← مہران: سخاوت کا سفر · All episodes

Episode 5

سبز کی ڈھال

سبز کی ڈھال

طلوعِ آفتاب سے ذرا پہلے شہرِ خاموشاں کی گھنٹی ایک بار پھر بجی — اس بار اجازت والی، ہلکی اور خوشگوار۔ مہران نے آنکھیں کھولیں تو سب سے پہلے والد کی تلوار دیکھی جو دیوار کے سہارے رکھی تھی۔ ایک پل کو اس کا دل دھڑکا — جیسے زرناباد کے دربار میں پتھر بنے سردار امان خان کی آنکھیں اسی لمحے اسے دیکھ رہی ہوں۔ وہی آنکھیں جن میں کبھی قافلوں کے لیے محبت ہوتی تھی، جن کے سامنے دسترخوان بچھتا تھا اور کوئی بھوکا نہ لوٹتا تھا۔

“ابّا…” مہران نے آہستہ کہا۔ “آج یہ ٹکڑا میں واپس لاؤں گا۔ آپ کے لیے۔”

اس نے تلوار اٹھائی اور دل سے لگائی۔ امی جان کے الفاظ کانوں میں گونجے: “مشکل میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے۔”

“مہران!” ساحل دروازے پر کھڑا جمائی لے رہا تھا۔ سبز اس کی پگڑی پر بیٹھا تھا — رات بھر خاموش رہنے کی “سزا” کے بعد اسے انعام میں چنے ملے تھے، اس لیے وہ خاصا خوش تھا۔ “چلو!” سبز نے اعلان کیا۔ “چلو! چلو!”

نانبائی استاد کریم کے گھر کے باہر سلطان انوار خود ان کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی — مشکیزہ، کھجوریں، گرم روٹیاں، اور مرہم کی ایک چھوٹی ڈبیا۔ “تمہاری جھلسی ہوئی ہتھیلی کے لیے،” سلطان نے مہران کا ہاتھ دیکھ کر کہا۔ “رات تم نے میرے شہر کی عزت رکھی۔ اب یہ شہر تمہارا مقروض ہے۔”

اس نے مہران کے سر پر ہاتھ رکھا۔ “سنو، بیٹے۔ جو دل خاموشی نبھا سکتا ہے، وہ طوفان بھی سہہ سکتا ہے۔ جاؤ — اور یاد رکھو، سوتا تارا اب چور کے پاس ہے۔ اسے جگاؤ۔”

چھوٹی گل دوڑتی ہوئی آئی اور مہران کی مٹھی میں ایک سوکھی کھجور رکھ دی۔ “راستے کے لیے،” وہ بولی، اور پھر شرما کر امی کے پیچھے چھپ گئی۔ مہران کی آنکھیں نم ہو گئیں — اسے اپنی نور یاد آئی، جو زرناباد میں اسی عمر کی شرارتوں سے گھر کو روشن رکھتی تھی۔

“زار قافلے والی سڑک کی طرف گیا ہے،” چوکیدار چاچا حمید نے بتایا۔ “میرے آدمیوں نے ٹوٹے نگہبانی مینار کے پاس کالے پر دیکھے ہیں۔”

وہ روانہ ہوئے۔ طوفان کی ٹاپیں دھول اڑاتی تھیں، اور آسمان پر شاہین چکر کاٹ رہا تھا — اچانک اس نے تیز چیخ ماری اور ایک سمت میں جھپٹا۔ دور، قافلے والی سڑک کے کنارے، ایک ٹوٹا ہوا نگہبانی مینار کھڑا تھا — آدھا گرا ہوا، جیسے کوئی بوڑھا سپاہی گھٹنوں پر جھکا ہو۔ اس کی ٹوٹی کھڑکیوں کے گرد کالے کوّے منڈلا رہے تھے۔

“وہیں ہے،” مہران نے کہا۔

مینار کے اندر سیڑھیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، ہر قدم پر پتھر کراہتے تھے۔ ساحل دیوار سے چمٹا ہوا تھا۔ “مجھے اونچائی سے بھی ڈر لگتا ہے اور کوّوں سے بھی،” وہ بڑبڑایا، “اور آج دونوں ایک ہی جگہ جمع ہیں!”

سبز نے اس کی پگڑی سے اعلان کیا: “ڈر! ڈر!”

“چپ کرو، سبز!” ساحل نے گھورا۔ “تم تو دشمن کے جاسوس ہو!”

سیڑھیوں کے موڑ پر انہیں اوپر سے زار کی آواز آئی — وہ خود سے بڑبڑا رہا تھا: “…بادشاہ آگ ضائع نہیں کرتا… وہ تو اسے پتھر کے سپاہیوں کے لیے رکھتا ہے…” سبز نے سر ایک طرف جھکایا اور غور سے سنا۔ ساحل نے سرگوشی کی: “یہ سنتا بھی ہے اور یاد بھی رکھتا ہے — خطرناک امتزاج ہے!”

