← آخری اوور · All episodes

Episode 3

آدھی رات کی ملاقات

آدھی رات کی ملاقات

فائنل میں اب تیس گھنٹے بھی پورے نہیں بچے تھے، اور پانچوں دوست صبح سویرے خالی گراؤنڈ میں جمع تھے — وہی گراؤنڈ جہاں دو دن پہلے احمد کا کٹ بیگ ملا تھا۔

رزوان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ اس نے رات بھر آنکھ نہیں جھپکی تھی۔

’’ولید بھائی...‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’جو بات مجھے کہنی ہے... آج نہیں۔ مجھے ایک رات اور دے دو۔ کل صبح، فجر کے بعد، میں سب کچھ بتا دوں گا۔ وعدہ۔‘‘

سلمان نے کچھ کہنا چاہا، مگر ولید نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔ ’’ٹھیک ہے،‘‘ اس نے کہا۔ ’’ایک رات۔ مگر رزوان — کل صبح کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔‘‘

رزوان نے سر ہلایا، اور اس کے چہرے پر ایسی راحت چھائی جیسے کسی نے اس کے کندھوں سے پہاڑ اتار دیا ہو۔

کوچ رانا اقبال آئے اور سیٹی بجائی۔ ’’آج ڈیتھ اوورز کی پریکٹس۔ احمد کے بغیر۔ جو گیندباز آخری اوور ڈالے گا، وہی فائنل میں ڈالے گا۔‘‘

پریکٹس ایک اور تباہی تھی۔ سلمان نے غصے میں لگاتار دو وائیڈ پھینکیں۔ گڈو نے وکٹ کے پیچھے سے چلانا چھوڑ دیا تھا — اس کی خاموشی اب ٹیم کا نیا معمول بنتی جا رہی تھی۔

’’لاؤ، میں ڈالتا ہوں،‘‘ ولید نے گیند اٹھائی۔ اس نے احمد والی یورکر آزمائی — گیند بلے باز کے گھٹنے پر لگی۔ دوسری کوشش میں گیند فل ٹاس ہو کر باؤنڈری کے باہر جا گری۔

’’بس کر یار،‘‘ گڈو نے کہا، ’’تو اوپنر ہے، جادوگر نہیں۔‘‘

مگر کسی کو ہنسی نہیں آئی۔

اسی شام، پریکٹس کے بعد، پانچوں پویلین کی سیڑھیوں پر بیٹھے تھے جب ولید نے وہ بات کہی جو سب کے ذہن میں تھی:

’’تمہیں یاد ہے؟ احمد کا آخری نیٹ سیشن؟‘‘

---

دو دن پہلے کی شام۔ گراؤنڈ میں ہلکی دھوپ تھی۔ احمد نیٹس میں گیند کر رہا تھا — سلمان بلے بازی کر رہا تھا۔

پہلی تین گیندیں احمد کی زندگی کی بدترین گیندیں تھیں۔ ایک وائیڈ، ایک فل ٹاس، ایک ایسی گیند جو پچ سے دو فٹ باہر گری۔

’’اوئے!‘‘ سلمان چلایا، ’’تو سو رہا ہے کیا؟‘‘

احمد نے جواب نہیں دیا۔ اس کی نظریں بار بار اپنی جیب پر جا رہی تھیں، جہاں اس کا فون تھا۔ پھر فون بجا — دو بار۔ احمد نے اسکرین دیکھی، اور اس کا چہرہ ایک دم سخت ہو گیا، جیسے کسی نے اس کے اندر کوئی دروازہ بند کر دیا ہو۔

’’امی کا فون ہے،‘‘ اس نے کہا — مگر اس کی آواز میں وہ سچائی نہیں تھی جو احمد کی آواز میں ہمیشہ ہوتی تھی۔ ’’مجھے جانا ہوگا۔ ایک گھنٹہ پہلے۔‘‘

’’مگر نیٹ تو —‘‘ ولید نے کہنا چاہا۔

احمد نے بیگ اٹھایا۔ پھر رکا۔ اس نے ایک گیند اٹھائی، دو قدم پیچھے ہٹا، اور دوڑ کر گیند پھینکی۔

