← پرانی حویلی کا خزانہ · All episodes

Episode 11

چوتھی مہر

چوتھی مہر

مٹی گرنے کی آواز اب گرج میں بدل چکی تھی۔

دراڑ — کوٹھری کا واحد راستہ — آنکھوں کے سامنے سکڑ رہی تھی۔ اوپر سے گرتی مٹی کی بو ہوا میں گھل گئی تھی، اور موم بتی کا شعلہ ڈر کے مارے ہل رہا تھا۔

رضیہ کے ہاتھ میں تہہ کیا ہوا صفحہ تھا — موم بتی کے شعلے سے صرف ایک بالشت دور۔

"رضیہ بی بی!" حمزہ کی آواز پھٹ گئی۔ "رکیں!"

"پیچھے ہٹو، بچے،" رضیہ نے کہا — مگر اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔

"آپ کے ابا نے ساٹھ سال پہلے اسی کوٹھری میں ایک زندہ آدمی دفن کیا تھا،" حمزہ نے کہا۔ "نذیر چاچا آج بھی یہیں ہیں۔ کیا آپ وہی دہرائیں گی؟"

"یہ صفحہ میرے خاندان کی عزت ہے،" رضیہ نے کہا۔ "میرے پردادا کی زمین تھی یہ — نواب صاحب نے کہا تھا 'خریدی' ہے، مگر قیمت کبھی پوری ادا نہیں کی۔"

"تو جلانے سے عزت واپس آ جائے گی؟" عریبا نے کہا۔ "یہ صفحہ چوتھے دروازے کی کنجی ہے — چوتھے کا پتا اسی پر ہے۔ اسے جلایا تو چوتھا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔"

باہر سے بلڈر ملک کی آواز آئی، مٹی کی گرج کے پار: "رضیہ بیگم! فیصلہ کر لو — صفحہ یا تمہاری جان!"

رضیہ نے شعلے کی طرف دیکھا، پھر حمزہ کی طرف۔

اس نے آہستہ سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔

"میرے ابا نے بھی یہی سوچا تھا،" اس نے کہا۔ "کہ مٹی سب کچھ دبا دے گی۔ مگر مٹی نے کچھ نہیں دبایا — نہ نذیر کو، نہ کاغذات کو، نہ سچ کو۔"

اس نے صفحہ کھولا اور پڑھنے لگی۔

"یہ میرے پردادا میاں فضل الدین کی ملکیت کی دستاویز ہے،" رضیہ نے پڑھا۔ "زمین ان کی تھی۔ نواب صاحب نے خریداری کا معاہدہ کیا، مگر قیمت پوری ادا نہ ہو سکی — اس لیے دونوں نے فیصلہ کیا: زمین نہ میری، نہ تمہاری۔ زمین وقف۔"

"مشترکہ وقف،" عریبا نے سرگوشی کی۔ "اسی لیے وقف نامے پر تین مہریں ہیں! ایک نواب صاحب کے خاندان کی — دادا ابو والی۔ ایک نذیر چاچا کی انگوٹھی والی۔ اور تیسری..." اس نے رضیہ کی طرف دیکھا۔ "تیسری آپ کے خاندان کی۔"

رضیہ نے سر ہلایا۔ "میرے ابا نے یہ سچ چھپایا — نذیر کو دھوکہ دیا، باؤلی بھروا دی، اور تیسری مہر اپنے پاس رکھ لی۔ وہ مہر آج میرے پاس ہے۔"

"اور چوتھی مہر؟" فرحان نے پوچھا۔

رضیہ نے صفحے کا آخری حصہ پڑھا: "چار دروازے، چار مہریں۔ چوتھی مہر امانت دار کے پاس — اس کے پاس جو دروازے بند کرے اور کھولے۔"

"چوتھی مہر اس کے پاس ہے جو دروازہ بند کرے،" حمزہ نے دہرایا — وہی الفاظ جو مہر والے صفحے پر لکھے تھے۔ "رضیہ بی بی... یہ 'M' کون ہے؟ جسے آپ نے اس صفحے کی تصویر بھیجی تھی؟"

"M... ملک،" رضیہ نے کہا۔ "میں نے اسے تصویر بھیجی تھی — دس منٹ پہلے۔ اسی نے مجھے اس کام پر لگایا تھا۔ مگر وہ مجھے بھی یہیں دفنانا چاہتا تھا۔ میں اس کی ملازم نہیں تھی، بچو — میں اس کا اگلا شکار تھی۔"

"میناروں پر جو سایہ ہم نے دیکھا تھا،" عریبا نے آہستہ کہا، "وہ... آپ تھیں؟"

رضیہ نے سر جھکایا۔ "میں تھی۔ میں مشرقی مینار پر نظر رکھے تھی — کیونکہ چوتھا دروازہ اسی کی بنیاد کے نیچے ہے، وہاں جہاں وقف کی پہلی اینٹ رکھی گئی تھی۔"

اسی لمحے مٹی کا ایک بڑا ڈھیر دراڑ میں گرا — راستہ اب صرف ایک ہاتھ چوڑا رہ گیا تھا۔ باہر سے نذیر چاچا چلایا: "بچو! وہ پوری ٹرالی الٹ رہا ہے!"

"ہم نہیں نکل سکتے!" فرحان نے کہا۔ "دراڑ بند ہو رہی ہے!"

