Episode 12
امانت

فجر کی اذان میں ابھی کچھ دیر تھی جب وہ مشرقی مینار کی بنیاد پر پہنچے۔
حمزہ، عریبا، فرحان، عثمان — اور ان کے ساتھ نذیر چاچا، جن کی آنکھوں میں ساٹھ سال پرانی نیند اب بھی تھی، اور رضیہ بی بی، جن کے ہاتھ میں تہہ کیا ہوا وہ صفحہ تھا جو اب وقف نامے کا حصہ بن چکا تھا۔
مینار کی بنیاد میں ایک چوڑا پتھر تھا — بالکل ویسا جیسا رضیہ نے بتایا تھا: وہیں جہاں وقف کی پہلی اینٹ رکھی گئی تھی۔ پتھر پر چار گول دائرے بنے تھے، ہر دائرے کے بیچ ایک چھوٹا سا خانہ۔
"تین مہریں ہمارے پاس ہیں،" عریبا نے کہا۔ اس نے ایک ایک کر کے مہریں نکالیں — دادا ابو والی، نذیر چاچا کی انگوٹھی والی، اور رضیہ بی بی کے خاندان والی۔ تینوں مہریں تین دائروں میں بالکل فٹ بیٹھیں۔
چوتھا دائرہ خالی تھا۔
"چوتھی مہر اس کے پاس ہے جو دروازے بند کرے اور کھولے،" حمزہ نے دہرایا۔ "مگر یہ ہے کون؟"
عریبا کی آنکھیں چمکیں۔ "نذیر چاچا — حویلی کے دروازے کس نے بنائے تھے؟ ساٹھ سال پہلے؟"
نذیر نے مینار کو دیکھا۔ "مستری رحیم الدین۔ اس کے ہاتھ کے بنے دروازے آج بھی نہیں ٹوٹے۔"
"اور مستری رحیم الدین کا پوتا کون ہے؟" عریبا نے آہستہ کہا۔
اسی لمحے پیچھے سے انجنوں کی آواز آئی۔ دو ٹرالیاں، ایک جے سی بی — اور ان کے آگے بلڈر ملک، ہاتھ میں کاغذات لہراتا ہوا۔
"یہ زمین میری ہے!" وہ چلایا۔ "ڈیمولیشن کے کاغذات میرے پاس ہیں — سورج نکلتے ہی یہ مینار گرے گا!"
"یہ زمین وقف ہے!" حمزہ آگے بڑھا۔ اس نے وقف نامہ بلند کیا۔ "نہ آپ کی، نہ ہماری۔ یہ اللہ کی ہے — اسکول اور اسپتال کے لیے وقف!"
ملک ہنسا — وہ ہنسی جس میں خوف چھپا تھا۔ "وقف کے کاغذ؟ وہ تو میں نے دس سال پہلے جلا دیے تھے!"
"آپ نے نقل جلائی تھی،" رضیہ آگے آئیں۔ ان کی آواز پتھر کی طرح ٹھہری ہوئی تھی۔ "اصل میرے پاس تھی۔ میرے ابا نے آپ کے ابا کے ساتھ مل کر سچ دبایا تھا — مگر میں دبانے نہیں آئی۔ میں حساب چکانے آئی ہوں۔"
ملک کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "رضیہ... تم..."
