Episode 10
جلد کے اندر ثبوت

اسٹریٹ لائٹ کی پیلی روشنی میں سلمان کی پرچھائیں لمبی ہو گئی تھی۔ اس کے سامنے سنہری گھڑی والا آدمی کھڑا تھا اور بہت آہستہ بول رہا تھا، جیسے وہ کوئی راز بتا رہا ہو۔ ولید گلی کے دوسری طرف کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، مگر اس نے آواز نہیں دی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ ابھی چلایا تو سلمان پھر غصے میں آ جائے گا۔
آدمی نے کہا، بیٹا، کل صبح سماعت میں بس اتنا کہہ دینا کہ تمہیں غصہ آ گیا تھا اور تم نے اکیلے غلطی کی تھی۔ ٹیم بچ جائے گی۔ کپتان کا نام مت لینا، کوچ کا نام مت لینا۔ یہ سودا تمہارے لیے اچھا ہے۔
سلمان نے زمین کی طرف دیکھا۔ اس کی مٹھیاں بند تھیں، مگر اس نے ہاتھ نہیں اٹھائے۔ اس کے کانوں میں احمد کی بات گونج رہی تھی کہ تیز گیند باز کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا صبر ہوتا ہے۔ اس نے آہستہ سے کہا، میں اپنے دوستوں کو بیچ کر ٹیم نہیں بچاؤں گا۔ میں کل سچ بولوں گا۔ جو میں نے کیا، وہ میں نے کیا۔ جو میں نے نہیں کیا، وہ میں نہیں مانوں گا۔
آدمی کی مسکراہٹ ذرا سی ٹھنڈی پڑ گئی۔ اس نے گھڑی کو دیکھا اور کہا، پھر کل دس بجے دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سڑک کے سرے کی طرف چلا گیا، جہاں کالی گاڑی کی ہیڈلائٹس ایک لمحے کے لیے روشن ہوئیں اور پھر بجھ گئیں۔ گاڑی آہستہ آہستہ اندھیرے میں چلی گئی۔
سلمان نے مڑ کر دیکھا۔ ولید اس کے پاس آ گیا۔ اس نے کچھ نہیں پوچھا، بس سلمان کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ سلمان کی آواز کانپ رہی تھی۔ میں نے اس کا گریبان نہیں پکڑا، ولید۔ میں نے پہلی بار غصے کو جیب میں رکھ لیا۔ مگر یہ بہت مشکل تھا۔ ولید نے کہا، مشکل ہی تو اصل امتحان ہے۔ آج تم نے ٹیم کو نہیں، اپنے آپ کو بھی بچایا ہے۔
اس رات سلمان کو دیر تک نیند نہیں آئی۔ اسے اپنی غلطی یاد آ رہی تھی، احمد کی خاموشی یاد آ رہی تھی، اور وہ سودا یاد آ رہا تھا جو سنہری گھڑی والے آدمی نے اسے پیش کیا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ کل سماعت میں اکیلے ساری ذمہ داری لے لیتا تو کیا ٹیم واقعی بچ جاتی، یا مامو سکندر کو ایک اور کمزور لڑکا مل جاتا جسے وہ ہمیشہ ڈرا سکتا۔ اس خیال پر اس کا دل اور بھی بوجھل ہو گیا۔
صبح گراؤنڈ پر اوس تھی اور ہوا ٹھنڈی تھی۔ کوچ رانا نے پھر آخری اوور کی مشق کرائی۔ چھ گیندیں، دس رن درکار، تین وکٹیں باقی۔ اس بار سلمان رن اپ پر آہستہ گیا۔ اس نے پہلی گیند اچھی لمبائی پر ڈالی۔ ولید نے اسے دفاعی انداز میں کھیلا۔ دوسری گیند سلمان نے سست ڈالی اور گڈو نے وکٹ کے پیچھے سے مسکرا کر کہا، یہ ہوئی نا بات۔ تیسری گیند یورکر تھی۔ گیند بلے کے نیچے سے نکل گئی۔
