Episode 12
الوداع، زِب! گول مول سے سلام

چاند پتر کی نیلی روشنی ٹمٹما رہی تھی — کبھی تیز، کبھی مدھم — جیسے کوئی دیا بجھنے کے قریب ہو۔
دانش کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ آسمان کی روشنیاں آم کے درخت کے اوپر گول گول جمع ہو رہی تھیں۔ زِب چاند پتر کے پاس کھڑا تھا، اس کی بڑی آنکھوں میں چمکتی ہوئی بوندیں بھر آئی تھیں۔
“زِب!” دانش نے کہا۔ “گھبراؤ مت! ہم اسے ٹھیک کریں گے! بتاؤ، چارجنگ کیوں رک رہی ہے؟”
زِب نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر درخت کی شاخوں کی طرف۔ “دانش… دیکھو! آم کی بڑی شاخ چاند کے سامنے آ گئی ہے! چاندنی پلیٹ تک نہیں پہنچ رہی! پلیٹ کو سیدھی چاندنی چاہیے، ورنہ وہ… سو جاتی ہے!”
دانش نے اوپر دیکھا۔ واقعی! ہوا سے ایک بڑی شاخ جھک کر چاند کے سامنے آ گئی تھی۔ چاند کی روشنی شاخ کے پتوں میں پھنس گئی تھی، اور چاند پتر اندھیرے میں ٹمٹما رہا تھا۔
“میں اوپر جاتا ہوں!” دانش نے کہا۔
“خبردار!” امی نے نیچے سے آواز دی۔ “آہستہ سے، بیٹا! گرنا مت!”
دانش درخت پر چڑھ گیا۔ شاخیں ہل رہی تھیں، پتے اس کے چہرے سے ٹکرا رہے تھے، مگر وہ رکا نہیں۔ اس نے بڑی شاخ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور آہستہ سے ایک طرف کر دیا۔
اسی لمحے چاند کی روشنی نیچے گری — سیدھی، چمکتی ہوئی، جیسے آسمان نے ایک کھڑکی کھول دی ہو۔
چاند پتر اچانک بھڑک اٹھا!
نیلی روشنی اتنی تیز ہو گئی کہ پورا درخت نیلے رنگ میں نہا گیا۔ پلیٹ پر چھوٹے چھوٹے چاند چمکنے لگے، ایک… دو… تین… چار… پانچ! اور پھر گھنٹی کوائل نے “ٹن!” کی آواز دی۔
“ٹن! ٹن! ٹن!”
“ہو گیا!” زِب نے خوشی سے چلا کر کہا۔ “چاند پتر پورا چارج ہو گیا! گھنٹی کوائل بھی تیار ہے! دانش، تم نے کر دکھایا!”
دانش درخت سے نیچے اترا اور زِب کو گلے لگا لیا۔ دونوں ہنس رہے تھے۔ امی نے تالیاں بجائیں۔ میڈم بلی نے بھی اپنی دم ہلائی، جیسے وہ بھی خوش ہو۔
پٹی پر تین چاند نہیں تھے۔ اب وہاں ایک بڑا سا، گول، پورا چاند چمک رہا تھا۔ اور پٹی سے ایک ہلکی سی آواز آئی — جیسے کوئی دور سے بلا رہا ہو۔
زِب کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “دانش! آج… آج پورا چاند ہے! دروازہ… دروازہ آج ہی کھل گیا! گول مول کا دروازہ جلدی آ گیا!”
آسمان کی روشنیاں اب اور تیز ہو گئیں۔ آم کے درخت کے اوپر روشنی کا ایک گول دروازہ بننے لگا — بالکل گول، جیسے گول مول کا کوئی دروازہ ہو۔
دانش کا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔
یہ وہی رات تھی۔ الوداع کی رات۔
“زِب،” دانش نے آہستہ سے کہا۔ “تمہیں… جانا ہوگا؟ ابھی؟”
زِب نے سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں میں چمکتی ہوئی بوندیں پھر بھر آئیں — نیلے رنگ کی چمکتی بوندیں، جو گالوں پر گرتے ہی چھوٹی چھوٹی روشنیاں بن گئیں۔
“ہاں، دانش۔ دروازہ زیادہ دیر نہیں کھلتا۔ اگر میں آج نہ گیا تو… اگلے سال تک انتظار کرنا ہوگا۔”
“اگلے سال؟” دانش کی آواز کانپ گئی۔ “نہیں! تمہیں آج ہی جانا ہوگا۔ تمہاری امی جان تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔”
زِب نے دانش کا ہاتھ پکڑا۔ اس کی چار انگلیاں دانش کی پانچ انگلیوں میں الجھ گئیں۔ “دانش، تم سب سے اچھے دوست ہو۔ گول مول میں بھی کوئی اتنا اچھا دوست نہیں ہے۔”
دانش نے آنسو پونچھے اور مسکرایا۔ “اور تم بھی۔ اب جلدی کرو! دروازہ انتظار نہیں کرتا!”
