← پرانی حویلی کا خزانہ · All episodes

Episode 7

صبح کی اذان سے پہلے

صبح کی اذان سے پہلے

رات کا گیارہواں بج رہا تھا اور حویلی کے بڑے صحن میں اندھیرا ایسا چھایا تھا کہ ہلکی سی چاندنی بھی اینٹوں پر ڈرتی ہوئی اتر رہی تھی۔ حمزہ، عریبا اور عثمان تینوں چپکے چپکے دادا ابو کے کمرے کے دروازے پر آ کھڑے ہوئے۔ ان کے پیچھے مینار کی طرف دیکھنے سے ڈر لگ رہا تھا — اسی مینار سے ابھی شام کو وہ سایہ اترا تھا، جس نے کہا تھا: دوسری چابی تمہارے دادا ابو کے پاس ہے۔

حمزہ نے ہاتھ کا زور لگا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔

''دادا ابو؟'' اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ ''آپ جاگ رہے ہیں؟''

اندر سے کچھ دیر خاموشی رہی، پھر لکڑی کی سیڑھی جیسی آواز میں کرسی کھسکی اور دادا ابو نے دروازہ کھولا۔ ان کے چہرے پر وہ تھکاوٹ تھی جو تین دن سے سو نہ سکنے والے انسان کے چہرے پر ہوتی ہے۔

''تم تینوں؟ اس وقت؟'' انہوں نے سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرا۔ ''اندر آؤ۔''

کمرہ چھوٹا تھا مگر گرم۔ دیوار پر نواب ظفر علی خان کی پرانی تصویر لگی تھی — دھندلی مگر اس کا شکار والا ٹوپی اب بھی چمک رہا تھا۔ دادا ابو تخت پر بیٹھ گئے اور تینوں کو اپنے سامنے بٹھایا۔

''ہم مینار گئے تھے، دادا ابو،'' حمزہ نے آہستہ کہا۔ ''گھنٹی کے کھوکھلے پیٹ میں دیکھنے۔ لیکن وہاں کوئی اور پہنچ گیا۔''

دادا ابو کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا۔

''اس نے کیا کہا؟'' ان کی آواز اب سرگوشی سے بھی ہلکی تھی۔

عریبا نے پوری بات سنائی — پیتل کی چابی، دو تالے، اس کا دعویٰ کہ اس کے دادا نے نواب کے ساتھ مل کر حویلی بنائی تھی، اور آخر میں وہ ایک جملہ جو اب بھی حمزہ کے کانوں میں گونج رہا تھا: دوسری چابی تمہارے دادا ابو کے پاس ہے۔

کافی دیر دادا ابو کچھ نہ بولے۔ باہر کہیں دور کتے بھونکے، اور ہوا نے کھڑکی کے پردے کو ہلایا۔ پھر انہوں نے آہ بھری — ایسی آہ جو سینے کے سب سے گہرے خانے سے نکلتی ہے۔

''اس کا نام سراج تھا،'' دادا ابو نے کہا۔ ''سراج الدین۔ میرے دادا کے سب سے قریبی دوست۔ حویلی کی اینٹیں انہوں نے مل کر اٹھائی تھیں۔ نواب صاحب کے حکم پر۔''

''تو پھر دشمنی کیسی؟'' عثمان نے پوچھا۔

''دشمنی نہیں تھی بیٹا۔ غلط فہمی تھی۔'' دادا ابو کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ''جب نواب صاحب نے وقف کے کاغذات لکھوائے تو انہوں نے چوتھا دروازہ صرف سراج کو بتایا تھا — حفاظت کے لیے۔ مگر میرے دادا کو لگا کہ ان سے کچھ چھپایا جا رہا ہے۔ وہ دن بہ دن دور ہوتے گئے۔ اور پھر ایک رات سراج کا خاندان حویلی چھوڑ کر چلا گیا۔ کوئی نہیں جانتا وہ کہاں گئے۔''

''اور دوسری چابی؟'' حمزہ نے سانس روک کر پوچھا۔

دادا ابو اٹھے، الماری کے پچھلے حصے سے ایک پرانا لکڑی کا ڈبہ نکالا، اور اسے کھولا۔ اندر زرد پڑے ہوئے خط تھے۔ سب سے نیچے — ایک چھوٹی سی پیتل کی چابی، جس پر وہی نقش تھا جو ڈائری کے خاکے میں بنا تھا۔

