← پرانی حویلی کا خزانہ · All episodes

Episode 10

چوری شدہ وقف نامہ

چوری شدہ وقف نامہ

حمزہ نے ٹارچ دراڑ میں ڈالی اور اندر گھس گیا۔ عریبا اس کے پیچھے، پھر فرحان۔ سرنگ صرف چند قدم لمبی تھی — تنگ، گیلی، مٹی کی بو سے بھری۔ اور اس کے آخر میں ایک نیچی محرابی کوٹھری تھی۔

حمزہ نے ٹارچ گھمائی — اور اس کی سانس رک گئی۔

یہ کوئی عام کوٹھری نہیں تھی۔ دیواروں کے ساتھ لکڑی کی الماریاں تھیں، جن میں پرانے رجسٹر اور بہیاں ٹھنسی ہوئی تھیں۔ بیچ میں پتھر کی ایک میز تھی۔ اور میز پر —

”وقف نامہ،“ عریبا نے سرگوشی کی۔

وہی کاغذات جنہیں نذیر احمد نے ساٹھ سال سے اپنے صندوق میں سنبھال رکھا تھا۔ وہیں پڑے تھے — کھلے، جیسے کسی نے ابھی انہیں پڑھا ہو اور جلدی میں چھوڑ گیا ہو۔

”مگر نذیر چاچا نے کہا تھا یہ چوری ہو گئے تھے،“ فرحان نے کہا۔ ”تو چور انہیں یہیں کیوں چھوڑ گیا؟“

عریبا میز کے قریب گئی۔ اس نے کاغذات احتیاط سے پلٹے۔ ”دیکھو — آخری صفحہ غائب ہے۔ پھاڑا گیا ہے۔ کنارے ابھی تازہ ہیں۔“

حمزہ کی نظر میز کے کونے پر پڑی۔ وہاں ایک موبائل فون رکھا تھا — اسکرین روشن۔ اس نے اٹھایا۔

اسکرین پر ایک تصویر کھلی تھی: پھٹے ہوئے صفحے کی تصویر۔ اور اس کے نیچے لکھا تھا: ”بھیجا گیا — M کو، دس منٹ پہلے۔“

”دس منٹ پہلے،“ حمزہ نے دہرایا۔ ”یعنی وہ ابھی یہیں تھا۔ جب ہم اوپر کھدائی کر رہے تھے، وہ یہیں نیچے تھا۔“

فرحان نے فون لیا اور رابطوں میں دیکھا۔ ”M“ کے نام سے صرف ایک نمبر تھا — کوئی نام نہیں، کوئی تصویر نہیں۔

”عریبا،“ حمزہ نے کہا، ”تم مہروں والی بات دیکھو۔ نذیر چاچا نے کہا تھا تین مہریں تھیں۔“

عریبا نے وقف نامے کا مہر والا صفحہ ڈھونڈا۔ اس پر چار گول دائرے بنے تھے — چار مہروں کی جگہ۔ تین میں مہر کے نشان تھے۔ چوتھا خالی تھا۔

”تین مہریں لگی ہیں،“ عریبا نے کہا۔ ”دو تو ہم جانتے ہیں — دادا ابو کے خاندان کی، اور نذیر چاچا کی انگوٹھی والی۔ مگر تیسری...“ اس نے ٹارچ قریب کی۔ ”یہ مہر نہ دادا ابو والی ہے، نہ نذیر چاچا والی۔ یہ کوئی تیسری مہر ہے۔“

”اور چوتھی جگہ خالی ہے،“ فرحان نے کہا۔ ”وقف کے کاغذات میں چار دروازوں کا ذکر تھا۔ چار دروازے، چار مہریں۔ تین مل گئیں۔ چوتھی...“

”میناروں والی شخصیت کے پاس،“ حمزہ نے آہستہ کہا۔ ”جسے ہم نے تیسرے ٹکڑے کے ساتھ دیکھا تھا۔ وہ دراصل مہر لیے پھر رہا تھا۔“

اسی لمحے کوٹھری کے اندھیرے کونے میں ایک تیلی جلی۔

تینوں ساکت ہو گئے۔

تیلی کی روشنی میں ایک چہرہ ابھرا — عورت کا چہرہ۔ پچاس کے لگ بھگ، بال سفید، آنکھیں تیز۔ اس نے تیلی سے ایک موم بتی جلائی اور میز پر رکھی۔

”تم لوگ بہت دور آ گئے ہو، بچو،“ اس نے کہا۔ اس کی آواز پرسکون تھی — خطرناک حد تک پرسکون۔

”آپ کون ہیں؟“ حمزہ نے پوچھا۔ اس نے عریبا کو اپنے پیچھے کر لیا۔

”میرا نام رضیہ ہے۔“ اس نے وقف نامے کی طرف اشارہ کیا۔ ”اور یہ کاغذات... یہ میرے خاندان کی بربادی کی دستاویز ہیں۔“