امی آگے بڑھیں۔ انہوں نے زِب کے لیے سموسوں کی ایک چھوٹی سی پوٹلی باندھی تھی۔ “یہ لو، زِب بیٹا۔ سفر کے لیے۔ اور یہ… یہ میری طرف سے تمہاری امی جان کے لیے۔” امی نے ایک چھوٹا سا خط دیا — اس پر اردو میں لکھا تھا: “آپ کے بیٹے نے میرے بیٹے کو سچا دوست بنا دیا۔ شکریہ۔”
زِب نے خط اپنے سینے سے لگا لیا۔ “میں امی جان کو دوں گا۔ وہ بہت خوش ہوں گی!”
پھر زِب نے میڈم بلی کی طرف دیکھا۔
میڈم درخت کے نیچے بیٹھی تھی، اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
زِب نے آہستہ سے اس کے پاس جا کر اپنا چھوٹا سا نیلا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔ “الوداع، چھوٹی سیکیورٹی گارڈ۔ تم سب سے بہادر بلی ہو۔”
میڈم نے پہلی بار… پہلی بار اپنی پیشانی زِب کے ہاتھ سے لگائی اور زور سے “میاؤں!” کی۔ جیسے کہہ رہی ہو: جلدی واپس آنا۔
چاچا رشید نے اپنا سینہ پھلایا اور زِب کو سلیوٹ کیا۔ “زِب بیٹا! تم میرے سب سے بڑے راز ہو! میں نے تمہاری تصویر مٹا دی تھی، اور آج میں وعدہ کرتا ہوں — ایلین برابر دوست! یہ بات میرے دل میں رہے گی، میری نوٹ بک میں نہیں!”
زِب نے ہنس کر کہا، “چاچا، آپ سب سے اچھے یو ایف او ماہر ہیں! آپ کی کہانی نے ہمیں بچا لیا!”
پھر زِب نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا، گول، چمکتا ہوا کنکر نکالا۔ وہ نیلی روشنی سے چمک رہا تھا۔
“دانش، یہ لو۔ یہ ستارہ فون ہے۔” زِب نے کنکر دانش کی ہتھیلی پر رکھا۔ “یہ میری طرف سے ہے۔ ہر پورے چاند کی رات کو یہ چمکے گا — اور تم میری آواز سنو گے۔ میں گول مول سے تم سے بات کروں گا۔ وعدہ!”
دانش نے کنکر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ وہ گرم تھا، جیسے اس میں کوئی چھوٹا سا چاند قید ہو۔ “وعدہ!” دانش نے کہا۔ “ہر پورے چاند کی رات!”
اسی لمحے گلی کے دروازے پر ایک ٹیکسی کا ہارن بجا۔
“ٹیں! ٹیں!”
“ابو!” دانش نے کہا۔ “ابو آ گئے!”
دروازے پر ایک لمبے سے آدمی کھڑے تھے — بیگ ہاتھ میں، چہرے پر تھکن، مگر آنکھوں میں خوشی۔ ابو عمران! دبئی سے آئے ہوئے ابو!
دانش کا دل دو طرف کھنچ گیا۔ ایک طرف ابو تھے — جن کا وہ مہینوں سے انتظار کر رہا تھا۔ دوسری طرف زِب تھا — جس کا جہاز اڑنے والا تھا۔
امی نے دانش کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “جاؤ، بیٹا۔ اپنے ابو کو گلے لگاؤ۔ زِب سمجھے گا۔ محبت کبھی کسی کو روکتی نہیں، وہ راستہ دیتی ہے۔”
دانش دروازے کی طرف بھاگا۔
“ابو!”
“بیٹا!”
