Episode 4
بند دکان کا راز

فجر کی اذان کے ساتھ ہی رزوان مسجد کے دروازے پر ولید کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، مگر اس بار ان میں وہ خوف نہیں تھا جو پچھلے تین دن سے تھا — ایک عجیب سا عزم تھا، جیسے کسی نے رات بھر میں فیصلہ کر لیا ہو۔
’’چلو،‘‘ اس نے کہا۔ ’’وعدہ ہے۔ سب بتاؤں گا۔ مگر پہلے... پہلے اس جگہ چلو جہاں سے سب کچھ شروع ہوا۔‘‘
آدھے گھنٹے بعد پانچوں دوست گلی کے اس موڑ پر کھڑے تھے جہاں ’’صادق ٹیلرز‘‘ کا بورڈ اب بھی لٹکا تھا — دھول سے اٹا، ایک کونے سے ٹوٹا۔ شٹر پر چھ ماہ کا زنگ تھا، اور شیشے کے دروازے کے پیچھے وہ سلائی مشینیں نظر آ رہی تھیں جو اب کبھی نہیں چلیں گی۔
رزوان نے شٹر کو ہاتھ لگایا۔ پھر اس کے کندھے ہلنے لگے۔
’’یہ دکان میرے گھر کے بالکل سامنے ہے،‘‘ اس کی آواز ٹوٹی، ’’میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ماسٹر چاچا نے یہ مشینیں خریدنے کے لیے قرض لیا تھا۔ پرانی مشینیں ایک ایک کر کے خراب ہو رہی تھیں، کام رک رہا تھا۔ کسی نے کہا — مامو سکندر سے لے لو، وہ تو سب کی مدد کرتا ہے۔‘‘
’’مامو سکندر؟‘‘ ولید نے پوچھا۔
’’ہاں۔ پہلے تو وہ بہت میٹھا بنا رہا۔ تین لاکھ روپے۔ بولا، جب دل چاہے لوٹا دینا۔ مگر پھر سود... سود پر سود۔ چھ ماہ میں قرض دوگنا ہو گیا۔ دکان بند ہو گئی۔ ماسٹر چاچا اب گھر میں بیٹھے ہیں، اور احمد...‘‘ رزوان نے آنسو پونچھے، ’’احمد نے یہ سب مجھے بتایا تھا۔ اس نے مجھے قسم دی تھی کہ کسی کو نہ بتاؤں۔ وہ کہتا تھا — ابا کی عزت کا سوال ہے۔‘‘
سلمان نے مٹھیاں بھینچ لیں۔ ’’تو وہ سفید شلوار والا آدمی...‘‘
’’وہی مامو سکندر تھا،‘‘ رزوان نے سر ہلایا۔ ’’وہ ہمارے گھر آیا تھا۔ میں دروازے کے پیچھے چھپ کر سن رہا تھا۔ اس نے احمد سے کہا — فائنل میں بس چند گیندیں جان بوجھ کر خراب ڈال دو، تمہارے ابا کا سارا قرض معاف۔ احمد نے انکار کر دیا۔ مامو نے ہنس کر کہا — سوچ لو۔ پھر وہی لفافہ... اس میں کچھ نوٹ تھے، اور ایک کاغذ جس پر قرض کی رقم لکھی تھی۔‘‘
خاموشی چھا گئی۔ صرف دور سے کسی رکشے کی آواز آ رہی تھی۔
’’اور جس رات احمد غائب ہوا،‘‘ رزوان کی آواز اب سرگوشی تھی، ’’میں نے اسے اپنے ابا سے بحث کرتے سنا۔ ماسٹر چاچا رو رہے تھے۔ کہہ رہے تھے — بیٹا، مان جا، ورنہ یہ لوگ ہمیں برباد کر دیں گے۔ اور احمد چلایا — میں دھوکے باز نہیں بنوں گا! پھر وہ گھر سے نکل گیا۔ واپس نہیں آیا۔‘‘
ولید نے رزوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’تم نے قسم کھائی تھی، رزوان۔ تم قصوروار نہیں ہو۔‘‘
’’مگر میں... میں اسے اکیلا چھوڑ کر...‘‘
’’اب ہم اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے،‘‘ ولید نے کہا۔
---
اسی صبح کوچ رانا اقبال نے گراؤنڈ میں نیٹ لگائے تھے۔ فائنل میں اب چوبیس گھنٹے سے بھی کم رہ گئے تھے۔
’’آج ڈیتھ اوورز،‘‘ کوچ نے سیٹی بجائی۔ ’’سلمان، تم ڈالو گے۔ اور اس بار غصہ گھر چھوڑ کر آؤ۔‘‘
