۔ اس نے چادر کو احتیاط سے تہہ کیا، جیسے اس میں پچھلی راتوں کی باتیں بند کر رہی ہو۔ ماہ نور نے اس کے سامنے ایک چھوٹی سی پرانی کتاب رکھ دی۔ جلد بھوری تھی، کنارے گھسے ہوئے تھے، اور پہلے صفحے پر ہاتھ سے لکھا تھا: کریم۔
"یہ دادا کی کتاب ہے،" ماہ نور نے کہا۔ "اس میں وہ خبریں ہیں جو وہ جوانی میں پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھی تھیں۔" زویا نے صفحے پلٹے۔ ایک صفحے کے کنارے پر لکھا تھا: خبر سنانے والا پہلے خود یقین کرے، پھر دوسرے کریں گے۔
زویا کی آنکھیں بھر آئیں۔ "میں اسے سنبھال کر رکھوں گی،" اس نے کہا۔ "شہر جا کر جب بھی اندھیرا ہوگا، میں اسے کھولوں گی اور سوچوں گی کہ تم سب یہیں بیٹھے ہو۔" ماہ نور نے اس کا ہاتھ تھاما۔ "اور جب بھی یہ کتاب کھولو گی، تو سمجھنا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔"
حاشر دروازے سے جھانکا۔ "زویا باجی، ہمیں بھول تو نہیں جاؤ گی؟" اس کی آواز میں ہنسی تھی، مگر آنکھوں میں اداسی تھی۔ زویا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "تمہیں کون بھول سکتا ہے؟ تم تو وہ ہو جو ریڈیو کھول کر اس کے اندر خالی ڈبہ دیکھ آیا تھا۔" تینوں ہنس پڑے، مگر ہنسی کے پیچھے الوداع چھپی تھی۔
دوپہر کو گلی کے سرے پر پھر انجن گونجا۔ مس شیریں آ گئی تھیں، اور اس بار روشنیوں کا ڈھانچہ پہلے سے بھی بڑا تھا۔ نئے بلب، اونچا کیمرہ، نیا جنریٹر۔ مس شیریں بولیں، "آج رات کوئی اندھیرا نہیں رہے گا! میری روشنی ساری رات جلے گی، اور سارا شہر دیکھے گا کہ گلی نمبر چار میں کیا ہوتا ہے!" انہوں نے دادی کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ "خبریں یہیں سے آتی ہیں!"
امی نے کھڑکی سے دیکھا اور پریشان ہو گئیں۔ "اگر آج رات روشنی رہی، تو ریڈیو نہیں بولے گا۔ اور کل رات تو زویا بھی نہیں ہوگی۔" ماہ نور نے امی کا ہاتھ تھاما۔ "امی، اندھیرا اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیتا ہے۔ کل رات بھی تو ڈھونڈ لیا تھا۔"
شام کو دادی نے بچوں کو بلایا، صحن میں چارپائی بچھوائی اور ریڈیو میز پر رکھا۔ "آج رات میں اپنی کہانی سناؤں گی،" دادی نے کہا۔ "وہ کہانی جو میں نے برسوں سے کسی کو نہیں سنائی۔"
کھانے کے بعد سب دادی کے گرد بیٹھ گئے۔ باہر مس شیریں کی روشنیاں جل رہی تھیں، اندر چراغ کی نرم روشنی تھی۔ دادی نے ریڈیو کی طرف دیکھا اور بولنا شروع کیا۔
"کریم جب جوان تھا، تو اس کی آواز پورے شہر میں سنی جاتی تھی،" دادی نے کہا۔ "وہ ریڈیو پر خبریں پڑھتا تھا۔ اس کی آواز پرسکون تھی، جیسے وہ ہر خبر کو پہلے دل میں تولتا ہو۔ میں چھوٹی تھی۔ ہمارے گھر ایک پرانا ریڈیو تھا، اور میں ہر رات اس کی آواز سنتی تھی، بغیر یہ جانے کہ وہ کون ہے۔"
