Episode 6
گھنٹی کوائل کی تلاش

آدھی رات کو دانش کی آنکھ ایک آواز سے کھلی — "کھٹ کھٹ!"
اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو اس کی سانس رک گئی۔ گلی میں چاچا رشید کھڑے تھے — ایک ہاتھ میں ٹارچ، دوسرے ہاتھ میں "ایلین پکڑو" والی نوٹ بک۔ اور ٹارچ کی روشنی آم کے درخت پر گھوم رہی تھی — اسی درخت پر تو زِب کا جہاز پھنسا تھا!
"زِب!" دانش نے دھیمی آواز میں پکارا۔ "چاچا رشید درخت تک پہنچ گئے ہیں!"
زِب اسٹور روم سے نکل کر کھڑکی تک آیا۔ اس کی بڑی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "فکر مت کرو، دانش! گول مول میں ہم ایسے وقت میں ایک چال چلتے ہیں — جھوٹی روشنی!"
اس نے اپنی کلائی کی پٹی پر چاروں انگلیاں رکھیں اور کچھ دبایا۔ آم کے درخت میں چھپے جہاز سے ایک چھوٹی سی سبز روشنی نکلی — ٹمٹم، ٹمٹم — جیسے کوئی جگنو اڑ رہا ہو۔ روشنی درخت سے نکلی، چھتوں پر سے ہوتی ہوئی گلی کے دوسرے سرے کی طرف اڑنے لگی۔
"ایلین کی روشنی!" چاچا رشید چیخے۔ "رکو! میں تمہیں پکڑ لوں گا!"
وہ اپنی سائیکل پر سوار ہو کر روشنی کے پیچھے بھاگے — اور دانش کی آنکھوں کے سامنے وہ روشنی انہیں گلی سے دور لے گئی۔ تھوڑی دیر بعد دور سے آواز آئی — "دھڑام!" — اور پھر چاچا رشید کی آواز: "یہ… یہ تو گھاس کا ڈھیر تھا! ایلین نے مجھے دھوکا دیا!"
دانش نے کھڑکی بند کی اور لمبی سانس لی۔ جہاز محفوظ تھا۔ مگر اس کا دل اب بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
صبح ہوئی تو دانش نے کیلنڈر کی طرف دیکھا۔ گول مول کا دروازہ بند ہونے میں اب آٹھ دن رہ گئے تھے۔ آٹھ دن! اور ابھی تک گھنٹی کوائل نہیں ملی تھی، چاند پتر کو پوری طرح چارج ہونا باقی تھا، اور چاند والی رات قریب آ رہی تھی۔
"آٹھ دن، زِب،" دانش نے کہا۔ "ہمیں آج ہی گھنٹی کوائل ڈھونڈنی ہوگی۔"
زِب نے سر ہلایا، مگر اس کی آنکھوں میں فکر تھی۔ "گھنٹی کوائل… وہ گھنٹی کے دل جیسی ہوتی ہے۔ بجتی ہے اور گھومتی ہے۔ اس کے بغیر جہاز اڑ نہیں سکتا۔ وہ… وہ کہاں ملے گی؟"
دانش نے سوچا۔ شہر کی پرانی گھنٹہ گھر کی گھنٹی برسوں سے خاموش تھی۔ اور کریم چاچا کی کباڑی دکان میں پرانی گھنٹیاں، گھڑیاں اور عجیب عجیب چیزیں بھری پڑی تھیں۔ "کریم چاچا کی دکان!" دانش نے کہا۔ "وہاں ہر پرانی چیز مل جاتی ہے۔"
اسکول سے واپسی پر دونوں کباڑی دکان کی طرف چل پڑے۔ میڈم بلی بھی ان کے پیچھے پیچھے آ رہی تھی، جیسے وہ بھی اس مہم کا حصہ ہو۔
