← مہران: سخاوت کا سفر · All episodes

Episode 2

الٹی ندی کی وادی

الٹی ندی کی وادی

مہران کی روانگی کی صبح زرن آباد نے ایسی دیکھی جیسی پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

چوک کے دسترخوان پر اس دن کوئی نہ بیٹھا۔ برگد کے نیچے خاموشی تھی، اور لوگ اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑے اس قافلے کو دیکھ رہے تھے جو ایک نوجوان کے پیچھے چل رہا تھا۔ آگے آگے طوفان — کالا گھوڑا، سر اٹھائے، جیسے اسے بھی معلوم ہو کہ آج کا دن عام نہیں۔ اس کے پیچھے مہران، کمر پر تیر اور کمان، ہاتھ میں اپنے والد کی تلوار۔ اور اس کے کندھے پر سبز طوطا، اور آسمان میں شاہین۔

سب سے پیچھے ساحل تھا — گھوڑوں کے اصطبل والے کا بیٹا، مہران کا بچپن کا دوست۔ اس نے کندھے پر ایک چھوٹی سی گٹھڑی اٹھا رکھی تھی، جس میں روٹیاں تھیں، اور اس کے چہرے پر وہ خوف تھا جو صرف وہی محسوس کرتا ہے جو جانتا ہے کہ وہ ڈرا ہوا ہے مگر جانا بھی ضروری ہے۔

"تمہیں آنا ہی تھا؟" مہران نے مسکرا کر پوچھا۔

"کوئی نہ کوئی تو تمہیں اونچی جگہوں سے ڈرنے کا مشورہ دے،" ساحل نے کہا، حالانکہ اس کی اپنی آواز کانپ رہی تھی۔ "ویسے بھی، جنوں سے تمہیں کون بچائے گا؟"

سبْز نے ساحل کی پگڑی پر بیٹھتے ہوئے دہرایا: "جنوں سے بچائے گا! جنوں سے بچائے گا!"

ماں زینب بی بی دروازے پر کھڑی تھیں۔ انہوں نے مہران کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور وہی کہا جو سردار امان خان ہمیشہ کہتے تھے: "مصیبت میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے، بیٹا۔ جو دیتا ہے، وہی پاتا ہے۔"

"جو دیتا ہے، وہی پاتا ہے!" سبْز نے دہرایا، اور اس بار اس کی آواز میں کچھ ایسا تھا جیسے وہ کسی کی سنی ہوئی بات نہیں، کوئی یاد دہانی دے رہا ہو۔

نور — چودہ سال کی بہن — نے بھائی کا ہاتھ پکڑا۔ "طوفان کو روز پانی پلانا۔ اور سبْز کو راز مت بتانا، یہ ہر بات دہرا دیتا ہے۔"

"سن لیا؟" سبْز نے ٹہنی کی طرف دیکھا۔ "راز مت بتانا! راز مت بتانا!"

سب ہنس پڑے، مگر ہنسی میں آنسو تھے۔

شہر کے دروازے سے نکلتے ہوئے مہران نے پیچھے مڑ کر دیکھا — دربار کے سامنے پتھر کا مجسمہ، اس کے والد، سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ اس نے دل میں کہا: "ابا، میں انگوٹھی کے پانچوں ٹکڑے لاؤں گا۔ وعدہ ہے۔"

تیسرے دن کا سفر تھا جب شاہین نے آسمان میں چکر کاٹنا شروع کیا — اس کی وارننگ والی چیخ۔ مہران نے ہاتھ اٹھایا، قافلہ رک گیا۔

"کیا ہوا؟" ساحل نے سرگوشی کی۔

"شاہین کہہ رہا ہے کوئی دیکھ رہا ہے۔" مہران نے درختوں کی طرف دیکھا۔ ایک لمحے کو اسے ایک کوّا نظر آیا — مگر یہ عام کوّا نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں… اس کی آنکھیں لومڑی جیسی تھیں۔

سبْز نے اچانک چیخ ماری: "زار! زار آیا! زار آیا!"

کوّا پر پھڑپھڑا کر اڑ گیا۔ مہران کا دل دھڑکا — قہار شاہ کا وزیر ان کا پیچھا کر رہا تھا، اور اسے ان کے راستے کا پتہ تھا۔

"تیز چلو،" مہران نے کہا۔ "ہمیں وادیِ الٹی ندی سورج ڈھلنے سے پہلے پہنچنا ہے۔"

وادیِ الٹی ندی۔ نام سنتے ہی ساحل نے پوچھا: "ندی الٹی کیسے بہتی ہے؟ پانی تو نیچے آتا ہے۔"

"یہیں تو بات ہے،" ایک بوڑھے چرواہے نے کہا تھا جس سے انہوں نے راستہ پوچھا تھا۔ "وہاں پانی پہاڑ پر چڑھتا ہے۔ اور جس کے پاس پانی کا بند ہے، اس کے پاس پوری وادی کی جان ہے۔ ملک بختیار — بند کا رکھوالا۔ اس سے پانی مانگنا، اور پتھر سے دودھ مانگنا ایک برابر ہے۔"

شام کو جب وہ وادی میں داخل ہوئے، تو منظر نے ان کی سانس روک دی۔ ایک چمکتی ندی — واقعی — پہاڑ کی ڈھلان پر اوپر کی طرف بہہ رہی تھی، جیسے کوئی الٹی آبشار۔ اس کے کنارے خشک کھیت، پیاسی فصلیں، اور دور ایک بڑا پتھر کا بند، جس کے دروازے پر ایک موٹا تالا اور اس کے پاس ایک کرسی پر بیٹھا ایک بڈھا — ملک بختیار۔

"پانی چاہیے؟" اس نے بغیر اٹھے پوچھا۔ "ایک مشکیزہ پانی — ایک سونے کا سکہ۔"

"پورا گاؤں پیاسا ہے اور تم سکہ مانگتے ہو؟" ساحل غصے سے بولا۔

"کاروبار ہے، لڑکے۔" بختیار نے دانت نکالے۔

مہران نے اپنی مشک نکالی — آدھی خالی تھی۔ اس نے وہاں کھڑے ایک پیاسے بچے کو دیکھا، جس کے ہونٹ سوکھے تھے۔ بغیر ایک لمحہ سوچے، اس نے مشک بچے کی طرف بڑھا دی۔

"پی لو۔"

بچے نے پانی پیا، اور اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بختیار نے یہ دیکھا اور ہنسا: "احمق ہو تم۔ اپنا پانی بانٹ دو گے تو آگے صحرا میں کیا پیو گے؟"

مہران نے مسکرا کر کہا: "جو دیتا ہے، وہی پاتا ہے۔"

سبْز نے فوراً دہرایا — مگر اس بار اس نے کچھ اور بھی کہا، کچھ ایسا جو اس نے پہلے کبھی نہیں کہا تھا۔ اس کی آواز بدل گئی، جیسے وہ کسی اور کی بات دہرا رہا ہو — کسی بوڑھی، گہری آواز کی:

"پہلا ٹکڑا وہیں ہے… جہاں پانی قید ہے… اور دل آزاد۔"

مہران اور ساحل ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ یہ سبْز کی اپنی بات نہیں تھی۔ یہ… یہ انگوٹھی کا پہلا سراغ تھا۔

مگر اسی لمحے بختیار کی آنکھوں میں لالچ چمکا۔ "اوہو! تو تم انگوٹھی والے ہو!" وہ کرسی سے اٹھا۔ "سنو لڑکے — ٹکڑا میرے پاس ہے، بند کے سب سے گہرے خانے میں۔ چاہیے؟ تو قیمت دو۔" اس نے مہران کی تلوار کی طرف اشارہ کیا۔ "تمہارے باپ کی تلوار۔ وہ مجھے دے دو، ٹکڑا لے جاؤ۔"

خاموشی چھا گئی۔ ساحل نے سرگوشی کی: "مہران… یہ تلوار ابا کی نشانی ہے۔"

مہران نے تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھا۔ اس کی ماں کی آواز اس کے کانوں میں گونجی: "مصیبت میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے۔"

اور دور پہاڑ پر، ایک کوّا بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا — لومڑی جیسی آنکھوں والا۔