Episode 4
خاموشوں کا شہر

شام کے سائے لمبے ہو رہے تھے جب طوفان کی ٹاپوں کی آواز خاموشوں کے شہر کی فصیل سے ٹکرائی۔ دور سے شہر مٹی کے رنگ کا ایک بڑا گھونسلہ لگتا تھا — گنبد، مینار، اور بیچ میں ایک چھوٹا سا محل جس کی چھت پر کانسی کی بڑی گھنٹی لٹک رہی تھی۔
دروازے پر بوڑھا چوکیدار چاچا حمید کھڑا تھا۔ اس نے انہیں اندر آنے کا اشارہ کیا، مگر پہلے آسمان کی طرف دیکھا جہاں سورج ڈھلنے کو تھا۔ "جلدی سنو،" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ "ہمارے شہر کا قانون ہے — غروب کی گھنٹی بجتے ہی کوئی آواز نہیں۔ نہ بات، نہ ہنسی، نہ گانا۔ پرندوں کے پنجرے بھی ڈھانپ دیے جاتے ہیں۔ جو یہ قانون توڑے، وہ صبح ہونے سے پہلے شہر سے باہر۔"
"مگر کیوں؟" مہران نے پوچھا۔
چاچا حمید کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ "ہمارے سلطان انوار کا اکلوتا بیٹا… برسوں پہلے ایک رات دشمن نے حملہ کیا۔ جنگ کے نقارے اتنے زور سے بجے کہ محل کی دیواریں کانپ گئیں۔ چھوٹا شہزادہ ڈر کے مارے چیختا رہا… اور پھر کبھی نہ سو سکا۔ اسی رات وہ چلا گیا۔ تب سے سلطان نے قسم کھائی ہے — اس شہر کی راتیں ہمیشہ پرسکون رہیں گی، تاکہ کوئی بچہ کبھی شور میں نہ ڈرے۔"
مہران نے اپنے کندھے پر بیٹھے سبز کی طرف دیکھا۔ سبز نے پوری معصومیت سے اعلان کیا: "کوئی آواز نہیں! کوئی آواز نہیں!"
ساحل نے اپنا سر پکڑ لیا۔ "مہران! یہ طوطا تو آج رات ہمیں شہر بدر کروا کر ہی دم لے گا!"
اسی لمحے آسمان سے شاہین کی تیز چیخ آئی — خطرے والی چیخ۔ مہران نے اوپر دیکھا۔ شاہین محل کی چھت کے گرد چکر کاٹ رہا تھا، اور چھت کی منڈیر پر ایک کالا کوّا بیٹھا تھا — لومڑی جیسی آنکھوں والا۔
"زار،" مہران نے دھیرے سے کہا۔ "وہ ہم سے پہلے یہاں پہنچ چکا ہے۔"
غروب سے پہلے پہلے انہیں سلطان انوار کے حضور پیش کیا گیا — محل کے خزانے کے بڑے لکڑی کے دروازے کے سامنے۔ سلطان ایک سفید داڑھی والا، نرم آنکھوں والا بوڑھا تھا۔ اس کے اشارے پر خزانچی نے مخمل کے کشن پر رکھی ایک چیز ان کے سامنے کی — انگوٹھی کا دوسرا ٹکڑا۔ سنہری قوس، ہلکی سی چمک، جیسے وہ سو رہی ہو۔
"اسے ہم 'سوتا تارا' کہتے ہیں،" سلطان نے کہا۔ "میرے دادا کے زمانے سے یہ ہمارے خزانے میں ہے۔" پھر اس کی آواز بھاری ہو گئی۔ "کل ایک موتیوں کا سوداگر آیا تھا — کالا کوٹ، میٹھی زبان۔ اس نے اس ٹکڑے کے بدلے کالے موتیوں کے تین صندوق پیش کیے۔ میں نے انکار کر دیا۔ جو چیز امانت ہو، وہ بکتی نہیں۔"
مہران کا دل دھڑکا۔ "وہ سوداگر… زار تھا۔ قہر شاہ کا وزیر۔"
سلطان نے سر ہلایا۔ "میں جانتا ہوں۔ کوّے کی آنکھیں میں نے بھی دیکھیں۔" اس نے مہران کی آنکھوں میں دیکھا۔ "سنو، انگوٹھی والے لڑکے۔ میرا قانون میرے سونے سے پرانا ہے۔ آج رات — غروب کی گھنٹی سے طلوع کی گھنٹی تک — تم سب میرے شہر کی خاموشی رکھو گے۔ تم، تمہارا دوست… اور یہ پرندہ بھی۔ اگر ایک بھی آواز تمہاری طرف سے اٹھی، تو صبح تم خالی ہاتھ جاؤ گے۔ اور اگر تم نے خاموشی نبھائی… تو طلوع کی گھنٹی پر یہ ٹکڑا تمہارا۔"
مہران نے اپنا ہاتھ دل پر رکھا۔ سورج ڈھلنے میں ابھی کچھ پل باقی تھے — بولنے کی اجازت ابھی تھی۔ "میں وعدہ کرتا ہوں، سلطان۔ ہم آپ کے شہر کی خاموشی رکھیں گے۔ آپ کی چھت کے نیچے کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اور یہ ٹکڑا صرف شفا کے لیے استعمال ہوگا — کبھی نقصان کے لیے نہیں۔"
پہرے داروں نے یہ وعدہ سنا۔ سبز نے بھی سنا — اور فوراً دہرایا: "وعدہ! وعدہ!" مہران نے جلدی سے اس کی چونچ میں ایک چھوارا ٹھونس دیا۔ سلطان کی نرم آنکھوں میں پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
انہیں نانبائی استاد کریم کے گھر ٹھہرایا گیا۔ اس کی چھوٹی بیٹی گل — چھ سات برس کی — انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ غروب کی گھنٹی بجی — گہری، بھاری، پورے شہر میں گونجتی ہوئی۔ اور پھر… خاموشی۔ ایسی خاموشی کہ مہران کو اپنے دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی۔
سبز کے پنجرے پر کپڑا ڈال دیا گیا، جیسا قانون تھا۔ ساحل نے پنجرے کے پاس بھیگے ہوئے چنے رکھ دیے — "چباتا رہے گا تو چیخے گا نہیں،" اس نے اشاروں میں سمجھایا۔
آدھی رات کو کھڑکی کے باہر کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔ کوئی — کچھ — شٹر پر ناخن مار رہا تھا۔ پھر ایک سرگوشی آئی… مہران کی اپنی آواز میں: "آگ! آگ لگی ہے! سب چلّاؤ! مدد کے لیے چلّاؤ!"