حمزہ کی نظر موم بتی کے شعلے پر پڑی۔ شعلہ ایک طرف جھکا تھا — اور اس کا دھواں اوپر اٹھ کر محرابی چھت کے ایک تاریک شگاف کی طرف کھنچ رہا تھا۔

"دھواں دیکھو!" حمزہ چلایا۔ "وہاں پرانا ہوا دان ہے!"

دیوار کے ساتھ لگی الماریاں شگاف کے بالکل نیچے تھیں۔ عریبا فوراً الماری پر چڑھی — لکڑی پرانی تھی مگر مضبوط — اور شگاف میں ہاتھ ڈالا۔

"یہاں پتھر کی سِل ہل رہی ہے!" اس نے زور لگایا — سِل سرکی، اور پیچھے ایک ترچھی نالی نظر آئی، اتنی چوڑی کہ بچہ رینگ کر گزر سکے۔

"پرانے زمانے کی ہوا کی نالی!" نذیر چاچا دراڑ کے پار سے چلایا۔ "جلدی کرو، بچو!"

ایک ایک کر کے وہ نالی میں رینگے — پہلے عریبا، پھر فرحان، پھر رضیہ، سب سے آخر میں حمزہ، وقف نامے کے کاغذات قمیض میں لپیٹے آگے دھکیلتا ہوا۔ اس کے پیچھے دھماکہ ہوا — دراڑ مکمل بند ہو گئی۔ کوٹھری مٹی تلے دب چکی تھی۔

نالی حویلی کے پرانے باورچی خانے کے کھنڈر صحن میں کھلتی تھی۔ چاروں مٹی میں اٹے، ہانپتے ہوئے باہر نکلے۔

"حمزہ!" عثمان دوڑتا آیا — پیچھے نذیر چاچا، آنکھوں میں آنسو۔

"ہم نے سمجھا تھا تم دب گئے،" نذیر کی آواز ٹوٹ گئی۔

"ابھی نہیں، نذیر چاچا،" حمزہ نے مسکرا کر کہا۔ "ابھی کہانی باقی ہے۔"

نذیر کی نظر رضیہ پر پڑی۔ "رضیہ؟ فضل الدین کی پڑپوتی؟"

"جی، نذیر چاچا،" رضیہ نے کہا۔ "میرے ابا نے آپ کو اسی مٹی تلے دفن کیا تھا۔ میں معافی مانگنے نہیں آئی — میں حساب چکانے آئی ہوں۔"

اس نے تہہ کیا ہوا صفحہ نکالا اور حمزہ کی طرف بڑھایا۔ "یہ اب تم سنبھالو گے۔ میرے پاس یہ صرف انتقام تھا۔ تمہارے پاس یہ انصاف بن سکتا ہے۔"

حمزہ نے صفحہ لیا اور اسے وقف نامے کے ساتھ رکھا — پھٹا ہوا صفحہ اپنی جگہ پر، جیسے ساٹھ سال کا زخم آخرکار بھر گیا ہو۔

"اب سنیں،" عریبا نے کہا۔ "ہمارے پاس تین مہریں ہیں — دادا ابو والی، نذیر چاچا والی، اور رضیہ بی بی والی۔ مگر چوتھا دروازہ تبھی کھلے گا جب چاروں مہریں چاروں دائروں میں لگیں گی۔"

"اور چوتھی مہر،" حمزہ نے آہستہ کہا، "اس کے پاس ہے جو دروازہ بند کرے۔"

"بلڈر ملک،" فرحان نے کہا۔ "وہی جو ابھی ہمیں زندہ دفنانے کی کوشش کر رہا تھا۔"

عریبا نے سانس روکی۔ "رکو! اس دن جب وہ حویلی کے پھاٹک پر دھمکیاں دینے آیا تھا، اس کی انگلی میں ایک بھاری مہر والی انگوٹھی تھی — وہ اسے بار بار گھما رہا تھا۔" اس نے چوتھے دھندلے دائرے کی طرف دیکھا۔ "یہ نشان... یہ اسی انگوٹھی کی مہر کا ہے۔"

"تو چوتھی مہر اس کی انگلی میں ہے،" حمزہ نے کہا۔ "ہمیں چوتھا دروازہ کھولنے کے لیے وہ انگوٹھی چاہیے — آج رات، اس سے پہلے کہ صبح اس کی مشینیں چلیں۔"

فرحان نے جیب تھپتھپائی۔ "اور اس کا اعتراف — ریکارڈنگ محفوظ ہے۔ صبح پولیس کے سامنے یہی ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا۔"

"مگر صبح تک انتظار نہیں کر سکتے،" رضیہ نے کہا۔ "میں نے اسے صفحے کی تصویر بھیجی تھی — وہ صبح کا انتظار نہیں کرے گا۔"

اسی لمحے عثمان دیوار پر سے پھسلتا ہوا نیچے آیا — وہ پہرے پر تھا۔ اس کا چہرہ سفید تھا۔

"مشرقی مینار کی طرف دیکھو!" اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔

سب نے دیکھا۔

مشرقی مینار کی بنیاد کے پاس ایک لالٹین ہل رہی تھی — اور اس کے گرد بیلچے اٹھائے سائے۔ کھدائی شروع ہو چکی تھی۔ آج رات۔ ابھی۔

اور ان کے بیچ ایک بھاری بھرکم شخصیت — جس کی انگلی میں لالٹین کی روشنی میں کچھ چمک رہا تھا۔

عریبا نے حمزہ کا ہاتھ دبایا اور سرگوشی کی:

"ہمیں چوتھی مہر چاہیے... اور وہ اس کی انگلی میں ہے۔"