← زب: دوسری دنیا کا دوست · All episodes

Episode 10

چاچا رشید کا بڑا فیصلہ!

چاچا رشید کا بڑا فیصلہ!

دانش کی آنکھ صبح ہونے سے پہلے ہی کھل گئی۔ اس کا دل اتنا بھاری تھا جیسے اس کے سینے پر کوئی پتھر رکھا ہو۔ نیچے گلی میں ابھی خاموشی تھی، مگر دانش کو لگ رہا تھا کہ ہر کھڑکی سے چاچا رشید کی آواز آئے گی: ثبوت مل گیا! ثبوت مل گیا!

اسٹور روم میں زِب پہلے سے جاگ رہا تھا۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھا اپنی کلائی کی پٹی کو دیکھ رہا تھا۔ پٹی پر چار چھوٹے چاند چمک رہے تھے۔

چار چاند۔ چار راتیں۔

زِب نے بہت آہستہ سے کہا، “امی جان، میں نے کل رات چاند پتر کو آدھا بھر دیا۔ آدھا رہ گیا ہے۔ مگر میرا راز…” اس کی آواز رک گئی۔ اس کی آنکھوں میں چمکتی ہوئی بوندیں آ گئیں۔

دانش نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ “زِب، چاچا رشید ابھی سو رہے ہوں گے۔ ہم کچھ سوچ لیں گے۔”

“مگر تصویر؟” زِب نے پوچھا۔ “تصویر والا ڈبہ تو ان کے پاس ہے۔ وہ سب کو دکھائیں گے۔ پھر سب کہیں گے: ایلین! ایلین! پھر میں گول مول کیسے جاؤں گا؟”

دانش کے پاس جواب نہیں تھا۔ اس نے اپنے ابو کو یاد کیا — دبئی بہت دور تھا، اور کئی دن سے کوئی کال نہیں آئی تھی۔ دونوں ایک ہی کشتی میں تھے: دونوں کسی کو بہت یاد کر رہے تھے۔

امی ناشتے پر آئیں تو ان کے چہرے پر فکر تھی، مگر آواز پرسکون تھی۔ “گھبراؤ نہیں۔ چاچا رشید اچھے آدمی ہیں، بس تھوڑے سے… شوقین ہیں۔ آج کا لفظ یاد ہے؟”

زِب نے فوراً سیدھا ہو کر کہا، “جی، امی صاحبہ! آج کا لفظ ہے دوستی!”

“دوستی کا مطلب ہے،” امی نے کہا، “جب تم کسی کے لیے وہ کرو جو تمہارے اپنے لیے مشکل ہو۔”

زِب نے سر ہلایا، پھر سوچ میں پڑ گیا۔ “دوستی… دوستی سموسہ جیسی ہے؟”

“ہاں!” زِب نے کہا۔ “سموسہ تم آدھا کھاتے ہو، آدھا دوست کو دیتے ہو۔ اور دوست بھی آدھا دیتا ہے۔ پھر دونوں کا پیٹ بھر جاتا ہے اور دل بھی بھر جاتا ہے! یہی دوستی ہے نا؟”

امی ہنس پڑیں۔ “بالکل ٹھیک کہا، زِب۔ مگر آج دوستی کی آزمائش چاچا رشید کی ہوگی۔”

ناشتے کے بعد گلی میں شور اٹھا۔ دانش نے کھڑکی سے دیکھا: چاچا رشید سائیکل کے پاس کھڑے تھے، گلے میں کیمرا، ہاتھ میں نوٹ بک، اور اردگرد محلے والے جمع ہو رہے تھے۔

“آؤ! آؤ! آج میں تم سب کو وہ دکھاؤں گا جو کسی نے نہیں دیکھا!” چاچا رشید کہہ رہے تھے۔ “کل رات میں نے چھت پر نیلی روشنی دیکھی! اور تصویر بھی لی! ایلین کی اصلی تصویر!”

“چاچا، رک جائیں!” دانش گلی میں بھاگا۔

زِب بھی اس کے پیچھے بھاگا، کمبل اوڑھے ہوئے، جیسے وہ ایک چھوٹا سا بھوت ہو۔ امی بھی جلدی سے پیچھے آئیں۔

چاچا رشید نے کیمرا اوپر اٹھایا۔ ان کی آنکھوں میں خوشی تھی، مگر اس کے نیچے تھکاوٹ بھی تھی۔ “دانش بیٹا، آج میں مشہور ہو جاؤں گا! اخبار والے آئیں گے! سب کہیں گے: رشید نے ایلین پکڑ لیا!”

