← آخری اوور · All episodes

Episode 2

ٹیپ کے نیچے نمبر

ٹیپ کے نیچے نمبر

فائنل میں اب تیتیس گھنٹے رہ گئے تھے، اور محلے کی ٹیم ٹوٹنے کے دہانے پر تھی۔

"ہم احمد کے بغیر نہیں کھیل سکتے!" سلمان نے گراؤنڈ میں گیند دیوار پر دے ماری۔ "وہ ہمارا سب سے اچھا گیند باز ہے!"

"اور ہم اسے ڈھونڈ بھی رہے ہیں،" ولید نے کہا۔ اس کی آواز تھکی ہوئی تھی — رات بھر جاگنے کی تھکن۔ "مگر فائنل بھی کھیلنا ہے۔ احمد کی پرچی یاد ہے؟ 'جیتنا ہے تو مجھے ڈھونڈو۔' اس نے یہ نہیں کہا کہ فائنل چھوڑ دو۔"

کوچ رانا اقبال نے سیٹی بجائی۔ "بس! آج ہلکی پریکٹس۔ گلی نمبر چھ کی ٹیم سے دوستانہ میچ — بغیر احمد کے۔ دیکھتے ہیں تم کتنے پانی میں ہو۔"

دوستانہ میچ تباہی تھا۔

سلمان نے غصے میں تین وائیڈ بالیں پھینکیں۔ گڈو — جو عام طور پر ہر گیند پر چلاتا تھا — آج خاموش تھا، اور اس کی خاموشی سب سے زیادہ ڈراؤنی تھی۔ رزوان نے دو آسان کیچ چھوڑے۔ ولید نے اکیلے چھتیس رنز بنائے، مگر ٹیم نوے رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ گلی نمبر چھ کے لڑکے ہنستے ہوئے چلے گئے: "فائنل میں اسٹار اکیڈمی تمہیں کھا جائے گی!"

"وہ غلط نہیں کہہ رہے،" گڈو نے آہستہ سے کہا۔

میدان سمیٹتے ہوئے رزوان نے احمد کا کٹ بیگ اٹھایا — وہی بیگ جو فجر کو پچ کے کنارے ملا تھا۔ پولیس نے اسے دیکھ کر واپس کر دیا تھا: "اس میں کچھ نہیں، بس کپڑے اور گیندیں۔"

رزوان نے بیگ کی تھیلی سے گیندیں نکالیں۔ ایک پرانی ٹیپ بال تھی، جس کی ٹیپ ڈھیلی ہو رہی تھی۔ اس نے یونہی ٹیپ کھینچی — اور رک گیا۔

ٹیپ کے نیچے، گیند کی سفید سطح پر، کسی نے ناخن سے نمبر کھرچا تھا۔ گیارہ ہندسے۔ ایک موبائل نمبر۔

"ولید!" رزوان چلایا۔ "یہ دیکھو!"

پانچوں اس نمبر کے گرد جمع ہو گئے۔ گڈو کی آنکھیں چمکیں: "احمد نے جان بوجھ کر چھپایا تھا۔ ٹیپ کے نیچے — تاکہ صرف وہی دیکھے جو گیند کو اچھی طرح جانتا ہو۔ یہ پہلا سراغ ہے!"

"مگر یہ نمبر کس کا ہے؟" سلمان نے پوچھا۔

"ایک ہی طریقہ ہے معلوم کرنے کا،" ولید نے کہا۔ اس نے اپنا فون نکالا — پھر رک گیا۔ "نہیں۔ اگر یہ کسی خطرناک آدمی کا نمبر ہوا تو؟ میرے نمبر سے کال گئی تو وہ سمجھے گا ہم اس کے پیچھے ہیں۔"

"میرے کزن کا فون لیتے ہیں،" گڈو نے کہا۔ "اس کا نمبر کوئی نہیں جانتا۔"

آدھے گھنٹے بعد پانچوں گڈو کے کزن کی دکان کے پیچھے کھڑے تھے۔ گڈو نے نمبر ملایا اور اسپیکر آن کر دیا۔ دل دھڑک رہے تھے۔

پہلی گھنٹی۔ دوسری۔ تیسری۔

پھر ایک بھاری آواز آئی: "ہیلو؟ کون؟"

خاموشی۔ پانچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ولید نے ہمت کی: "السلام علیکم… کیا… کیا آپ احمد کو جانتے ہیں؟"

دوسری طرف ایک لمبی خاموشی چھائی۔ پھر وہ آواز آئی — دھیمی، محتاط:

"احمد… کون احمد؟"

اور فون کٹ گیا۔

"اس نے پہچانا تھا!" گڈو نے کہا۔ "اس کی آواز میں گھبراہٹ تھی! تم نے سنا؟"

"مگر فون کٹ گیا،" رزوان نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "اب کیا؟"

ولید نے گیند کو دیکھا، پھر آسمان کو — جہاں شام اتر رہی تھی۔ "اب ہم نمبر کا پتہ لگائیں گے۔ گڈو — تمہاری گپ شپ کی نیٹ ورک۔ یہ نمبر کس علاقے کا ہے، کس کے پاس ایسے نمبر ہوتے ہیں۔ سلمان — تم کل صبح ریلوے والی سڑک کے چائے کے تھڑے پر جاؤ گے۔ احمد آخری بار وہیں دیکھا گیا تھا۔"

"اور میں؟" رزوان نے پوچھا۔

ولید نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "تم ہمیں وہ بتاؤ گے جو تم چھپا رہے ہو۔" اس نے آہستہ سے کہا۔ "رزوان، میں تمہاری آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں — تم کچھ جانتے ہو۔ احمد کے بارے میں۔ سچ بتاؤ۔"

رزوان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ اس نے منہ کھولا — اور اسی لمحے گڈو کے کزن کا فون بجا۔

ایک نامعلوم نمبر سے میسج آیا تھا۔ صرف چار لفظ:

"نمبر مت ملانا۔ ورنہ پچھتاؤ گے۔"

پانچوں ساکت کھڑے رہ گئے۔ دور کہیں سے اذان کی آواز آئی، اور رزوان کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔

کوچ رانا اقبال نے بھی وہ نمبر دیکھا تھا۔ انہوں نے گیند کو ہاتھ میں لے کر دیر تک اسے گھمایا، اور ان کے چہرے پر ایک ایسی سنجیدگی آئی جو پانچوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

"یہ نمبر…" انہوں نے آہستہ سے کہا، پھر رک گئے۔ "کچھ نمبر ایسے ہوتے ہیں بیٹا، جنہیں ملانے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے۔" انہوں نے گیند واپس کی اور چلے گئے — مگر جاتے جاتے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتے ہوں اور کہہ نہ پا رہے ہوں۔

ولید نے یہ نوٹ کیا۔ کوچ رانا — جو ہر بات منہ پر کہتے تھے — آج کچھ چھپا رہے تھے۔

"ولید بھائی…" اس نے کانپتی آواز میں کہا، "مجھے… مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔ احمد کے ابا کے بارے میں۔"