← زب: دوسری دنیا کا دوست · All episodes

Episode 5

گول مول سے کال

گول مول سے کال

زِب کی کلائی کی پٹی ہری روشنی سے چمک رہی تھی — "ٹیں! ٹیں!"

زِب کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے پٹی کو کان سے لگایا، اور ابھی کال لگی بھی نہیں تھی کہ اس کی بڑی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔

"دانش…" اس کی آواز بھری ہوئی تھی، "یہ… یہ میری امی جان کی کال ہے۔"

دانش نے میلے کی بھیڑ سے انہیں ایک ریڑھی کے پیچھے کھینچ لیا۔ "یہاں چھپ کر بات کرو! کوئی نہ دیکھے۔"

زِب نے پٹی پر اپنی چاروں انگلیاں رکھیں۔ ہری روشنی تھمی — اور پھر ایک ننھی سی آواز آئی، اتنی میٹھی کہ دانش کا دل بھی بھر آیا:

"زِب! میری جان! تم ٹھیک ہو؟"

پٹی گل مول کی زبان کو زمینی اردو میں بدل رہی تھی، مگر امی جان کی آواز میں وہی گرمی تھی جو ہر امی کی آواز میں ہوتی ہے۔

"امی جان!" زِب چیخا، اور اس کی آنکھوں سے چمکتے آنسو ٹپکنے لگے۔ "میں ٹھیک ہوں! میں نے… میں نے زمین پر دوست بنا لیا ہے! اس کا نام دانش ہے!"

"مجھے پتا ہے، میری جان۔" امی جان کی آواز میں ہنسی تھی۔ "میں نے ماسٹر گھوم کو بتایا: میرا بیٹا زمین پر بھی دوست بنا لیتا ہے! مجھے تم پر بہت فخر ہے، زِب۔"

زِب کا سینہ چوڑا ہو گیا۔ "سچ؟ ماسٹر گھوم نے کیا کہا؟"

"انہوں نے کہا: گول مول کے بچے چاہے کہیں بھی ہوں، دوست بنا لیتے ہیں۔ اور سنو — دانش اچھا لڑکا لگتا ہے۔ اس کی بات ماننا، اور اسے تنگ مت کرنا!"

"میں تنگ نہیں کرتا!" زِب نے احتجاج کیا، پھر دھیرے سے بولا، "…بس کبھی کبھی تھوڑا سا۔"

امی جان ہنس پڑیں۔ پھر ان کی آواز ذرا دھیمی ہو گئی۔

"زِب… اب ایک مشکل خبر سنو۔ گول مول کا دروازہ… نو دن بعد بند ہو جائے گا۔"

زِب کی سانس رک گئی۔ "نو… نو دن؟"

"ہاں، میری جان۔ تمہیں چاند والی رات سے پہلے اڑنا ہوگا — چاند پتر چارج ہو، گھنٹی کوائل لگی ہو، سب کچھ تیار ہو۔ ورنہ… ورنہ تمہیں پورا ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔"

زِب کے گالوں پر چمکتے آنسو بہنے لگے۔ وہ گھاس پر گرے تو ٹمٹماتے چراغوں کی طرح چمک اٹھے۔

"مت رو، میری جان۔" امی جان کی آواز نرم تھی۔ "بہادر بچے بھی روتے ہیں۔ بس یاد رکھو — میں روز تمہیں سوچتی ہوں۔ اور ہم جلدی ملیں گے۔"

"جلدی… ملیں گے۔" زِب نے آنسو پونچھے۔ "امی جان… میں آپ کو بہت یاد کرتا ہوں۔ اور آپ کے ہاتھ کے گول پراٹھے بھی۔"

"میں بھی تمہیں یاد کرتی ہوں، میری جان۔ میں بھی۔"

دانش نے نظریں ہٹا لیں تاکہ زِب کو شرمندگی نہ ہو۔ اس نے آسمان میں ایک تارتا دیکھا اور دل ہی دل میں دعا کی — ابا کے لیے۔ دبئی بہت دور تھا، بہت دور۔

اسی وقت اوپر سے آواز آئی — "دھپ!"

آم کے درخت کی ایک شاخ سے میڈم بلی نیچے کودی — اور سیدھی زِب کی کلائی پر بیٹھ گئی!

"میاؤں!!"

بلی کی آواز پٹی میں گونجی۔ دوسری طرف امی جان چونکیں: "زِب! یہ کون بول رہا ہے؟!"

زِب گھبرایا: "یہ… یہ میڈم ہیں! زمین کی… بالوں والی وزیر!"

"اوہ!" امی جان کی آواز میں سنجیدگی آ گئی۔ "تو زمین پر بالوں والے وزیر حکومت چلاتے ہیں۔ سمجھ گئی۔ زِب، وزیر صاحبہ کا پورا احترام کرنا!"

دانش نے ہنسی روکنے کے لیے ہونٹ کاٹ لیا۔ میڈم نے ایک اور "میاؤں!" کہا اور پٹی پر ہی گول ہو کر بیٹھ گئی — جیسے یہ اسی کا تخت ہو۔

امی جان ہنسیں — گل مول والی گول ہنسی، "گول گول گول!" — اور کال بند ہو گئی۔

زِب دیر تک پٹی کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے دانش کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ "میری امی جان کہتی ہیں… دور رہنے والے دل کے پاس ہوتے ہیں۔"

دانش کا گلا بھر آیا۔ اس نے کچھ نہ کہا، بس زِب کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔

گھر پہنچ کر دانش نے اپنا فون اٹھایا۔ امی جان کی آواز سن کر اس کا اپنا دل بھی بھر آیا تھا۔

"میں ابا کو کال لگاؤں؟" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔

زِب نے سر ہلایا۔ "ہاں۔ تمہارے ابا بھی تو… دور ہیں۔"

کال لگی — "ابا!"

