Episode 12
آخری اوور

فائنل کی صبح ڈریسنگ روم کی خاموشی اب بھی ولید کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ خالی کرسی، بند زپ والا کٹ بیگ، اور وہ ایک جملہ جو اس نے خود کہا تھا — وہ آئے گا، وہ ہمیشہ آتا ہے۔ اب ٹیم گراؤنڈ کی طرف بڑھ رہی تھی، اور ہر قدم کے ساتھ یہ جملہ دل میں اور بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ باہر محلہ جاگ چکا تھا۔ چھتوں پر لوگ کھڑے تھے، گلیوں میں بچے دوڑ رہے تھے، اور گراؤنڈ کے چاروں طرف تماشائیوں کا ہجوم اس طرح جمع تھا جیسے پورا شہر ایک ہی میچ دیکھنے آیا ہو۔ کوچ رانا اقبال نے سب کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور صرف اتنا کہا کہ آج ہم گیارہ نہیں، بارہ کھلاڑی ہیں — بارھواں ہمارے دلوں میں ہے۔ گڈو نے آنکھیں پونچھیں اور مسکرا کر بولا کہ اگر احمد نے آج بھی دیر کی تو وہ اسے گراؤنڈ کے باہر سے پکڑ کر لائے گا۔ سب ہنس پڑے، مگر ہنسی کے پیچھے وہی پرانا خوف تھا۔
ٹاس ہوا۔ ولید نے سکہ اچھالا، اور سکہ ان کے حق میں گرا۔ اس نے بغیر سوچے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اس کا خیال تھا کہ پہلے رن بنا کر دباؤ مخالف ٹیم پر ڈالا جائے۔ اسٹار اکیڈمی کے کپتان دانیال نے مسکرا کر ہاتھ ملایا اور کہا کہ آج کوئی بہانہ نہیں، جو جیتے گا وہ میدان میں جیتے گا۔ ولید نے بیٹ اٹھایا اور اوپننگ کے لیے گراؤنڈ میں اتر گیا۔ پہلا اوور محتاط رہا، دوسرے اوور میں ولید نے دو چوکے لگائے اور گراؤنڈ میں تالیاں گونج اٹھیں۔ وہ ہر گیند پر احمد کے بارے میں سوچ رہا تھا — احمد ہوتا تو اسے کہتا کہ کپتان، آہستہ کھیلو، آخری اوور تک پہنچو۔
آٹھویں اوور میں گڈو بیٹنگ پر آیا۔ وکٹوں کے پیچھے سے بولنے والا گڈو بیٹنگ پر بھی خاموش نہ رہا۔ اس نے پہلی گیند پر چھکا لگایا اور پھر ہوا میں بیٹ لہرا کر کہا کہ یہ احمد کے لیے ہے۔ اگلی گیند پر وہ آؤٹ ہو گیا، مگر اس کے بیس رنز نے ٹیم کو رفتار دے دی تھی۔ سلمان نے آ کر دو لمبے چھکے لگائے، مگر اس بار اس کے چھکوں میں غصہ نہیں تھا، صرف توجہ تھی۔ کوچ نے سر ہلا کر کہا کہ یہی اصل سلمان ہے — جو قابو میں رہ کر کھیلتا ہے۔ رضوان نے آخر میں چند اہم رنز بنائے، اور جب وہ ایک خطرناک رن کے لیے دوڑا تو ولید نے اسے روکا اور کہا کہ اب کوئی جلدی نہیں، ہم مل کر پہنچیں گے۔ پندرہ اوور کے بعد ٹیم نے ایک سو اٹھائیس رنز بنائے تھے۔ یہ کوئی بڑا اسکور نہیں تھا، مگر محلے کی ٹیم کے لیے یہ ایک پہاڑ تھا۔
دوسری اننگز میں اسٹار اکیڈمی نے زبردست شروعات کی۔ دانیال نے اپنی ٹیم کی کپتانی کا پورا حق ادا کیا۔ اس نے سلمان کی تیز گیندوں کو احتیاط سے کھیلا اور چوکے بھی لگائے۔ سلمان نے اس بار غصے سے نہیں، منصوبے سے گیند بازی کی۔ اس نے اپنی رفتار کم کر کے لائن بدلی اور دو وکٹیں حاصل کیں۔ کوچ نے تالیاں بجائیں۔ مگر دانیال ایک طرف کھڑا رہا، اور اسکور بڑھتا رہا۔ بارہویں اوور کے آخر میں اسٹار اکیڈمی کو جیت کے لیے صرف پندرہ رنز چاہیے تھے، اور ان کی دو وکٹیں باقی تھیں۔ گراؤنڈ میں خاموشی چھا گئی۔ چھتوں پر کھڑے لوگوں نے سانس روک لی۔ ولید نے گیند سلمان کو دی، مگر سلمان نے سر ہلا کر کہا کہ کپتان، یہ اوور میرا نہیں، یہ اس کا ہے جو ابھی تک نہیں آیا۔
