Episode 10
ماہ نور کی حاضری

ماہ نور نے فون تکیے کے نیچے چھپا دیا تھا، مگر اسکرین کی روشنی اس کی آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ رہی تھی۔ تصویر میں رجسٹر کا آخری صفحہ تھا — وہی انتباہ، وہی تازہ روشنائی — اور اس کے نیچے، بچوں جیسے حروف میں، اس کا اپنا نام۔
ماہ نور۔
صبح وہ اسکول جلدی پہنچی۔ حیرہ، دانیال، فائزہ اور ریان پہلے سے گیٹ پر اس کا انتظار کر رہے تھے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون نکالا اور تصویر دکھائی۔
حیرہ کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ”یہ... یہ تمہارے ہاتھ کی لکھائی جیسی لگ رہی ہے۔“
”میں نے نہیں لکھا!“ ماہ نور کی آواز ٹوٹ گئی۔ ”میں قسم کھاتی ہوں، میں نے نہیں لکھا!“
”کوئی تمہیں ڈرا رہا ہے،“ دانیال نے کہا۔ ”یا... کوئی تمہیں بلا رہا ہے۔“
فائزہ نے آہستہ کہا، ”ارحم کے نام کے آگے بھی یہی روشنائی تھی۔ 'موجود'۔ تم نے سوچا ہے... وہ لفظ کس کے لیے لکھا گیا تھا؟“
سب خاموش ہو گئے۔
اسی لمحے گیٹ کے پاس چاچا نمودار ہوئے۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں، جیسے ساری رات سوئے نہ ہوں۔ انہوں نے ماہ نور کو ایک طرف بلایا۔
”بچی،“ ان کی آواز دھیمی تھی، ”آج تہہ خانے کی طرف مت جانا۔ میں نے صبح فجر کے وقت پرنسپل صاحب کو وہاں دیکھا تھا۔ وہی سرخ قلم ان کے ہاتھ میں تھا۔ اور وہ رجسٹر میں کچھ لکھ رہے تھے... مسکرا رہے تھے۔“
”مسکرا رہے تھے؟“
”جیسی مسکراہٹ...“ چاچا نے نگل لیا، ”جیسی کسی کو جیت کی خوشی ہو۔“
”آج لنچ میں ہم پھر جائیں گے،“ ماہ نور نے فیصلہ کیا۔ ”پرنسپل صاحب نے کہا تھا وہ کمرہ ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ تو آج ہم دیکھیں گے کہ وہاں اب کیا ہے۔“
مگر لنچ سے پہلے ہی کچھ ہوا۔
تیسرے پیریڈ میں استانی حاضری لے رہی تھیں۔ ”ماہ نور؟“
”حاضر، مس!“
استانی نے رجسٹر میں نشان لگایا، پھر رک گئیں۔ ان کی انگلیاں صفحے پر تھم گئیں۔ ”یہ... یہ کیا ہے؟“
ماہ نور اٹھ کر ان کے پاس گئی۔ رجسٹر میں اس کے نام کے نیچے، مدھم سیاہی میں، ایک اور ”ماہ نور“ لکھا تھا — پرانی سیاہی، دس سال پرانی، بالکل ارحم والے صفحے جیسی۔ اور اس کے آگے، تازہ سرخ روشنائی میں، ایک لفظ:
”موجود۔“
کلاس میں سناٹا چھا گیا۔ استانی نے جلدی سے صفحہ پلٹ دیا، مگر ماہ نور نے دیکھ لیا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ حیرہ نے سرگوشی کی۔ ”تم تو اس اسکول میں اسی سال آئی ہو!“
اسی لمحے ماہ نور کی جیب میں فون ہلا۔ نامعلوم نمبر۔ ایک نئی تصویر۔
اس نے دھڑکتے دل سے کھولی۔
تصویر اسکول کے گیٹ کی تھی — ابھی کی، اسی صبح کی۔ پانچ بچے اندر داخل ہو رہے تھے: وہ، حیرہ، دانیال، فائزہ، ریان۔
مگر زمین پر سائے چھ تھے۔
چھٹا سایہ ان سب سے لمبا تھا۔ اور اس کا ہاتھ — اس کا ہاتھ ماہ نور کے سائے کے کندھے پر تھا۔