Episode 5
لال روشنائی

ماہ نور نے پرچی کو مڑ کر دیکھا۔ وہی لال روشنائی، وہی موٹی لکھائی — بالکل اس پہلی پرچی جیسی جو انہیں تہہ خانے میں ملی تھی، جس پر لکھا تھا "اسے کچھ پتا چل گیا تھا"۔
مگر حرا رو رہی تھی۔ "ماہ نور، یہ... یہ میرے ڈیسک پر کیسے آئی؟ میں نے کسی کو نہیں دیکھا!"
"گھبراؤ نہیں۔" ماہ نور نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "ہم پتہ لگائیں گے کہ یہ کس نے رکھی۔ بتاؤ، صبح تم کہاں تھیں جب یہ آئی؟"
"اسمبلی میں۔ میرا بیگ ڈیسک کے نیچے تھا۔ جب واپس آئی تو پرچی کتابوں کے درمیان رکھی تھی۔"
لنچ بریک میں انہوں نے فائزہ کو بتایا۔ فائزہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "سنو، مجھے کچھ یاد آیا! صبح جب میں پانی کی بوتل بھرنے گئی تھی، تو ہماری کلاس سے ایک لمبا لڑکا نکل رہا تھا۔ سینیئر لگ رہا تھا، دسویں-A والا۔ وہ بہت جلدی میں تھا۔"
"اس کا چہرہ دیکھا؟" ماہ نور نے پوچھا۔
"نہیں... اس نے منہ دوسری طرف کر لیا تھا۔" فائزہ نے سر ہلایا۔ "مگر اس کے ہاتھ میں... مجھے لگتا ہے اس کے ہاتھ میں کچھ لال سا تھا۔ شاید قلم؟"
اسی وقت دانیال بھی وہاں آ گیا۔ اس نے چاروں طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا، "تم لوگ تہہ خانے کے بارے میں بات کر رہے ہو؟ ایک بات سنو — پچھلے ہفتے میں نے چاچا کو دیکھا تھا۔ شام کو، جب سب گھر جا چکے تھے۔ وہ تہہ خانے کے دروازے کو چابی سے کھول رہے تھے۔"
"چاچا؟" ماہ نور حیران ہوئی۔ "مگر انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ دروازہ دس سال سے نہیں کھلا!"
"ہاں، اور یہی تو عجیب بات ہے۔" دانیال نے کہا۔ "میں نے انہیں اندر جاتے دیکھا، اور ان کے ہاتھ میں ایک لال قلم بھی تھا — بالکل اسی طرح کی روشنائی والا۔"
ماہ نور کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ کیا چاچا ہی پرچیاں لکھ رہے ہیں؟ مگر وہ تو ہمیشہ اتنے مہربان رہے ہیں... اور ریان نے بھی انہی کے آنے کی خبر پر بھاگنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس نے دونوں پرچیوں کو ساتھ رکھ کر غور سے دیکھا۔ اور تب اس نے وہ چیز دیکھی جس سے اس کے ہاتھ ٹھٹھر گئے۔
پہلی پرچی کی لکھائی گول اور دھیمی تھی — جیسے لکھنے والا جلدی میں نہ ہو۔ اس نئی پرچی کی لکھائی تیز، نوکیلی اور کانپتی ہوئی تھی۔
یہ دو مختلف ہاتھوں کی لکھائی تھی۔
"حرا..." ماہ نور کی آواز سرگوشی میں ڈوب گئی۔ "یہ پرچی اس نے نہیں لکھی جس نے پہلی پرچی لکھی تھی۔"
"تو پھر؟" فائزہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔ "پہلی پرچی کس نے لکھی تھی؟"
اسی لمحے کلاس روم کا دروازہ دھیرے سے کھلا۔ چاچا اندر آئے — اور ان کی نظر سیدھی ماہ نور کے ہاتھ میں پکڑی لال پرچی پر پڑی۔ ان کا چہرہ اچانک سفید پڑ گیا۔
"بچی..." ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ "تم نے... یہ پرچی کہاں سے لی؟"