گڈو نے تالی بجائی۔ رضوان نے میدان سے آواز دی، سلمان بھائی، آج گیند آپ کے ہاتھ میں ہے، غصے کے ہاتھ میں نہیں۔ سلمان نے چھ گیندیں پوری توجہ سے ڈالیں۔ کوئی بیمر نہیں، کوئی نوبال نہیں۔ کوچ رانا نے سیٹی بجائی اور کہا، غصہ ختم نہیں ہوا، سلمان۔ غصہ صرف رکا ہے۔ سماعت میں بھی اسے اسی طرح روک کر رکھنا۔
دس بجے وہ ٹورنامنٹ کمیٹی کے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے تھے۔ میز کے دوسری طرف تین ارکان تھے۔ سنہری گھڑی والا آدمی بھی ایک کرسی پر بیٹھا تھا، جیسے وہ کوئی مہمان ہو۔ کوچ رانا نے وہ شکایت والا فارم میز پر رکھا اور کہا، اس فارم پر سلمان کا نام پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ دستخط کی جگہ خالی تھی۔ یہ جھگڑے سے پہلے تیار کیا گیا تھا۔ یہ ثبوت ہے کہ یہ جال تھا۔
سلمان کھڑا ہوا۔ اس کی آواز صاف تھی، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے کہا، میں نے غصے میں اس آدمی کا گریبان پکڑا تھا۔ یہ میری غلطی تھی اور میں اس کی معافی چاہتا ہوں۔ مگر میں نے دھمکی نہیں دی تھی۔ میں اپنی ٹیم کے لیے لڑ رہا تھا، کسی کو ڈرا نہیں رہا تھا۔ کمیٹی کے ارکان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ بڑے رکن نے کہا، فیصلہ فائنل کے بعد ہوگا۔ ٹیم کھیل سکتی ہے، مگر سلمان پر انتباہ رہے گا۔ ایک اور غلطی ہوئی تو ٹیم باہر ہو جائے گی۔
کمرے سے باہر نکلتے ہی گڈو نے ولید کا بازو پکڑ لیا اور کہا، بلال نے فون ٹھیک کر لیا ہے۔ بلال میرا کزن ہے اور اس کی دکان پر فون رات بھر چارج پر رہا۔ اس میں ایک پیغام ہے جو بھیجا نہیں گیا۔ وہ اسی رات کا ہے جس رات احمد غائب ہوا تھا۔ ولید رک گیا۔ اس نے کہا، پھر ہم ابھی وہاں جاتے ہیں۔ کوئی اکیلا نہیں جائے گا۔
بلال کی دکان کے پچھلے کمرے میں پانچوں دوست جمع ہوئے۔ بلال نے فون میز پر رکھا اور کہا، بیٹری بالکل ختم ہو گئی تھی۔ میں نے اسے کھول کر دیکھا، چارج کیا اور اب یہ چل رہا ہے۔ اس میں صرف ایک وائس نوٹ ہے جو بھیجا نہیں گیا۔ یہ ریکارڈ ہوا تھا، مگر کسی کو ملا نہیں۔ بلال نے بٹن دبایا۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
احمد کی آواز آئی۔ وہ تھکی ہوئی تھی، مگر صاف تھی۔ اس نے کہا، ولید، گڈو، سلمان، رضوان، اگر یہ آواز تم تک پہنچے تو سمجھنا کہ میں ٹھیک ہوں۔ میں تم سے نہیں بھاگا۔ میں ایک فیصلے سے بھاگا ہوں۔ مامو سکندر نے مجھ سے کہا تھا کہ فائنل میں جان بوجھ کر خراب گیندیں ڈالوں۔ اس نے کہا تھا کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میرے ابو کا تین لاکھ کا قرض کبھی معاف نہیں ہوگا۔ میں نے انکار کر دیا۔ میں پولیس کے پاس بھی نہیں گیا، کیونکہ میں اپنے ابو کی عزت بچانا چاہتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں چھپ جاؤں اور ثبوت تم تک پہنچ جائے تو سچ خود بولے گا۔