سب سے اوپر کا کمرہ — دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اور اندر…

زار۔ انسان کے روپ میں۔ کالا کوٹ، ہونٹوں پر میٹھی مسکراہٹ۔ ایک ٹوٹی میز پر سنہرا ٹکڑا رکھا تھا — سوتا تارا، ہلکی چمک کے ساتھ۔ اور اس کے پاس بلّور کی ایک چھوٹی شیشی، جس میں رات جیسی کالی سیاہی تھی۔ زار شیشی کو ٹکڑے کی طرف جھکا رہا تھا۔

“رکو!” مہران دہلیز پر کھڑا ہو گیا، تلوار نکلی ہوئی۔

زار نے پلٹ کر دیکھا — حیران نہیں، جیسے انتظار کر رہا ہو۔ “آہ، امانت والا لڑکا۔” اس نے شیشی اونچی کی۔ “جانتے ہو یہ کیا ہے؟ قہر شاہ کی کالی سیاہی۔ ایک قطرہ — بس ایک — اور یہ ٹکڑا سخاوت کو بھول جائے گا۔ پھر یہ انگوٹھی کبھی مکمل نہیں ہوگی، اور تمہارے ابّا ہمیشہ پتھر رہیں گے۔”

مہران کا دل کانپا، مگر قدم نہ ہٹے۔

زار کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ “مگر میں سوداگر بھی ہوں۔ سنو میری پیشکش: چلے جاؤ، لڑکے۔ پیچھے مڑ جاؤ اور تمہاری امی کا گھر سلامت رہے گا۔ مگر یہ ٹکڑا لینے کی کوشش کی…” اس کی آنکھوں میں کوّے والی چمک آئی، “تو قہر شاہ زرناباد کے اناج کے گوداموں کو آگ لگا دے گا۔ تمہاری ماں، تمہاری بہن — بھوکے پیٹ سوئیں گی۔”

مہران کے ہاتھ کانپنے لگے۔ امی جان… نور… زرناباد کے گودام…

اور اسی لمحے — سب سے برے لمحے پر — سبز پھڑپھڑایا اور چیخا۔ مگر یہ اس کے اپنے الفاظ نہ تھے۔ یہ زار کے اپنے الفاظ تھے، جو سیڑھیوں پر وہ بڑبڑایا تھا اور سبز نے سن لیے تھے:

“بادشاہ اناج کے گوداموں پر آگ ضائع نہیں کرتا! آگ ضائع نہیں کرتا!”

خاموشی چھا گئی۔ پھر ساحل — جو ڈر کے مارے دیوار سے لگا تھا — بے اختیار ہنس پڑا۔ “سبز! تم نے تو اس کا جھوٹ ہی پکڑ لیا!”

زار کا چہرہ غصے سے لال ہوا۔ “چغل خور پرندے!” وہ چیخا اور پوری قوت سے کالی شیشی سبز کی طرف پھینک دی۔

وقت تھم گیا۔

مہران کے سامنے دو راستے تھے — میز پر رکھا سنہرا ٹکڑا، اور ہوا میں اڑتی شیشی جو سبز کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس نے سوچا نہیں۔ اس نے تلوار ایک طرف پھینکی اور خود کو سبز پر گرا دیا — اپنے جسم کو ڈھال بنا کر۔

شیشی اس کے کندھے سے ٹکرا کر ٹوٹی۔ کالی سیاہی پتھر کے فرش پر بکھر گئی — مہران کی آستین پر بھی چھینٹے پڑے، مگر سبز محفوظ تھا، اس کے نیچے دبا ہوا۔

اور پھر… میز پر رکھا سنہرا ٹکڑا ہلا۔

وہ خود بخود پھسلتا ہوا میز کے کنارے تک آیا — اور مہران کے کھلے ہاتھ میں گر پڑا۔ گرم۔ دھڑکتا ہوا۔ جیسے وہ پہچانتا ہو کہ سخاوت کیا ہوتی ہے۔

سبز نے سر نکالا اور فخر سے اعلان کیا: “سبز بہادر! سبز بہادر!”

زار نے قہر سے چیخ ماری — آدھی انسان، آدھی کوّے کی — اور کھڑکی سے باہر کود کر کوّا بن گیا۔ مگر آسمان پر شاہین تیار تھا۔ وہ جھپٹا، اس کے پروں پر ٹھونگیں ماریں، اور زار کو چیختا چلاتا بادلوں میں کھدیڑ دیا۔

مہران نے ہاتھ میں ٹکڑا دیکھا — سوتا تارا اب جاگ رہا تھا، اس کی چمک تیز تھی۔ “دو ٹکڑے،” اس نے آہستہ کہا۔ “ابّا کے لیے دو قدم۔”

مینار کی چھت سے انہوں نے آگے دیکھا — اور ساحل کی سانس رک گئی۔ دور تک پھیلی ریت کی لہریں، جیسے سمندر جم گیا ہو۔ ریت کا سمندر۔

اور اسی لمحے سبز بالکل خاموش ہو گیا — جو اس کے لیے سب سے عجیب بات تھی۔ پھر اس نے سرگوشی کی، زار کی بڑبڑاہٹ کا ایک اور ٹکڑا جو اس نے سن رکھا تھا:

“اندھا بھکاری… انگوٹھی کو جانتا ہے…”

مہران نے افق کی طرف دیکھا — اور اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ دور، ریت کے سمندر کے اس پار، دھول کا ایک طوفان اٹھ رہا تھا… اور اس کی شکل…

تاج جیسی تھی۔