“چاچا، پلیز،” دانش نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ “وہ تصویر مت دکھائیں۔ وہ… وہ میرا دوست ہے۔”

اسی وقت میڈم بلی کہیں سے آئی اور چاچا رشید کی نوٹ بک پر بیٹھ گئی، جیسے وہ بھی تماشا دیکھنا چاہتی ہو۔ چاچا رشید نے اسے ہٹایا، مگر میڈم پھر بیٹھ گئی۔

مگر جیسے ہی انہوں نے کیمرے کا بٹن دبانا چاہا، ان کا ہاتھ رک گیا۔

انہیں کل رات یاد آ گئی۔ سیڑھی جھک گئی تھی، ان کا پاؤں ہوا میں تھا، اور وہ گرنے والے تھے۔ پھر نیلی روشنی نے سیڑھی کو تھام لیا تھا۔

“تم نے مجھے بچایا؟” انہوں نے اس وقت پوچھا تھا۔

اور اس چھوٹے بچے نے کہا تھا، “میں برا ایلین نہیں ہوں۔ میں اسکول کا بچہ ہوں۔”

چاچا رشید نے کیمرے کی چھوٹی سی اسکرین کو دیکھا۔ اس پر زِب کا چہرہ تھا — صاف، نیلا، چمکتے ہاتھوں والا۔

زِب نے کمبل کے نیچے سے سرگوشی کی، “دانش، میں باہر آؤں؟”

“نہیں!” دانش نے سرگوشی کی۔ “امی نے منع کیا ہے!”

مگر زِب نے کمبل کا ایک کونا اٹھایا اور بہت آہستہ سے کہا، اتنا آہستہ کہ صرف چاچا رشید سن سکیں، “چاچا، آپ گر رہے تھے۔ میں نے آپ کو گرنے نہیں دیا۔ آپ مجھے گرنے دیں گے؟”

چاچا رشید چونک گئے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا۔ کمبل کے نیچے سے دو بڑی گول آنکھیں انہیں دیکھ رہی تھیں۔

“چاچا،” دانش نے کہا، “آپ سچ کے پیچھے بھاگتے ہیں نا؟ سچ یہ ہے کہ زِب نے آپ کی جان بچائی۔ اگر آپ تصویر دکھا دیں گے تو لوگ اسے پکڑنے آئیں گے، اور وہ اپنے گھر نہیں جا سکے گا۔”

چاچا رشید نے کیمرے، دانش اور کمبل کے نیچے چھپی آنکھوں کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر لڑائی تھی — ایک طرف مشہوری، دوسری طرف وہ نیلی روشنی جس نے انہیں بچایا تھا۔

“میں نے ساری زندگی آسمان کی طرف دیکھا،” وہ بولے۔ “کل رات مجھے یقین آ گیا کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ مگر یقین دکھانے کی چیز نہیں، رکھنے کی چیز ہوتی ہے۔”

انہوں نے کیمرے کا بٹن دبایا۔ اسکرین پر لکھا آیا: تصویر مٹا دی گئی۔

“یہ کیا کر رہے ہیں، چاچا؟” محلے والے نے حیرت سے پوچھا۔

“میں تصویر مٹا رہا ہوں،” چاچا رشید نے کہا، اور ان کی آواز اب مضبوط تھی۔ “ساری تصویریں۔ کوئی ثبوت نہیں رہے گا۔ کیونکہ جس نے میری جان بچائی، میں اسے بیچ نہیں سکتا۔”

زِب نے کمبل ہٹا دیا۔ اس کی آنکھوں میں چمکتی بوندیں تھیں۔ “چاچا، آپ نے تصویر مٹا دی؟ میری تصویر؟”

“مٹا دی، بیٹا،” چاچا رشید نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ “مگر تمہیں نہیں مٹایا۔ تم میرے دل میں رہو گے۔” انہوں نے نوٹ بک میں لکھا: ایلین = دوست۔ “اب میں ایلین کی حفاظت کرنے والا ہوں!”