وہ گیند ہوا میں تیرتی ہوئی آئی اور بلکل یورکر لینتھ پر گری — سلمان کا بلا ہوا میں رہ گیا، اور مڈل اسٹمپ زمین پر لیٹ گیا۔

خاموشی چھا گئی۔

’’فائنل میں یہی چلی تو اسٹار اکیڈمی کی خیر نہیں!‘‘ ولید نے خوشی سے کہا۔

احمد نے مسکراہٹ دی — مگر وہ مسکراہٹ اس کی آنکھوں تک نہیں پہنچی۔

’’فائنل میں...‘‘ اس نے آہستہ سے کہا، ’’دیکھیں گے۔‘‘

اور وہ چلا گیا۔ یہ اس کی آخری نیٹ پریکٹس تھی۔

---

’’اس نے فون دیکھ کر ایسا چہرہ بنایا تھا،‘‘ گڈو نے کہا، ’’جیسے کسی نے اسے دھمکی دی ہو۔‘‘

’’یا جیسے کوئی اسے بلا رہا ہو،‘‘ رزوان نے دھیمی آواز میں کہا۔ پھر وہ چپ ہو گیا — جیسے اسے احساس ہوا ہو کہ اس نے زیادہ کہہ دیا۔

’’تو نمبر کا کیا بنا؟‘‘ سلمان نے پوچھا۔

گڈو کی آنکھوں میں پہلی بار دو دن میں وہ پرانی چمک لوٹی۔ ’’میرا گپ شپ نیٹ ورک کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ وہ نمبر پرانی ریلوے کالونی کی ایکسچینج کا ہے۔ ایسے نمبر صرف ریلوے کے اسٹاف کوارٹروں میں ملتے ہیں۔ اور ریلوے گراؤنڈ کا پرانا پویلین — وہاں رات کو چوکیدار ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔‘‘

’’تو آج رات ہم ریلوے گراؤنڈ جائیں گے،‘‘ ولید نے فیصلہ سنایا۔

---

رات کے گیارہ بجے، پانچوں ریلوے گراؤنڈ کے پرانے پویلین کے باہر کھڑے تھے۔ ایک پیلا بلب لکڑی کے پویلین کے اوپر ٹمٹما رہا تھا، اور اندر سے ریڈیو کی دھیمی آواز آ رہی تھی۔

چوکیدار عبدالرحمان — ستر کے قریب، سفید داڑھی، ہاتھ میں لاٹھی — انہیں دیکھ کر بھڑک اٹھا: ’’اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے ہو؟ چلو بھاگو!‘‘

’’چاچا، ہم کرکٹ کے لڑکے ہیں،‘‘ گڈو نے اپنی سب سے میٹھی آواز نکالی۔ ’’آپ کے لیے تھرماس میں چائے لائے ہیں۔ ادرک والی۔‘‘

عبدالرحمان نے تھرماس کو دیکھا، پھر گڈو کو۔ ’’ادرک والی؟‘‘

دس منٹ بعد وہ پانچوں کے ساتھ پویلین کی بینچ پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ ولید نے ٹیپ والی گیند نکالی اور نمبر دکھایا۔

بوڑھے کا چہرہ بدل گیا۔ ’’یہ نمبر... تمہیں کہاں سے ملا؟‘‘

’’ہمارے دوست احمد نے چھوڑا تھا،‘‘ ولید نے سچ کہا۔ ’’وہ دو دن سے غائب ہے۔ چاچا، تین رات پہلے آدھی رات کو وہ یہیں آیا تھا — آپ نے اسے دیکھا تھا؟‘‘

عبدالرحمان نے چائے کا کپ نیچے رکھا۔ دیر تک خاموش رہا۔ پھر بولا:

’’آیا تھا۔ کٹ بیگ اٹھائے۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ میں نے سوچا چور ہے، لاٹھی اٹھائی — پھر دیکھا تو لڑکا تھا، کرکٹ والا۔ وہ پویلین میں بیٹھ گیا، جیسے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔‘‘

’’پھر؟‘‘ پانچوں نے ایک ساتھ پوچھا۔

’’پھر ایک گاڑی آئی۔ کالے شیشوں والی۔ اس میں سے ایک آدمی اترا — سفید شلوار قمیض میں، مہنگا عطر لگائے۔ وہ لڑکے کے پاس بیٹھا۔ زیادہ تر وہی بولتا رہا۔ لڑکے کو دو بار ’بیٹا‘ کہا — مگر اس ’بیٹا‘ میں وہ پیار نہیں تھا جو باپ کے ’بیٹا‘ میں ہوتا ہے۔‘‘