سلمان نے گیند لی، دوڑا، اور پہلی گیند — بلکل یورکر لینتھ پر۔ دوسری — سلوور، بلے باز دھوکا کھا گیا۔ تیسری، چوتھی، پانچویں — سب لائن پر۔
گڈو نے وکٹ کے پیچھے سے چلانا شروع کیا — تین دن بعد پہلی بار: ’’اوئے ہوئے! آج تو سلمان شریف بن گیا! لگتا ہے رات کو کسی نے اس کے غصے پر ٹیپ لگا دی!‘‘
سب ہنس پڑے — تین دن بعد پہلی بار سچی ہنسی۔
’’بس کر،‘‘ سلمان نے مسکراتے ہوئے کہا، مگر اس کی گیندیں اب بھی لائن پر تھیں۔ ’’احمد نے مجھے سکھایا تھا — غصہ گیند میں نہیں، گیند باز میں ہونا چاہیے۔‘‘
ولید نے بھی احمد والی یورکر آزمائی۔ پہلی کوشش میں گیند پھر فل ٹاس ہوئی۔
’’چھوڑ دے یار،‘‘ گڈو نے کہا، ’’تو اوپنر ہے۔ فائنل میں تو رن بنا، یورکر ہمارا کام۔‘‘
کوچ رانا پاس آئے۔ انہوں نے ولید کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’احمد ہو یا نہ ہو، کل گیند تو ڈالنی پڑے گی۔ اور یاد رکھو — کرکٹ میں سب سے بڑی جیت ہمیشہ میدان میں نہیں، میدان سے باہر ہوتی ہے۔‘‘
ولید نے کوچ کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں کوئی پرانی بات تھی — کوئی ایسا راز جو وہ ابھی نہیں بتا رہے تھے۔
---
دوپہر کو گڈو کی آنکھوں میں وہ پرانی چمک تھی جو صرف اس وقت آتی ہے جب اس کا ’’گپ شپ نیٹ ورک‘‘ کام کر جائے۔
’’مل گیا!‘‘ اس نے اعلان کیا۔ ’’میرے چاچو کے رکشے والے دوست نے اس سفید شلوار والے کو دو بار چھوڑا ہے — بس اڈے کے پاس ’سکندر ٹی ہاؤس‘ پر۔ اور سنو — وہاں پچھلے کمرے میں بڑا ٹی وی لگا ہے، میچ چلتا ہے، اور لوگ پرچیاں لکھتے ہیں۔‘‘
’’پرچیاں؟‘‘ سلمان نے پوچھا۔
’’جیسی پرچیاں سٹے باز لکھتے ہیں،‘‘ گڈو نے آہستہ سے کہا۔ ’’مامو سکندر کا اڈہ ہے۔‘‘
’’تو ہم وہاں جائیں گے،‘‘ ولید نے فیصلہ کیا۔ ’’مگر ہوشیار رہ کر۔ کوئی لڑائی نہیں۔ صرف دیکھنا ہے۔‘‘
’’میری طرف سے وعدہ،‘‘ سلمان نے کہا — اور سب نے دیکھا کہ اس بار اس کی مٹھیاں نہیں بھنچی تھیں۔
شام کو پانچوں بس اڈے کے سامنے والی گلی میں تھے۔ سکندر ٹی ہاؤس ایک پرانا سا چائے خانہ تھا — باہر بینچوں پر لوگ چائے پی رہے تھے، اندر سے ٹی وی پر کسی پرانے میچ کی آواز آ رہی تھی۔ پچھلے کمرے کا دروازہ آدھا کھلا تھا، اور وہاں سے پرچیوں اور نوٹوں کی سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں۔
پانچوں سامنے والی پھلوں کی ریڑھی کے پیچھے چھپ کر دیکھ رہے تھے۔
’’وہ دیکھو،‘‘ گڈو نے سرگوشی کی۔
ایک کالی گاڑی آ کر رکی — کالے شیشے، نمبر پلیٹ کیچڑ سے ڈھکی۔ اس میں سے ایک آدمی اترا — سفید شلوار قمیض، ہاتھ میں سنہری گھڑی، ہونٹوں پر وہی ہلکی سی ہنسی۔ چائے خانے میں بیٹھا ہر شخص کھڑا ہو گیا۔
’’یہی ہے،‘‘ گڈو کی آواز کانپ رہی تھی۔ ’’مامو سکندر۔ وہی... وہی جو ریلوے گراؤنڈ میں تھا۔‘‘
پانچوں کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے۔ ولید نے آہستہ سے کہا، ’’واپس چلو۔ آج کے لیے اتنا کافی ہے —‘‘
اسی لمحے ایک بھاری ہاتھ ولید کے کندھے پر آ گرا۔
’’اوئے لڑکو!‘‘ ایک کرخت آواز آئی۔ ’’یہاں ریڑھی کے پیچھے کیا جاسوسی ہو رہی ہے؟‘‘