Episode 9
باؤلی کا محافظ

سیڑھیاں پتھر کی تھیں — گیلی، پھسلن والی، اندھیرے میں اترتی ہوئی۔ حمزہ سب سے آگے تھا، عریبا کی ٹارچ اس کے کندھے کے اوپر سے روشنی ڈال رہی تھی۔ فرحان ان کے پیچھے، اور عثمان سب سے آخر میں، بار بار اوپر دیکھتا ہوا — جہاں صبح کی روشنی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اب بھی نظر آ رہا تھا۔
نیچے چراغ کی روشنی ہل رہی تھی۔ گرم، زندہ۔
“السلام علیکم،” وہی بوڑھی آواز پھر آئی — قریب سے، صاف۔ “میں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔”
سیڑھیاں ایک چھوٹے سے کمرے میں کھلتی تھیں۔ کمرہ زیادہ بڑا نہیں تھا — ایک چارپائی، دیوار کے ساتھ لکڑی کی الماریاں جن میں پرانے رجسٹر ٹھنسے ہوئے تھے، اور بیچ میں ایک میز۔ میز پر پیتل کا چراغ جل رہا تھا۔
چراغ کے پیچھے ایک بوڑھا بیٹھا تھا۔ اتنا بوڑھا کہ اس کی عمر کا اندازہ لگانا مشکل تھا — چہرے پر جھریوں کے جال، ہاتھ کانپتے ہوئے، مگر آنکھیں صاف۔ حیران کن حد تک صاف۔
“آؤ، بیٹھو،” اس نے کہا۔ “ساٹھ سال سے میں یہی سوچتا رہا ہوں کہ جب تم آؤ گے تو میں کیا کہوں گا۔ اور اب تم آ گئے ہو، اور میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔”
“آپ... آپ کون ہیں؟” حمزہ نے پوچھا۔
“میرا نام نذیر احمد ہے،” بوڑھے نے کہا۔ “ساٹھ سال پہلے میں اس حویلی میں باورچی کا بیٹا تھا۔ جس دن باؤلی بھری گئی تھی، میں نیچے تھا — وقف کے کاغذات بچانے آیا تھا۔ مٹی اوپر سے گرنے لگی، اور... میں اوپر نہ جا سکا۔ سب نے سمجھا میں مر گیا۔” اس نے مسکرا کر چاروں طرف دیکھا۔ “ایک طرح سے وہ سچ بھی تھا۔ نذیر احمد اوپر کی دنیا کے لیے اسی دن مر گیا تھا۔”
عریبا کی سانس رک گئی۔ “وقف کے کاغذات؟ آپ کے پاس ہیں؟”
نذیر نے میز کے نیچے سے لوہے کا ایک صندوق نکالا۔ پرانا، زنگ آلود، مگر تالا مضبوط۔ اس نے اپنی انگلی سے ایک انگوٹھی اتاری — بھاری، پیتل کی، اس پر مہر کندہ تھی۔
“تیسرا ٹکڑا،” فرحان نے سرگوشی کی۔
“ٹکڑا نہیں، بیٹا،” نذیر نے کہا۔ “مہر۔ یہ نقشے کے ٹکڑے کبھی تھے ہی نہیں — یہ وقف کی تین مہریں تھیں۔ نواب صاحب کے زمانے کی۔ دو تمہارے دادا کے پاس تھیں، حمزہ۔ تیسری میرے پاس۔” اس نے انگوٹھی تالے میں گھمائی۔ صندوق کھلا۔
اندر — خالی۔
صرف ایک کاغذ تھا، تہہ کیا ہوا۔ نذیر نے اسے کھولا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
“یہ... یہ یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔” اس کی آواز بدل گئی۔ “کل رات تک وقف نامہ یہیں تھا۔ اسی صندوق میں۔ میں نے خود رکھا تھا۔”
“کل رات؟” عثمان نے پوچھا۔ “یعنی کوئی آیا تھا؟”
نذیر نے چراغ اٹھایا اور فرش کی طرف روشنی کی۔ مٹی پر نشان تھے — جوتوں کے نشان۔ چھوٹے نہیں، بڑے نہیں — عام۔ مگر وہ ان کے نہیں تھے۔ ان کے جوتے ابھی خشک مٹی پر تھے؛ یہ نشان پرانی، جمی ہوئی مٹی میں دھنسے ہوئے تھے۔
“یہ نشان،” عریبا نے جھک کر دیکھا، “کل رات کے ہیں۔ مٹی ابھی تک نم ہے۔”
نشان کمرے کے پچھلے حصے کی طرف جاتے تھے — دیوار میں ایک دراڑ تک۔ دراڑ اتنی چوڑی تھی کہ ایک آدمی بمشکل گزر سکے۔ اس کے پار اندھیرا تھا۔
“یہ دراڑ،” فرحان نے کہا، “یہ کہاں جاتی ہے؟”
“مجھے نہیں معلوم،” نذیر نے کہا۔ اس کی آواز میں اب خوف تھا — ساٹھ سال میں پہلی بار۔ “ساٹھ سال میں میں نے کبھی اس کے پار جانے کی ہمت نہیں کی۔”
حمزہ نے ٹارچ دراڑ میں ڈالی۔ روشنی ایک تنگ سرنگ میں گئی — اور سرنگ کے فرش پر کچھ چمکا۔
“وہاں کچھ ہے،” اس نے کہا۔
وہ دراڑ میں گھسا۔ عریبا اس کے پیچھے۔ سرنگ صرف چند قدم لمبی تھی — اور اس کے آخر میں، پتھر پر رکھا ہوا، ایک دوسرا چراغ تھا۔ بجھا ہوا، مگر ابھی گرم۔
“یہ میرا نہیں ہے،” نذیر کی آواز ان کے پیچھے سے آئی۔ وہ دراڑ کے اس پار کھڑا کانپ رہا تھا۔
اسی لمحے سرنگ کے آگے والے اندھیرے سے آواز آئی — قدموں کی۔ قریب آتے ہوئے۔
ٹارچ کی روشنی میں ایک لڑکی نمودار ہوئی۔ ان کی عمر کی — سولہ سترہ سال۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا کاغذ تھا، مہر لگا ہوا۔ وقف نامہ۔
“رکو!” اس نے کہا۔ “مت چھونا اسے۔ یہ تمہارے کسی کام کا نہیں۔”
اس کی آواز میں وہی لہجہ تھا جو عریبا نے پہیلیاں سلجھاتے وقت اپنایا تھا — ڈرا ہوا، مگر ہار ماننے کو تیار نہیں۔ حمزہ نے ٹارچ کی روشنی اس کے چہرے سے ہٹا دی تاکہ وہ چندھیا نہ جائے۔
“تم کون ہو؟” حمزہ نے نرمی سے پوچھا۔
لڑکی نے وقف نامہ سینے سے لگایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر آواز مضبوط تھی۔
“جب تک تمہیں یہ نہ پتا چلے کہ یہ وقف کس کے نام ہے، یہ کاغذ ردی ہے،” اس نے کہا۔ “نواب ذوالفقار علی خان نے حویلی خریدی تھی — بنوائی نہیں تھی۔ اصل وقف کرنے والا کوئی اور تھا۔”
اس نے رکا، اور پھر وہ الفاظ کہے جن سے کمرے کی ہوا رک گئی:
“اور اس کا وارث... اب بھی زندہ ہے۔”