Episode 5
خالی صندوق

کنویں کی سیڑھیوں سے اترتی چاپ ہر لمحے قریب آ رہی تھی۔
ٹھک... ٹھک... ٹھک...
حمza نے ٹارچ کا رخ سیڑھیوں کی طرف موڑ دیا۔ عثمان نے خاموشی سے زمین سے ایک ڈھیلی اینٹ اٹھا لی۔ عریبہ نے زارا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
سیڑھیوں کے موڑ سے پہلے ایک سایہ نمودار ہوا — پھر ایک آدمی۔ مٹی سے اٹے کپڑے، ہاتھ میں ٹارچ، اور... حمza کی سانس رک گئی۔
"یہ... یہ تو فہد کی جیکٹ ہے!"
وہ بھوری جیکٹ، جس کے کالر پر وہی ٹانکے تھے جو فہد کی امی نے لگائے تھے — حمza نے اسے درجنوں بار دیکھا تھا۔ آدمی چونکا، ٹارچ کی روشنی سیدھی ان کے چہروں پر پڑی۔
"رکو!" عثمان اینٹ اٹھائے آگے بڑھا۔ "تم کون ہو؟"
آدمی نے ہاتھ اٹھا دیے۔ "ارے ارے! میں ہوں... عمران! فہد کا کزن!"
"عمران بھائی؟" حمza حیران رہ گیا۔ "تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اور فہد کی جیکٹ تمہارے پاس کیسے؟"
عمران نے گہری سانس لی۔ اس کے چہرے پر شرمندگی اور ڈر دونوں تھے۔ "سنو... پہلے ٹارچ ہٹاؤ آنکھوں سے۔ میں چور نہیں ہوں۔ ملک صاحب نے بھیجا تھا مجھے۔"
"بلڈر ملک؟" زارا کی آواز کانپ گئی۔
"ہاں۔" عمران دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ "میں ان کی سائٹ پر ہیلپر ہوں۔ انہوں نے تم لوگوں کو آج شام حویلی کے گرد گھومتے دیکھا تھا۔ کہا — جاؤ، دیکھو یہ بچے کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔ جو ملے، مجھے خبر دو، پیسے ملیں گے۔"
"تو تم پہلے بھی یہاں آئے تھے؟" عریبہ کی نظریں اس کے قدموں کے نشانوں پر تھیں۔ "یہ تازہ قدموں کے نشان... تمہارے ہیں؟"
"ہاں۔" عمران نے سر جھکا لیا۔ "ایک گھنٹہ پہلے آیا تھا۔ خالی صندوق دیکھا، کچھ نہ ملا، واپس چلا گیا۔ پھر ملک صاحب کا فون آیا — 'کچھ ملا؟' میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا پھر سے جا کر دیکھو، شاید کچھ چھوٹ جائے۔ تو... میں واپس آیا۔"
حمza کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ "اور فہد کی جیکٹ؟ وہ بٹن جو ہمیں ملا — وہ تم نے گرایا؟"
"سنو، یہی تو بات ہے!" عمران جلدی سے بولا۔ "فہد نے جھوٹ نہیں بولا۔ وہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ اس کی جیکٹ چائے کے کھوکھے پر ٹنگی تھی — تم لوگوں کو یاد ہے نا، وہ کھوکھا جہاں تم سب بیٹھتے ہو؟ میری اپنی قمیض حویلی کے ٹوٹے گیٹ میں پھنس کر پھٹ گئی تھی۔ سردی لگ رہی تھی، تو میں نے فہد کی جیکٹ اٹھا لی — سوچا واپس رکھ دوں گا۔ سیڑھیوں کے زنگ آلود قبضے میں جیکٹ پھنسی، ایک بٹن ٹوٹ کر گر گیا۔ مجھے پتہ بھی نہیں چلا۔"
خاموشی چھا گئی۔ حمza نے جیب سے وہ بٹن نکالا — پیتل کا، کنارے پر وہی ڈیزائن جو فہد کی جیکٹ کے بٹنوں پر تھا۔
"مطلب..." عثمان نے اینٹ نیچے رکھ دی۔ "فہد سچ کہہ رہا تھا۔ اس کی جیکٹ یہاں آئی تھی، وہ خود نہیں۔"
عریبہ نے آہستہ سے سر ہلایا۔ "یہی تو پہیلی تھی۔ ہم ثبوت دیکھ رہے تھے، کہانی نہیں۔ بٹن سچ بول رہا تھا — بس ہم غلط سوال پوچھ رہے تھے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ فہد یہاں آیا یا نہیں۔ سوال یہ تھا کہ اس کی جیکٹ یہاں کیسے آئی۔"
عمران نے حیرت سے عریبہ کو دیکھا۔ "تم تو واقعی پہیلیاں سلجھاتی ہو۔"
"ابھی ایک اور پہیلی باقی ہے۔" عریبہ ٹارچ لے کر دیوار کی طرف بڑھی جہاں قدموں کے نشان ختم ہو رہے تھے۔ "تمہارے قدم یہاں آ کر رک گئے۔ لیکن تم تو خالی صندوق کے پاس سے واپس گئے تھے۔ پھر نشان دیوار تک کیوں آئے؟"
عمران نے کندھے اچکائے۔ "میں نے دیوار کو دھکیلا تھا — سوچا شاید پیچھے کچھ ہو۔ کچھ نہیں ہلا۔"
عریبہ دیوار کے پتھروں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ اس کی انگلیاں ایک جگہ رک گئیں۔ "دیکھو!"
