← زب: دوسری دنیا کا دوست · All episodes

Episode 4

میلے میں نیلا مہمان

میلے میں نیلا مہمان

صبح کی پہلی روشنی ابھی کھڑکی میں نہیں آئی تھی کہ دانش کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے کان میں ایک ننھی سی آواز گونجی:

"بلپ!"

اسٹور روم کی طرف سے ایک چمکتا ہوا بلبلہ تیرتا آیا اور دانش کے ناک کے سامنے پھوٹا۔ "بلپ!"

دانش ہنسا بھی اور ڈرا بھی۔ زِب جب گھبراتا تھا تو ہچکی والے بلبلے چھوڑتا تھا — چمکتے ہوئے، ہلکے نیلے بلبلے جو ہوا میں تیرتے اور "بلپ!" کر کے پھوٹ جاتے۔

"زِب! رک جاؤ! امی اٹھنے والی ہیں!" دانش سرگوشی میں بولا اور اسٹور روم میں گھسا۔

زِب ایک پرانے برتن میں دبکا تھا، اس کی بڑی آنکھیں خوف سے اور بڑی لگ رہی تھیں۔ اس کے منہ سے ایک اور بلبلہ نکلا — "بلپ!"

"مجھے ڈر لگ رہا ہے، دانش!" زِب نے کانپتی آواز میں کہا۔ "تمہاری امی آئیں گی… اور صفائی… اور میں…"

"بلپ! بلپ!"

دو اور بلبلے ہوا میں تیرنے لگے۔

دانش نے اپنا اسکول بیگ اٹھایا اور اندر سے کتابیں نکال کر بستر کے نیچے چھپا دیں۔ "اندر آ جاؤ۔ آج تم 'عطیہ والے کھلونے' ہو۔"

"عطیہ؟ یہ کھانے کی چیز ہے؟" زِب نے پوچھا۔

"نہیں! عطیہ مطلب دوسروں کو دینا۔ اسکول میں پرانے کھلونے جمع ہو رہے ہیں۔"

زِب بیگ میں گھسا۔ اس کے بڑے کان بیگ کے منہ سے باہر نکل رہے تھے۔ دانش نے جلدی سے ایک پرانی ٹوپی اس کے کانوں پر رکھی۔ "اب تم بالکل کھلونے لگ رہے ہو۔ بس… بلبلے مت چھوڑنا!"

"کوشش کروں گا،" زِب نے کہا۔ "مگر بلبلے میری مرضی سے نہیں آتے۔ وہ ڈر سے آتے ہیں۔"

اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی — "ٹھک ٹھک!"

دانش کی سانس رک گئی۔ "دانش؟ ناشتہ تیار ہے!" امی کی آواز۔

"آ… آ رہا ہوں امی!"

"اور سنو — ناشتے کے بعد میں اسٹور روم کی صفائی کروں گی۔"

"جی امی!" دانش نے بیگ کی زپ بند کی۔ اندر سے دبی آواز آئی: "بلپ!"

باورچی خانے میں امی پراٹھے بنا رہی تھیں۔ دانش نے جلدی جلدی ناشتہ کیا، بیگ کندھے پر ڈالا — اور تبھی میڈم بلی کھڑکی سے اندر کودی۔

میڈم کی نظر بیگ پر پڑی۔ بیگ کی زپ کے سوراخ سے ایک چمکتا بلبلہ باہر تیرا — "بلپ!"

میڈم کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "میاؤں!!"

وہ بیگ پر جھپٹی!

"میڈم! رکو!" دانش چلایا۔

بلی بیگ سے لپٹ گئی۔ بیگ لڑھک کر فرش پر گرا۔ زپ تھوڑی سی کھل گئی — اور اندر سے ایک نیلا کان باہر نکل آیا!

امی مڑیں۔ "دانش! یہ بلی تمہارے بیگ کے پیچھے کیوں پڑی ہے؟"

دانش کا دماغ بجلی کی طرح چلا۔ "ا… امی! اس میں پرانے کھلونے ہیں! اسکول میں عطیہ جمع ہو رہا ہے۔ میڈم کو لگتا ہے اندر مچھلی ہے!"

اسی وقت بیگ سے ایک اور بلبلہ نکلا اور میڈم کی ناک کے عین سامنے پھوٹا — "بلپ!"

میڈم اچھل کر پیچھے ہٹی، ناک سکوڑی، اور ناراضگی سے "میاؤں!" کہہ کر کھڑکی سے باہر کود گئی۔

امی ہنس پڑیں۔ "دیکھا؟ بلی بھی جان گئی کہ یہ صرف کھلونے ہیں۔"

دانش نے جلدی سے بیگ اٹھایا۔ اس کا دل اب بھی دھک دھک کر رہا تھا۔

"اچھا سنو،" امی نے کہا، "تم اسکول جاؤ۔ میں اسٹور روم صاف کر لوں گی۔"

پورا دن اسکول میں دانش کا دل کتابوں میں نہیں لگا۔ بیگ اس کی میز کے نیچے تھا، اور ہر تھوڑی دیر بعد اندر سے ہلکی آواز آتی: "بلپ!"

چھٹی کے وقت اعلان ہوا: "یاد رہے — آج شام اسکول کا سالانہ میلہ ہے! سب ضرور آئیں!"

