Episode 6
سرخ کاغذ کا ٹکڑا

دانِیال کی بات سنتے ہی مہنور کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
"ہو سکتا ہے... وہ ہی ہو جس نے ہِرا کے ڈیسک میں نوٹ رکھا تھا؟" حِرا نے دھیمی آواز میں کہا۔
مہنور نے انکار میں سر ہلایا، مگر دل اندر سے لرز رہا تھا۔ "نہیں، حِرا۔ ہم بغیر ثبوت کے کسی پر الزام نہیں لگائیں گے۔ چاچا ہمارے لیے... وہ تو ہم سب کے لیے چائے لاتا ہے جب ہم دیر تک لائبریری میں پڑھتے ہیں۔"
"تو پھر ثبوت ہی ڈھونڈ لیتے ہیں!" دانِیال نے عینک سیدھی کی اور ایک خفیہ ایجنٹ کی طرح آواز میں سسپنس ڈالا۔ "کل چھٹی کے بعد ہم اسکول میں رکیں گے اور چاچا کی نگرانی کریں گے۔ آپریشن کا نام... 'آپریشن سرخ قلم'!"
فائزہ نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر مارا۔ "پہلے تو تم 'آپریشن' کی جاسوسی میں اس قدر خاموش رہو کہ تمہارے پیٹ کی گڑگڑاہٹ تمہیں پکڑوا نہ دے۔"
سب ہنس پڑے، اور ایک لمحے کے لیے وہ خوف جو ان کے دلوں میں بیٹھا تھا، ہلکا سا پیچھے ہٹ گیا۔
---
اگلے دن چھٹی کے بعد تینوں نے بہانہ بنایا — "میڈم، ہماری کاپی کلاس میں رہ گئی ہے۔" استانی نے اجازت دے دی۔ وہ کوریڈور کے آخر میں دیوار کے پیچھے دبک گئے، جہاں سے تہہ خانے کی سیڑھیاں صاف نظر آتی تھیں۔
چاچا آیا۔ اس کے ہاتھ میں چابیوں کا گچھا تھا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا، پھر جھک کر تالے میں چابی گھمائی۔ دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔
دانِیال آہستہ سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ "رکو!" مہنور نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ "پہلے دیکھو —"
سیڑھیوں کے نیچے، دھول میں، سرخ کاغذ کا ایک پھٹا ہوا ٹکڑا پڑا تھا۔ مہنور نے اٹھایا۔ اس پر سرخ روشنائی میں صرف دو الفاظ تھے — "وہ جانتا" — باقی حصہ پھٹا ہوا تھا۔
مہنور کے ہاتھ کانپنے لگے۔ "وہ جانتا... وہ کیا جانتا ہے؟ کون جانتا ہے؟"
"شاید چاچا کچھ چھپا رہا ہے،" حِرا نے کہا۔ "یا شاید کوئی چاچا کو پھنسانا چاہتا ہے؟ سوچو — اگر چاچا واقعی نوٹ لکھنے والا ہوتا، تو وہ سرخ کاغذ کا ٹکڑا یہاں کیوں چھوڑتا؟"
مہنور کو حِرا کی بات میں دم لگا۔ اس نے ٹکڑا اپنی جیب میں رکھا اور فیصلہ کیا کہ اب وہ چاچا سے خود بات کرے گی — ڈر کے مارے نہیں، سچ جاننے کے لیے۔
وہ تینوں چاچا کے چھوٹے سے کمرے کی طرف بڑھے۔ دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اندر چاچا میز پر جھکا کچھ لکھ رہا تھا۔
مہنور نے ہمت کر کے دروازہ کھٹکھٹایا۔
چاچا نے چونک کر سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی... اور کچھ اور بھی — جیسے وہ انہیں وہاں دیکھ کر ڈرا ہوا ہو۔ اس نے جلدی سے میز پر پڑا کاغذ الٹا کر دیا۔
"بچو؟ تم لوگ ابھی تک یہیں ہو؟" اس کی آواز میں وہ گرمجوشی نہیں تھی جو ہمیشہ ہوتی تھی۔
"چاچا،" مہنور نے جیب سے سرخ کاغذ کا ٹکڑا نکالا اور اس کی طرف بڑھایا۔ "یہ آپ کا ہے؟"
چاچا نے ٹکڑے کو دیکھا۔ اس کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا —
اور اسی لمحے، تہہ خانے کی طرف سے ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔
تینوں نے چونک کر اس طرف دیکھا۔ چاچا بھی۔
پھر... خاموشی میں، تہہ خانے کے بند دروازے کے پیچھے سے کسی نے تین بار دستک دی۔
ٹھک۔ ٹھک۔ ٹھک۔
چاچا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دھیمی، ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا: "وہ... وہ اب بھی وہیں ہے۔"