← زب: دوسری دنیا کا دوست · All episodes

Episode 3

آم کے درخت والا جہاز

آم کے درخت والا جہاز

امی کا ہاتھ اسٹور روم کے دروازے کے ہینڈل پر تھا۔

دانش کی سانس رک گئی۔ اندر، زِب ایک پرانے برتن کے پیچھے دبکا تھا — آنکھیں بند، منہ بند، بالکل ساکت۔ دانش نے اسے یہی سکھایا تھا: کوئی آئے تو بڑا سا کھلونا بن جانا۔

دروازہ کھلا۔ بلب کی روشنی اندر پڑی۔ امی کی نظر سیدھی زِب پر جا ٹکی۔

"یہ کیا ہے؟" امی آگے بڑھیں اور اس نیلے "کھلونے" کو اٹھا لیا۔

دانش کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے ڈر تھا کہیں امی سن نہ لیں۔

امی نے زِب کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ "کتنا عجیب کھلونا ہے… کان اتنے بڑے؟ اور انگلیاں — ایک، دو، تین، چار؟ کھلونوں کی تو پانچ ہوتی ہیں!"

اسی لمحے زِب کا بایاں کان ہلکا سا پھڑکا۔

امی ہلکی سی چیخیں اور زِب ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر برتنوں کے ڈھیر پر گرا — "دھپ!"

"امی! یہ… یہ بیٹری والا کھلونا ہے!" دانش نے جلدی سے کہا۔ "اسکول کے میلے سے لیا تھا۔ کبھی کبھی خود ہلتا ہے۔"

"خود ہلتا ہے؟" امی نے بھنویں سکیڑ لیں۔ "کھلونے خود نہیں ہلتے، دانش۔" انہوں نے دانش کی آنکھوں میں دیکھا۔ "سچ بتاؤ — تم نے کوئی جانور تو نہیں پال رکھا؟ چوہا؟ مینڈک؟ طوطا؟"

"نہیں امی! قسم سے! کوئی جانور نہیں!"

امی ایک لمحے کو خاموش رہیں، پھر بولیں: "اچھا۔ تو پھر اتوار کو میں خود اسٹور روم کی صفائی کروں گی۔ جو بھی اندر ہے — کھلونا ہو یا جانور — اسے باہر آنا ہی ہو گا۔"

دانش کا حلق سوکھ گیا۔ اتوار — یعنی صرف تین دن!

اگلے دن اسکول سے واپسی پر دانش نے بستہ ایک طرف پھینکا اور زِب کی کلائی پکڑ کر پچھواڑے کی طرف دوڑا — اس آم کے درخت کی طرف جہاں پہلی رات آسمان سے کچھ گرا تھا۔

درخت کی سب سے اونچی ٹہنیوں کے بیچ کچھ گول اور چمکدار پھنسا تھا — زِب کا جہاز! چاندی مائل نیلا، بالکل ایک بڑے گیند جیسا، جس پر آم کے پتے اور ایک ٹوٹی ٹہنی چپکی ہوئی تھی۔

زِب کی بڑی آنکھوں میں آنسو بھر آئے — چمکتے ہوئے، اصلی چمکتے ہوئے آنسو۔ "میرا… میرا گھر…" وہ دوڑ کر ٹہنی سے لپٹ گیا۔

"اوپر کیسے چڑھیں گے؟" دانش نے پوچھا۔

زِب نے اپنی چاروں انگلیوں سے ایک ٹہنی پکڑی اور بندر کی طرح اوپر چڑھ گیا۔ "گل مول میں سب چڑھنا جانتے ہیں! ہمارے درخت بھی گول ہوتے ہیں!"

دانش ہانپتے کانپتے پیچھے پیچھے چڑھا۔ اوپر پہنچ کر زِب نے جہاز کے پیٹ پر ایک گول ڈھکن گھمایا — "کلک!" — اور اندر سے دو عجیب چیزیں نکالیں۔

پہلی چیز ایک چپٹی گول پلیٹ تھی، بالکل چاند کے ٹکڑے جیسی۔ "یہ ہے چاند پتر،" زِب نے اداسی سے کہا۔ "جہاز کی بیٹری۔ یہ… خالی ہے۔ اسے پورے چاند کی روشنی چاہیے۔ پورا چاند — ورنہ یہ کبھی نہیں بھرے گا۔"

دوسری چیز ایک اسپرنگ جیسی کوائل تھی، جو بیچ میں سے مڑی ہوئی تھی۔ "اور یہ ہے گھنٹی کوائل… جو اب گھنٹی نہیں، جلیبی لگ رہی ہے!"

"میری امی کی جلیبی ایسی نہیں ہوتی!" دانش نے کہا۔

"تو تمہاری امی بھی ٹیڑھی جلیبی بناتی ہیں؟" زِب نے معصومیت سے پوچھا، اور دانش ہنس پڑا۔

پھر زِب نے اپنی کلائی کی پٹی دیکھی۔ اس پر ایک چھوٹا سا چاند بنا تھا جو آہستہ آہستہ گھٹ رہا تھا۔ زِب کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ "دانش… گول مول گیٹ! چوبیس دن! چوبیس دن میں پورے چاند والی رات اڑنا ہو گا — ورنہ گیٹ ایک سال کے لیے بند ہو جائے گا!"

