Episode 1
غائب گیند باز

سیمی فائنل کی آخری گیند پر پورا محلہ گراؤنڈ میں امڈ آیا تھا۔
حریف ٹیم کو ایک گیند پر چھ رنز چاہیے تھے۔ احمد نے اپنی وہی پرانی حرکت کی — دو قدم پیچھے، ایک لمحہ بلے باز کی آنکھوں میں آنکھیں، اور پھر وہ یارکر جو ٹیپ بال میں بھی بلے باز کو گھٹنوں پر لا دے۔ مڈل سٹمپ اڑا، اور محلے کے لڑکے چیختے ہوئے پچ پر دوڑ پڑے۔ احمد کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا۔ گلیوں کی چھتوں سے عورتوں نے تالیاں بجائیں، چاچا رشید نے مٹھائی کی ٹرے ہوا میں اچھال دی (آدھی مٹھائی واپس ٹرے میں نہ آئی، یہ الگ بات ہے)۔
محلے کی ٹیم — پانچ دوستوں کی ٹیم — شہر کے فائنل میں تھی۔ پہلی بار۔
کپتان ولید نے اسی رات ہوٹل کے تھڑے پر چائے پیتے ہوئے کہا تھا: "سنو سب۔ فائنل اتوار کو ہے۔ کل صرف ہلکی پریکٹس۔ اور احمد —" اس نے گیند باز کی طرف دیکھا، "تو کل رات جلدی سوئے گا۔ تیری یارکر ہی ہماری ٹرافی ہے۔"
احمد مسکرایا تھا، مگر اس کی مسکراہٹ آنکھوں تک نہیں پہنچی تھی۔ گڈو نے بھی نوٹ کیا تھا — ٹیم کا وکٹ کیپر اور محلے کی سب سے تیز زبان — مگر اس وقت اس نے سوچا، فائنل کا دباؤ ہو گا۔
رات گیارہ بجے ولید کے فون کی گھنٹی بجی۔ احمد کی امی تھیں، آواز کانپ رہی تھی: "بیٹا، احمد گھر نہیں آیا۔ پریکٹس سے کب کا نکلا تھا۔ فون بھی بند ہے۔"
پانچوں دوست آدھی رات کو گلیوں میں تھے۔ نیٹس والی گراؤنڈ گلی سنسان تھی۔ ماسٹر صادق کی درزی کی دکان — جو دو ماہ سے بند پڑی تھی — اس کا تالا ویسا کا ویسا تھا۔ چائے کے تھڑے والا بولا احمد شام کو آیا تھا، چائے پی، مگر اس کی جیب خالی تھی تو پیسے اگلی بار پر لکھوا گیا — "اور ہاں، جاتے ہوئے وہ بہت دیر ریلوے والی سڑک کی طرف دیکھتا رہا تھا۔"
ریلوے والی سڑک۔ احمد وہاں کیوں جائے گا؟
فجر کی اذان سے کچھ پہلے گراؤنڈ کے چوکیدار نے ولید کو فون کیا: "صاحب، پچ کے پاس کچھ ملا ہے۔ آپ آ کر دیکھ لیں۔"
پچ کے کنارے، جہاں صبح کی اوس گھاس پر چمک رہی تھی، احمد کا کٹ بیگ رکھا تھا۔
زپ کھلی ہوئی۔ اندر اس کی میچ والی شرٹ تہہ شدہ، جوتے صاف کر کے رکھے ہوئے، ٹیپ بالز کی تھیلی — سب کچھ ویسے جیسے احمد خود رکھتا تھا۔ اور سب سے اوپر، ایک تہہ شدہ پرچی۔
ولید نے کانپتے ہاتھوں سے پرچی کھولی۔ احمد کی لکھائی تھی — وہی ٹیڑھی میڑھی، جلدی میں لکھی ہوئی:
**"جیتنا ہے تو مجھے ڈھونڈو۔"**
خاموشی چھا گئی۔ سلمان — ٹیم کا تیز گیند باز، سب سے گرم مزاج — نے مٹھیاں بھینچ لیں: "یہ مذاق ہے؟ فائنل سے پہلے یہ کون سا مذاق ہے؟!" مگر سب جانتے تھے، احمد ایسا مذاق نہیں کرتا۔ چھوٹا رزوان، جو احمد کے گھر کے بالکل برابر رہتا تھا اور اس دن سے عجیب خاموش تھا، بیگ کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کچھ جانتا ہو — اور کہنے کی ہمت نہ کر پا رہا ہو۔
تھانے میں ڈیوٹی افسر نے پرچی دیکھ کر جمائی لی: "لڑکے اس عمر میں اکثر دوست کے گھر رک جاتے ہیں۔ چوبیس گھنٹے انتظار کرو۔ اور فائنل؟ فائنل تو اتوار کو ہے، تب تک آ جائے گا۔"
چوبیس گھنٹے۔ فائنل میں چھتیس گھنٹے رہ گئے تھے۔
گراؤنڈ واپس آتے ہوئے گڈو کی نظر گیٹ پر لگی اس فہرست پر پڑی جس پر ٹورنامنٹ کے کھلاڑیوں کے نام پینٹ سے لکھے تھے۔ وہ اچانک رک گیا۔ "ولید… یہ دیکھ۔"
فہرست میں ان کی ٹیم کے ناموں کے درمیان، جہاں "احمد — گیند باز" لکھا تھا، وہاں نام کسی نے چھری سے کھرچ کر مٹا دیا تھا۔ تازہ کھرچن۔ پینٹ کے ذرے ابھی نیچے گرے ہوئے تھے۔
ولید نے مٹی پر گرا پینٹ اٹھایا، پرچی کو جیب میں ڈالا اور آہستہ بولا — اس کی آواز میں کپتان والی سختی آ چکی تھی:
"یہ احمد نے نہیں کیا۔ یہ اس کے دشمن نے کیا ہے۔ سنو سب — فائنل تک چھتیس گھنٹے ہیں۔ ہمیں احمد کو بھی ڈھونڈنا ہے… اور فائنل بھی جیتنا ہے۔ دونوں۔"