کریم چاچا کی دکان ایک عجائب گھر لگتی تھی — پرانے پنکھے، ٹوٹے ریڈیو، زنگ آلود گھنٹیاں، گھڑیاں، اور ایسی چیزیں جن کا نام بھی کسی کو نہیں معلوم تھا۔ کریم چاچا خود ایک پرانی کرسی پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
"ارے دانش بیٹا! کیا چاہیے؟" انہوں نے پوچھا۔
دانش نے ہمت کر کے کہا، "چاچا، ہمیں ایک… ایک گھنٹی چاہیے۔ ایسی جو بجے بھی اور… گھومے بھی۔"
کریم چاچا ہنس پڑے۔ "گھنٹی جو گھومے؟ بیٹا، یہ کون سی گھنٹی ہے؟"
اسی وقت زِب نے دکان کی چیزوں کو اپنے نام دینا شروع کر دیے۔ "یہ لوہے کا سموسہ ہے!" اس نے ایک پرانی استری کی طرف اشارہ کیا۔ "اور یہ سویا ہوا ٹی وی!" وہ ایک پرانے ریڈیو کی طرف دیکھ رہا تھا۔ "اور یہ… یہ سیٹی والا بم!" وہ ایک پرانی کیتلی اٹھا چکا تھا۔
کریم چاچا اتنے ہنسے کہ ان کی چائے چھلک گئی۔ "یہ تمہارا دوست تو بڑا مزاحیہ ہے، دانش!"
پھر کریم چاچا ایک پرانے ڈبے سے ایک چیز نکال لائے — پیتل کی ایک چھوٹی سی گھنٹی، جس کے اندر ایک گھمی ہوئی تار لپٹی تھی۔ جیسے ہی زِب نے اسے دیکھا، اس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس کی کلائی کی پٹی نے ہلکی سی "ٹیں" کی آواز نکالی۔
"یہی ہے!" زِب نے دھیرے سے کہا۔ "یہی گھنٹی کوائل ہے! میرا جہاز اسے پہچان رہا ہے!"
مگر اب سودے بازی کا وقت تھا۔ کریم چاچا نے کہا، "یہ نایاب چیز ہے، بیٹا۔ پانچ سو روپے!"
دانش کی جیب میں صرف اسی روپے تھے۔ اس کا دل ڈوب گیا۔ پھر زِب آگے بڑھا اور اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا چمکتا بٹن نکالا — گول مول کے جہاز کا ایک فالتو بٹن، جو اندھیرے میں ہلکا ہلکا چمکتا تھا۔
"یہ لو!" زِب نے کہا۔ "گول… میرا مطلب ہے، یہ بہت خاص بٹن ہے! اندھیرے میں چمکتا ہے!"
کریم چاچا نے بٹن کو غور سے دیکھا۔ "ارے واہ! یہ تو بجلی والا بٹن لگتا ہے!" پھر انہوں نے دانش کی طرف دیکھا۔ "اچھا، سودا یہ رہا — اسی روپے، یہ چمکتا بٹن، اور… اور دو سموسے! میری چائے کے ساتھ سموسے ہوں تو سودا پکا!"
دانش نے فوراً حامی بھر لی۔ مگر سموسے لانے پر زِب نے ایک سموسہ خود کھا لیا اور دوسرا کریم چاچا کو دیا۔ "سودے کے لیے طاقت چاہیے!" زِب نے منہ بھرے کہا۔ کریم چاچا اتنے ہنسے کہ انہوں نے گھنٹی کوائل خود ایک کپڑے میں لپیٹ کر دانش کو دے دی۔
"شکریہ چاچا!" دانش نے کہا، اور دونوں تیزی سے دکان سے نکلے۔
مگر دروازے پر ہی انہیں چاچا رشید مل گئے! وہ اپنی سائیکل سے اتر رہے تھے اور ان کے ہاتھ میں نوٹ بک تھی۔ "کریم! میں نے سنا ہے یہاں نیلی روشنی دیکھی گئی ہے! ایلین یہیں کہیں ہے!"
