Episode 7
دروازے کی دوسری طرف

تہہ خانے کے دروازے کے پیچھے سے آنے والی آواز نے کمرے کی ہوا ہی بدل دی۔
ٹھک۔ ٹھک۔ ٹھک۔
ماہ نور کے دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ اسے لگا کہ اس کی آواز دروازے کے پیچھے سے آنے والی دستک سے مل جائے گی۔ حیرہ نے اس کا ہاتھ اتنی زور سے پکڑ رکھا تھا کہ انگلیاں سفید پڑ گئی تھیں۔ دانیال، جو ہر ڈراؤنے لمحے کا مذاق اڑانے کا عادی تھا، اس بار بالکل خاموش تھا — اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔ فائزہ اور ریان دروازے کے قریب ہی کھڑے تھے، ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار۔
اور چاچا... چاچا کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
"وہ... وہ اب بھی وہیں ہے،" چاچا نے سرگوشی میں کہا۔
"کون؟" ماہ نور نے ہمت کر کے پوچھا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ "چاچا، آپ کو معلوم ہے نا؟ بتائیے — وہاں اندر کون ہے؟"
چاچا نے سر ہلایا، جیسے برسوں پرانا بوجھ ان کے کندھوں پر آن پڑا ہو۔ انہوں نے دروازے کی طرف دیکھا، پھر بچوں کی طرف۔
"میں... میں سب کچھ نہیں بتا سکتا،" انہوں نے آہستہ سے کہا۔ "لیکن اتنا سن لو۔ یہ دستک..." انہوں نے رکا، "یہ دستک ہر سال اسی ہفتے میں سنائی دیتی ہے۔ جس ہفتے وہ... جس ہفتے وہ غائب ہوا تھا۔"
"ارحم؟" حیرہ نے دھیرے سے کہا۔
چاچا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ "تمہیں اس کا نام کیسے معلوم؟"
"ہمیں نوٹ ملے ہیں،" دانیال نے جلدی سے کہا، اب اس کی زبان کھل گئی تھی۔ "سرخ روشنائی والے نوٹ۔ اور ان میں سے ایک پر لکھا تھا 'اسے کچھ پتا چل گیا تھا'۔ چاچا، تالا... یہ تالا دس سال سے نہیں کھلا تھا، لیکن آپ نے اسے کھولا۔ آپ کے پاس چابی تھی۔ اور سرخ قلم بھی۔"
چاچا کا چہرہ پھر سفید پڑ گیا۔ "وہ قلم... وہ میرا نہیں تھا۔" انہوں نے جیب سے ایک سرخ قلم نکالا اور اسے دیکھا جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ "یہ مجھے تہہ خانے کے دروازے کے پاس ملا تھا۔ اسی صبح جس صبح..." انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
اسی لمحے دروازے کے پیچھے سے پھر آواز آئی۔
ٹھک۔ ٹھک۔ ٹھک۔
لیکن اس بار کچھ مختلف تھا۔ دستک... جیسے انتظار کر رہی ہو۔ جیسے کوئی جواب چاہتا ہو۔
ماہ نور کے ذہن میں ایک خیال کوندا۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا — حیرہ نے اسے روکنے کی کوشش کی، لیکن ماہ نور نے اس کا ہاتھ نرمی سے ہٹا دیا۔
"اگر تم ہمیں سن سکتے ہو،" ماہ نور نے دروازے سے کہا، اس کی آواز صاف تھی، "تو ایک بار دستک دو۔"
خاموشی۔
بچوں نے سانس روک لی۔ چاچا نے ماہ نور کی طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں خوف اور امید دونوں تھے۔
پھر —
ٹھک۔
صرف ایک بار۔ ایک دھیمی، بھاری دستک۔
دانیال کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "آپریشن دستک — کامیاب! یہ تو جواب دے رہا ہے!"
"چپ!" فائزہ نے سرگوشی کی۔
ماہ نور کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے ایک اور سوال سوچا، وہ سوال جو اسے ہفتوں سے ستا رہا تھا۔ اس نے منہ کھولا —
اور اسی لمحے تہہ خانے کے دروازے کا تالا خود بخود کلک کی آواز کے ساتھ کھل گیا۔