← آخری اوور · All episodes

Episode 6

کوچ رانا کا پرانا راز

کوچ رانا کا پرانا راز

فجر کی اذان سے پہلے رضوان کی آنکھ کھل گئی۔

وہ ساری رات سویا ہی نہیں تھا۔ کھڑکی کے پاس بیٹھا رہا تھا، گلی کو تکتا رہا تھا۔ اور اب، ہلکی سی روشنی میں، اس نے دیکھا — سامنے والے گھر کا دروازہ کھلا۔

ماسٹر صادق واپس آ رہے تھے۔

ان کے ہاتھ خالی تھے۔ لفافہ نہیں تھا۔

رضوان کی سانس اٹک گئی۔ لفافہ — قرض کے کاغذوں والا لفافہ — اب ان کے پاس نہیں تھا۔ مطلب وہ اسے دے آئے تھے۔ کس کو؟ مامو سکندر کو؟ اور بدلے میں کیا لیا تھا؟ وعدہ؟ مہلت؟ یا... یا کوئی اور سودا؟

ماسٹر صادق نے سر اٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھیں لال تھیں، جیسے ساری رات روتے رہے ہوں یا جاگتے رہے ہوں۔ ایک لمحے کے لیے باپ اور بیٹے کی نظریں ملیں — نہیں، ماسٹر صادق کی نظریں رضوان سے نہیں، اس کے پڑوسی کے بیٹے سے ملیں، اس لڑکے سے جو احمد کا راز جانتا تھا اور چھپاتا رہا تھا۔

ماسٹر صادق نے بس اتنا کہا، آہستہ سے، جیسے ہوا سے بات کر رہے ہوں:

"کچھ فیصلے باپ کو اکیلے کرنے ہوتے ہیں، بیٹا۔"

اور دروازہ بند ہو گیا۔

رضوان کھڑکی سے لگا کھڑا رہا۔ اس کے دل میں ایک آواز چیخ رہی تھی: کاش میں نے پہلے بتا دیا ہوتا۔ کاش احمد نے مجھے قسم نہ دی ہوتی۔ کاش...

مگر کاش سے کرکٹ نہیں جیتی جاتی۔ اور نہ ہی دوست واپس آتے ہیں۔

---

صبح نیٹ پر کوچ رانا اقبال نے سیٹی بجائی، مگر آج ان کی آواز میں وہ تیزی نہیں تھی۔ وہ پھر وہی پرانی اسکور بک ہاتھ میں لیے کھڑے تھے۔

"آج ڈرل ہے،" انہوں نے کہا۔ "آخری اوور کی ڈرل۔ مخالف ٹیم کو بارہ رن چاہیے، چھ گیندیں باقی ہیں۔ سلمان، گیند تمہاری۔ باقی سب — فیلڈنگ میں کوئی ڈھیل نہیں۔ احمد ہوتا تو... "

وہ رک گئے۔ پورا گراؤنڈ خاموش ہو گیا۔

"احمد ہوتا تو وہ یہی کہتا،" ولید نے آہستہ سے کہا، "کہ آخری اوور کپتان نہیں، ٹیم جیتتی ہے۔"

کوچ نے سر ہلایا۔ "تو پھر دکھاؤ۔"

سلمان نے گیند کو ٹیپ کے کنارے سے رگڑا۔ پہلی گیند — یارکر کی کوشش، مگر فل ٹاس، بلے باز نے دو رن لے لیے۔ دوسری گیند — لینتھ پر، ڈاٹ۔ تیسری — سلوور، بلے باز جلدی کھیل گیا، ایک رن۔

تین گیندوں میں نو رن باقی۔

"سانس لو!" گڈو وکٹ کے پیچھے سے چلایا۔ "غصہ گیند باز میں، گیند میں نہیں! یہ احمد کا قول ہے، میرا نہیں!"

سلمان نے گہری سانس لی۔ چوتھی گیند — بالکل سیدھی، بلے باز کا بلا چوکا، ڈاٹ۔ پانچویں — پھر ڈاٹ۔ آخری گیند — بلے باز نے زور سے مارا، گیند ہوا میں اٹھی، کور کی طرف... رضوان دوڑا، ڈائیو لگائی، اور گیند اس کی مٹھی میں آ گئی!

"آؤٹ!" گڈو چیخا۔ "میچ برابر! اور برابر کا مطلب ہے — ہم ہارے نہیں!"

سب ہنس پڑے، مگر ہنسی جلدی بجھ گئی۔ کیونکہ کوچ اب بھی اسکور بک کو دیکھ رہے تھے، اور ان کی آنکھوں میں وہی دور کی نظر تھی جو کل رضوان نے دیکھی تھی۔

اس بار ولید نے ہمت کی۔ وہ آگے بڑھا۔

"کوچ،" اس نے کہا، "یہ اسکور بک... اس میں کیا ہے؟ کل سے آپ اسے ایسے پکڑے ہیں جیسے اس میں کوئی زندہ چیز ہو۔"

کوچ نے پہلے کچھ نہیں کہا۔ پھر انہوں نے اسکور بک کو سینے سے لگایا، جیسے کوئی پرانا زخم چھپا رہے ہوں۔

"بیٹھو،" انہوں نے کہا۔ "سب بیٹھو۔ آج تمہیں ایک کہانی سنانی ہے — وہ کہانی جو میں نے آج تک کسی کو نہیں سنائی۔"

پانچوں گھاس پر بیٹھ گئے۔

"انیس سو اٹھانوے،" کوچ نے کہا، اور ان کی آواز بدل گئی — جیسے اٹھائیس سال پیچھے چلی گئی ہو۔ "میں تمہاری عمر سے تھوڑا بڑا تھا۔ کلب کرکٹ کھیلتا تھا۔ ہم شہر کے فائنل میں پہنچے تھے — ریلوے گراؤنڈ پر۔"

رضوان کے کان کھڑے ہو گئے۔ ریلوے گراؤنڈ۔ وہی نام جو کل کی پرچی پر تھا۔

"فائنل سے ایک رات پہلے،" کوچ نے جاری رکھا، "ایک آدمی میرے پاس آیا۔ سفید شلوار، سنہری گھڑی، ہلکی سی ہنسی۔ اس نے کہا — بس دو کیچ چھوڑ دینا۔ دو کیچ، اور تمہاری جیب میں اتنے پیسے ہوں گے جتنے تم نے کبھی دیکھے نہیں۔"

"اور آپ نے... ؟" سلمان کی آواز کانپ رہی تھی۔

"میں نے انکار نہیں کیا،" کوچ نے کہا، اور پانچوں نے سانس روک لی۔ "میں نے... میں میچ کھیلنے گیا۔ مگر جب وہ لمحہ آیا، جب کیچ میرے ہاتھ کی طرف آیا، تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ پکڑ کر میں نے گیند زمین پر پھینکی، اور گراؤنڈ سے باہر چل دیا۔ میچ کے بیچ میں۔ سب کے سامنے۔"

خاموشی۔

"ہم وہ فائنل ہار گئے،" کوچ نے کہا۔ "اور اگلے دن سب نے کہا — رانا بھاگ گیا۔ رانا نے ٹیم کو دھوکہ دیا۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں کیوں بھاگا تھا۔ اور میں نے... میں نے کبھی کسی کو بتایا بھی نہیں۔ میں چپ رہا۔ اٹھائیس سال سے چپ ہوں۔"

"مگر کوچ،" ولید نے کہا، "آپ نے تو صحیح کیا تھا!"

"صحیح کیا تھا، مگر اکیلے کیا تھا،" کوچ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ "اور اکیلے صحیح کرنا بھی ایک طرح کی ہار ہے، بیٹا۔ میں نے اس آدمی کا نام کبھی کسی کو نہیں بتایا۔ میں ڈرتا تھا۔ اور وہ آدمی... وہ آج بھی یہی کھیل کھیل رہا ہے۔"

گڈو نے آہستہ سے پوچھا: "کوچ... وہ آدمی کون تھا؟"

کوچ نے جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے انہوں نے اسکور بک کھولی، اور ایک صفحہ پلٹا۔ وہ صفحہ انیس سو اٹھانوے کے فائنل کا اسکور کارڈ تھا۔ ایک نام پر لکیر کھینچی ہوئی تھی — رانا اقبال۔ کٹا ہوا نام۔

اور حاشیے پر، کسی نوجوان لڑکے کی لکھائی میں، ایک جملہ لکھا تھا:

"ریلوے گراؤنڈ۔ پھر وہی جگہ۔ پھر وہی کھیل۔"

پانچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ یہ احمد کی لکھائی تھی۔

"تین رات پہلے،" کوچ نے کہا، "احمد میرے گھر آیا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا — کوچ، اگر کوئی کھلاڑی فکسڈ فائنل سے انکار کر کے بھاگ جائے، تو وہ بزدل ہے یا بہادر؟ میں نے اسے یہ کہانی سنائی۔ اور اس نے یہ اسکور بک مانگی۔ کہا — کوچ، اس میں میرا جواب ہے۔"

کوچ نے اسکور بک ولید کے ہاتھ میں دے دی۔

"اب یہ تمہاری ہے،" انہوں نے کہا۔ "اور آج سے میں چپ نہیں رہوں گا۔ جو بھی کرنا پڑے، میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔ احمد نے اکیلے صحیح کرنے کی غلطی کی تھی — تم وہ غلطی مت دہرانا۔"

ولید نے اسکور بک کھولی۔ صفحے پلٹتے گئے — پرانے میچ، پرانے نام، پرانی جیت اور ہار۔ اور آخری صفحے کے اندر، ایک جیب میں، ایک پرانی تصویر رکھی تھی۔

تصویر میں دو نوجوان کھڑے تھے۔ ایک تھا نوجوان رانا اقبال — کلب کی شرٹ میں، مسکراتا ہوا۔ اور دوسرا...

دوسرا تھا سفید شلوار میں ایک نوجوان، کلائی پر سنہری گھڑی، ہونٹوں پر وہی ہلکی سی ہنسی۔

مامو سکندر۔ اٹھائیس سال پہلے۔

ولید کے ہاتھ کانپنے لگے۔

"تو مامو... " گڈو کی آواز بیٹھ گئی، "مامو تب بھی تھا۔"

اور اسی لمحے، گراؤنڈ کے گیٹ پر ایک کالی گاڑی آ کر رکی۔