← کلاس 10-B کا راز · All episodes

Episode 11

چھٹا سایہ

چھٹا سایہ

صبح اسکول کے گیٹ پر پانچوں دوست فون کے گرد جمع تھے۔ فائزہ نے تصویر کو زوم کیا اور سائے گنے — ایک، دو، تین، چار، پانچ... چھ۔

چھٹا سایہ سب سے لمبا تھا، اور اس کا ہاتھ ماہ نور کے سائے کے کندھے پر رکھا تھا۔

"دیکھو اس کا رخ،" ریان نے کہا۔ "یہ سایہ ہمارے ساتھ نہیں، ہمارے آگے چل رہا ہے۔ جیسے کوئی ہمارا انتظار کر رہا ہو — تہہ خانے میں، جہاں وہ رجسٹر رکھا ہے۔"

لنچ بریک میں چاچا نے انہیں تہہ خانے کے دروازے کے پاس روکا۔ "پرنسپل صاحب آج شہر گئے ہیں،" انہوں نے سرگوشی کی۔ "دس منٹ سے زیادہ نہیں۔ اور یاد رکھو — یہ کمرہ تم نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔"

کمرہ ویسا ہی تھا — میز، کھلا رجسٹر، اور دیوار پر وہ گھڑی جو کبھی ٹک ٹک نہیں کرتی۔ فائزہ نے آخری صفحہ کھولا۔ وہی انتباہ، وہی تازہ سرخ روشنائی، اور اس کے نیچے بچوں جیسے حروف میں لکھا نام: ماہ نور۔

مگر آج فائزہ نے وہ دیکھا جو پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ نام کے دائیں کنارے پر، اتنی مدھم روشنائی میں کہ آنکھ دھوکہ کھا جائے، ایک تاریخ لکھی تھی۔ اس نے فون کی ٹارچ جلائی۔

"دس سال پرانی تاریخ،" اس کی آواز کانپ گئی۔ "یہ نام تم نے نہیں لکھا، ماہ نور۔ یہ کسی اور ماہ نور نے لکھا تھا۔ دس سال پہلے۔"

"میرے خاندان میں تو کوئی اور ماہ نور نہیں،" ماہ نور نے سرگوشی کی۔

ریان نے میز کے نیچے سے ایک پرانا لکڑی کا ڈبہ نکالا۔ اندر ایک کاغذ تھا — ارحم کے ہاتھ کی لکھائی۔ وہی نوٹ — مگر اس بار پورا۔

دانیال نے بلند آواز میں پڑھا: "اس نے کچھ معلوم کر لیا تھا —"

پھر اگلی سطر: "سرخ روشنائی سے جس کا نام لکھا جاتا ہے، اسے اسکول سے نکالا نہیں جاتا۔ اسے ریکارڈ سے مٹا دیا جاتا ہے۔ پہلے کاغذ سے، پھر یادوں سے۔"

"یعنی ارحم کو مٹا دیا گیا تھا،" حیرہ نے سرگوشی کی۔

"اور اب تمہارا نام بھی وہیں ہے،" فائزہ نے سرخ روشنائی کی طرف دیکھا۔

دروازے پر چاچا کی آواز آئی۔ وہ اندر آ گئے تھے، ان کا چہرہ زرد تھا۔ "دس سال پہلے،" انہوں نے کہا، "اس اسکول میں ایک لڑکی پڑھتی تھی۔ نام اس کا بھی ماہ نور تھا۔ کلاس کی سب سے ذہین بچی۔ اور ارحم کی سب سے اچھی دوست۔"

ماہ نور کا دل رک سا گیا۔ "پھر؟"

"پھر ایک دن وہ آنا بند ہو گئی۔ اور ایک مہینے کے اندر سب اس کا نام بھول گئے — سب، سوائے میرے۔ کیونکہ میں نے اس کا نام اپنی ڈائری میں لکھ لیا تھا۔ سرخ رجسٹر کو میں بدل نہیں سکتا تھا، مگر اپنی ڈائری کو تو رکھ سکتا تھا۔"

ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے کاغذ پلٹا۔ پیچھے ایک نئی سطر تھی — تازہ روشنائی، ابھی کی لکھی ہوئی:

"مگر اس بار ہم تیار ہیں۔ — چھٹا"

"چھٹا؟" ریان نے کہا۔ "چھٹا سایہ؟"

اسی لمحے کمرے کی بتی بجھی۔

اندھیرے میں دیوار پر چھ سائے ابھرے — پانچ ان کے اپنے... اور چھٹا، سب سے لمبا۔ اور چھٹا سایہ ہل رہا تھا۔ وہ دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔

پھر دروازہ خود بخود کھلا۔

دالان خالی تھا۔ مگر خالی دالان سے ایک آواز آ رہی تھی — سرخ قلم کے کاغذ پر چلنے کی آواز۔ اسی طرح، جیسے کوئی ابھی اسی وقت کسی کا نام لکھ رہا ہو۔

اور ماہ نور کی جیب میں فون ہلا۔