"دانش! بیٹا!" ابا کی آواز آئی — اور پھر اسکرین جم گئی۔ ابا کا چہرہ ٹھہر گیا، آواز ٹوٹنے لگی: "…بیٹا… میں… ٹیں… ٹررر…"

اسکرین کالی ہو گئی۔ نیچے لکھا آیا: "نیٹ ورک خراب ہے۔"

دانش نے دوبارہ کوشش کی۔ اس بار کال ہی نہ لگی۔ پھر ایک صوتی پیغام آیا — ابا کی تھکی ہوئی آواز:

"بیٹا، مجھے کام پر بلایا گیا ہے۔ آج بات نہیں ہو سکے گی۔ کل کریں گے۔ اپنا خیال رکھنا… اور امی کا بھی۔"

دانش فون کو دیکھتا رہ گیا۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

زِب چپکے سے اس کے پاس آیا اور بیٹھ گیا۔ اس نے اپنی ہتھیلی کھولی — اس میں ایک چمکتا آنسو تھا۔

"تمہاری آنکھوں میں بھی…" زِب نے دھیرے سے کہا، "وہی بارش ہے جو میری آنکھوں میں ہے۔"

دانش نے چاند-لیمپ اٹھایا اور دونوں چھت پر چلے گئے۔ آسمان پر تارے جھلملا رہے تھے، اور چاند آدھا تھا — نو دن بعد پورا ہوگا۔

"دور رہنے والے دل کے پاس ہوتے ہیں۔" دانش نے کہا۔

زِب نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں دہرایا: "دور… رہنے والے… دل کے… نزدیک!" پھر دونوں مسکرا دیے — آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں، مگر دل ہلکا تھا۔

"تمہارا شیشے والا دوست تھکا ہوا ہے!"

زِب دانش کے فون کی طرف اشارہ کر رہا تھا — بیٹری صرف پانچ فیصد رہ گئی تھی۔

"میں اسے چاند پتر کی طاقت دوں؟ تھوڑی سی؟"

"نہیں زِب! چاند پتر کو مت—"

مگر دیر ہو چکی تھی۔ زِب نے کپڑے کی پوٹلی سے چاند پتر نکالا اور فون کی تار اس سے جوڑ دی۔

"چیں!!!"

فون کی اسکرین اتنی تیز چمکی کہ دونوں کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ پھر… دھواں!

"دھواں! دھواں!" زِب چیخا اور ہاتھ ہلا ہلا کر دھواں اڑانے لگا۔ "شیشے والے دوست کو تھوڑی زیادہ طاقت مل گئی!"

باورچی خانے سے امی کی آواز آئی: "دانش! یہ جلنے کی بو کہاں سے آ رہی ہے؟!"

دانش کا دماغ بجلی کی طرح چلا: "ک… کچھ نہیں امی! میڈم نے… چولہے کے پاس… اپنی مچھلی جلا دی ہے!"

"میڈم نے مچھلی جلائی ہے؟" امی کی آواز میں شک تھا۔

"ہاں! بلیاں بھی غلطیاں کرتی ہیں، امی!"

زِب نے جلدی سے چاند پتر چھپا دیا۔ فون بچ گیا تھا — بیٹری سو فیصد! مگر اب اسکرین پر وقت گل مول کے وقت کے حساب سے دکھائی دے رہا تھا۔

"یہ تو اب گل مول والا فون ہو گیا!" زِب نے فخر سے کہا۔

"اسے ٹھیک کرو گے تم؟" دانش نے پوچھا۔

"کل۔" زِب نے جلدی سے کہا۔ "آج… آج شیشے والا دوست سوئے گا۔"

رات کے کھانے پر امی نے دانش کی لال آنکھیں دیکھیں۔ انہوں نے کچھ نہ پوچھا۔ بس اس کی پلیٹ میں دو اضافی پراٹھے رکھ دیے، دودھ کا گلاس اس کے سامنے کر دیا، اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

امی کو کچھ دنوں سے شک تھا کہ دانش کوئی "پالتو جانور" چھپا رہا ہے۔ مگر آج بیٹے کی آنکھیں دیکھ کر انہوں نے کچھ نہ کہا — ماں کا دل سب سمجھتا ہے۔

آدھی رات کو دانش کی آنکھ کھلی — باہر سے "کھٹ کھٹ" کی آواز آئی تھی، جیسے کوئی سائیکل کی زنجیر ہو۔

اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔

آم کے درخت پر ٹارچ کی روشنی گھوم رہی تھی!

نیچے گلی میں چاچا رشید کھڑے تھے — ایک ہاتھ میں ٹارچ، دوسرے ہاتھ میں "ایلین پکڑو" والی نوٹ بک کھلی۔ اور نوٹ بک میں آم کے درخت کی تصویر پر… ایک بڑا سا لال کراس!

دانش کی سانس رک گئی۔

چاچا رشید آم کے درخت تک پہنچ گئے تھے۔

اور زِب کا جہاز تو اسی درخت میں پھنسا تھا!