← زب: دوسری دنیا کا دوست · All episodes

Episode 2

میٹھی برف والا حادثہ

میٹھی برف والا حادثہ

زِب کو چھپانا آسان نہیں تھا۔ خاص طور پر اس لیے کہ زِب خود چھپنا نہیں چاہتا تھا۔

"یہ کمرہ… بہت چھوٹا… بہت اندھیرا…" زِب نے اسٹور روم کا جائزہ لیا، جہاں پرانے برتن، ابا کی پرانی سائیکل اور ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پڑی تھی۔ "گل مول میں میرا کمرہ گول تھا۔ یہ کمرہ… چوکور ہے۔ مجھے چوکور کمرے سے ڈر لگتا ہے۔"

"ڈرو مت،" دانش نے کہا، "یہاں کوئی نہیں آتا۔ بس امی کبھی کبھی اچار کا مرتبان لینے آتی ہیں۔"

"اچار؟" زِب کی آنکھیں چمکیں۔ "یہ… کھانے والی چیز؟"

"ہاں، مگر تمہیں نہیں ملے گا۔ پہلے یہ بتاؤ — تم دن بھر یہیں رہو گے۔ شور نہیں کرو گے۔ اور اگر کوئی آئے تو…" دانش نے سوچا، "تو تم ایک بڑا سا کھلونا بن جانا۔ منہ بند، آنکھیں بند۔"

زِب نے فوراً آنکھیں بند کر لیں اور ساکت ہو گیا۔ "ایسے؟"

"بالکل ایسے۔ تم تو پیدا ہی چھپنے کے لیے ہوئے ہو۔"

اگلی صبح دانش کی زندگی کا سب سے مشکل دن تھا — اسکول کا دن۔ زِب کو اکیلا چھوڑنا اسے گوارا نہیں تھا، مگر اسکول چھوڑنا بھی ممکن نہیں تھا۔ امی خود اسکول میں پڑھاتی تھیں، اور غیر حاضری کا مطلب تھا سو سوال۔

اس نے ایک ترکیب نکالی۔ اپنا بڑا سا اسکول بیگ خالی کیا، نیچے کتابیں رکھیں، اوپر ایک تولیہ بچھایا، اور زِب کو اندر بٹھا دیا۔ بیگ کی زپ تھوڑی سی کھلی رکھی تاکہ ہوا آئے۔

"یاد رکھو،" اس نے سرگوشی کی، "بیگ میں بالکل خاموش۔ اگر کوئی پوچھے کہ بیگ اتنا بھاری کیوں ہے، تو میں کہوں گا… کتابیں زیادہ ہیں۔"

"کتابیں،" زِب نے دہرایا۔ "گل مول میں کتابیں گول ہوتی ہیں۔ تمہاری کتابیں چوکور ہیں۔ مجھے چوکور کتابوں سے بھی ڈر لگتا ہے۔"

"بس چپ رہو!"

اسکول میں پہلا پیریڈ ٹھیک گزرا۔ دوسرے پیریڈ میں استانی نے دانش سے سوال پوچھا، اور جیسے ہی اس نے منہ کھولا، بیگ سے ایک دبی ہوئی آواز آئی: "جواب… گل مول میں اس کا جواب گول ہوتا ہے!"

پوری کلاس نے مڑ کر دیکھا۔ دانش کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "وہ… وہ میں نے خود ہی کہا تھا۔ سوچتے سوچتے۔"

استانی نے بھنویں سکیڑیں مگر آگے بڑھ گئیں۔

تیسرے پیریڈ کے بعد وقفہ ہوا۔ دانش بیگ لے کر نلکے کی طرف گیا تاکہ زِب کو پانی پلا سکے۔ اس نے بیگ تھوڑا کھولا — اور زِب کی نظر سامنے رکھے صابن کی ٹکیہ پر پڑی۔

اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "اوہو! میٹھی برف!" اور اس سے پہلے کہ دانش روکتا، زِب نے صابن کا ایک بڑا سا کاٹ لیا۔

اگلے پانچ سیکنڈ میں جو ہوا، اسے دانش ساری عمر نہیں بھولے گا۔ زِب کا منہ بلبلوں سے بھر گیا۔ اس نے "میٹھی! میٹھی!" چلاتے ہوئے بیگ سے چھلانگ لگائی، نلکے کی طرف دوڑا، اور پورا منہ نلکے میں دے دیا۔ پانی اور جھاگ ہر طرف اڑنے لگے۔ دو لڑکے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔

"یہ کیا ہے؟!" چوکیدار دوڑا آیا۔

دانش نے جلدی سے زِب کو تولیے میں لپیٹا۔ "میرا… میرا چھوٹا کزن ہے۔ شہر سے آیا ہے۔ اسے… اسے صابن سے الرجی ہے۔" اس نے زِب کو گھورا۔ "ہے نا؟"

"ہے،" زِب نے بلبلے اگلت ہوئے کہا۔ "بہت بڑی… الرجی۔ میٹھی برف… دھوکہ ہے۔"

چوکیدار نے سر ہلایا اور چلا گیا۔ دانش نے سکھ کی سانس لی — مگر اس کی مشکل ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

گھر واپس آ کر اس نے زِب کو دوبارہ اسٹور روم میں بٹھایا اور خود ہوم ورک کرنے بیٹھ گیا۔ شام کو امی آئیں، ان کے ہاتھ میں ایک خالی مرتبان تھا۔

"دانش، اچار کا مرتبان ختم ہو گیا ہے۔ اسٹور سے دوسرا نکال لاؤ۔"

دانش کا دل دھڑکا۔ "میں… میں ابھی لاتا ہوں!" وہ دوڑا، اسٹور میں گھسا — اور دیکھا کہ زِب مرتبانوں کی قطار کے سامنے کھڑا اچار کے مرتبان کو گھور رہا ہے، اس کی چاروں انگلیاں ڈھکن پر ہیں۔

"رک!" دانش نے سرگوشی کی۔

"بس… ایک… چکھنا…" زِب نے کہا۔

دانش نے جلدی سے ایک مرتبان اٹھایا اور باہر نکل آیا۔ امی نے مرتبان لیا، مگر ان کی نظریں اسٹور کے دروازے پر ٹکی تھیں۔

"دانش،" انہوں نے آہستہ سے کہا، "اسٹور میں… کوئی ہے؟"

"نہیں امی! کوئی نہیں!" دانش نے جلدی سے کہا — اتنی جلدی کہ امی کی بھنویں اوپر چڑھ گئیں۔

"ہمم۔" امی نے کہا۔ "پھر وہ آواز کیسی تھی؟ جیسے کوئی… بلبلے اگل رہا ہو؟"

دانش کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اور اسٹور کے اندر، زِب نے — جو ابھی تک صابن کے ذائقے سے لڑ رہا تھا — ایک اور بلبلہ اگلا۔

"بلپ!"

رات کو جب امی سو گئیں، دانش چپکے سے اسٹور روم میں گیا۔ زِب ایک پرانے برتن میں دبکا بیٹھا تھا، اور اس کی کلائی کی پٹی ہلکی ہلکی سرخ چمک رہی تھی۔

"یہ سرخ کیوں چمک رہی ہے؟" دانش نے پوچھا۔

زِب نے پٹی کو دیکھا اور اس کی بڑی آنکھیں اداس ہو گئیں۔ "یہ… گھر کی یاد دلاتی ہے۔ جب بہت یاد آتی ہے، تو یہ گرم ہو جاتی ہے۔" اس نے چمکتے آنسو پونچھے — اصل میں چمکتے ہوئے۔ "تمہارے ابا بھی دور ہیں نا؟ تمہیں بھی یاد آتی ہے؟"

دانش نے سر ہلایا۔ اس کے گلے میں کچھ اٹکا۔ "ہاں۔ بہت۔"

دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے — ایک زمینی بچہ اور ایک نیلا مہمان، دونوں کسی دور کی یاد میں۔ پھر زِب نے اچانک کہا: "تمہاری امی اچھی ہیں۔ میری امی جان بھی اچھی ہیں۔ جب میں واپس جاؤں گا، تو انہیں بتاؤں گا کہ زمین پر بھی اچھی امیاں ہوتی ہیں۔"

دانش مسکرایا۔ "پہلے تمہیں واپس جانے کے لیے جہاز ٹھیک کرنا ہو گا۔ کل ہم آم کے درخت پر چڑھ کر دیکھیں گے کہ جہاز کو کیا کیا چاہیے۔"

"اور میٹھی برف؟" زِب نے امید سے پوچھا۔

"صابن نہیں کھانا!" دانش نے کہا، اور دونوں ہنس پڑے۔

باہر دیوار پر، محلے کی بلی میڈم بیٹھی انہیں گھور رہی تھی — جیسے وہ سب کچھ جانتی ہو۔

امی نے دروازے کی طرف قدم بڑھایا۔