Episode 5
مامو سکندر کا اڈہ

پانچوں دوست پتھر بن گئے۔
ولید کے دل کی دھڑکن اس کے کانوں میں بجنے لگی۔ اگر یہ آدمی چیخ پڑا، اگر مامو سکندر کے لوگ باہر نکل آئے، تو وہ پکڑے جائیں گے — اور ان کے ساتھ ہی دب جائے گا پورا منصوبہ، احمد کی تلاش، سب کچھ۔ اور ماسٹر صادق کی عزت... اسے تو موقع ہی نہیں ملے گا۔
’’اوئے!‘‘ آواز پھر آئی۔ ’’ریڑھی کے پیچھے کیا کر رہے ہو؟‘‘
پانچوں نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ ہاتھ کسی غنڈے کا نہیں تھا — وہ ایک آٹے سے اٹے بزرگ کا تھا، موٹی مونچھیں، چائے کے داغوں والا کرتا۔ چائے خانے کا مالک۔ اس کی آنکھوں میں شک تھا، مگر ہاتھ میں... ہاتھ میں برتن صاف کرنے والا کپڑا تھا۔
’’میں پوچھ رہا ہوں، کون ہو تم لوگ؟‘‘ اس نے کپڑا ہلایا۔ ’’صحت محکمے کے افسر ہو؟ یا وہ... وہ کیا کہتے ہیں... کھانے کے نقاد؟‘‘
خاموشی۔
پھر گڈو کا منہ کھلا، اور جو نکلا، اس نے سب کو بچا لیا۔
’’سر! سر!‘‘ گڈو کھڑا ہو گیا۔ ’’ہم اسکول کے بچے ہیں، سر! ہمارے استاد نے ہمیں پروجیکٹ دیا ہے — چھوٹے کاروبار کیسے چلتے ہیں۔ اور سر، ہم نے آپ کے چائے خانے کا نام چنا ہے، کیونکہ... کیونکہ سر، آپ کی چائے کی خوشبو تو بس اڈے تک جاتی ہے!‘‘
ولید نے آنکھیں بند کر لیں۔
مگر بزرگ کا چہرہ کھل اٹھا۔ ’’ہاں؟ سچ کہہ رہے ہو؟‘‘
’’جی سر!‘‘ گڈو نے کہا۔ ’’موضوع ہے — چائے اکنامکس!‘‘
’’چائے اکنامکس،‘‘ بزرگ نے دہرایا، جیسے کوئی نایاب تحفہ ملا ہو۔ ’’آؤ آؤ، بیٹھو! چائے پیو گے؟ آج تو چینی بھی زیادہ ڈالوں گا!‘‘
پانچ منٹ بعد پانچوں اس بینچ پر بیٹھے تھے جہاں سے پچھلے کمرے کا آدھا کھلا دروازہ صاف نظر آ رہا تھا۔ سامنے پانچ کپ چائے، اور گڈو کی مسکراہٹ ایسی جیسے اس نے ورلڈ کپ جیت لیا ہو۔
’’چائے اکنامکس؟‘‘ سلمان نے دانت پیستے ہوئے سرگوشی کی۔
’’تمہیں بچا لیا، شکریہ کہو،‘‘ گڈو نے چائے کی چسکی لی۔ ’’اور ہاں، پیسے تم دو گے۔‘‘
پچھلے کمرے سے ٹی وی کی آواز آ رہی تھی — کوئی پرانا میچ۔ دروازے کی درز سے نظر آ رہا تھا کہ اندر کئی آدمی بیٹھے ہیں، سامنے کاغذ، ہاتھوں میں قلم۔ پرچیاں لکھی جا رہی تھیں۔ ایک آدمی نوٹ گن رہا تھا۔
’’دیکھو،‘‘ گڈو نے ہونٹ ہلائے بغیر کہا۔ ’’وہ کونے والا — ہر پرچی پر نمبر لکھ رہا ہے۔ اور وہ دوسرا... وہ فون پر ہے۔‘‘
فون والا آدمی دروازے کے پاس آیا۔ اس کی آواز پہلے اونچی تھی، پھر دھیمی ہو گئی۔ پانچوں نے سانس روک لی۔
’’ہاں... ہاں، فکر نہ کرو،‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔ ’’فائنل میں لڑکا ہمارا کام کرے گا۔ پیسے... ہاں، پیسے ملیں گے۔ تمہاری پرچی پکی ہے۔‘‘
پانچ کپ چائے ٹھنڈی ہونے لگی، مگر کسی نے ہاتھ نہ بڑھایا۔
لڑکا۔
’’ہمارا کام کرے گا۔‘‘
سلمان کی مٹھی میز کے نیچے بھنچی۔ ولید نے اس کی کلائی پکڑ لی — اتنی زور سے کہ سلمان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مگر سلمان بیٹھا رہا۔ احمد نے اسے سکھایا تھا — غصہ گیند باز میں ہونا چاہیے، گیند میں نہیں۔ آج وہ سبق کام آیا۔
’’یہ اغوا نہیں ہے،‘‘ ولید کے ہونٹ ہلے۔ ’’یہ... یہ فکسنگ ہے۔‘‘
’’احمد بھاگا نہیں،‘‘ رضوان کی آواز ٹوٹی، ’’وہ دھوکہ دینے سے انکار کر کے چھپ گیا۔ وہ... وہ ہم سے بہتر ہے، ہم سب سے بہتر۔‘‘
اسی لمحے پچھلے کمرے کا دروازہ ذرا اور کھلا — چائے والا لڑکا ٹرے لے کر اندر جا رہا تھا۔ ہوا کے ایک جھونکے نے دروازے کے نیچے سے ایک پھٹی ہوئی پرچی باہر اڑا دی۔ وہ سرکتی ہوئی گڈو کے بینچ کے پاس آ رکی۔