"میں نے آپ کو اس صفحے کی تصویر بھیجی تھی،" رضیہ نے کہا۔ "مگر میں آپ کی ملازم نہیں تھی — میں آپ کا اگلا شکار تھی۔ اور اب شکار بولے گا۔"
اسی لمحے فرحان دوڑتا آیا — اس کے ساتھ پولیس کی جیپ تھی۔ اور جیپ سے اترا ایک نوجوان — فہد۔
"ملک صاحب،" فہد نے کہا، اور اپنا فون بلند کیا۔ "آپ کی اپنی آواز — جس میں آپ نے بتایا تھا کہ نذیر چاچا کو باؤلی میں کیسے دفن کیا، وقف کے کاغذ کیسے جلائے، اور اس حویلی کو گرانے کا اصل منصوبہ کیا ہے۔ ریکارڈنگ پولیس کے پاس جا چکی ہے۔"
ملک کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا — اور ایک پرانی پیتل کی مہر نکالی، جو چابی کے حلقے میں پروئی ہوئی تھی۔ اس کے دادا کی نشانی۔ اس کی "لکی" مہر۔
"یہ... یہ تو بس پرانی چیز ہے،" وہ بڑبڑایا۔
"نہیں،" عریبا نے کہا۔ "یہ چوتھی مہر ہے۔ مستری کی مہر۔ اس کے پاس جو دروازے بند کرے اور کھولے — آپ کے دادا نے اس حویلی کے دروازے بنائے تھے۔ یہ مہر آپ کے خون کی امانت ہے۔"
ملک کی آنکھوں میں پاگل پن اتر آیا۔ "کوئی چوتھا دروازہ نہیں کھلے گا!" وہ چلایا، اور مہر کو باؤلی کی طرف پھینکنے کے لیے ہاتھ اٹھایا —
مگر نذیر چاچا بجلی کی طرح بڑھے۔ انہوں نے اس کی کلائی پکڑ لی۔ کشمکش میں مہر چھوٹی — اور چوتھے دائرے پر جا گری۔
ایک لمحے کے لیے سب ساکت ہو گیا۔
پھر پتھر گرجا۔ چاروں دائرے ایک ساتھ چمکے — اور مینار کی بنیاد کا وہ چوڑا پتھر آہستہ آہستہ دھنسنے لگا۔
"میں نے تو اسے کھولنے کی کوشش بھی نہیں کی!" ملک چلایا۔
"وقف کا دروازہ کوشش نہیں دیکھتا،" نذیر چاچا نے کہا، ان کی آواز میں ساٹھ سال کا بوجھ تھا۔ "وہ خون دیکھتا ہے۔ امانت خون میں ہوتی ہے — نیت میں نہیں۔"
سیڑھیاں نیچے اترتی تھیں۔ چاروں بچے، نذیر، رضیہ — سب نیچے اترے۔ ملک کو پولیس نے اوپر ہی روک لیا تھا۔
نیچے ایک کوٹھری تھی۔ اور کوٹھری میں — مٹی کے گھڑوں میں سونے کی مہریں، چمکتی ہوئی۔ اور سب سے اوپر، شیشے کے ڈبے میں — مکمل وقف نامہ، جس پر اب چاروں مہریں لگ چکی تھیں۔
اور وقف نامے کے ساتھ ایک خط — نواب ذوالفقار علی خان کے ہاتھ کا:
"یہ خزانہ میرا نہیں۔ یہ ان بچوں کا ہے جو یہاں پڑھیں گے، اور ان مریضوں کا ہے جو یہاں شفا پائیں گے۔ جو اسے اپنا سمجھے، وہ امانت میں خیانت کرے گا۔"
حمزہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "دادا ابو کا خواب... پورا ہو گیا۔"
اگلے ہفتے عدالت نے فیصلہ سنا دیا — وقف نامہ اصلی، زمین وقف، حویلی محفوظ۔ ملک گرفتار۔ رضیہ اور دادا ابو نے مل کر وقف رجسٹر کرایا — نواب صاحب کے خاندان اور میاں فضل الدین کے خاندان کی مشترکہ امانت، ساٹھ سال بعد پوری ہوئی۔
حویلی کے صحن میں اعلان ہوا: یہاں "وقف اسکول" بنے گا — اور ایک طرف چھوٹا سا شفا خانہ۔
اور نذیر چاچا؟ انہیں اسکول کا پہلا دربان بنایا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ ذمہ داری کیوں لے رہے ہیں، تو انہوں نے مسکرا کر کہا:
"ساٹھ سال میں نے دروازے بند کیے۔ اب کھولوں گا بھی۔ چوتھی مہر اب میرے پاس امانت ہے۔"
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
خزانے والی کوٹھری کی صفائی کے دوران عریبا نے مہروں کے گھڑوں کے پیچھے ایک چھوٹا سا طاق دیکھا — اتنا چھوٹا کہ پہلے کسی کی نظر نہ پڑی۔ طاق خالی تھا۔
مگر طاق کے فرش پر تازہ قدموں کے نشان تھے۔
اور دیوار پر، تازہ روشنائی میں، ایک سطر لکھی تھی:
"امانت ابھی پوری نہیں ہوئی — پانچواں دروازہ کہیں اور ہے۔"
چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ حمزہ نے مسکرا کر کہا:
"لگتا ہے... کہانی ابھی باقی ہے۔"