’’پھر کیا ہوا؟‘‘ رزوان کی آواز کانپ رہی تھی۔

’’اس آدمی نے لڑکے کو ایک چھوٹا لفافہ دیا۔ لڑکے نے کھولا، اندر دیکھا — اور اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ پھر... پھر میں نے اس لڑکے کو پہلی اور آخری بار اونچی آواز میں بولتے سنا۔ وہ بحث کر رہا تھا۔ غصے میں۔ میں نے ایسے شریف لڑکے کو کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا۔‘‘

’’اور وہ آدمی؟‘‘

’’وہ ہنسا۔ آہستہ سے۔ پھر اٹھا، گاڑی میں بیٹھا، چلا گیا۔ لڑکا ایک گھنٹے تک اکیلا یہیں بیٹھا رہا — اسی بینچ پر جہاں تم بیٹھے ہو۔ پھر اٹھا، بیگ اٹھایا، اور اندھیرے میں چلا گیا۔‘‘

پویلین میں خاموشی چھا گئی۔ صرف بلب کی بھنبھناہٹ سنائی دے رہی تھی۔

’’چاچا،‘‘ ولید نے آہستہ سے کہا، ’’اس آدمی نے کچھ چھوڑا تو نہیں؟‘‘

عبدالرحمان اٹھا، اندر گیا، اور ایک مڑا تڑا کاغذی نیپکن لے آیا۔ اس پر دو لفظ لکھے تھے — جلدی میں، تیز ہاتھ سے:

’’سوچ لو۔‘‘

’’اگلی صبح صفائی کرتے وقت ملا تھا،‘‘ بوڑھا بولا۔ ’’میں نے سنبھال کر رکھ لیا۔ بوڑھے آدمی کو لگتا ہے... کچھ کاغذ سنبھال کر رکھنے چاہئیں۔‘‘

ولید نے نیپکن احتیاط سے جیب میں رکھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

---

واپسی پر رات کے بارہ بج چکے تھے۔ گلی سنسان تھی۔ پانچوں خاموش چل رہے تھے — ہر ایک کے ذہن میں وہی تصویر: احمد، اکیلا، آدھی رات کے پویلین میں، ایک لفافہ ہاتھ میں۔

پھر انہوں نے ہیڈلائٹس دیکھیں۔

ایک گاڑی گلی کے موڑ پر آہستہ ہوئی — اور ان کے پیچھے رینگنے لگی۔ کالے شیشے۔ نمبر پلیٹ کیچڑ سے ڈھکی۔

’’مت بھاگو،‘‘ ولید نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ ’’نارمل چلو۔ انہیں مت دکھاؤ کہ ہم ڈرے ہیں۔‘‘

پانچوں چلتے رہے۔ دل سینے میں ہتھوڑے کی طرح بج رہے تھے۔ ایک گلی — گاڑی ساتھ ساتھ۔ دوسری گلی کے موڑ پر گاڑی رک گئی، پھر مڑ کر اندھیرے میں غائب ہو گئی۔

اسی لمحے رزوان کا فون بجا۔

ایک نامعلوم نمبر سے تصویر آئی تھی — پانچوں کی، پویلین کے باہر کھڑے، چند منٹ پہلے لی گئی۔ نیچے لکھا تھا:

’’گھر جاؤ۔ کھیل پر دھیان دو۔‘‘

پانچوں ساکت کھڑے رہ گئے۔

گھر کے دروازے پر رزوان نے ولید کا ہاتھ پکڑا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر آواز میں پہلی بار مضبوطی تھی:

’’کل صبح۔ فجر کے بعد۔ میں سب بتا دوں گا۔ وعدہ۔‘‘

ولید گھر کی طرف چلا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی بات گونج رہی تھی: اب وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں — جس کا مطلب ہے ہم صحیح راستے پر ہیں۔

اور کہیں اسی شہر میں، احمد اکیلا تھا — اس لفافے کے ساتھ جس نے اس کا چہرہ سفید کر دیا تھا۔