← پرانی حویلی کا خزانہ · All episodes

Episode 6

دو چابیاں اور ڈوبتا سورج

دو چابیاں اور ڈوبتا سورج

رسی کی سیڑھی اوپر کھینچ لی گئی تھی۔

چاروں کنویں کے نیچے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اوپر انجن دھاڑ رہا تھا اور ہیڈلائٹس کی تیز روشنی کنویں کے منہ پر ناچ رہی تھی۔ زارا کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔

“اب کیا ہوگا؟” عثمان کی آواز کانپ رہی تھی۔ “ہم یہیں دب کر رہ جائیں گے؟”

“خاموش!” عریبہ نے ٹارچ کی روشنی طاق کی طرف موڑی۔ “گھبرانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سوچو — نواب نے یہ جگہ چھپنے کے لیے نہیں، بچ نکلنے کے لیے بنائی ہوگی۔”

اس نے حمزہ کے بیگ سے مٹی کا مرتبان نکالا — وہی جس پر نواب ذوالفقار علی خان کی لال لاکھ کی مہر تھی۔ خط کا بچا ہوا حصہ اس کے دوسرے ہاتھ میں تھا: “…یہ پیتل کی کنجی اس کمرے کی ہے جو نقشے پر کبھی بنا ہی نہیں…”

“کمرہ جو نقشے پر کبھی بنا ہی نہیں،” عریبہ نے آہستہ دہرایا۔ “اگر وہ کمرہ نقشے پر نہیں ہے، تو اس کا دروازہ بھی یہیں کہیں چھپا ہوگا۔”

اس نے پیتل کی کنجی طاق کی پچھلی دیوار کے پتھروں پر پھیری۔ ایک جگہ اس کی انگلیاں رک گئیں — کائی کے نیچے ایک چھوٹا سا سوراخ تھا۔ بالکل کنجی کے ناپ کا۔

کنجی اندر گئی۔ کٹاک!

طاق کی پچھلی دیوار آہستہ سے ایک طرف سرکنے لگی۔ پیچھے ایک تنگ سرنگ منہ کھولے تھی — اتنی تنگ کہ ایک وقت میں ایک ہی بچہ گزر سکتا تھا۔ دیواروں میں چھوٹے چھوٹے طاق بنے تھے جن میں کبھی چراغ جلتے ہوں گے۔ اندر سے مٹی اور پرانے تیل کی بو آ رہی تھی۔

“نواب کے زمانے کی خفیہ راہداری،” حمزہ نے سرگوشی کی۔ “خطرے کے وقت نکلنے کے لیے۔”

حمزہ نے مرتبان اور سنہری مہر بیگ میں ڈالیں، اور ایک ایک کر کے وہ سرنگ میں گھس گئے — عریبہ سب سے آگے، ٹارچ جلائے۔

اوپر، کنویں کے منہ پر، فورمین نے ہاتھ اٹھایا۔ “منہ مٹی سے بند کر دو!”

عمران کا دل زور سے دھڑکا۔ اندر بچے تھے! اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا، “رکو! اندر بچے ہیں! اور… اور فہد تھانے فون کر چکا ہے — پولیس آ رہی ہے!”

فورمین کے ہاتھ رک گئے۔ اسی لمحے گیٹ کی طرف سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا — فہد! اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور سانس پھولی ہوئی تھی۔

“میں نے واقعی تھانے فون کر دیا ہے!” فہد چلایا۔ “انسپکٹر صاحب نے کہا ہے — آج رات کوئی مشین نہیں چلے گی!”

