← پرانی حویلی کا خزانہ · All episodes

Episode 8

چوتھا دروازہ

چوتھا دروازہ

فجر کی اذان کی صدا ابھی فضا میں تھی اور خالی پلاٹ پر بلڈر ملک کی مشینیں دھاڑ رہی تھیں۔ حمزہ نے نقشہ مٹھی میں بھینچا۔ عریبا کی ٹارچ کی روشنی نقشے کے اس نشان پر تھی جو اب ان کی زندگی کا سب سے اہم نشان بن چکا تھا — چوتھا دروازہ، حویلی سے باہر، اسی پلاٹ پر۔

"نیچے چلو!" حمزہ نے کہا۔ "دادا ابو انہیں روکیں گے۔ ہمیں دروازہ ڈھونڈنا ہے۔"

وہ سایہ — جس نے اب اپنا چہرہ کھول دیا تھا — ان کے ساتھ تھا۔ چاندنی میں اس کا چہرہ عام سا تھا: تیس پینتیس سال کا آدمی، آنکھوں کے گرد تھکن کی لکیریں۔ "میرا نام فرحان ہے،" اس نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔ "سراج الدین میرے دادا تھے۔"

"تو تم..." عثمان ہانپ رہا تھا، "تم ہمارے دشمن نہیں ہو؟"

فرحان رکا۔ مینار کے نیچے اندھیرے میں اس کی آواز بھاری تھی۔ "میرے دادا نے آخری رات تمہارے دادا کو خط لکھا تھا — 'جب دونوں خاندان اکٹھے ہوں، تب گھنٹی کھلے گی۔' تین نسلوں تک ہم اس خط کا انتظار کرتے رہے۔ میرے ابا کہتے تھے نواب کے خاندان نے ہمیں دھتکار دیا۔ شرم نے دونوں طرف دیواریں کھڑی کر دیں۔" اس نے حمزہ کی طرف دیکھا۔ "مگر آج رات... آج رات دونوں خاندان اکٹھے ہیں۔ خط کی شرط پوری ہو گئی۔"

عریبا نے دھیرے سے کہا: "'جو نقشہ کھولے، اسے پہلے اپنا دل کھولنا ہوگا۔' — یہی تھا پہیلی کا مطلب۔ نقشہ تب ہی کھلا جب تم نے سچ بتایا۔"

وہ پلاٹ پر پہنچے۔ مٹی کا بڑا میدان، بیچ میں بلڈوزر، اس کے پیچھے دو ٹرک۔ مشینوں کی ہیڈلائٹس نے صبح کے دھندلکے کو چیر رکھا تھا۔ ڈرائیور کیبن میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔

"نقشہ کہتا ہے دروازہ یہیں ہے،" عریبا نے نقشہ زمین پر بچھایا۔ "دیکھو — یہ نشان... یہ تو باؤلی کا نشان ہے! پرانی سیڑھیوں والی باؤلی!"

"باؤلی؟" حمزہ نے چاروں طرف دیکھا۔ "یہاں تو کوئی باؤلی نہیں۔"

"تھی،" فرحان نے کہا۔ وہ پلاٹ کے ایک کونے کی طرف بڑھا جہاں زمین ذرا دھنسی ہوئی تھی۔ "میرے دادا بتاتے تھے — نواب صاحب کے زمانے میں یہاں حویلی کی باؤلی تھی۔ ساٹھ سال پہلے اسے مٹی سے بھر دیا گیا تھا۔" اس نے دھنسی ہوئی جگہ پر پاؤں مارا۔ زمین کھوکھلی بجی۔ "یہیں۔"

اسی لمحے حویلی کی طرف سے شور اٹھا۔ دادا ابو صحن میں کھڑے تھے، ہاتھ میں موبائل فون بلند کیے۔ "رکو!" ان کی آواز لاؤڈ اسپیکر جیسی گونجی۔ "ایک منٹ رکو اور یہ سنو!"

فورمین نے ہاتھ اٹھایا۔ بلڈوزر کا انجن دھیما ہوا۔

دادا ابو نے فون کا بٹن دبایا۔ ایک آواز گونجی — فہد کی آواز: "...ملک صاحب نے کہا تھا، کاغذات والا معاملہ دبا دو۔ وقف کے کاغذات اگر عدالت پہنچ گئے تو پلازہ کا منصوبہ ختم۔ انہوں نے کہا تھا حویلی گرنے کے بعد کوئی ثبوت نہیں بچے گا..."

سناٹا چھا گیا۔ فورمین نے بلڈوزر کے ڈرائیور کو دیکھا۔ ڈرائیور نے سگریٹ بجھا دی۔

"یہ... یہ ریکارڈنگ عدالت میں چلے گی،" دادا ابو نے کہا۔ ان کی آواز اب پرسکون تھی۔ "مگر میں عدالت نہیں جانا چاہتا۔ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ آج کوئی مشین نہ چلے۔ بس آج کا دن۔"

فورمین نے ہیلمٹ اتارا۔ "...آج کا دن۔ بس۔"

حمزہ نے سکون کی سانس لی — مگر عریبا پہلے ہی دھنسی ہوئی زمین کھود رہی تھی۔ فرحان نے جیب سے ایک چھوٹا سا بیلچہ نکالا۔ "ہمیشہ ساتھ رکھتا ہوں،" اس نے مسکرا کر کہا۔ "دادا کی عادت تھی۔"

دس منٹ کی کھدائی کے بعد بیلچہ پتھر سے ٹکرایا۔ انہوں نے مٹی ہٹائی — اور وہاں تھا: ایک بڑا چوکور پتھر، اس پر وہی نقش جو ڈائری میں بنا تھا — چار دروازے، چاروں ایک دائرے میں۔

"چوتھا دروازہ،" عثمان نے سرگوشی کی۔

مگر پھر عریبا کی ٹارچ کی روشنی پتھر کے بیچ میں رکی۔ وہاں تالے نہیں تھے — ایک بھی نہیں۔ صرف ایک گول نشان تھا، ہتھیلی کے سائز کا، اور اس کے گرد لکھا تھا:

"چاروں دروازے ایک دل میں کھلتے ہیں۔"

"اس کا کیا مطلب ہے؟" حمزہ نے پوچھا۔

فرحان نے گہری سانس لی۔ اس نے اپنی ہتھیلی اس نشان پر رکھی۔ کچھ نہ ہوا۔ حمزہ نے رکھی۔ کچھ نہ ہوا۔ عریبا نے رکھی —

پتھر گرم تھا۔

"یہ... یہ گرم ہے،" عریبا نے کہا۔ "نیچے کوئی ہے؟"

اسی لمحے زمین ہلی۔ ہلکی سی — اتنی کہ صرف وہی محسوس کر سکیں جو پتھر پر ہاتھ رکھے تھے۔ پھر پتھر کے نیچے سے آواز آئی: پتھر پر پتھر رگڑنے کی آواز۔

پتھر ڈھلکنے لگا۔ آہستہ آہستہ، ایک طرف جھک کر — نیچے سیڑھیاں نظر آئیں، اندھیرے میں اترتی ہوئی۔

"کوئی اندر سے کھول رہا ہے،" فرحان کی آواز کانپ رہی تھی۔

اور پھر — نیچے سے روشنی آئی۔ چراغ کی روشنی۔ ہلتی ہوئی، گرم، زندہ۔

نیچے کوئی چراغ جلائے بیٹھا تھا۔ کوئی وہاں پہلے سے موجود تھا — شاید ساٹھ سال سے۔

"السلام علیکم،" نیچے سے ایک بوڑھی آواز آئی۔ "میں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔"