Episode 3
پہلا ٹکڑا

رات بند پر اتر آئی، اور ملک بختیار کی لالچ اس کے چہرے پر چراغ کی طرح جل رہی تھی۔
"تو؟" اس نے مہران کی تلوار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "تلوار دو، ٹکڑا لو۔ اس سے اچھا سودا پوری وادی میں نہیں ملے گا۔"
مہران نے تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھا — مگر اسے میان میں سنبھالنے کے لیے، نکالنے کے لیے نہیں۔
"سودا سخاوت نہیں ہوتا، ملک صاحب،" اس نے آہستہ کہا۔ "اور امانت کبھی بیچی نہیں جاتی۔ یہ میرے ابا کہتے تھے — اور آج وہ پتھر ہیں، مگر ان کی بات زندہ ہے۔"
ساحل نے سر ہلایا۔ "سن لیا بڈھے؟ تلوار نہیں ملے گی۔"
سبْز نے مہران کے کندھے سے چیخا: "نہیں ملے گی! نہیں ملے گی!"
بختیار کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "تو پھر ٹکڑا بھی نہیں ملے گا!" وہ بند کے سب سے گہرے خانے کی طرف بڑھا — ایک لوہے کا دروازہ جس پر زنگ آلود تالا لگا تھا۔ "دیکھو! یہ ہے تمہارا ٹکڑا — تانبے کے ڈبے میں بند، اور ڈبہ میرا ہے!"
اس نے تالا گھمایا، دروازہ چرچرا کر کھلا۔ اندر ایک چھوٹا سا تانبے کا ڈبہ چمک رہا تھا۔
اور اسی لمحے آسمان سے ایک سیاہ سایہ جھپٹا۔
لومڑی جیسی آنکھوں والا کوّا — زار — دروازے کے اندر گھسا، ڈبے کو پنجوں میں دبوچا، اور پر پھڑپھڑاتا ہوا اوپر اٹھا۔
"ڈبہ! ڈبہ لے گیا!" سبْز چیخا۔ "چور کوّا! چور کوّا!"
شاہین نے آسمان میں ایک تیز چیخ ماری اور کوّے کے پیچھے لپکا۔ دونوں پرندے ڈوبتے سورج کی روشنی میں گھومنے لگے — ایک سیاہ، ایک بھورا، جیسے رات اور دن آپس میں لڑ رہے ہوں۔
"میری دولت!" بختیار چلایا۔ "پکڑو اسے!"
ساحل نے اپنی پگڑی اتار کر کوّے کی طرف پھینکی — پگڑی ہوا میں کھل گئی اور اس کے اپنے منہ پر آ گری۔ "اوف! یہ پگڑی بھی آج دشمن بنی ہوئی ہے!"
مہران بند کی دیوار پر دوڑا۔ اس نے کمان نکالی، تیر چڑھایا۔ کوّا ڈبے سمیت اونچا اڑ رہا تھا — بہت اونچا۔ مہران نے سانس روکی… اور تیر چھوڑ دیا۔
تیر کوّے کو نہیں لگا — مہران نے اسے مارنا بھی نہیں چاہا تھا۔ تیر ڈبے کے ڈھکن کی کنڈی سے ٹکرایا۔ ڈبہ کوّے کے پنجوں سے چھوٹا… ہوا میں گھوما… اور نیچے — دھڑام! — بند کے گہرے پانی میں جا گرا، ٹھیک اس جگہ جہاں الٹی ندی کا بھنور سب سے تیز گھومتا تھا۔
کوّے نے ایک ایسی چیخ ماری جو کسی پرندے کی نہیں تھی — وہ ایک انسان کی غصے بھری آواز تھی:
"یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، انگوٹھی والے لڑکے!"
پھر وہ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ صرف ایک کالا پر ہوا میں تیرتا ہوا نیچے آیا۔ ساحل نے اسے پکڑ لیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
"ک… کوّا بولتا ہے؟" وہ بڑبڑایا۔ "مہران، ہم کس مصیبت میں پھنسے ہیں؟"
"زار کی مصیبت میں،" مہران نے کہا۔ اس کی نظریں اس بھنور پر تھیں جہاں ڈبہ ڈوبا تھا۔ "اور اب ٹکڑا الٹے کنویں میں ہے۔"
الٹا کنواں — بند کے نیچے وہ گہرا خانہ جہاں الٹی ندی کا پانی بھنور بنا کر اوپر کی طرف کھینچتا تھا۔ جو چیز اس میں گرتی، وہ کہیں نہیں جاتی تھی — وہ گہرائی میں پھنسی رہ جاتی تھی۔
بختیار روہانسا ہو کر بولا: "ڈوب گیا! میرا خزانہ ڈوب گیا! اب کون نکالے گا اسے؟ میں تو تیرنا بھی نہیں جانتا!"
گاؤں کے لوگ مشعلیں لے کر جمع ہو گئے تھے۔ ایک بوڑھے نے کہا: "اس بھنور میں جو اترا، وہ واپس نہیں آیا۔"
مہران نے اپنی رسی نکالی۔ ایک سرا اپنی کمر سے باندھا، دوسرا ساحل کو تھمایا۔
"مضبوطی سے پکڑے رہنا،" اس نے کہا۔ "اور رسی کا ایک پھیرا طوفان کے گرد بھی ڈال دینا — وہ دانتوں سے پکڑ لے گا۔"
"مہران!" ساحل کی آواز کانپی۔ "یہ تو پاگل پن ہے!"
"جو دیتا ہے، وہی پاتا ہے،" مہران نے مسکرا کر کہا — اور پانی میں چھلانگ لگا دی۔
پانی اسے نیچے نہیں دھکیل رہا تھا، بلکہ گہرائی میں کھینچ رہا تھا — الٹی ندی کا بھنور اسے گھما رہا تھا۔ مہران نے رسی کو ایک جھٹکا دیا — "میں ٹھیک ہوں" کا اشارہ — اور اندھیرے پانی میں تیرتا چلا گیا۔ مشعلوں کی روشنی اوپر ہی رہ گئی۔
وہاں، بھنور کے بیچوں بیچ، تانبے کا ڈبہ ایک لوہے کی سلاخ میں پھنسا تھا۔ اور اسی سلاخ کے نیچے… مہران کی سانس رک گئی۔
بند کا اصل راز۔ پانی چھوڑنے والا بڑا پھاٹک ایک ہی سڑی ہوئی کیل پر ٹکا تھا۔ کیل آدھی ٹوٹ چکی تھی، اور سلاخ اسی پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ اگر ڈبہ زور سے کھینچا جاتا تو سلاخ ہلتی، کیل ٹوٹتی — اور پورا بند ایک دھماکے سے پھٹ جاتا۔ نیچے سوئے ہوئے گاؤں کے کھیت… سب کچھ بہہ جاتا۔
مہران کے سامنے دو راستے تھے: ڈبہ کھینچے اور ٹکڑا لے جائے — یا وادی بچائے۔
اس نے ایک لمحہ بھی نہیں سوچا۔
اس نے اپنے ابا کی تلوار میان سے نکالی — وہی تلوار جسے بختیار خریدنا چاہتا تھا — اور اسے پھاٹک کے پہیے میں پھنسا دیا، ٹوٹی کیل کی جگہ سہارا بنا کر۔ تلوار کی دھار پہیے کے دانتوں میں اٹک گئی۔ پھاٹک سنبھل گیا، بھنور کی گرج دھیمی پڑ گئی۔
پھر مہران نے ڈبہ آہستہ سے سلاخ سے نکالا… اور تلوار کو لیور بنا کر پھاٹک کو دھیرے دھیرے کھولنے لگا۔
پانی — قید پانی — آزاد ہوا۔
نہ دھماکہ ہوا، نہ تباہی۔ پانی پرانی سوکھی نالیوں میں دوڑا، کھیتوں کی طرف، پیاسی زمین کی طرف۔ اوپر بند پر لوگوں نے خوشی سے شور مچا دیا۔ ساحل اور گاؤں والوں نے مل کر رسی کھینچی — اور مہران، ڈبہ ہاتھ میں لیے، پانی سے باہر نکلا۔ سانس پھولی ہوئی تھی، مگر آنکھوں میں چمک تھی۔
وہ تلوار بھی ساتھ نکال لایا تھا — دھار تھوڑی سی مڑ گئی تھی، مگر تلوار سلامت تھی۔
"پہلا ٹکڑا… جہاں پانی قید تھا… اور دل آزاد،" سبْز نے دھیمی آواز میں کہا — جیسے وہ خود بھی حیران ہو کہ یہ بات اس کے منہ سے کیسے نکلی۔
مہران نے ڈبہ کھولا۔ اندر — انگوٹھی کا پہلا ٹکڑا۔ سنہری قوس، ہلکی سی گرم، جیسے اس میں کوئی دھڑکن ہو۔ اس نے اسے اونچا اٹھایا۔ مشعلوں کی روشنی میں وہ چمکا، اور پوری وادی نے خوشی کا نعرہ لگایا۔
بختیار ایک کونے میں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کا "کاروبار" ختم ہو چکا تھا — پانی اب سب کا تھا۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے نے اعلان کیا: "بند اب وادی کا ہے!"
لوگوں نے مہران کے قدموں میں سونے کے سکے رکھ دیے۔ اس نے ہاتھ جوڑ دیے اور پیچھے ہٹ گیا۔
"مجھے میرا ٹکڑا مل گیا،" اس نے کہا۔ "جو دیتا ہے، وہی پاتا ہے — یہی میری قیمت ہے۔"
اس رات، جب آگ کے گرد سب سو گئے اور صرف انگارے دہک رہے تھے، سبْز کی آواز پھر بدل گئی — وہی بوڑھی، گہری آواز جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی:
"دوسرا ٹکڑا سوتا ہے… جہاں سورج ڈھلتے ہی آوازیں مر جاتی ہیں… جہاں بادشاہ کی خاموشی سونے کی حفاظت کرتی ہے۔"
مہران نے ساحل کی طرف دیکھا۔ دونوں ایک ساتھ بولے: "خاموشوں کا شہر۔"
اور اسی لمحے اندھیرے سے کوّے کی کرخت چیخ آئی — پھر گہری خاموشی۔ مہران نے دیکھا کہ اس کے کمبل پر ایک کالا پر پڑا تھا، جس کی ڈنڈی میں ایک گرہ لگا ہوا دھاگا بندھا تھا۔
زار کا نشان۔
اوپر آسمان میں شاہین بے چین ہو کر چکر کاٹ رہا تھا۔
زار جانتا تھا۔ اور زار ان سے پہلے ہی نکل چکا تھا۔