فورمین نے دانت پیسے۔ “ٹھیک ہے… صبح اذان کے بعد واپس آئیں گے۔ تب دیکھتے ہیں کون روکتا ہے۔” ٹریکٹر کا انجن بند ہوا، مزدور بکھرنے لگے۔

عمران کے گھٹنے کانپ رہے تھے۔ وہ چپ چاپ وہاں سے کھسکا اور پرانی مسجد کے سنسان صحن میں جا کر ایک ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اسے اپنے آپ پر غصہ تھا — مگر دل میں ہلکی سی خوشی بھی: آج پہلی بار اس نے سچ کا ساتھ دیا تھا۔

سرنگ ایک زنگ آلود جالی پر ختم ہوئی۔ عریبہ نے کندھے سے زور لگایا — جالی چرچراتی ہوئی ایک طرف ہوئی، اور ٹھنڈی تازہ ہوا اندر آئی۔

وہ ایک ایک کر کے باہر نکلے — پرانی مسجد کے پچھلے صحن میں! سامنے ٹوٹا ہوا حوض تھا، اور اس کے پاس ستون سے ٹیک لگائے… عمران بیٹھا تھا۔ اس نے سر اٹھایا تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

“تم؟” حمزہ کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ “تم نے ہمیں کنویں میں پھنسایا تھا!”

“حمزہ، رکو،” عریبہ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ “پہلے سوچو — مشینوں کی خبر بھی تو اسی نے دی تھی۔ اور اوپر فورمین کیوں رکا؟”

عمران نے نظریں جھکا لیں۔ “میں نے جھوٹ بولا تھا کہ فہد نے پولیس کو فون کیا ہے۔ پھر فہد واقعی آ گیا۔” اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ “مجھے معاف کر دو۔ میں ڈر گیا تھا… میری امی کی دوا کے پیسے…”

خاموشی چھا گئی۔ صرف مسجد کی پرانی دیواروں سے کبوتروں کی گھٹر گھوں سنائی دے رہی تھی۔

پھر حمزہ نے آگے بڑھ کر اپنا ہاتھ بڑھایا۔

“ڈر سب کو لگتا ہے، عمران بھائی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ڈر کے آگے جھکو گے یا سچ کے ساتھ کھڑے ہو گے۔ فیصلہ تمہارا ہے۔”

عمران نے کانپتے ہاتھ سے حمزہ کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ “سچ کے ساتھ۔”

“تو سنو،” عمران نے جلدی سے کہا، آنسو پونچھتے ہوئے۔ “فورمین صبح اذان کے بعد واپس آئے گا۔ مشرقی حصہ — جہاں مینار ہیں — سب سے پہلے گرایا جائے گا۔ تمہارے پاس صرف آج کی شام ہے۔”

عریبہ نے چونک کر آسمان کی طرف دیکھا — اور اس کی سانس رک گئی۔ سورج ڈوبنے کو تھا!

“مینار کا سایہ!” وہ چلائی۔ “ڈائری کی بات یاد ہے؟ تین دروازے کھل گئے، چوتھا چھپا ہے — جہاں ڈوبتے سورج کا سایہ مینار سے پتھر پر ٹھہرے، وہیں راز دبا ہے!”

اسی لمحے مغرب کی اذان بلند ہوئی — اور عریبہ کو خط کی لائن یاد آئی۔ اس نے گلی کے اس پار اسکول کی عمارت دیکھی، اور بات دل میں محفوظ کر لی۔

“چلو!” حمزہ چلایا۔ “میناروں کی طرف!”

عریبہ، حمزہ، عثمان، زارا اور عمران حویلی کے صحن کی طرف بھاگے — راستے میں فہد بھی ان سے آ ملا۔

سورج مغرب میں ایک سنہری تھالی کی طرح جھک چکا تھا۔ لمبے مینار کا سایہ صحن پر پھیلا ہوا تھا — ایک دیو ہیکل کالی انگلی جو اینٹوں پر آہستہ آہستہ رینگ رہی تھی۔

“سائے کے ساتھ چلو!” عریبہ نے کہا۔ “جہاں اس کی نوک ٹھہرے گی — وہیں!”

