← کلاس 10-B کا راز · All episodes

Episode 9

سرخ روشنائی کا راز

سرخ روشنائی کا راز

سیڑھیوں پر قدموں کی آہٹ رکی — بالکل تہہ خانے کے دروازے کے اوپر۔

پھر دروازہ کھلا، اور پرنسپل صاحب اندر آئے۔

ان کے چہرے پر وہ سختی تھی جو ماہ نور نے صرف ایک بار دیکھی تھی — اس دن جب ایک لڑکے نے امتحان میں نقل کی تھی۔ ان کی نظر پہلے چاچا پر پڑی، پھر میز پر کھلے رجسٹر پر، پھر اس سرخ قلم پر۔

“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں؟” ان کی آواز تہہ خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجی۔

چاچا کی زبان گنگ ہو گئی۔ “صاحب... وہ... بچے...”

ماہ نور نے ہمت کی۔ “پرنسپل صاحب، یہ رجسٹر... اس میں ایک نام ہے۔ ارحم۔”

پرنسپل صاحب کے چہرے کا رنگ ایک لمحے کے لیے بدلا — اتنی جلدی کہ اگر ماہ نور دیکھ نہ رہی ہوتی تو چھوٹ جائے۔ “پرانے کاغذ ہیں، بچی۔ پرانے کاغذوں میں غلطیاں ہوتی ہیں۔” وہ میز کی طرف بڑھے اور رجسٹر بند کرنے لگے۔

“تو یہ غلطی بھی پرانی ہے؟” فائزہ نے آخری صفحے کی طرف اشارہ کیا۔ “یہ روشنائی تو ابھی گیلی ہے۔ یہ آج لکھی گئی ہے۔”

پرنسپل صاحب کا ہاتھ ہوا میں رک گیا۔

اسی لمحے چاچا بول پڑے — آہستہ، مگر صاف: “صاحب... جس دن آپ نے یہ کمرہ بند کروایا تھا، اس دن آپ خود یہیں تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ آپ نے اسی سرخ قلم سے رجسٹر میں کچھ لکھا تھا۔”

سناٹا چھا گیا۔ اتنا گہرا کہ میز پر رکھے قلم کی ٹک ٹک بھی سنائی دینے لگی — حالانکہ قلم ہل نہیں رہا تھا۔

پرنسپل صاحب نے چاچا کو دیکھا۔ پھر بچوں کو۔ ان کی آواز جب آئی تو وہ پہلے جیسی سخت نہیں تھی۔ تھکی ہوئی تھی۔

“ارحم کبھی اس اسکول میں داخل نہیں ہوا۔” انہوں نے ہر لفظ نپا تلا کہا۔ “یہی سرکاری سچ ہے۔ اور سرکاری سچ سے بڑا کوئی سچ نہیں ہوتا۔ سمجھے تم لوگ؟”

انہوں نے میز سے سرخ قلم اٹھایا اور اپنی جیب میں ڈال لیا۔ “یہ قلم اسکول کی امانت ہے۔” پھر دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ “اب سب اوپر۔ اور یہ کمرہ... یہ کمرہ تم نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔”

بچے ایک ایک کر کے سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ ماہ نور سب سے آخر میں تھی۔ دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا —

پرنسپل صاحب رجسٹر کے سامنے کھڑے تھے۔ رجسٹر اب بھی کھلا تھا۔ اور ان کے ہونٹ ہل رہے تھے — جیسے وہ کسی سے بات کر رہے ہوں۔

مگر کمرے میں ان کے سوا کوئی نہیں تھا۔

ماہ نور نے جلدی سے نظریں پھیریں اور سیڑھیاں چڑھ گئی۔ اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا سب سن لیں گے۔

باہر دھوپ میں حیرہ نے اس کا بازو پکڑا۔ “تم نے دیکھا؟ وہ کسی سے بات کر رہے تھے۔”

“کمرے میں تو کوئی نہیں تھا،” دانیال نے سرگوشی کی۔

“یا تھا،” ریان نے کہا، “اور ہمیں نظر نہیں آیا۔”

اس رات ماہ نور کو نیند نہیں آئی۔ وہ بار بار وہی منظر سوچتی رہی — پرنسپل صاحب کے ہلتے ہونٹ، خالی کمرہ، سرخ قلم۔

آدھی رات کو اس کا فون بجا۔ نامعلوم نمبر سے ایک تصویر آئی تھی۔

تصویر میں رجسٹر کا آخری صفحہ تھا۔ وہی انتباہ، وہی تازہ روشنائی۔ مگر اس کے نیچے ایک نئی سطر تھی — اتنی تازہ کہ روشنائی تصویریں میں بھی چمک رہی تھی۔

بچوں جیسے حروف میں صرف ایک نام لکھا تھا:

ماہ نور۔