Episode 1
آسمان سے گرا مہمان

دانش کو ستارے دیکھنے کی عادت اپنے ابا سے ملی تھی۔
ابا دبئی میں مزدوری کرتے تھے۔ ویڈیو کال کبھی مہینے میں ایک بار ہوتی، کبھی وہ بھی نہیں — کبھی سگنل خراب، کبھی ابا کی شفٹ لمبی۔ مگر جانے سے پہلے ابا نے چھت پر کھڑے ہو کر کہا تھا: "دانش، جب کبھی میری یاد آئے تو ستاروں کو دیکھنا۔ جو ستارے تم یہاں سے دیکھتے ہو، وہی میں وہاں سے دیکھتا ہوں۔ اور جب کوئی ستارہ ٹوٹے تو دعا مانگنا — وہ دعا سیدھی اوپر جاتی ہے۔"
سو گیارہ سال کا دانش ہر رات کھانے کے بعد چھت پر جا بیٹھتا۔ اس کا سب سے اچھا دوست ولید پچھلے سال کراچی چلا گیا تھا، اسکول میں نئے لڑکے ابھی دوست نہیں بنے تھے، اور گلی میں شام کو کرکٹ بھی اب کم ہوتی تھی۔ بس وہ تھا، چھت تھی، اور ستارے تھے۔
اس رات بھی وہ ستارے گن رہا تھا کہ اس نے دیکھا — ایک ستارہ ٹوٹا۔ مگر یہ ٹوٹا ہوا ستارہ نیچے آتے آتے بڑا ہوتا گیا، تیز ہوتا گیا، اور پھر — دھڑام!
آواز صحن کی طرف سے آئی تھی، پانی کی ٹنکی کے قریب۔ ساتھ ہی ایک عجیب سی نیلی روشنی پھیلی اور بجھ گئی۔
دانش کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ امّی نیچے سو رہی تھیں۔ اس نے ٹارچ اٹھائی، چپل پہنے اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر کر صحن میں آیا۔ آم کے درخت کے نیچے… کچھ تھا۔
ایک گول سی، چمکدار چیز درخت کی شاخوں میں پھنسی ہوئی تھی — جیسے کوئی بڑی سی تھالی اُلٹی پڑی ہو۔ اور اس کے نیچے، زمین پر، ایک… بچہ؟ نہیں۔ بچے نیلے نہیں ہوتے۔ اور ان کے کان اتنے بڑے بھی نہیں ہوتے۔ اور — دانش نے ٹارچ کی روشنی میں گنا — ان کے ہاتھ میں چار انگلیاں بھی نہیں ہوتیں!
وہ چھوٹی سی مخلوق اٹھ بیٹھی۔ اس نے اپنا گول سا سر ہلایا، دانش کو دیکھا، اور ٹوٹی پھوٹی اردو میں بولی:
"تم… زمینی بچہ؟ ڈرنا نہیں۔ میں… اچھا والا ہوں۔ سکول کی سیر… گل مول سے… راستہ بھول… اوہ ہو، میری ٹانگ۔"
دانش کے منہ سے بس اتنا نکلا: "تم… تم بول سکتے ہو؟!"
"بولنا؟ ہاں! کہکشاں سکول میں اردو سبجیکٹ… میں فرسٹ آیا تھا!" اس نے فخر سے کہا، پھر رسّی میں پھنسے اپنے جہاز کی طرف اشارہ کیا: "یہ میرا جہاز۔ خراب۔ بالکل خراب۔ امی جان کو پتہ چلا تو…" اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے — اور وہ آنسو چمک رہے تھے، اصل میں! روشنی والے آنسو!
تب ہی کچن سے پریشر کوکر کی سیٹی بجی — سیییی!
چھوٹی مخلوق اچھل کر دانش کے پیچھے چھپ گئی: "حملہ! یہ تمہارا سیٹی والا بم ہے؟! بھاگو!"
دانش ہنس پڑا — مگر پھر کچھ ہوا۔ محلے کی بلی، میڈم، دیوار سے کود کر صحن میں آئی۔ مخلوق نے اسے دیکھا اور سنجیدگی سے سر ہلایا: "سمجھ گیا۔ یہ تمہارا چھوٹا سا سکیورٹی گارڈ ہے۔ سلام، گارڈ صاحبہ! میں زِب۔ گل مول سے آیا ہوں۔ میری کوئی بری نیت نہیں۔"
بلی نے اسے گھور کر دیکھا اور چل دی۔
باتوں باتوں میں رات گزرنے لگی۔ زِب نے بتایا کہ اس کا جہاز تین چیزوں سے ٹھیک ہو گا: ایک چاند پتّر بیٹری، ایک گھنٹی کوائل، اور پورے چاند کی رات — کیونکہ اس رات گل مول کا دروازہ کھلتا ہے، ورنہ پورا سال بند۔ اور پھر اس نے آہستہ سے کہا: "امی جان انتظار کر رہی ہوں گی۔ وہ روز رات کو میرا نام لے کر کھڑکی سے…" اس کی آواز بھرا گئی۔
دانش خاموش ہو گیا۔ وہ اس احساس کو اچھی طرح جانتا تھا۔ "میں سمجھتا ہوں،" اس نے آہستہ کہا۔ "میرے ابا بھی بہت دور ہیں۔ میں بھی روز ان کا انتظار کرتا ہوں۔"
دونوں کچھ دیر چپ چاپ آم کے درخت کے نیچے بیٹھے رہے — ایک زمینی بچہ، ایک آسمانی بچہ، اور دونوں کے دل میں ایک ہی جیسی اداسی۔
پھر اچانک زِب کی کلائی پر بندھی پٹی میں سرخ بتی جلنے لگی — ٹن، ٹن، ٹن۔ زِب کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ اس نے لرزتی آواز میں کہا: "یہ… یہ خطرے والا سگنل ہے۔ گھر والوں نے مجھے ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے۔ اچھی بات ہے… مگر دانش — اگر اِنھوں نے مجھے پہلے ڈھونڈ لیا تو…"
"انھوں نے؟ کون؟" دانش نے پوچھا۔
زِب جواب دینے ہی والا تھا کہ گلی سے ایک آواز گونجی — سائیکل کی گھنٹی اور چچا رشید کی گرجدار آواز:
"میں نے دیکھا ہے! اوپر سے کوئی گرا ہے! گاؤں والو، جاگو — اس دفعہ میرے پاس ثبوت ہو گا!"