گڈو نے جوتے کا تسمہ کھولا۔ پھر باندھا۔ پرچی اس کی مٹھی میں تھی۔
’’میری نانی کہتی ہیں،‘‘ اس نے معصومیت سے کہا، ’’تسمہ کھلا ہو تو شیطان... مطلب، نظر لگ جاتی ہے۔‘‘
بزرگ ہنسا۔ ’’بڑا سمجھدار بچہ ہے!‘‘
---
راستے کی لائٹ کے نیچے پانچوں نے پرچی کھولی۔
کاغذ پھٹا ہوا تھا، ایک کونے پر لکھا تھا:
’’ریلوے گراؤنڈ، جمعرات‘‘
’’یہ مامو کی لکھائی ہے؟‘‘ رضوان نے پوچھا۔
چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ کسی کو نہیں معلوم تھا۔
’’مگر کسی کی تو ہے،‘‘ ولید نے پرچی جیب میں ڈالی۔ ’’اور جمعرات... جمعرات کو فائنل سے ایک دن پہلے ہے۔‘‘
پیچھے سے کالی گاڑی کا ہارن بجا۔ مامو سکندر باہر نکلا — وہی سفید شلوار، وہی سنہری گھڑی، وہی ہلکی سی ہنسی۔ چائے خانے میں بیٹھا ہر شخص کھڑا ہو گیا۔ اس نے سب کو ہاتھ ہلایا، جیسے کوئی بادشاہ اپنی رعایا کو دیکھ رہا ہو۔ پھر گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔
بزرگ نے انہیں دروازے تک چھوڑا۔ ’’پروجیکٹ میں اچھے نمبر لے آنا، بچو!‘‘
’’جی انکل!‘‘ گڈو نے کہا۔ ’’چائے اکنامکس زندہ باد!‘‘
---
اگلی صبح نیٹ میں کوچ رانا اقبال نے سیٹی بجائی۔
’’آج میچ سچویشن،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’پانچ اوور کا کھیل۔ سلمان، نئی گیند تمہاری۔‘‘
سلمان نے گیند کو ٹیپ کے کنارے سے رگڑا — ٹیپ بال کی وہی پرانی عادت۔ پھر دوڑا۔ پہلی گیند — لینتھ پر، بلے باز دفاع میں۔ دوسری — سلوور، بلے باز جلدی کھیل گیا۔ تیسری، چوتھی — سب کنٹرول میں۔
’’اوئے ہوئے!‘‘ گڈو وکٹ کے پیچھے سے چلایا۔ ’’کل رات چائے پی کر آیا ہے، اس لیے میٹھا بول رہا ہے!‘‘
سب ہنس پڑے۔
ولید نے پھر احمد والی یورکر آزمائی۔ پہلی گیند — فل ٹاس۔ دوسری — وائیڈ کے قریب۔ تیسری بار اس نے رفتار کم کی، گیند ہوا میں رکی، بلے باز آگے بڑھا... اور گیند اس کے بلے کے نیچے سے نکل گئی!
’’سلوور!‘‘ کوچ چلائے۔ ’’یہ ہوئی بات! یورکر نہیں تو سلوور سہی!‘‘
’’دیکھا!‘‘ ولید کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
پانچ اوور کے کھیل میں آخری اوور تھا۔ مخالف ٹیم کو جیت کے لیے نو رن چاہیے تھے۔ گیند سلمان کے ہاتھ میں۔ پہلی گیند پر چھکا — گیند گلی کی چھت پر!
’’اوہو!‘‘ گڈو نے سر پکڑ لیا۔
مگر سلمان نے گہری سانس لی۔ احمد کی آواز اس کے کان میں تھی — غصہ گیند باز میں، گیند میں نہیں۔ اگلی پانچ گیندیں — ڈاٹ، سنگل، ڈاٹ، سنگل، ڈاٹ۔
کھیل برابر!
آخری گیند پر رضوان نے کور پر ایک تیز کیچ لیا — ڈائیو، ایک ہاتھ، گیند مٹھی میں۔
پورا گراؤنڈ چیخ اٹھا۔
’’رِز!‘‘ سلمان نے اسے اٹھا لیا۔ ’’تو تو احمد سے بھی آگے نکلے گا!‘‘
رضوان ہنسا — کئی دن بعد پہلی بار دل سے۔ ٹیم کو یاد آ رہا تھا کہ ٹیم کیسے بنتے ہیں۔
مگر ہنسی کے بیچ ولید نے کوچ کو دیکھا۔ وہ پرانی اسکور بک ہاتھ میں لیے کھڑے تھے، اور ان کی نظریں کہیں دور تھیں۔
---
اس رات رضوان کو نیند نہیں آ رہی تھی۔
کھڑکی سے باہر گلی سنسان تھی۔ پھر اس نے دیکھا — سامنے والے گھر کا دروازہ کھلا۔ ماسٹر صادق باہر نکلے۔ ان کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا — وہی لفافہ، جس میں قرض کے کاغذ تھے۔
وہ گلی میں مڑے — بس اڈے کی طرف۔
مامو سکندر کی طرف۔
رضوان کی سانس رک گئی۔
ابا سر جھکانے جا رہے تھے۔