دادی مسکرائیں۔ "پھر ایک دن ہمارا ریڈیو خراب ہو گیا۔ ابا اسے بازار لے گئے، اور وہاں ایک نوجوان نے اسے ٹھیک کیا۔ وہی کریم تھا۔ اس نے کہا، 'ریڈیو ٹوٹتا نہیں، صرف تھک جاتا ہے۔ اسے صبر سے سنو، تو وہ پھر بول پڑتا ہے۔' اس دن مجھے معلوم ہوا کہ جس آواز کو میں راتوں کو سنتی تھی، وہ اسی کی تھی۔"
"کریم ریڈیو ٹھیک کرنے کا ماہر تھا،" دادی نے کہا۔ "لوگ ٹوٹے ہوئے ریڈیو اس کے پاس چھوڑ جاتے تھے۔ وہ ان کے پرزے سنبھال کر رکھتا تھا۔ ایک دن اس نے انہی پرزوں سے یہ ریڈیو خود بنایا۔ اس نے کہا، 'یہ ریڈیو کسی دکان کا نہیں، میرے ہاتھوں کا ہے۔ اس میں میری آواز رہے گی، چاہے میں نہ رہوں۔' اسی لیے اس نے اندر اپنا نام کندہ کیا تھا، تاکہ ریڈیو کبھی نہ بھولے کہ اس کی آواز کس کی ہے۔"
دادی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "اس کی آخری رات مجھے آج بھی یاد ہے۔ وہ بہت کمزور تھا۔ اس نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا، 'جب شہر سو جائے گا، ریڈیو بولے گا۔' اس نے کہا کہ یہ ریڈیو صرف آدھی رات کو بولے گا، صرف مکمل اندھیرے میں، اور صرف تین خبریں سنائے گا۔ کچھ خبروں سے پہلے ایک نرم سی گھنٹی بجے گی۔ وہ خبریں بہت اہم ہوں گی۔ انہیں روکنا مت۔" دادی نے آہستہ کہا، "اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گی، ریڈیو کو کھول کر ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کروں گی، اور اسے روشنیوں کے شور میں نہیں لاؤں گی۔ میں نے وعدہ نبھایا۔ اسی لیے میں برسوں خاموش رہی۔"
زویا نے دادی کا ہاتھ تھاما۔ "آپ نے اتنے برس یہ بوجھ اکیلے اٹھایا؟" دادی نے سر ہلایا۔ "محبت کا بوجھ بوجھ نہیں ہوتا، بیٹی۔ وہ امانت ہوتا ہے۔ اور آج میں نے وہ امانت تم تینوں کو سونپ دی ہے۔"
اسی وقت باہر روشنیاں اور تیز ہو گئیں۔ مس شیریں کا کیمرہ گھر کی طرف مڑا۔ دادی اٹھیں، چادر اوڑھی اور گلی میں مس شیریں کے پاس کھڑی ہو گئیں۔
"بیٹی،" دادی نے نرم مگر مضبوط آواز میں کہا، "میں تم سے ایک رات کا اندھیرا مانگتی ہوں۔ صرف ایک رات۔ کل صبح میری نواسی شہر چلی جائے گی۔ آج اس کی آخری رات ہے۔ اس رات کو روشنیوں میں مت ڈوبنے دو۔" مس شیریں نے کیمرہ نیچے کیا۔ ان کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے کچھ نرم ہوا، جیسے انہیں بھی کوئی دور رہنے والا یاد آ گیا ہو۔
"صرف آج رات،" مس شیریں نے کہا۔ "ساڑھے گیارہ بجے میں روشنیاں بند کر دوں گی۔ مگر کل رات میں اس سے بھی بڑی روشنیوں کے ساتھ آؤں گی، اور سارا شہر سب کچھ دیکھے گا۔" دادی نے سر ہلایا۔ "کل کی فکر کل کریں گے۔ آج کی رات کے لیے شکریہ۔"
