← آخری اوور · All episodes

Episode 11

خالی کرسی

خالی کرسی

کالی گاڑی کے انجن کی مدھم آواز گلی میں دیر تک گونجتی رہی، پھر آہستہ آہستہ دور ہو گئی۔ کوچ رانا اقبال نے پرانا اسکور بک میز پر رکھا اور اسے مضبوطی سے بند کیا۔ ولید نے مامو سکندر کی ہاتھ کی لکھی ہوئی پرچی اپنی جیب میں سنبھال کر رکھی، جیسے وہ کوئی عام کاغذ نہیں بلکہ پوری ٹیم کی عزت ہو۔ سلمان کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔ اس نے کہا کہ ابھی مامو کے گھر جا کر اس سے حساب لینا چاہیے۔ کوچ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے کہا کہ غصہ ثبوت کو کمزور کر دیتا ہے۔ ثبوت لڑائی سے نہیں، کمیٹی کے سامنے پیش کرنے سے کام آتا ہے۔ سلمان نے گہری سانس لی اور پہلی بار اپنے غصے کو قابو میں رکھا۔ رضوان کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا، جہاں اب گلی خالی تھی۔ اس کے دل میں ایک ہی سوال تھا کہ احمد کہاں ہے، اور کیا وہ جانتا ہے کہ اس کے دوستوں کو ثبوت مل گیا ہے۔

فجر کی اذان کے ساتھ ہی محلے کا گراؤنڈ جاگ اٹھا۔ شبنم سے بھیگی ہوئی گھاس پر لڑکوں کے جوتوں کی آواز آ رہی تھی۔ فائنل سے ایک دن پہلے کی یہ آخری نیٹ پریکٹس تھی، اور احمد کے بغیر ہر چیز ادھوری لگ رہی تھی۔ سلمان نے ٹیپ لگی ہوئی ٹینس بال ہاتھ میں لی۔ اس کی پہلی دو گیندیں وائڈ گئیں، تیسری گیند بلے باز کے سر کے اوپر سے گزر گئی۔ گڈو نے وکٹوں کے پیچھے سے چلا کر کہا کہ اگر تم نے فائنل میں بھی ایسا کیا تو مخالف ٹیم کو رن بنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، وہ خود ہی جیت جائے گی۔ سلمان نے مسکرا کر سر ہلایا، اپنی رفتار تھوڑی کم کی، اور اگلی گیند سیدھی وکٹ پر ماری۔ لکڑی کی آواز پورے گراؤنڈ میں گونجی۔ ولید نے کور ڈرائیو کھیلی اور گیند باڑ تک پہنچ گئی۔ رضوان نے باؤنڈری کے پاس ایک مشکل کیچ پکڑا اور خوشی سے اچھل پڑا۔ پھر بھی، ہر اوور کے آخر میں سب کی نظریں خالی جگہ کی طرف اٹھ جاتیں، جہاں احمد کھڑا ہو کر اپنی پراسرار اسپن گیند کراتا تھا۔ اس کی یارکر کا کوئی بدل نہیں تھا۔

نیٹ کے دوران ولید کو اچانک پچھلے سال کی ایک شام یاد آ گئی۔ بارش کے بعد گراؤنڈ گیلا تھا اور احمد دیر سے پہنچا تھا، کپڑے بھیگے ہوئے، بال سے پانی ٹپک رہا تھا۔ ولید نے اس وقت مذاق میں کہا تھا کہ تم ہمیشہ دیر سے آتے ہو۔ احمد نے گیند ہاتھ میں گھماتے ہوئے جواب دیا تھا کہ میں دیر سے آ سکتا ہوں، مگر آتا ضرور ہوں، اور فائنل میں تو کبھی غیر حاضر نہیں رہتا۔ یہ جملہ ولید کے ذہن میں ایسے بیٹھ گیا جیسے کسی نے اسے دیوار پر لکھ دیا ہو۔ اس نے رضوان کی طرف دیکھا اور کہا کہ احمد نے وعدہ کیا تھا، اور احمد اپنے وعدے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ رضوان کی آنکھوں میں نمی آ گئی، مگر اس کے چہرے پر پہلی بار امید کی ہلکی سی روشنی بھی تھی۔ گڈو نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ اگر احمد وقت پر نہ آیا تو وہ خود اسے ڈھونڈ کر گراؤنڈ تک گھسیٹ لائے گا، چاہے اسے پورا شہر ہی کیوں نہ چھاننا پڑے۔ سب ہنس پڑے، مگر ہنسی کے پیچھے ایک سچا خوف بھی چھپا ہوا تھا۔