وہ سائے کے کنارے کنارے چلنے لگے۔ کبوتروں کا ایک غول گھبرا کر پھڑپھڑاتا ہوا اڑا۔ سایہ لمبا ہوتا گیا… ہوتا گیا… یہاں تک کہ اس کی نوک ایک پرانے پتھر پر آ کر ٹھہر گئی۔

وہ سوکھے حوض کی ٹوٹی ہوئی منڈیر کا ایک حصہ تھا۔ اس پر کائی جمی تھی — لیکن کائی کے نیچے کچھ بنا ہوا تھا۔ عریبہ نے ہتھیلی سے کائی صاف کی۔

ایک ہلال اور ایک تلوار — نواب کا مہر!

“یہیں!” عثمان کی آواز جوش سے کانپ رہی تھی۔

فہد اور عثمان نے مل کر پتھر کو ہلایا۔ وہ ہلا! نیچے ایک چھوٹا سا خانہ تھا — اور اس میں تانبے کا ایک لاکٹ، سبز زنگ میں لپٹا ہوا۔

عریبہ نے کانپتے ہاتھوں سے لاکٹ کھولا۔ اندر کاغذ کا ایک پرزہ تھا، سیاہی مدھم پڑ چکی تھی:

“جو تیسرا نقشہ چاہے، وہ مینار کی پرانی گھنٹی کے کھوکھلے پیٹ میں دیکھے — موم میں لپٹا ہوا، وہاں جہاں اذان سے پہلے پرندے بیٹھتے تھے۔”

سب نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ مینار کی بالکونی میں ایک پرانی پیتل کی گھنٹی لٹک رہی تھی — برسوں سے خاموش، مکڑی کے جالوں میں لپٹی ہوئی۔

اور تبھی — ٹک! ایک چھوٹا سا کنکر اوپر سے گرا اور عریبہ کے قدموں کے پاس آ کر رکا۔

بالکونی پر کوئی کھڑا تھا۔ لمبا سایہ، چہرہ کپڑے سے ڈھکا ہوا۔ وہی سایہ جو اس سے پہلے میناروں پر دیکھا گیا تھا!

“وہ نیچے آ رہا ہے!” زارا کی چیخ نکلی۔

سایہ مینار کی بیرونی سیڑھیوں سے اترنے لگا — تیز، بے آواز، جیسے اس کا ہر قدم پہلے سے طے شدہ ہو۔ بچے بے اختیار پیچھے ہٹے۔

دھم! وہ صحن میں کودا اور مینار کے دروازے کے سامنے کھڑا ہو گیا — ان کے اور گھنٹی کے درمیان۔

اس کے ہاتھ میں کچھ چمکا — پیتل کی ایک چابی۔ عریبہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ بالکل ویسی ہی چابی، جیسی اس نے ڈائری کے خاکے میں دیکھی تھی — گھنٹی والے خانے کی چابی!

عریبہ کے ذہن میں ایک بات کوندی — اس شام جو چیز دور سے کاغذ جیسی لگی تھی، شاید وہ یہی چابی تھی!

“تمہارے پاس ڈائری ہے نا، لڑکی؟” سائے کی آواز بھاری اور پرانی تھی۔ “تو تم نے اس کا خاکہ بھی دیکھا ہوگا۔ اس تالے میں دو چابیاں لگتی ہیں۔”

عریبہ کے ذہن میں خاکہ گھوم گیا۔ ہاں — تالے کے دو سوراخ تھے، ایک دوسرے کے برابر! اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔

“ایک چابی نواب کے پاس تھی،” سایہ ایک قدم آگے بڑھا۔ “دوسری میرے دادا کے پاس۔ انہوں نے یہ حویلی نواب کے ساتھ مل کر بنائی تھی۔ تیسرا نقشہ میری امانت ہے — میرے خاندان کا حق!”

سورج ڈوب گیا۔ صحن اندھیرے میں ڈوب گیا۔ صرف پیتل کی گھنٹی کی مدھم چمک باقی رہ گئی۔

سایہ نے زارا کی طرف دیکھا۔ “دوسری چابی تمہارے دادا ابو کے پاس ہے۔ ان سے پوچھو — اس سے پہلے کہ صبح کی مشینیں سب کچھ مٹی میں ملا دیں۔”

اور پھر وہ اندھیرے میں گھل گیا — جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