دانش کا دل حلق میں آ گیا۔ زِب نے جلدی سے اپنے اوپر پرانی شالوں کا ڈھیر اوڑھ لیا اور ایک پرانی گھنٹیوں کے ڈھیر کے پیچھے چھپ گیا۔ مگر اسے چھینک آ گئی — "آہ… چھیں!"
چھینک کی آواز سے ڈھیر کی ایک گھنٹی بج اٹھی — "ٹن ٹن!"
چاچا رشید چونکے۔ "ایلین کی گھنٹی! یہیں ہے!"
اسی وقت میڈم بلی نے ان کی ٹانگوں کے درمیان سے گزر کر انہیں لڑکھڑا دیا، اور چاچا رشید سیدھے پرانے جوتوں کے ڈھیر میں جا گرے۔ "میری نوٹ بک! میری ٹارچ!" وہ جوتوں میں سے چیخ رہے تھے۔
دانش نے زِب کا ہاتھ پکڑا اور دونوں گلی میں بھاگ نکلے — گھنٹی کوائل دانش کی جیب میں محفوظ تھی۔
گھر جاتے ہوئے راستے میں دونوں خاموش ہو گئے۔ شام کی روشنی میں آم کا درخت دور سے نظر آ رہا تھا۔
"زِب،" دانش نے آہستہ سے کہا، "تمہیں ڈر تو نہیں لگتا؟ گھر واپس جانے سے… اور مجھے چھوڑنے سے؟"
زِب رک گیا۔ اس کی بڑی آنکھوں میں چمکتے آنسو آ گئے۔ "ڈر لگتا ہے، دانش۔ مگر امی جان وہاں انتظار کر رہی ہیں۔ اور تم نے سکھایا ہے… دور رہنے والے دل کے پاس ہوتے ہیں۔"
دانش کا گلا بھر آیا۔ اس نے اپنے فون کی طرف دیکھا — ابھی تک اس پر گول مول والا وقت دکھائی دے رہا تھا، اور ابا کا کوئی نیا پیغام نہیں آیا تھا۔
"ہاں،" دانش نے کہا۔ "اور ہم جلد ملیں گے بھی نہیں… میرا مطلب ہے، تم اپنی امی جان سے جلد ملو گے۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔"
زِب نے مسکرا کر کہا، "تم میرے سب سے اچھے زمینی دوست ہو، دانش۔ گول مول میں سب کو بتاؤں گا!"
شام ڈھلتے ہی دونوں آم کے درخت کے پاس پہنچے۔ دانش نے جہاز کا ڈھکن کھولا اور زِب نے گھنٹی کوائل کو احتیاط سے اس کی جگہ پر لگایا۔ ایک لمحے کے لیے کچھ نہ ہوا۔ پھر…
"ٹیں… ٹن… ٹیں!"
جہاز نے گھنٹی کی طرح ایک میٹھی آواز نکالی، اس کی روشنیاں ایک ایک کر کے جلنے لگیں، اور وہ ہلکا ہلکا گنگنانے لگا — جیسے کوئی پرانا گیت گا رہا ہو۔
"ہو گیا!" زِب خوشی سے اچھلا۔ "گھنٹی کوائل لگ گئی! جہاز جاگ گیا!"
مگر اسی وقت گھنٹی کی آواز گلی میں گونج گئی۔
نیچے گلی میں چاچا رشید — ابھی تک سر پر ایک پرانا جوتا پہنے — رک گئے۔ انہوں نے آم کے درخت کی طرف دیکھا، اپنی سائیکل موڑی، اور پوری طاقت سے چیخے:
"ایلین کی گھنٹی بج گئی! میں آ رہا ہوں!"
اور آم کے درخت کی شاخ پر بیٹھی میڈم بلی نے اپنی آنکھیں سکیڑ کر جہاز کی چمکتی روشنی کو دیکھا — جیسے وہ بھی جانتی ہو کہ اب کھیل اور بھی دلچسپ ہونے والا ہے۔