دانش نے اپنی کاپی نکالی اور مرمت کی فہرست لکھی:

1۔ چاند پتر — پورے چاند کی رات چارج کرنا ہے۔ 2۔ گھنٹی کوائل — ٹیڑھی ہے؛ ٹھیک کرنی ہے یا نئی ڈھونڈنی ہے۔ 3۔ پورے چاند والی رات اڑان — گیٹ بند ہونے سے پہلے!

"یہ فہرست…" زِب نے کہا، "یہ ہمارا خزانے کا نقشہ ہے!"

اسی وقت نیچے سے سائیکل کی گھنٹی بجی — "ٹرن! ٹرن!" چاچا رشید! دن کے وقت بھی ان کی سائیکل پر تین ٹارچیں لگی تھیں، گلے میں کیمرہ لٹک رہا تھا، اور ہاتھ میں ان کی مشہور کاپی — "ایلین پکڑو"۔

"کسی نے نیلی روشنی دیکھی؟!" وہ چلائے۔ "آسمان سے گری تھی! میرے پاس ثبوت ہے!"

دانش نے جلدی سے درخت پر پڑی ایک پرانی چادر جہاز پر ڈال دی۔ زِب فوراً "کھلونا" بن کر ایک ٹہنی سے لٹک گیا۔

چاچا رشید نے اوپر دیکھا اور کیمرے سے ایک تصویر کھینچ لی — "کلک!"

"مل گیا!" وہ خوشی سے چلائے۔ "نیلا دھبہ! یہی ایلین ہے!" اور وہ فاتحانہ انداز میں سائیکل چلاتے ہوئے چلے گئے۔

درخت کے اوپر دانش اور زِب ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے — مگر ہنسی کے بیچ زِب کی نظر ایک پکے ہوئے آم پر پڑی۔

"یہ… پیلا چاند ہے؟" اس نے آم کو دانت سے کاٹا۔

اگلے ہی لمحے اس کا منہ، اس کے گال، اس کی چاروں انگلیاں — سب آم کے رس سے بھر گئے۔ "میٹھا! میٹھا! گل مول میں ایسا پھل نہیں ہوتا!"

دیوار پر بیٹھی بلی میڈم نے نفرت سے "میاؤں!" کیا۔

زِب نے اسے دیکھ کر کہا: "تمہارا چھوٹا سیکیورٹی گارڈ… آج بھی ڈیوٹی پر ہے۔ مجھ سے ناراض ہے۔"

"وہ تم سے نہیں،" دانش نے آم پونچھتے ہوئے کہا، "وہ سب سے ناراض رہتی ہے۔"

شام ڈھلنے لگی۔ زِب نے چاند پتر کو ہاتھ میں لیا اور دیر تک دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا: "گل مول میں میری امی جان ایسا ہی گول لاکٹ پہنتی ہیں۔ جب میں چھوٹا تھا اور ڈرتا تھا، وہ یہ لاکٹ میرے ہاتھ میں دے دیتی تھیں۔"

اس کی آنکھ سے ایک چمکتا آنسو ٹپکا — اور چاند پتر پر گرتے ہی پلیٹ ہلکی سی چمکی!

"دیکھو!" زِب حیران رہ گیا۔ "اسے… میری یاد محسوس ہوتی ہے۔"

دانش نے اپنی جیومیٹری بکس کھولی۔ اندر ایک پرانی تصویر تھی — دبئی کی کسی عمارت کے سامنے کھڑے ایک مسکراتے آدمی کی۔ "یہ میرے ابا ہیں۔ میں ان کی تصویر روز دیکھتا ہوں۔"

زِب نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ "میری امی جان کہتی ہیں — دور رہنے والے… دل کے پاس ہوتے ہیں۔"

دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ آم کے پتے سرسرائے۔ کہیں دور سے اذان کی آواز آئی۔

رات کے کھانے پر امی نے اچانک کہا: "دانش، سنو — میں نے فیصلہ بدل دیا ہے۔ اتوار کا انتظار نہیں کروں گی۔ کل صبح میں خود اسٹور روم کی صفائی کروں گی۔"

دانش کے ہاتھ سے روٹی کا نوالا چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ "ک… کل صبح؟!"

"ہاں۔ اور جو بھی اندر ہے — کھلونا ہو یا جانور — کل اسے باہر آنا ہی ہو گا۔"

رات کو دانش چپکے سے اسٹور روم میں گیا۔ زِب ایک پرانے برتن میں دبکا تھا، اس کی کلائی کی پٹی مدھم سرخ چمک رہی تھی۔

"دانش…" زِب نے سرگوشی کی، "اب ہم کیا کریں گے؟"

اور اندھیرے میں ایک ننھا سا بلبلہ پھوٹا۔

"بلپ!"