کپڑے کے نیچے سبز ہلچل کرنے لگا۔ اس کی چونچ کھلنے ہی والی تھی — "آ —" ساحل بجلی کی طرح لپکا اور نرمی سے اس کی چونچ بند کر دی۔ اس نے سبز کے منہ میں ایک بھیگا چنا رکھ دیا۔ سبز نے چبانا شروع کر دیا، اور اس کے گلے سے دبی دبی آواز نکلی: "…آگ… آگ…"
مہران نے کھڑکی کی درز سے باہر دیکھا۔ چاندنی میں ایک کالا کوّا شٹر پر بیٹھا تھا — اور اس کی آنکھوں میں لومڑی جیسی چمک تھی۔ زار۔ وہ ان سے چیخنوانا چاہتا تھا — ایک آواز، اور وعدہ ٹوٹ جاتا، ٹکڑا ہاتھ سے جاتا۔
مہران نے ساحل کو اشارہ کیا — خاموش رہو۔ دونوں نے سانس روک لی۔ کوّا کچھ دیر تک شٹر کھٹکھٹاتا رہا، پھر مایوس ہو کر اڑ گیا۔
مگر رات ابھی باقی تھی۔ تیز ہوا کا ایک جھونکا آیا — صحن میں رکھا چراغ الٹا، تیل بہا، اور کونے میں پڑے پردے نے آگ پکڑ لی!
مہران نے ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔ اس نے اشارے سے ساحل کو صحن کی ریت کی طرف بھیجا، خود پانی کی مشک اٹھائی — ان کے پینے کا پانی۔ کوئی چیخ نہیں، کوئی مدد کی پکار نہیں۔ دونوں نے مل کر ریت اور گیلے کپڑے سے آگ بجھائی۔ مہران کی ہتھیلی ہلکی سی جھلس گئی، مگر اس نے دانتوں میں ہونٹ دبا لیے — آواز نہ نکلی۔
دھواں ابھی چھٹا نہ تھا کہ گل — چھوٹی بچی — برے خواب سے جاگ گئی۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں، منہ کھلنے لگا — چیخ آنے ہی والی تھی!
مہران تیزی سے اس کے پاس بیٹھا۔ اس نے اپنا کمبل اس کے گرد لپیٹا، اسے گود میں لے کر ہلکے ہلکے جھلانے لگا۔ ہونٹ ہلے — بغیر آواز کے لوری۔ اس نے گل کی پیٹھ پر وہی تال بجائی جو اس کی امی جان اسے بچپن میں سناتی تھیں — دھک… دھک… دھک۔ گل کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ وہ سو گئی۔
ساحل نے پیشانی کا پسینہ پونچھا اور مہران کو انگوٹھا دکھایا۔ سبز — جو اب تک چنا چبا چکا تھا — دبی آواز میں بڑبڑایا: "اچھا بچہ… اچھا بچہ…"
صبح کی گھنٹی بجی — ہلکی، خوشگوار، جیسے شہر نے ایک لمبی سانس لی ہو۔ وہ خزانے کے دروازے کی طرف دوڑے۔ سلطان خود وہاں موجود تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی تھی۔ "میرے پہرے داروں نے بتایا — رات تمہارے گھر میں آگ لگی تھی، اور تم نے بغیر ایک آواز کے بجھا دی۔ اور بچی…" اس نے مہران کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "تم نے وعدہ نبھایا، بیٹے۔"
خزانچی نے بڑا لکڑی کا دروازہ کھولا۔ مخمل کا کشن… خالی تھا!
کشن پر صرف ایک چیز پڑی تھی — ایک کالا پر، جس کی ڈنڈی میں گرہ لگا دھاگا بندھا تھا۔
زار کا نشان۔
اب بولنے کی اجازت تھی۔ سبز نے سرگوشی کی — مگر اس بار اس کی آواز میں ہنسی نہیں تھی: "دوسرا ٹکڑا… اڑ گیا…"
مہران نے گرہ والا دھاگا اٹھایا۔ اس کی مٹھی بھینچ گئی۔ "زار —"
اور اسی لمحے محل کی چھت سے ایک ہنسی آئی — آدھی کوّے کی، آدھی انسان کی۔