ٹارچ کی روشنی میں دیوار پر چار چھوٹی نقش و نگار والی تصویریں نظر آئیں — چار دروازے، ایک قطار میں۔ بالکل ویسے ہی جیسے جڑے ہوئے نقشے کے تین ٹکڑوں پر بنے تھے۔
"نقشے پر چار دروازے تھے،" عریبہ کی آواز میں وہ چمک آ گئی جو ہمیشہ کسی راز کے قریب پہنچ کر آتی تھی۔ "تین ٹکڑوں میں تین دروازے صاف بنے ہیں۔ چوتھا دروازہ... دیکھو، نقشے پر وہ سب سے چھوٹا بنا ہے۔ سب نے سمجھا شاید جگہ کم تھی۔ لیکن..."
اس نے دیوار پر بنے چوتھے دروازے کی تصویر کو غور سے دیکھا۔ وہ باقی تین سے تھوڑا اندر دھنسا ہوا تھا۔
"یہ دروازہ نہیں ہے،" عریبہ نے آہستہ کہا۔ "یہ کنجی ہے۔ نقشہ بنانے والے نے چوتھے دروازے کو چابی بنا دیا — کیونکہ اصل دروازہ تو یہ دیوار خود ہے!"
اس نے انگوٹھے سے چوتھی تصویر کو دبایا۔
پہلے کچھ نہ ہوا۔ پھر... گڑگڑاہٹ۔ دیوار کا ایک حصہ — کمر کی اونچائی تک — آہستہ آہستہ گھومنے لگا۔ پتھر پر پتھر رگڑنے کی آواز کنویں میں گونج اٹھی۔ ایک تنگ طاق نمودار ہوا۔
سب کی سانسیں رک گئیں۔
طاق میں سونا نہیں تھا۔ نہ ہیرے، نہ جواہرات۔ وہاں ایک مٹی کا مرتبان تھا، جس کے منہ پر لال لاکھ کی مہر لگی تھی — مہر پر اب بھی صاف پڑھا جا سکتا تھا: نواب ذوالفقار علی خان۔ مرتبان کے پاس ایک سنہری مہر اور پیتل کی ایک چھوٹی سی کنجی رکھی تھی۔
زارا کے ہاتھ کانپنے لگے۔ "یہ... یہ میرے دادا ابو کی نشانی ہے۔ رحیم خاں ہمیشہ کہتے تھے — اصل امانت مٹی میں چھپتی ہے، پتھر میں نہیں۔"
حمza نے احتیاط سے مہر توڑی۔ اندر ایک تہہ کیا ہوا خط تھا — پرانا کاغذ، لیکن سیاہی اب بھی گہری۔ عریبہ نے ٹارچ کی روشنی میں پڑھنا شروع کیا:
"میرے بیٹے کے نام... جب یہ خط تمہارے ہاتھ لگے، سمجھ لینا کہ لالچی نظریں حویلی پر پڑ چکی ہیں۔ ملک کے باپ نے پہلی بار حویلی خریدنے کی پیشکش کی تھی، اسی رات میں نے رحیم خاں کو حکم دیا — وقف کا صندوق خالی کر دو۔ خالی صندوق چور کو دھوکہ دے گا۔ اصل امانت وہاں رکھو جہاں اذان کی آواز اور اسکول کی گھنٹی ایک ساتھ سنائی دیں۔ اور سنو — یہ پیتل کی کنجی اس کمرے کی ہے جو نقشے پر کبھی بنا ہی نہیں..."
خط وہیں ختم ہو گیا — باقی حصہ پھٹا ہوا تھا۔
"جہاں اذان اور اسکول کی گھنٹی ایک ساتھ سنائی دیں..." عثمان نے دہرایا۔
"پرانی مسجد اور پرائمری اسکول!" حمza چلایا۔ "دونوں حویلی کے پیچھے والی گلی میں ہیں!"
لیکن عمران کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ وہ پیچھے ہٹ رہا تھا۔ "تم لوگ نہیں سمجھ رہے... ملک صاحب کو آج رات ہی سب پتہ چل جائے گا۔ میں نے انہیں فون پر بتا دیا تھا کہ تم لوگ کنویں میں اترے ہو۔"
"کیا؟" زارا چیخی۔
"مجھے معاف کر دو! مجھے نوکری کا ڈر تھا!" عمران سیڑھیوں کی طرف بھاگا۔ "اور ایک بات سن لو — مشینیں صبح نہیں، آج رات آ رہی ہیں! ٹریکٹر گیٹ پر کھڑا ہے!"
وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر غائب ہو گیا۔
"جلدی!" حمza نے مرتبان بیگ میں ڈالا۔ "اوپر چلو!"
وہ ایک ایک کر کے سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ عریبہ سب سے آخر میں تھی — پیتل کی کنجی اس کی مٹھی میں دبی تھی۔
اور تبھی اوپر سے انجن کی گرج سنائی دی۔ تیز ہیڈلائٹس کی روشنی کنویں کے منہ پر پڑی۔
پھر ایک سایہ کنویں کے دہانے پر جھکا — اور رسی کی سیڑھی، جس سے وہ نیچے اترے تھے، ایک جھٹکے سے اوپر کھینچ لی گئی۔
نیچے اندھیرے میں چاروں ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ اوپر انجن دھاڑ رہا تھا — اور ان کے پاس واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