← کلاس 10-B کا راز · All episodes

Episode 8

اندر سے آنے والی سرگوشی

اندر سے آنے والی سرگوشی

تالا کھلا تو دروازہ خود نہیں کھلا۔ وہ صرف ایک انچ ہلا — اتنا کہ اس کی درز سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا نکلا، اور اس کے ساتھ ایک بو: پرانی کتابوں کی، اور سرخ روشنائی کی۔

ماہ نور نے ہاتھ بڑھایا۔ حیرہ نے اس کی کلائی پکڑ لی۔ "رکو۔"

"ہم نے پوچھا تھا،" ماہ نور نے آہستہ کہا۔ "اس نے جواب دیا۔ اب پیچھے ہٹنا بے ایمانی ہوگی۔"

اس نے دروازہ دھکیلا۔

اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا — اتنا چھوٹا کہ پانچ بچے اور چاچا اس میں بمشکل سما سکے۔ ایک میز، ایک کرسی، اور دیوار پر ایک تختی جس پر دھندلے حروف میں لکھا تھا: "ریکارڈ روم"۔ میز پر ایک رجسٹر کھلا پڑا تھا۔ اور رجسٹر کے پاس — ایک سرخ قلم۔

دانیال کی سانس رک گئی۔ "وہی قلم۔ چاچا والا۔"

"نہیں،" چاچا کی آواز کانپ رہی تھی۔ "میرا والا میری جیب میں ہے۔" انہوں نے جیب سے اپنا قلم نکالا۔ دونوں قلم ایک جیسے تھے — بالکل ایک جیسے۔

فائزہ میز کے قریب گئی۔ "یہ رجسٹر... یہ تو حاضری کا رجسٹر لگتا ہے۔" اس نے صفحہ پلٹا۔ "دیکھو — یہاں نام ہیں۔ پرانے نام۔" اس کی انگلی ایک نام پر رک گئی۔ "ارحم۔"

سب اس کے گرد جمع ہو گئے۔ ارحم کے نام کے سامنے تاریخ تھی — اسی ہفتے کی، دس سال پہلے۔ اور نام کے آگے، سرخ روشنائی میں، ایک لفظ: "موجود"۔

"موجود؟" ریان نے دہرایا۔ "یعنی... وہ اس دن اسکول میں تھا؟"

"مگر اسکول کہتا ہے وہ کبھی داخل ہی نہیں ہوا،" حیرہ نے سرگوشی کی۔

ماہ نور نے اگلا صفحہ پلٹا۔ وہ خالی تھا۔ اس سے اگلا بھی۔ اور پھر — آخری صفحہ۔ اس پر تازہ سرخ روشنائی میں لکھا تھا، اتنی تازہ کہ روشنائی اب بھی چمک رہی تھی:

"اگر یہ دروازہ پھر کھلے تو سمجھ لینا — اس نے مجھے ڈھونڈ لیا ہے۔ اور اب وہ تمہیں بھی ڈھونڈے گا۔"

"'اس' نے؟" ماہ نور کے ہونٹ کانپے۔ "کون 'اس' ہے؟"

چاچا میز سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ان کا چہرہ پسینے سے تر تھا۔ "چاچا،" ماہ نور نے نرمی سے پوچھا، "یہ دروازہ آپ نے بند کیا تھا؟"

چاچا نے سر جھکایا۔ "پرنسپل صاحب کے حکم پر۔ انہوں نے کہا تھا — اس کمرے میں جو کچھ ہے، وہ اسکول کی بدنامی ہے۔ میں نے تالا لگایا اور چابی... چابی میں نے اسی دن نہر میں پھینک دی تھی۔" انہوں نے خالی ہاتھ پھیلا دیے۔ "پھر یہ چابی میرے پاس کیسے آئی؟ یہ قلم دروازے کے پاس کیسے آیا؟ میں نہیں جانتا، بچو۔ میں قسم کھاتا ہوں، میں نہیں جانتا۔"

اسی لمحے اوپر سیڑھیوں سے قدموں کی آہٹ آئی۔ بھاری، نپے تلے قدم۔

چاچا کا چہرہ سفید پڑ گیا۔

"وہ... وہ اس وقت نہیں آتے،" چاچا نے سرگوشی کی۔

"کون نہیں آتے؟" دانیال نے پوچھا۔

قدم قریب آ رہے تھے۔ ایک، دو، تین۔ پھر وہ رک گئے — بالکل تہہ خانے کے دروازے کے اوپر۔

چاچا نے دروازے کی طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو ماہ نور نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

"پرنسپل صاحب،" انہوں نے کہا۔