صبح دس بجے ٹورنامنٹ کمیٹی کا دفتر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ چیئرمین اور دو ارکان میز کے پیچھے بیٹھے تھے، اور سامنے کوچ رانا اقبال، ولید، اور ماسٹر صادق کھڑے تھے۔ کوچ نے پرانا اسکور بک آہستہ سے کھولا۔ انہوں نے وہ صفحہ دکھایا جس میں پرانے میچ کا اسکور بدلا گیا تھا، اعداد کو مٹا کر دوبارہ لکھا گیا تھا۔ پھر ولید نے جلد کے اندر سے نکلی ہوئی پرچی پیش کی۔ اس پر مامو سکندر کے اپنے ہاتھ کی لکھائی میں ایک رقم اور احمد کا نام درج تھا۔ کمیٹی نے اس لکھائی کا موازنہ مامو کے دستخط شدہ رجسٹریشن فارم سے کیا۔ دونوں لکھائیاں ایک جیسی تھیں۔ ماسٹر صادق نے دھیمی آواز میں بتایا کہ انہوں نے دکان کے لیے قرض لیا تھا، اور مامو نے اس قرض کے بدلے ان کے بیٹے سے فائنل میں خراب گیند بازی کا مطالبہ کیا تھا۔ احمد نے انکار کیا تھا، اس لیے وہ چھپ گیا تھا۔ کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ اسی وقت حریف ٹیم کے کپتان دانیال بھی وہاں آ گیا۔ اس نے صاف کہا کہ اسٹار اکیڈمی جیتنا چاہتی ہے، مگر طے شدہ جیت نہیں چاہتی۔ اسے صاف اور برابر کا مقابلہ چاہیے۔

کمیٹی نے دیر تک مشورہ کیا، پھر چیئرمین نے فیصلہ سنایا۔ فائنل ملتوی نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ گراؤنڈ، مہمان، اور پورا شیڈول طے تھا۔ کل صبح فائنل اپنے وقت پر کھیلا جائے گا۔ مامو سکندر کو دفتر بلایا گیا۔ وہ حسب معمول مسکراتا ہوا آیا، مگر جب اس نے اسکور بک اور پرچی دیکھی تو اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ باہر دو پولیس اہلکار کھڑے تھے۔ انہوں نے نہ شور مچایا، نہ ہتھکڑیوں کا تماشا بنایا۔ مامو خاموشی سے ان کے ساتھ چل پڑا، جیسے اسے معلوم ہو کہ کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔ کوچ نے لڑکوں سے کہا کہ یہ جیت کا جشن نہیں ہے، یہ صرف سچ کی واپسی ہے۔ اصل جیت تو کل گراؤنڈ میں ہوگی۔ ولید نے اسکور بک واپس کوچ کو دی اور کہا کہ اس کتاب نے آج ٹیم کو بچا لیا ہے۔

شام تک یہ خبر پورے محلے میں پھیل گئی۔ چھتوں پر کھڑے لوگ ایک دوسرے کو بتا رہے تھے کہ مامو پکڑا گیا ہے اور فائنل کل ہوگا۔ ماسٹر صادق کی بند دکان کے سامنے چند پڑوسی جمع ہو گئے۔ کسی نے چائے بھجوائی، کسی نے دعا دی۔ رضوان نے آگے بڑھ کر ماسٹر صادق سے کہا کہ اسے قرض کا علم تھا اور اس نے احمد سے وعدہ کر کے کسی کو نہیں بتایا تھا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ ماسٹر صادق نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ تم نے وعدہ نبھایا تھا، اور اب تم نے سچ کا ساتھ دیا ہے، اس سے بڑی معافی اور کیا ہو سکتی ہے۔ رضوان کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا۔ سلمان نے اس شام ایک بار پھر گیند بازی کی مشق کی، اس بار پوری توجہ اور سکون کے ساتھ۔ اس نے سمجھ لیا تھا کہ اصل طاقت غصے میں نہیں، قابو میں ہوتی ہے۔ رات کو سب اپنے اپنے گھروں کو گئے، مگر کسی کو نیند نہیں آ رہی تھی۔

فائنل کی صبح ڈریسنگ روم میں عجیب سی خاموشی تھی۔ کٹس ترتیب سے لگے ہوئے تھے، بیٹ دیوار کے ساتھ کھڑے تھے، اور ٹیپ لگی ہوئی گیندوں کی تھیلی میز پر رکھی تھی۔ ہر کھلاڑی کی کرسی پر اس کا نام لکھا ہوا تھا۔ ولید، گڈو، سلمان، رضوان، اور باقی ساتھی، سب اپنی اپنی جگہ پر تھے۔ مگر ایک کرسی خالی تھی۔ اس پر احمد کا کٹ بیگ رکھا ہوا تھا، زپ بند، بالکل ویسا ہی جیسا فائنل سے پہلے کی صبح ملا تھا۔ گڈو نے اس کرسی کی طرف دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی، مگر اس کی آواز گلے میں اٹک گئی۔ سلمان نے اپنا بیٹ اٹھایا اور دروازے کی طرف دیکھا۔ باہر سے گراؤنڈ کا شور آ رہا تھا، تماشائیوں کی آوازیں، اور ٹاس کا وقت قریب آ رہا تھا۔ ولید آہستہ سے خالی کرسی کے پاس گیا، اس پر ہاتھ رکھا، اور دھیمی مگر پختہ آواز میں کہا کہ وہ آئے گا۔ وہ ہمیشہ آتا ہے۔ ٹیم دروازے کی طرف بڑھی، مگر کرسی ابھی تک خالی تھی، اور فائنل کا پہلا لمحہ قریب تھا۔