ابو نے دانش کو اٹھا کر گلے لگا لیا۔ دانش نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ ابو کی خوشبو… گھر کی خوشبو… کتنے مہینوں بعد!
“بیٹا، یہ آسمان میں روشنیاں کیسی ہیں؟” ابو نے حیرت سے پوچھا۔
دانش نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ “ابو، آپ بالکل وقت پر آئے! یہ شہابِ ثاقب کی بارش ہے! دیکھیں، کتنی خوبصورت ہے!”
چاچا رشید فوراً بول پڑے، “جی ہاں! شہابِ ثاقب کی بارش! میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا! سب دیکھیں، یہ قدرت کا کرشمہ ہے!”
ابو ہنسے۔ “واہ! میں دبئی سے آیا اور آسمان نے میرا استقبال روشنیوں سے کیا!”
پھر ابو نے دانش کا ہاتھ پکڑا، اور دونوں نے مل کر آسمان کی طرف دیکھا۔
اسی لمحے زِب کا چھوٹا سا گول جہاز آم کے درخت کی شاخوں سے آہستہ آہستہ اوپر اٹھا۔ اس کے نیچے نیلی روشنی چمک رہی تھی۔ جہاز کی کھڑکی سے زِب نے اپنی چار انگلیوں والا ہاتھ ہلایا۔
“دانش! الوداع! گول مول سے سلام!”
دانش نے ہاتھ اٹھا کر ہلایا۔ “الوداع، زِب! سفر بخیر!”
جہاز اوپر اٹھتا گیا، اوپر، اوپر… روشنی کے گول دروازے کی طرف۔ دروازہ چمکا، جہاز اس کے اندر داخل ہوا، اور پھر… خاموشی۔
آسمان پھر سے صاف تھا۔ صرف پورا چاند چمک رہا تھا۔
“کتنی خوبصورت رات ہے، بیٹا،” ابو نے کہا۔
دانش نے اپنی ہتھیلی کھولی۔ ستارہ فون کا کنکر ہلکا سا چمک رہا تھا۔
“ابو،” دانش نے آہستہ سے کہا۔ “آپ کو ایک کہانی سنانا چاہتا ہوں۔ ایک سچے دوست کی کہانی۔”
ابو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “سناؤ، بیٹا۔ میں ساری رات سنوں گا۔”
فجر کے وقت دانش اور ابو چھت پر بیٹھے تھے۔ سورج نکل رہا تھا۔ دانش نے ابو کو سب کچھ بتا دیا تھا — زِب کا آم کے درخت میں گرنا، میٹھی برف والا صابن، میلے کا انعام، گھنٹی کوائل، چاند پتر، چاچا رشید کی ٹارچیں، میڈم بلی، اور الوداع۔
ابو نے سب سنا۔ پھر انہوں نے دانش کو گلے لگا لیا۔
“بیٹا،” ابو نے کہا، “مجھے تم پر فخر ہے۔ تم نے ایک دوست کو گھر پہنچایا، اور ایک راز کو دل میں سنبھالا۔ یہی تو سچی دوستی ہے۔”
دانش مسکرایا۔ “ابو، آپ واپس آ گئے۔ اور زِب بھی گھر پہنچ گیا۔ آج دونوں خوش ہیں۔”
“ہاں، بیٹا۔ آج دونوں خوش ہیں۔”
---
کئی مہینے گزر گئے۔
ایک رات پھر پورا چاند نکلا۔ دانش چھت پر کھڑا تھا۔ اس کی ہتھیلی میں ستارہ فون کا کنکر تھا۔
اچانک کنکر چمکنے لگا — نیلا، گرم، جاندار!
اور پھر ایک جانی پہچانی، ہنستی ہوئی آواز آئی:
“دانش! گول مول سے سلام! امی جان کہتی ہیں… اگلی بار سموسے زیادہ بھیجنا!”
دانش ہنس پڑا — اور اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
اس نے چاند کی طرف ہاتھ ہلایا۔ “سلام، زِب! اگلے پورے چاند پر بات ہوگی! وعدہ!”
چاند چمک رہا تھا۔ کنکر چمک رہا تھا۔ اور کہیں دور، گول مول پر، ایک چھوٹا سا نیلا لڑکا اپنے دوست کے لیے سموسے گن رہا تھا — ایک… دو… تین۔ تین سموسے کبھی کم نہیں ہوتے۔