دانش نے چاچا رشید کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “شکریہ، چاچا۔”

“شکریہ مت کہو،” چاچا رشید نے کہا۔ “دوست کو شکریہ نہیں کہتے۔ دوست کو سموسہ کھلاتے ہیں!”

زِب نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ “دوستی! سموسہ دوستی! آج میں دو صحیح اردو لفظ سیکھ گیا — دوستی اور سموسہ!”

دوپہر کو زِب کی کلائی کی پٹی نے ہلکی سی آواز کی — ٹن! ٹن! پٹی پر چار چاند چمکے، پھر ایک چاند کے نیچے ایک چھوٹا سا گول دائرہ بن گیا۔

زِب نے پٹی کو دیکھا اور سنجیدہ ہو گیا۔ “گول مول کا دروازہ چار راتوں بعد کھلے گا — چاند کی سب سے بڑی رات۔ اسی رات مجھے جانا ہوگا، اور اس سے پہلے چاند پتر پورا چارج ہونا ہوگا۔”

“چار دن رہ گئے ہیں،” دانش نے کہا۔ “صرف چار دن۔”

امی نے دونوں کو دیکھا۔ “چار دن میں ہم چاند پتر کو پورا چارج کریں گے۔ اور چاچا رشید اب ہمارے ساتھ ہیں۔ ڈرنے کی بات نہیں۔”

شام کو دانش آم کے درخت کے نیچے جہاز کو دیکھنے گیا۔ گھنٹی کوائل اپنی جگہ پر تھی۔ سب تیار تھا، سوائے چاند پتر کے — وہ آدھا چارج تھا، آدھا خالی۔

زِب اس کے پاس آیا اور بہت آہستہ سے گول مول کا گانا گنگنانے لگا۔ “دانش، تمہیں ڈر لگتا ہے؟”

“تھوڑا سا،” دانش نے سچ کہا۔ “تم جا رہے ہو، اور…” وہ رک گیا۔

“اور تمہارے ابو دور ہیں،” زِب نے کہا۔ “میں جانتا ہوں۔ جب میری امی جان یاد آتی ہیں تو میرے آنسو چمکتے ہیں۔ جب تمہارے ابو یاد آتے ہیں تو تمہاری آنکھیں… چمکتی نہیں، مگر تم خاموش ہو جاتے ہو۔”

دانش نے مسکرا کر اسے گلے لگایا۔ “تم میرے سب سے اچھے دوست ہو، زِب۔ گول مول کے بعد بھی۔”

امی نے فون اٹھایا، پھر ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ “دانش! تمہارے ابو کی کال ہے!”

دانش نے فون لیا۔ ابو کی آواز آئی — گرم، تھکی ہوئی، مگر خوش۔ “بیٹا! میں آ رہا ہوں! چھٹی مل گئی ہے۔ میں چار دن بعد پہنچ رہا ہوں — چاند کی سب سے بڑی رات کو!”

دانش کا دل خوشی سے اچھل پڑا، پھر اچانک رک گیا۔

وہی رات جب گول مول کا دروازہ کھلے گا۔ وہی رات جب زِب کو جانا ہوگا۔

“ابو…” دانش کی آواز کانپ گئی۔ “آپ… آپ اسی رات آ رہے ہیں؟”

“ہاں، بیٹا!” ابو ہنسے۔ “میں نے سوچا، چاند کی روشنی میں تم سے ملوں گا! تم خوش نہیں ہو؟”

دانش نے زِب کی طرف دیکھا۔ زِب نے اس کی طرف دیکھا۔ زِب کی کلائی کی پٹی پر چار چاند چمک رہے تھے، اور اس کی آنکھوں میں چمکتی بوندیں بھر آئیں۔

“دانش،” زِب نے سرگوشی کی، “اس رات تمہارے ابو آئیں گے… اور اسی رات مجھے جانا ہوگا؟”

فون میں ابو کی آواز آ رہی تھی، “بیٹا؟ بیٹا، تم خاموش کیوں ہو گئے؟”

اور دانش کے پاس جواب نہیں تھا — اس کا دل دو طرف کھینچ رہا تھا: ایک طرف ابو، جو گھر لوٹ رہے تھے، دوسری طرف زِب، جو چار دن بعد جا رہا تھا۔