دانش کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے بیگ میں سرگوشی کی: "زِب! آج شام تم میلہ دیکھو گے!"

"میلہ؟ یہ کھانے کی چیز ہے؟"

"نہیں! میلہ مطلب کھیل، تماشہ، مزہ!"

شام کو دانش نے زِب کو تیار کیا: کندھوں پر امی کی پرانی شال، اور آنکھوں پر بڑا سا کالا چشمہ — جو امی کی دراز میں برسوں سے پڑا تھا۔

"اب تم بالکل…" دانش نے دیکھا اور ہنس پڑا، "…کسی گاؤں کے بیمار چچا لگ رہے ہو!"

"میں چچا نہیں ہوں! میں زِب ہوں!" زِب نے احتجاج کیا، پھر چشمہ ٹھیک کیا۔ "مگر اس کالے شیشے میں دنیا نیلی لگتی ہے۔ مجھے گھر یاد آ رہا ہے۔"

میلے میں رنگ برنگی روشنیاں تھیں، ڈھول بج رہا تھا، اور ہر طرف خوشبو پھیلی تھی۔ زِب کی آنکھیں پھیل گئیں۔

"یہ گھومنے والا پہیہ!" اس نے جھولے کی طرف اشارہ کیا۔ "گل مول میں ایسے گول پہیے پر ہم اسکول جاتے ہیں!"

"یہ جھولا ہے،" دانش ہنسا۔

سموسے کی دکان پر زِب رک گیا۔ اس نے سموسہ اٹھایا، اسے گھمایا پھرایا، اور حیرت سے بولا: "یہ… تکونا ہے؟!"

"ہاں، سموسہ تکونا ہوتا ہے۔"

"گل مول میں تکون نہیں ہوتا! وہاں سب گول ہے — گول گھر، گول اسکول، گول بارش بھی!" زِب نے سموسہ منہ میں ڈالا۔ "مگر یہ تکونا… بہت مزیدار ہے!"

"گل مول والو، تکون سے ڈرو مت!" دانش ہنسا۔

پھر وہ انگوٹھی والی دکان پر پہنچے۔ لکڑی کے تختے پر بوتلیں لگی تھیں — جو انگوٹھی بوتل کے منہ میں پھنسائے، وہ انعام جیتے!

دکاندار نے کہا: "آؤ بچو! ایک کوشش صرف دس روپے!"

دانش نے تین کوششیں کیں — تینوں انگوٹھیاں بوتلوں سے ٹکرا کر گر گئیں۔

زِب نے شال کے نیچے سے اپنی چاروں انگلیاں نکالیں۔ "میں کوشش کروں؟"

"تمہاری چار انگلیاں سب دیکھ لیں گے!"

"چشمہ ہے نا!" زِب نے انگوٹھی اٹھائی۔

اس نے انگوٹھی کو اپنی چاروں انگلیوں سے پکڑا — انگلیاں بالکل برابر پھیلیں، انگوٹھی بالکل سیدھی ہو گئی۔ اس نے ہلکے سے اچھالا —

"ٹن!"

انگوٹھی سیدھی بوتل کے منہ میں!

دکاندار کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "ارے واہ!"

دوسری انگوٹھی — "ٹن!" تیسری — "ٹن!"

"تینوں!!" دکاندار حیران رہ گیا۔ "بچے، تمہارے ہاتھ میں تو جادو ہے!"

انعام تھا ایک گول چمکتا چاند-لیمپ — بالکل چھوٹے چاند جیسا!

زِب نے اسے ہاتھ میں لیا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ "یہ… میری امی جان کے لاکٹ جیسا ہے۔"

دانش خاموش ہو گیا۔ میلے کی بھیڑ میں اس نے ایک ابا کو اپنے بیٹے کو کندھے پر اٹھائے دیکھا۔ اس کا دل ایک دم بھر آیا — اس کے ابا دبئی میں تھے، بہت دور۔

زِب نے چاند-لیمپ دانش کی طرف بڑھایا۔ "یہ تم رکھو۔ تمہارے ابا کی تصویر کی طرح — دور رہنے والے… دل کے پاس ہوتے ہیں۔"

دانش کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر وہ مسکرا دیا۔

اسی وقت پیچھے سے آواز آئی: "رکو! نیلی روشنی! میں نے دیکھی!"

چاچا رشید! گلے میں کیمرہ، ہاتھ میں ٹارچ!

"ایلین! میلے میں ایلین ہے!" وہ چلائے اور کیمرہ اٹھایا۔

زِب گھبرا گیا — "بلپ!"

ایک چمکتا بلبلہ اس کے منہ سے نکلا اور سیدھا چاچا رشید کے کیمرے کے لینس کے سامنے تیرنے لگا۔

"کلک!"

چاچا رشید نے تصویر دیکھی اور خوشی سے اچھل پڑے: "مل گیا! نیلا دھبہ! یہی ایلین ہے! ثبوت!"

دانش اور زِب نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنسی روکنے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھ لیا — تصویر میں صرف ایک چمکتا نیلا بلبلہ تھا، اور اس کے پیچھے دھندلا سا نیلا دھبہ!

گھر واپسی پر راستے میں زِب کی کلائی کی پٹی اچانک ہری چمکنے لگی — "ٹیں! ٹیں!"

زِب کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "دانش… یہ… یہ گل مول سے کال آ رہی ہے!"