''یہ چابی میرے دادا کو سراج نے آخری رات دی تھی،'' دادا ابو نے کہا۔ ''ساتھ ایک خط بھی تھا۔ اس میں لکھا تھا: جب وقت آئے اور دونوں خاندان اکٹھے ہوں، تب گھنٹی کھلے گی۔ مگر میرے دادا نے اس خط کو کبھی کسی کو نہیں دکھایا۔ شرم کی وجہ سے۔''

عریبا نے خط اٹھایا۔ پیلے کاغذ پر ٹوٹی پھوٹی لکھائی تھی: ''دوسرا دروازہ وہاں نہیں جہاں سب دیکھتے ہیں۔ تیسرا نقشہ بتا دے گا کہ چوتھا دروازہ کہاں ہے۔ مگر یاد رکھنا — جو نقشہ کھولے، اسے پہلے اپنا دل کھولنا ہوگا۔''

''پہیلی!'' عریبا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ''جو نقشہ کھولے اسے پہلے اپنا دل کھولنا ہوگا — یعنی نقشے کو کھولنے سے پہلے کوئی شرط پوری کرنی ہوگی۔ شاید نقشہ صرف تب نظر آئے جب —''

اس کی بات پوری نہ ہو سکی۔ باہر صحن میں اچانک روشنی چمکی — ٹارچ کی روشنی! اور ساتھ ہی دبی ہوئی آوازیں۔

''بلڈر ملک کے آدمی!'' عثمان کھڑکی کی طرف لپکا۔ ''وہ اذان سے پہلے آ گئے!''

دادا ابو نے چابی حمزہ کی مٹھی میں دبا دی۔ ''جاؤ! گھنٹی تک پہنچو۔ میں انہیں روکتا ہوں۔''

''مگر دادا ابو —''

''جاؤ!'' ان کی آواز میں وہ سختی تھی جو حمزہ نے پہلی بار سنی تھی۔

تینوں اندھیرے صحن میں نکلے۔ مینار کی سیڑھیاں پتھر کی اور ٹھنڈی تھیں۔ ہر قدم پر دل دھڑک رہا تھا۔ اوپر گھنٹی کے کمرے میں پہنچے تو دیکھا — گھنٹی وہیں لٹکی تھی، پرانی، سبز رنگ کی کائی سے ڈھکی۔ اس کے پیٹ میں ایک چھوٹا سا سوراخ تھا، اور سوراخ کے اوپر دو تالے — دو پیتل کے تالے، بالکل ایک جیسے۔

حمزہ نے کانپتے ہاتھوں سے دادا ابو والی چابی ایک تالے میں ڈالی۔ کلک۔ تالا کھل گیا۔

مگر دوسرا تالا؟ دوسری چابی تو اس سائے کے پاس تھی!

اسی لمحے سیڑھیوں پر قدموں کی آہٹ ہوئی۔ تینوں کے دل حلق میں آ گئے۔ مگر جو اوپر آیا وہ بلڈر ملک کا آدمی نہیں تھا — وہی سایہ تھا، چہرے پر کپڑا لپٹا، ہاتھ میں دوسری پیتل کی چابی۔

''تم آ گئے،'' اس نے کہا۔ ''میرے دادا نے کہا تھا — ایک دن دونوں خاندان اکٹھے ہوں گے۔''

اس نے اپنی چابی دوسرے تالے میں ڈالی۔ کلک۔

دونوں نے مل کر گھنٹی کے پیٹ کا ڈھکن کھولا۔ اندر — موم میں لپٹا ہوا ایک چھوٹا سا رول۔ تیسرا نقشہ!

حمزہ نے موم توڑا اور کاغذ کھولا۔ عریبا نے ٹارچ کی روشنی ڈالی۔

اور پھر تینوں کی سانسیں رک گئیں۔

نقشے پر حویلی بنی تھی — مگر وہ حویلی جو وہ جانتے تھے، اس سے الگ۔ اس میں چوتھا دروازہ نشان زد تھا — اور وہ دروازہ حویلی میں نہیں تھا۔ وہ اس جگہ تھا جہاں... جہاں بلڈر ملک کی مشینیں کھڑی تھیں۔ اس خالی پلاٹ پر جہاں وہ نیا پلازہ بنانا چاہتا تھا۔

''چوتھا دروازہ حویلی کے باہر ہے،'' عریبا کی آواز کانپ رہی تھی۔ ''نقشہ کہہ رہا ہے — خزانہ کبھی حویلی میں تھا ہی نہیں۔''

اسی وقت نیچے سے انجنوں کی گرج سنائی دی۔ اور پھر — دور مسجد سے فجر کی اذان کی پہلی صدا بلند ہوئی: اللہ اکبر...

مشینیں آ چکی تھیں۔