آخری اوور شروع ہونے سے پہلے ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلا۔ سب نے پلٹ کر دیکھا۔ دروازے پر احمد کھڑا تھا۔ اس کے کپڑوں پر سفر کی دھول تھی، بال بکھرے ہوئے تھے، آنکھوں میں تھکن تھی، مگر اس کے ہاتھ میں گیند تھی — وہی ٹیپ لگی ہوئی گیند۔ ایک لمحے کے لیے پورا گراؤنڈ خاموش ہو گیا، پھر تالیوں اور چیخوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ولید دوڑ کر اس کے پاس گیا۔ احمد نے دھیمی آواز میں کہا کہ وہ دیر سے آیا ہے، مگر وعدہ نبھانے آیا ہے۔ ولید نے اسے گلے لگا لیا اور کہا کہ تم دیر سے آ سکتے ہو، مگر آتے ضرور ہو۔ رضوان آگے بڑھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ احمد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ تم نے وعدہ نبھایا، اور میں نے بھی نبھایا۔ اب کوئی بوجھ نہیں رہا۔ گڈو نے زور سے کہا کہ اب تو یہ میچ ہمارا ہے، کیونکہ ہمارا گیند باز واپس آ گیا ہے۔ کوچ رانا اقبال کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے احمد کو گیند دی اور کہا کہ بیٹا، اب یہ اوور تمہارا ہے۔
آخری اوور، جیت کے لیے بارہ رنز چاہیے تھے، دو وکٹیں باقی تھیں۔ دانیال اسٹرائیک پر تھا۔ احمد نے گیند ہاتھ میں گھمائی، لمبی سانس لی، اور دوڑنا شروع کیا۔ پہلی گیند — یارکر! گیند بلے کے نیچے سے گزر گئی، اور دانیال اسے چھو بھی نہ سکا۔ بارہ رنز، پانچ گیندیں۔ دوسری گیند پر دانیال نے زور سے بلے گھمایا اور چوکا لگا دیا۔ آٹھ رنز، چار گیندیں۔ گراؤنڈ میں شور بڑھ گیا۔ تیسری گیند پر احمد نے اپنی پراسرار اسپن گیند کرائی۔ گیند ہوا میں مڑی، بلے باز کو سمجھ نہ آئی، اور گڈو نے بجلی کی طرح اسٹمپ کر دیا۔ آٹھ رنز، تین گیندیں، ایک وکٹ باقی۔ چوتھی گیند پر نئے بلے باز نے ایک رن لیا، اور دانیال پھر اسٹرائیک پر آ گیا۔ سات رنز، دو گیندیں۔ پانچویں گیند پر دانیال نے گیند کو ہوا میں اٹھا دیا۔ گیند باؤنڈری کی طرف جا رہی تھی، مگر رضوان نے چھلانگ لگا کر اسے روک لیا اور صرف ایک رن دیا۔ چھ رنز، ایک گیند۔
آخری گیند۔ پورا محلہ سانس روکے کھڑا تھا۔ چھتوں پر بچے، گلی میں بزرگ، ڈریسنگ روم کے دروازے پر کوچ — سب کی نظریں احمد پر تھیں۔ احمد نے گیند کو اپنے ہاتھ میں گھمایا، اپنے والد کی بند دکان کو یاد کیا، اپنی ماں کی قبر کے پاس گزاری ہوئی راتوں کو یاد کیا، اور پھر دوڑ پڑا۔ گیند اس کے ہاتھ سے نکلی، سیدھی، تیز، اور وکٹوں کی جڑ میں جا لگی۔ یارکر! دانیال کا بلہ ہوا میں رہ گیا، اور وکٹیں بکھر گئیں۔ ایک لمحے کی خاموشی، پھر گراؤنڈ پھٹ پڑا۔ ولید نے احمد کو کندھوں پر اٹھا لیا۔ گڈو نے وکٹیں ہوا میں اچھال دیں۔ سلمان نے احمد کو گلے لگا لیا۔ رضوان نے اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا، اور اس کی مسکراہٹ میں اب کوئی بوجھ نہیں تھا۔ ٹیم نے صرف ایک رن سے فائنل جیت لیا تھا۔
دانیال نے آگے بڑھ کر احمد سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ آج تم نے ثابت کر دیا کہ اصل جیت میدان میں ملتی ہے، کسی پرچی پر نہیں۔ کوچ رانا اقبال نے پرانا اسکور بک سینے سے لگایا اور کہا کہ یہ کتاب اب صرف یاد ہے، اب اس میں کوئی جھوٹ نہیں لکھا جائے گا۔ اسی وقت ہجوم کے درمیان سے ماسٹر صادق آگے آئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر چہرے پر فخر تھا۔ محلے کے بزرگ نے اعلان کیا کہ محلے والوں نے مل کر چندہ جمع کیا ہے، اور تین لاکھ کا قرض ادا کر دیا گیا ہے — مامو سکندر کے کاغذات پولیس نے ضبط کر لیے ہیں، اور وہ اب عدالت کا سامنا کرے گا۔ ماسٹر صادق کی دکان اگلے ہفتے پھر کھلے گی۔ احمد نے اپنے والد کو گلے لگایا، اور پورا محلہ تالیاں بجا رہا تھا۔
شام ڈھل رہی تھی، اور گراؤنڈ میں جشن جاری تھا۔ بچے احمد کے ساتھ تصویریں بنوا رہے تھے، اور گڈو سب کو بتا رہا تھا کہ اس نے احمد کو خود ڈھونڈا تھا۔ سلمان نے ہنس کر کہا کہ اگلے سال ہم پھر فائنل کھیلیں گے، مگر اس بار کوئی غائب نہیں ہوگا۔ ولید نے ٹرافی اٹھائی اور اسے ٹیم کے درمیان رکھ دیا۔ احمد نے اپنا کٹ بیگ اٹھایا، اس کی زپ بند کی، اور مسکرا کر کہا کہ اگلی دفعہ نوٹ سیدھا گھر پر چھوڑوں گا۔ سب ہنس پڑے، اور اس ہنسی میں پورے محلے کی خوشی شامل تھی۔