← زب: دوسری دنیا کا دوست · All episodes

Episode 11

تین چاند، اور ابو کی اچانک کال!

تین چاند، اور ابو کی اچانک کال!

صبح جب دانش کی آنکھ کھلی تو سب سے پہلے اس نے زِب کی کلائی کی پٹی دیکھی۔

پٹی پر اب تین چاند چمک رہے تھے۔

صرف تین۔

کل چار تھے۔ آج تین۔ مطلب یہ کہ گول مول کا دروازہ کھلنے میں صرف تین راتیں رہ گئی تھیں۔ تین راتیں، اور پھر زِب کو جانا ہوگا۔

“تین چاند،” دانش نے آہستہ سے کہا۔ “زِب، وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے۔”

زِب نے اپنی چار انگلیوں سے چاند گنے۔ ایک… دو… تین۔ پھر اس نے مسکرا کر کہا، “ڈرو مت، دانش! تین بہت ہوتے ہیں۔ گول مول میں تین کا مطلب ہوتا ہے… بہت زیادہ! جیسے تین سموسے۔ تین سموسے کبھی کم نہیں ہوتے!”

دانش ہنس پڑا، مگر دل کے اندر ایک ہلکی سی کسک بھی تھی۔ تین راتیں۔ بس تین راتیں۔

ناشتہ کے بعد امی فرح نے ایک فہرست بنائی۔ امی اب راز میں شامل تھیں، اور جب امی کسی کام میں شامل ہو جائیں تو وہ کام آدھا نہیں رہتا۔

“سنو،” امی نے کہا۔ “آج رات چاند پتر کو چاندنی میں رکھنا ہے۔ گھنٹی کوائل کی جانچ کرنی ہے۔ جہاز کو صاف کرنا ہے۔ اور آم کے درخت کے نیچے کوئی شور نہیں کرنا۔ سمجھ گئے؟”

“جی امی!” دانش نے کہا۔

“اور ہاں،” امی نے مسکرا کر کہا، “زِب کے سفر کے لیے سموسے بھی بنانے ہیں۔ خالی پیٹ کوئی ستاروں تک نہیں جاتا۔”

زِب نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ “سموسے! سفر کا پیٹرول! سموسے کے بغیر جہاز اڑتا نہیں، صرف… بیٹھتا ہے!”

دوپہر کو چاچا رشید آئے۔ ان کی سائیکل پر اب بھی تین ٹارچیں لگی تھیں، مگر ان کی نوٹ بک — وہ مشہور “ایئن پکڑو” والی نوٹ بک — اب بند تھی۔ چاچا رشید نے وہ تصویر مٹا دی تھی، اور اب وہ دوست تھے، شکاری نہیں۔

“دانش بیٹا!” چاچا رشید نے سرگوشی میں کہا۔ “آج رات آسمان میں کچھ ہونے والا ہے۔ چاند پتر چارج ہوگا تو روشنی نکلے گی۔ لوگ دیکھیں گے۔ پوچھیں گے۔ ہمیں کوئی کہانی تیار رکھنی چاہیے!”

دانش نے سوچا۔ “کیسی کہانی، چاچا؟”

چاچا رشید نے سینہ پھلایا۔ “میں یو ایف او کا ماہر ہوں! میں سب کو بتا دوں گا کہ یہ… شہابِ ثاقب کی بارش ہے! آسمان میں روشنیاں؟ یہ تو ہر سال ہوتی ہیں! لوگ تالیاں بجائیں گے، تصویریں لیں گے، اور کسی کو شک نہیں ہوگا!”

“واہ، چاچا!” دانش نے کہا۔ “یہ تو زبردست منصوبہ ہے!”

زِب نے سر ہلایا۔ “شہاب… ثاقب؟ یہ کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ آسمان کی پھلجھڑیاں ہوتی ہیں؟”

“ہاں، کچھ ایسی ہی!” چاچا رشید ہنسے۔ “بس تم روشنی کرنا، کہانی میں سنبھال لوں گا!”

شام کو سب آم کے درخت کے نیچے جمع ہوئے۔ زِب کا چھوٹا گول جہاز درخت کی شاخوں میں چھپا ہوا تھا۔ چاند پتر — چاند کی روشنی سے چارج ہونے والی پلیٹ — چھت سے لا کر درخت کے نیچے رکھی گئی۔ گھنٹی کوائل اپنی جگہ پر لگی ہوئی تھی۔

مگر ایک مسئلہ تھا۔

میڈم بلی۔

میڈم درخت کے نیچے بیٹھی تھی، اور اس کی نظریں گھنٹی کوائل پر تھیں۔ جب بھی دانش کوائل کے قریب جاتا، میڈم اپنی دم ہلاتی، جیسے کہہ رہی ہو: یہ میری جگہ ہے، یہاں سے ہٹو۔

“میڈم!” زِب نے کہا۔ “تم چھوٹی سیکیورٹی گارڈ ہو، مگر آج چھٹی لے لو! آج ہماری ڈیوٹی ہے!”

میڈم نے اسے گھورا، پھر آہستہ سے اٹھی اور درخت کی دوسری طرف جا بیٹھی۔ مگر اس کی آنکھیں اب بھی سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔

چاند نکلا تو چاند پتر چمکنے لگا۔ ہلکی نیلی روشنی۔ پھر تھوڑی تیز۔ دانش نے سانس روک کر دیکھا۔ چارجنگ شروع ہو گئی تھی!

“ہو رہا ہے!” دانش نے خوشی سے کہا۔ “چاچا، دیکھیں! آدھے سے زیادہ چارج ہو گیا ہوگا!”