”کیا مطلب؟“

رضیہ نے موم بتی کی روشنی میں کاغذات دیکھے۔ ”نواب ذوالفقار علی خان نے یہ وقف اس زمین پر کیا تھا جو میرے پردادا کی تھی۔ کہتے ہیں انہوں نے زمین 'خریدی' تھی۔ میرے خاندان کے پاس اس کے ثبوت تھے — اصل ملکیت کے کاغذات۔“ اس نے تلخی سے مسکرایا۔ ”وہ ثبوت اسی پھٹے ہوئے صفحے پر تھے۔ جو صفحہ اب میرے پاس ہے۔“

اس نے جیب سے تہہ کیا ہوا صفحہ نکالا۔

”تو آپ چور ہیں!“ فرحان نے کہا۔

”میں وارث ہوں،“ رضیہ نے جواب دیا۔ ”اور میں یہاں بلڈر ملک کے لیے نہیں آئی۔ وہ بےوقوف سمجھتا ہے میں اس کے لیے کام کرتی ہوں۔ اس نے مجھے اس وقف نامے کی تلاش میں لگایا تھا — تاکہ وہ اسے دبا سکے۔ مگر جب مجھے یہ ملا تو میں نے پڑھا۔ اور میں نے جانا کہ یہ صرف اس کا کھیل نہیں — یہ میرے خاندان کا حق ہے۔“

عریبا نے ہمت کی۔ ”تو آپ ہمیں کیوں بتا رہی ہیں؟ آپ تو بھاگ سکتی تھیں۔“

رضیہ نے اسے دیکھا۔ ”کیونکہ تم بچے ہو۔ اور کیونکہ...“ اس نے رکا۔ ”کیونکہ ساٹھ سال پہلے اسی کوٹھری میں میرے ابا نے نذیر احمد کو دھوکہ دیا تھا۔ میرے ابا نے اسے نیچے بھیجا تھا کاغذات 'بچانے' کے لیے — اور پھر باؤلی بھروا دی تھی۔ نذیر کو زندہ دفن کر دیا تھا۔“

سناٹا چھا گیا۔

”میرے ابا نے سوچا تھا کاغذات ہمیشہ کے لیے دب جائیں گے،“ رضیہ نے کہا۔ ”مگر نذیر زندہ بچ گیا۔ اور کاغذات بھی۔“ اس نے پھٹا ہوا صفحہ موم بتی کے شعلے کے قریب کیا۔ ”اور اب یہ صفحہ بھی نہیں بچے گا۔ چوتھا دروازہ کھلنے سے پہلے یہ راکھ ہو جائے گا۔“

”نہیں!“ حمزہ آگے بڑھا —

مگر اسی لمحے دراڑ کی طرف سے ایک زوردار آواز آئی۔ پتھر پر پتھر گرنے کی۔ کوٹھری کا واحد راستہ — وہ تنگ دراڑ — باہر سے بند ہو رہی تھی!

”عثمان!“ فرحان چلایا۔ ”نذیر چاچا!“

باہر سے نذیر کی گھبرائی ہوئی آواز آئی، ”بچو! پیچھے ہٹو! وہ... وہ اوپر سے مٹی گرا رہا ہے!“

”کون؟“ حمزہ نے چیخ کر پوچھا۔

جواب میں ایک جانی پہچانی ہنسی آئی — بھاری، خود اعتماد۔

بلڈر ملک۔

”رضیہ بیگم،“ اس کی آواز دراڑ کے پار سے آئی، ”تم نے اپنا کھیل کھیل لیا۔ اب میری باری۔ یہ بچے اور یہ کاغذات — سب یہیں دب جائیں گے۔ اور صبح میری مشینیں چلیں گی۔“

رضیہ کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ ”ملک... تم نے کہا تھا تم صرف کاغذات چاہتے ہو!“

”میں نے بہت کچھ کہا تھا، بیگم۔“

مٹی گرنے کی آواز تیز ہو گئی۔ دراڑ سکڑتی جا رہی تھی۔ عریبا نے حمزہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔

”حمزہ،“ اس نے سرگوشی کی، ”مہر والا صفحہ دیکھو۔ چوتھی مہر کی جگہ... وہ خالی نہیں ہے۔“

حمزہ نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا۔ چوتھے دائرے میں — اتنا ہلکا کہ پہلے نظر نہیں آیا تھا — ایک مہر کا دھندلا نشان تھا۔ اور اس کے نیچے، چھوٹے حروف میں لکھا تھا:

”چوتھی مہر اس کے پاس ہے جو دروازہ بند کرے۔“

حمزہ نے رضیہ کی طرف دیکھا۔ رضیہ نے حمزہ کی طرف۔

اور دونوں ایک ساتھ سمجھے — چوتھی مہر بلڈر ملک کے پاس تھی۔ وہی جو اب دروازہ بند کر رہا تھا۔