← مہران: سخاوت کا سفر · All episodes

Episode 6

ڈوبے ہوئے قافلے کا کنواں

ڈوبے ہوئے قافلے کا کنواں

فجر کی پہلی روشنی میں ریت کا سمندر سونے کی طرح چمک رہا تھا، مگر مہران کا دل بھاری تھا۔ رات کو افق پر اٹھنے والا تاج نما طوفان صبح تک گرمی کی لہر میں گھل گیا تھا، مگر اس کی آنکھوں کے سامنے اب بھی ایک اور تصویر تھی — زرناباد کے دربار میں پتھر بنے سردار امان خان کی آنکھیں۔ وہ آنکھیں جو کبھی ہر قافلے کے لیے محبت سے چمکتی تھیں۔

"ابّا،" مہران نے آہستہ کہا، اور والد کی تلوار کو چھوا۔ "تیسرا ٹکڑا بھی لاؤں گا۔ وعدہ ہے۔"

امی جان کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے: "مشکل میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے۔"

"مہران!" ساحل نے پکارا، اس کی آواز ریت میں دبی دبی لگی۔ "یہ سمندر تو ختم ہی نہیں ہوتا! اور میری زبان…" اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، "میری زبان تو جیسے پرانی چمڑے کی تھیلی بن گئی ہے!"

سبز ساحل کی پگڑی سے بولا: "پانی! پانی!"

"ہاں، ہاں، تمہیں بھی پانی چاہیے!" ساحل نے منہ بنایا۔ "تم تو طوطے ہو، تمہیں تو بس بولنا ہے، پیاس تمہیں کیا لگے!"

طوفان، مہران کا کالا گھوڑا، آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ اس کی گردن جھکی ہوئی تھی، مگر جب مہران نے سیٹی بجائی تو اس نے کان کھڑے کیے اور ہمت سے سر اٹھایا۔ آسمان پر شاہین چکر کاٹ رہا تھا — کبھی نیچے جھپٹتا، کبھی اوپر اٹھتا، جیسے وہ بھی کچھ ڈھونڈ رہا ہو۔

دوپہر تک سورج سر پر آ گیا۔ مہران نے مشکیزہ اٹھایا اور ہلایا — آدھا بھی نہیں رہا تھا۔ اس نے تین گھونٹ خود لیے، تین ساحل کو دیے، اور باقی بچا کر رکھ دیا۔ "یہ آخری ہے،" اس نے کہا۔ "اسے سنبھال کر رکھنا۔ ریت کے سمندر میں پانی سونے سے زیادہ قیمتی ہے۔"

ساحل نے مشکیزہ سینے سے لگایا۔ "فکر نہ کرو۔ یہ میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔"

مگر آگے چل کر ریت نے اپنا راز کھولا۔ ایک ٹیلے کے پیچھے سے ٹوٹی ہوئی بیل گاڑیوں کے پہیے نکلے، آدھے ریت میں دبے ہوئے۔ پھر ایک اور۔ پھر کئی۔ یہ کوئی پرانا قافلہ تھا — ریت کے سیلاب میں ڈوبا ہوا قافلہ۔ اور ان سب کے بیچ میں، پتھر کا ایک گول کنارا — ایک کنواں۔

"کنواں!" ساحل چیخا اور دوڑ پڑا۔ مگر کنویں میں جھانکا تو وہاں صرف سوکھی ریت تھی، اور نیچے اندھیرا۔

اسی لمحے ایک آواز آئی — کمزور، پیاسی، جیسے صدیوں سے پانی مانگ رہی ہو:

"پانی… ذرا سا پانی…"

مہران اور ساحل ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ آواز کنویں کے اندر سے آ رہی تھی۔

"کون ہے؟" مہران نے پکارا۔

"میں… رخسانہ بی بی…" آواز نے کہا۔ "اس ڈوبے قافلے کی مشک والی۔ جب ریت کا سیلاب آیا، میں کنویں پر پہرہ دے رہی تھی۔ سب چلے گئے، میں رہ گئی۔ اور اب… میں اس ٹکڑے کی نگہبان ہوں۔ جو کوئی اپنی آخری پیاس میں بھی پانی دے دے… ٹکڑا اسی کا۔"

ساحل کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "آخری پیاس میں؟" اس نے سرگوشی کی۔ "مگر یہ تو ہمارا آخری پانی ہے! اگر ہم نے دے دیا تو ہم خود…"

اور اسی لمحے — جب ساحل کا دل ڈگمگا رہا تھا — ایک کالا کوّا خاموشی سے اس کے کندھے کے پاس آ بیٹھا۔ کسی نے نہیں دیکھا۔ صرف ساحل نے اس کی سرگوشی سنی، جو ہوا کی طرح اس کے کان میں اتری:

"بےوقوف لڑکے… تمہارا دوست یہ پانی ایک مردہ کنویں میں ڈال دے گا۔ اور تم؟ تم پیاسے مرو گے۔ مشکیزہ اٹھاؤ… طوفان پر سوار ہو… بھاگ جاؤ۔ تمہارے ابّا گھوڑوں کے رکھوالے تھے، بادشاہوں کے نہیں۔ یہ جنگ تمہاری نہیں۔"

ساحل کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کی انگلیاں مشکیزے کے تسمے پر جم گئیں۔ ایک پل کو اس نے واقعی سوچا — بس اٹھاؤ، اور دوڑ لگاؤ۔ طوفان تیز ہے۔ مہران پیچھے رہ جائے گا۔ اور وہ زندہ رہے گا۔

اس نے ایک قدم اٹھایا۔ دوسرا قدم۔

پھر رک گیا۔

اس کی آنکھوں کے سامنے ایک تصویر آ گئی — ٹوٹے مینار کا وہ کمرہ، جہاں مہران نے سنہرا ٹکڑا چھوڑ کر اپنی جان کی پروا کیے بغیر خود کو سبز پر گرا دیا تھا۔ ایک دوست کے لیے۔ ایک طوطے کے لیے۔ اپنا جسم ڈھال بنا کر۔

اور اسی لمحے سبز نے — جیسے وہ ساحل کے دل کی بات سن رہا ہو — امی جان کے الفاظ دہرائے، صاف اور اونچی آواز میں:

"مشکل میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے! سب سے بڑی تلوار ہے!"

ساحل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے مشکیزہ اپنے سینے سے اتارا اور مہران کی طرف بڑھایا۔ "نہیں،" اس نے کہا، اس کی آواز کانپ رہی تھی مگر مضبوط تھی۔ "پہلے ان کو۔ مہران، پہلے ان کو پانی دو۔"

مہران نے حیرت سے اسے دیکھا — پھر اس کے چہرے پر فخر کی مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے مشکیزہ لیا، اور آخری پانی آہستہ آہستہ کنویں میں انڈیل دیا۔

ریت نے ایک لمبی سانس لی۔

جیسے صدیوں کی پیاس بجھ گئی ہو۔ کنویں کی گہرائی سے ٹھنڈی ہوا اٹھی، اور پھر… پانی کی ایک باریک دھار اوپر آئی۔ اس کے ساتھ ایک سنہرا ٹکڑا تیرتا ہوا آیا — لہر کی شکل کا، ٹھنڈا اور چمکتا ہوا۔ وہ خود مہران کے کھلے ہاتھ میں آ گرا۔

"تیسرا ٹکڑا،" مہران نے آہستہ کہا۔ "ابّا کے لیے تین قدم۔"

اور پھر کنویں نے اپنا انعام دیا — تازہ، ٹھنڈا پانی ابل پڑا۔ مشکیزہ بھر گیا۔ طوفان نے سر جھکا کر پانی پیا۔ ساحل نے دونوں ہاتھوں سے پانی اٹھا کر منہ پر مارا اور ہنس پڑا۔ سبز نے بھی چونچ ڈبوئی اور اعلان کیا: "ٹھنڈا! ٹھنڈا!"

"شکریہ، بیٹو،" رخسانہ بی بی کی آواز اب ہلکی اور خوش تھی، جیسے کوئی بوجھ اتر گیا ہو۔ "اب میری پہرہ داری ختم۔ آگے کا راستہ… پتھر کے پرندوں کے جنگل سے ہے۔ وہاں… دھیان سے۔"

مگر اس سے پہلے کہ مہران کچھ پوچھے، شاہین نے آسمان سے ایک تیز، خوفناک چیخ ماری۔

افق پر وہ پھر آ رہا تھا — تاج نما طوفان۔ اس بار قریب۔ اس بار تیز۔ ریت اس کے گرد گھوم رہی تھی جیسے کوئی دیو ہیکل ہاتھ مٹھی بند کر رہا ہو۔ اور طوفان کے بیچ میں، ایک لمحے کے لیے، مہران نے ایک کالا کوّا دیکھا — زار — جو ان کی طرف دیکھ کر ہنس رہا تھا۔

طوفان ان پر سے گزر گیا — آنکھ جھپکنے میں۔ جب ریت بیٹھی، تو سامنے کا منظر بدل چکا تھا۔ دور، جہاں پہلے صرف ریت تھی، اب ایک گھنا جنگل کھڑا تھا۔ اور ہر درخت پر…

پتھر کے پرندے بیٹھے تھے۔

سیکڑوں۔ خاموش۔ بے حرکت۔

اور پھر — سب سے اونچے درخت پر بیٹھے ایک پتھر کے مور نے آہستہ سے اپنا سر گھمایا… اور ان کی طرف دیکھا۔

سبز کی آواز کانپ رہی تھی جب اس نے سرگوشی کی: "پتھر پرندے… پتھر پرندے…"