اسی وقت محلے میں شور مچ گیا۔

“دیکھو! آسمان میں روشنیاں!”

“وہ کیا ہے؟”

“شاید… شہابِ ثاقب کی بارش!”

لوگ چھتوں پر آ گئے۔ بچے تالیاں بجانے لگے۔ کسی نے کہا، “واہ! کتنی خوبصورت روشنیاں ہیں!”

چاچا رشید فوراً میدان میں آ گئے۔ “جی ہاں! یہ شہابِ ثاقب کی بارش ہے! میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا! سب لوگ دیکھیں، ڈریں نہیں! یہ قدرت کا کرشمہ ہے!”

لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ چاچا رشید نے فخر سے سینہ پھلایا اور دانش کو آنکھ ماری۔ منصوبہ کام کر رہا تھا!

مگر دانش کا دل اچانک زور سے دھڑکا۔ آسمان کی روشنیاں صرف چاند پتر کی روشنی نہیں تھیں۔ وہ روشنیاں اوپر سے آ رہی تھیں — جیسے کوئی دور سے اشارہ کر رہا ہو۔

“زِب،” دانش نے سرگوشی کی، “یہ روشنیاں… کیا گول مول سے آ رہی ہیں؟”

زِب نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی بڑی آنکھیں چمک اٹھیں۔ “شاید… دروازہ تیاری کر رہا ہے۔ دروازہ کہہ رہا ہے: تیار ہو جاؤ، تین راتیں باقی ہیں۔”

اسی لمحے دانش کے فون کی گھنٹی بجی۔

امی نے فون اٹھایا، پھر ان کی آواز بدل گئی۔ “دانش! جلدی آؤ! تمہارے ابو کی کال ہے!”

دانش بھاگا۔ فون پر ابو کی آواز آئی — مگر اس بار وہ دبئی سے نہیں آ رہی تھی۔ پیچھے ہوائی اڈے کا شور تھا۔

“بیٹا!” ابو نے کہا۔ “خوشخبری! میری فلائٹ پہلے آ گئی! میں ہوائی اڈے پر اتر چکا ہوں! میں گھر آ رہا ہوں!”

دانش کا دل خوشی سے اچھل پڑا — اور پھر وہیں رک گیا۔

ابو آ رہے تھے۔ آج رات۔ اسی رات جب چاند پتر چارج ہو رہا تھا، جب روشنیاں آسمان میں تھیں، جب زِب کی تیاریاں آدھی تھیں۔

“ابو!” دانش کی آواز کانپ گئی۔ “آپ… آپ آج ہی آ رہے ہیں؟”

“ہاں، بیٹا!” ابو ہنسے۔ “فلائٹ جلدی مل گئی تو میں نے سوچا، کیوں نہ آج ہی آ جاؤں! تم گھر پر ہی رہنا، میں آ رہا ہوں!”

فون بند ہو گیا۔ دانش فون ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہا۔

ایک طرف ابو تھے — جن کا وہ مہینوں سے انتظار کر رہا تھا۔ جن کی کال کا وہ ہر رات انتظار کرتا تھا۔ جو اب گھر آ رہے تھے۔

دوسری طرف زِب تھا — آم کے درخت کے نیچے، چاند پتر کے ساتھ، تین راتوں کی گنتی کے ساتھ۔

دانش نے امی کی طرف دیکھا۔ امی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“بیٹا،” امی نے نرمی سے کہا، “کسی کو یاد کرنا محبت کو کم نہیں کرتا۔ تمہارے ابو دور تھے، تب بھی تمہارے دل میں تھے۔ زِب دور جائے گا، تب بھی تمہارے دل میں رہے گا۔ محبت فاصلے سے نہیں ماپی جاتی۔”

دانش کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے سوچا: امی ٹھیک کہتی ہیں۔ مگر پھر بھی… آج رات کس کے پاس رہوں؟

زِب دور سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ بس اپنی چار انگلیوں والا ہاتھ اٹھا کر ہلایا، جیسے کہہ رہا ہو: میں یہیں ہوں، دوست۔

دانش نے فیصلہ کیا۔ وہ چاند پتر کے پاس رہے گا — آج رات کی چارجنگ بہت ضروری تھی۔ ابو صبح تک گھر پہنچ جائیں گے، اور دانش ان سے صبح ملے گا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر دوست کے لیے ضروری تھا۔

وہ درخت کی طرف بھاگا۔ “زِب! میں آ گیا! چارجنگ کیسی ہے؟”

مگر جواب میں خاموشی تھی۔

چاند پتر کی نیلی روشنی ٹمٹما رہی تھی — کبھی تیز، کبھی مدھم۔ آسمان کی روشنیاں اب آم کے درخت کے اوپر جمع ہو رہی تھیں، گول گول، جیسے کوئی دروازہ آہستہ آہستہ کھل رہا ہو۔

اور میڈم بلی درخت کی طرف دیکھ کر زور سے میاؤں کی۔

“زِب؟” دانش نے پکارا۔ “چاند پتر کو کیا ہو رہا ہے؟”

زِب نے پلیٹ کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں چمکتی بوندیں بھر آئیں۔ “دانش… چارجنگ رک رہی ہے۔ پلیٹ کی روشنی… کم ہو رہی ہے!”

آسمان میں روشنیاں تیز ہو گئیں۔ درخت کی شاخیں ہلنے لگیں۔ اور چاند پتر کی روشنی ایک بار پھر ٹمٹمائی — اس بار پہلے سے زیادہ مدھم۔