آواز ذرا رک گئی، پھر احمد نے کہا، ثبوت ایسی جگہ ہے جہاں صرف ہماری ٹیم پہنچ سکتی ہے۔ کوچ رانا کی الماری میں رکھے پرانے اسکور بک کی جلد کے اندر دیکھو۔ وہی اسکور بک جو انیس سو اٹھانوے کے فائنل کی ہے۔ اس کی جلد میں ایک کاغذ چھپا ہے جو سچ بتا دے گا۔ میں جانتا تھا کہ صرف تم لوگ اس کتاب کو پہچانو گے، کیونکہ کوچ نے وہ کتاب صرف ہمیں دکھائی تھی۔
رضوان کی آنکھیں بھر آئیں۔ گڈو نے اپنا منہ ہاتھ سے ڈھک لیا۔ احمد کی آواز پھر آئی، میں مزار کے پاس والی سرائے میں ہوں، اپنی امی کی قبر کے قریب۔ میں وہیں فائنل کے دن کا انتظار کر رہا ہوں۔ مجھے ڈھونڈنے مت آنا۔ وہاں نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگر ثبوت کمیٹی تک پہنچ گیا تو میں فائنل کے دن خود آ جاؤں گا۔ مجھ پر بھروسہ رکھو، جیسے میں تم پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اس کے بعد آواز ختم ہو گئی۔
کچھ دیر تک کوئی نہیں بولا۔ پھر سلمان نے کہا، احمد نے ہم پر بھروسہ کیا ہے۔ اب ہم اس بھروسے کو نہیں توڑیں گے۔ ولید نے کہا، ہم کوچ کے گھر جاتے ہیں۔ اب کوئی دیر نہیں۔ وہ سب ایک ساتھ نکلے۔ بلال نے فون پھر دراز میں رکھ دیا اور دکان کا دروازہ بند کر لیا۔
کوچ رانا کے گھر میں الماری کھولی گئی۔ اس میں کئی پرانی اسکور بکس تھیں۔ کوچ نے ایک موٹی، پرانی کتاب نکالی۔ اس کے صفحے پیلے ہو چکے تھے۔ کوچ نے آہستہ سے کہا، یہ وہی کتاب ہے۔ انیس سو اٹھانوے کا فائنل۔ اس فائنل میں بھی کسی نے مجھ سے جھوٹ بولنے کو کہا تھا اور میں نے انکار کر دیا تھا۔ آج احمد نے بھی وہی کیا ہے۔
کوچ نے بہت احتیاط سے کتاب کی جلد کو کھولا۔ جلد کے اندر ایک تہہ کیا ہوا کاغذ تھا۔ ولید نے اسے نکالا اور کھولا۔ وہ شرط کی ایک پرچی تھی۔ اس پر مامو سکندر کے ہاتھ کی لکھائی تھی، رقم لکھی تھی اور احمد کا نام لکھا تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا صفحہ بھی تھا جس پر پرانے میچ کا اسکور بدلا ہوا لگتا تھا۔ کوچ کے ہاتھ کانپ گئے۔ انہوں نے کہا، یہ وہی ثبوت ہے۔ یہ پرچی مامو کو فائنل سے پہلے ہی پکڑوا سکتی ہے۔
اسی لمحے رضوان کھڑکی کے پاس گیا اور باہر دیکھا۔ اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ اس نے سرگوشی میں کہا، گلی کے کونے پر وہی کالی گاڑی کھڑی ہے۔ اس کی ہیڈلائٹس بند ہیں، مگر اس کے اندر کوئی بیٹھا ہے۔ ولید نے پرچی کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس نے کہا، مامو کو معلوم ہو گیا ہے کہ فون پھر چل پڑا ہے۔ اب وہ جانتا ہے کہ ہم سچ تک پہنچ گئے ہیں۔ کوچ نے کتاب بند کی اور کہا، تو اب ہمیں فائنل سے پہلے یہ ثبوت کمیٹی تک پہنچانا ہوگا، اور احمد تک یہ خبر پہنچانی ہوگی کہ ہم تیار ہیں۔ باہر گلی میں کالی گاڑی کا انجن آہستہ سے چل پڑا۔