رات کو تینوں بچے، امی اور دادی ماہ نور کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ میز پر تین کاغذ تھے، جن پر ان کے سوال لکھے تھے۔ ماہ نور نے پڑھا، "دادا، کیا آپ ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟" حاشر نے پڑھا، "کیا ریڈیو پھر کبھی بولے گا؟" زویا نے پڑھا، "کیا ہم پھر کبھی اسی طرح اکٹھے بیٹھیں گے؟" کمرے میں خاموشی رہی۔ ریڈیو نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ سوالوں کا جواب کبھی نہیں دیتا تھا۔
دادی نے مسکرا کر کہا، "پوچھ لینا بھی ایک جواب ہے، بچو۔" ماہ نور نے تینوں کاغذ ریڈیو کے پاس رکھ دیے۔ "ہم نے پوچھ لیا۔ اب ہم انتظار کریں گے۔"
ساڑھے گیارہ بجے باہر کی روشنیاں ایک ایک کر کے بجھ گئیں۔ مس شیریں کا ٹرک خاموش ہو گیا۔ گلی نمبر چار مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی۔ کوئی بلب نہیں جلا، کوئی ٹارچ نہیں جلی۔ ماہ نور نے کاپی کھولی۔ "ابھی بارہ نہیں بجے،" اس نے سرگوشی کی۔ "ریڈیو صرف بارہ بجے بولتا ہے۔"
بارہ بجے، کھرکھراہٹ ہوئی۔ ریڈیو کا ڈائل نرم، گرم روشنی سے جل اٹھا۔ وہی پرسکون آواز آئی، بالکل جوان دادا کی آواز جیسی۔ "کل کی خبریں،" آواز نے کہا۔ ماہ نور نے قلم مضبوطی سے پکڑ لیا۔
"پہلی خبر: کل دوپہر، گلی نمبر چار میں ایک ننھے بچے کا نام رکھا جائے گا، اور ساری گلی اس کا نام سن کر مسکرائے گی۔ دوسری خبر: کل شام، اس گرم شہر پر پہلی بارش برسے گی، اور چھتیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔" پھر ایک نرم سی گھنٹی بجی، بہت ہلکی، جیسے دور سے کوئی یاد آ رہی ہو۔ ماہ نور کا دل زور سے دھڑکا۔ گھنٹی کا مطلب وہ جانتی تھی۔ یہ خبر بہت اہم تھی۔ اسے روکنا نہیں تھا۔
"تیسری خبر: کل رات، اس گھر میں کوئی واپس آئے گا۔" پھر آواز رک گئی۔ ڈائل کی روشنی بجھ گئی۔ کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔
"کوئی واپس آئے گا؟" حاشر نے سرگوشی کی۔ "کون؟ ابو تو گھر پر ہیں۔" زویا نے کہا، "میں تو کل صبح جا رہی ہوں۔ میں کل رات یہاں نہیں ہوں گی۔" دادی کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر ہونٹوں پر پرسکون مسکراہٹ تھی۔ "گھنٹی بجی ہے،" دادی نے کہا۔ "یہ خبر بہت اہم ہے۔ ہم اسے روکیں گے نہیں۔ ہم صرف دروازہ کھلا رکھیں گے۔"
ماہ نور نے تینوں خبریں لفظ بہ لفظ لکھیں، اور نیچے لکھا: گھنٹی بجی تھی۔ ہم نہیں روکیں گے۔ اس نے قلم رکھ دیا اور دروازے کی طرف دیکھا۔ باہر اندھیرا تھا، اور اندھیرے کے پیچھے کل رات چھپی تھی۔ کون واپس آئے گا؟ کیا وہ کوئی اجنبی ہوگا، یا کوئی اپنا؟ اور اگر بجلی کل صبح واپس آ گئی، تو ریڈیو کی آخری رات کیسے ہوگی؟ ماہ نور نے ریڈیو کی طرف دیکھا اور آہستہ کہا، "ہم تیار ہیں۔" اندھیرے میں ریڈیو خاموش تھا، مگر اس کی خاموشی میں اب کوئی ڈر نہیں تھا۔ صرف انتظار تھا۔